افغان سرحد کے پار سے دہشت گردی

پاک افغان سرحد پر قائم پاکستانی چیک پوسٹ پر افغانستان کی طرف سے آنے والے دہشت گردوں کے حملے سے ہمارے نوجوان کیپٹن جنید حفیظ اور ایک سپاہی رحام نے گزشتہ روز جام شہادت نوش کرلیا ہے، ان دونوں کے علاوہ چار فوجی جوان شدید زخمی ہوئے تاہم حملہ آوروں میں سے 10افراد پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی میں لقمہ اجل بنے جبکہ فرار ہونے والے حملہ آوروں میں بھی متعدد زخمی حالت میں فرار ہوئے۔ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ سر حد پر افغانستان میں کابل حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور افغانستان کے دفاعی دستوں پر کابل حکومت سے کہیں زیادہ بھارتی حکومت کی عمل داری کا قبضہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا المیہ یہ ہے کہ افغانستان میں ملک کی سرحدوں خصوصاً پاک افغان سرحد کے سکیورٹی کے معاملات کسی با قاعدہ فوج کے پاس نہیں ہیں، ہمارے ہاں سمجھا جارہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں سکیورٹی نہ ہونے کی قیمت چکا رہا ہے کیونکہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر باڑ لگانے کے بعد سرحدی چوکیاں بھی بنا رکھی ہیں جبکہ افغانستان کی طرف سے اپنی سرحد پر نہ تو باڑلگائی گئی ہے اور نہ ہی سرحد کے اس پار سکیورٹی چوکیاں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں گزشتہ ڈیڑھ پونے دو عشروں سے امریکہ اپنی اتحادی افوج کے ساتھ افغانستان میں موجود ہے، لیکن اس کے باوجود امریکہ افغانستان میں سکیورٹی کے عمل کو اس حد تک محفوظ نہیں بنا سکا کہ ملک میں کوئی سیاسی استحکام آسکے۔ اس وقت جبکہ پاکستانی فوج کی طرف سے پاکستانی حدود میں دہشت گردی کے واقعات کا مکمل طور پر قلع قمع کر دیا گیا ہے امریکہ اب یہ چاہتا ہے کہ پاکستان افغانستان کی حدود میں بھی حکومت کے خلاف تخریبی کارروائیاں کرنے والوں کا خاتمہ کرے۔ ان دنوں امریکہ کی طرف سے پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کا بھی مطالبہ ہو رہا ہے۔ دنیا گواہ ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کی جس عالمی لہر کا مقابلہ کرنے کے بہانے نیٹو افواج افغانستان میں لا کر بٹھائی تھیں امریکہ ان نیٹو افواج کے افغانستان میں بیٹھے ہونے سے بھی وہاں امن نہیں لا سکا۔ ہمارے حلقوں میں پاکستان اور امریکہ کے مابین ماضی کے دوستانہ تعلقات اور انسداد دہشت گردی کی عالمی جنگ میں پاکستان کی طرف سے ہر اول دستے کاکردارادا کرنے کے باوجود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور خاص پاکستان کے کردار کو تسلیم نہیں کیا اور ان دنوں وہ جنوبی ایشیاء میں بھارت کو جدید ترین اسلحے اور ڈرونز سے لیس کر رہا ہے اور جواز یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بھارت کی سالمیت و بقاء کو چین کی عسکری قوت سے خطرہ لاحق ہے اور امریکہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ ‘ معاشی و تجارتی کامیابیوں اور مستقبل میں چین کے دنیا کے سپر طاقت کے طور پر ابھرنے والے کردار سے ہراساں ہے اور خصوصاً جب سے پاکستان میں چین کی طرف سے سی پیک منصوبہ کے تحت سٹرکوں اور راستوں کا جال پھیلایا جارہا ہے ‘ امریکہ درون خانہ پاکستان اور چین کی دوستی کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اس سلسلہ میں پاکستان کو دھمکی آمیز پیغامات بھی دئیے گئے اور پاکستان سے مختلف انداز میں ’’ ڈومور ‘‘ کا مطالبہ بھی کیا گیا لیکن پاکستان کی حکومت اور افواج کی طرف سے افغانستان کی حدود میں داخل ہو کر دہشت گردوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے انکار کیا گیا ہے۔ امریکہ بظاہر اب بھی پاکستان کو باور کرانے میں کامیاب ہے کہ وہ پاکستان کا دوست ہے۔ ان دنوں امریکہ میں پاکستان کی دفاعی ضروریات کے لئے ایک خطیر رقم کی مالی امداد کا بل بھی امریکی کانگرس منظور کر چکی ہے لیکن اس رقم کے حصول کے لئے افواج پاکستان کو ایک طرف توپاکستان میں حافظ سعید احمد کی جماعت جماعۃ الدعوہٰ کو ختم کرنا ہو گا اور دوسرے افغانستان میں بر سر پیکار طالبان کے حقانی گروپ سے بھی دو دو ہاتھ کرنے ہوں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حقانی گروپ کے طالبان نے کبھی براہ راست پاکستان کو اپنی کارروائیوں کے لئے آماجگاہ نہیں بنایا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ باجوڑ ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر کیا گیا حملہ ایک طرح سے پاکستان کو افغانستان میں اپنی افواج داخل کرنے کے لئے تیار کی گئی کسی سازش کا شاخسانہ ہے لہٰذاہمارے عسکری حلقوں اور وزارت خارجہ و وزارت دفاع کو افغانستان کی طرف سے ہونے والی تمام دہشت گردانہ کارروائیوں کے حوالے سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے فی الحقیقت کس کا ہاتھ ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ عشرے کی انسداد دہشت گردی کی عالمی جنگ میں پاکستان امریکہ کا معتمد اتحادی رہا ہے اورپاکستان نے اس سلسلہ میں دنیا کے تمام ممالک کے مقابلے میں زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے لیکن اب امریکہ اور دنیا کی متعدد دوسری طاقتوں کو عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے روابط بہت زیادہ کھٹکنے لگے ہیں اور درون خانہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات دوستانہ کی بجائے مخاصمانہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے اب تک امریکہ سے اپنے تعلقات میں کسی قسم کی سرد مہری نہیں دکھائی اور وہ اب بھی امریکہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا آرزو مند ہے لیکن امریکہ اب بہت کھل کر بھارت نوازی کے ذریعے اور بھارت اور افغانستان دونوں کی طرف سے پاکستان کی سرحدوں پر دہشت گردی کے واقعات کروانے کی ڈگر پر چلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور امریکہ نے پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت کے ساتھ پاکستان کی نسبت زیادہ مضبوط تعلقات جوڑنا شروع کر دئیے ہیں۔ امریکہ نے چین کے ساتھ متعدد اقتصادی تجارتی اور عسکری معاہدے کئے ہیں لیکن ہمیں چین امریکہ معاہدوں سے کوئی پریشانی نہیں ہے ۔ پاکستان نہ صرف آج بلکہ ابتداء سے ہی پورے خطے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اس لئے پاکستان اپنی معیشت اور خطے کے تحفظ کے لئے اپنی ایک واضح اہمیت رکھتا ہے۔ جمہوریہ چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی سمندروں سے گہری اور کوہ ہمالیہ سے بلند تر ہے۔ امریکہ کو پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بننے سے پہلے ذہن میں رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں متحدہ سوویت یونین کی افواج کے خلاف ہونے والی جنگ کو امریکہ سو سال میں بھی اپنی فتح میں تبدیل نہیں کر سکتا تھا اور یہ صرف پاکستان تھا جس نے جہادی تنظیموں کی مدد سے متحدہ سوویت یونین کی شیرازہ بندی بکھیر کر وسط ایشائی ریاستوں کو روسی استعمار سے نجات دلائی تھی اور اب بھی اگر دنیا کسی بڑی جنگ میں پھنس گئی ‘ پاکستان کا کردار امریکی سپر پاور کو برقرار رکھنے یا امریکہ کو سپر طاقت کے منصب سے اتار پھینکنے کیلئے بہت بنیادی اہمیت کا حامل ہو گا ، لہٰذا پاکستان کے امریکی دوستوں کو اس امر کا ادراک کرنا چاہیے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان دشمنی نہ صرف بہت زیادہ بلا جواز ہے بلکہ اگر دنیا کے سیاسی پس منظر سے ابھرنے والی کسی آتشیں چنگاری نے امریکہ کیلئے کوئی بڑا چیلنج پیدا کر دیا تو امریکی سپر میسی کا دارو مدار بھارت کی عسکری طاقت کی بجائے پاکستان کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت پر ہو گا لہٰذا امریکہ افغانستان میں بھارت کو بٹھا کر پاک افغان سرحد کو لہو اور آگ کے کھیل میں لے جانے کی بجائے افغانستان کے پاکستان کی سرحد پر پھیلائے جانے والے فساد کا افغانستان کی حدود میں رہ کر خود خاتمہ کرے۔ بھارت افغانستان میں رہا تو افغانستان کبھی پر امن نہیں ہوگا۔
نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم پر اتفاق
مشترکہ مفادات کونسل میں نئی حلقہ بندیوں کے لئے آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ سے منظوری ایک کار محال دکھائی دے رہی تھی کہ اس بل کی منظوری کے لئے حکومت کو اپوزیشن کی کم از کم دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے تعاون کی ضرورت تھی اوربظاہر لگتا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس سلسلے میں حکومت سے تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہو گی لیکن حکمران جماعت نے جاتی عمرہ میں ملک کے دیگر سیاسی امور پر تبادلہ خیال سمیت نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کے لئے نہایت متحرک کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک طرف سندھ حکومت کا یہ مطالبہ تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا کہ نئی مردم شماری کیلئے صوبائی حکومتوں کی رپورٹس کو صرف نظر نہیں کیا جائے گا اور دوسری طرف مشترکہ مفادات کونسل میں نئی حلقہ بندیوں کا بل نہ منظور کئے جانے کے مضمرات سے آگاہ کر کے نہایت فراست کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کونئی حلقہ بندیوں کا بل منظور کرلینے پر آمادہ کیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں کی اس آمادگی کے لئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے نہایت اہم کردار ادا کیا کہ وہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس منعقد ہونے سے پہلے نہایت تسلسل کے ساتھ پارلیمانی پاریٹوں کے لیڈروں کے ساتھ رابطے میں رہے۔ وفاق کی طرف سے نئی مردم شماری پر سندھ کے تحفظات دور کئے جانے کی یقین دہانی کے بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے حکومت کے آئینی بل کی حمایت کا فیصلہ کر لیا گیا تو پاکستان تحریک انصاف نے مشروط طور پر حکومتی بل کی حمایت کا عندیہ دے دیا۔ تحریک انصاف کی شرط یہ تھی کہ اس سلسلے میں ایم کیو ایم کے تحفظات بھی دور کئے جائیں تو پاکستان تحریک انصاف کو نئی حلقہ بندیوں کے بل پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ ایم کیو ایم کے اعتراضات زیادہ تر وفاق کی طرف سے کرائی جانے والی مردم شماری کے حوالے سے تھے جس میں ایم کیو ایم کے مطابق کراچی کی آبادی 70سے80لاکھ افراد تک کم بتائی گئی تھی‘ اب چونکہ سندھ حکومت کی مردم شماری کے مطابق یہ معاملہ درست ہو چکا ہے لہٰذا ایم کیو ایم کے لئے اب نئی حلقہ بندیوں کا قانون منظور کرنے میں تعاون نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل میں الیکشن کمیشن کی بریفنگ کے مطابق اس امر کا دو ٹوک انداز میں اظہار کر دیا گیا تھا کہ اب 1998ء کی مردم شماری کے مطابق ملک میں انتخابات کرانا مشکل بلکہ ناممکن بات ہے کہ اس سے موجودہ حلقوں میں آبادی کا تناسب درست نہیں ہو گا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ ‘ پنجاب کے میاں شہباز شریف ‘ سندھ کے سید مراد علی شاہ‘ خیبر پختونخواہ کے پرویز خٹک اور بلوچستان کے سردار ثناء اﷲ زہری کے علاوہ وفاقی وزراء ‘ زاہد حامد‘ احسن اقبال ‘ ریاض حسین پیرزادہ سمیت مردم شماری کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی اس اہم اجلاس کا حصہ تھے اور اس طرح نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں پر غور کرنے اور تجاویز کا تبادلہ ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کا یہ موقف تسلیم کر لیا گیا کہ آئندہ انتخابات کے لئے نئی حلقہ بندیاں نا گزیر ہیں۔ اس میں فیصلہ کیا گیا کہ ادارہ مردم شماری نے جو مردم شماری کر رکھی ہے ان کے ہر 100بلاکس میں سے کسی ایک کی مردم شماری کا صوبائی حکومتوں کی مردم شماری سے موازنہ کرایا جائے گا۔ چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کی طرف سے اس سلسلے میں ہر قسم کے تعاون کا فیصلہ کیا گیا اور چاروں وزراء اعلیٰ نے تسلیم کیا کہ آئندہ عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر نہیں ہونے دیں گے۔ نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں پارلیمانی لیڈروں کا ایک اجلاس منعقد ہو چکا ہے جس میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے تجاویز جمع کر لی گئی ہیں اور حلقہ بندیوں کے دوران ان تجاویز کے مطابق تبدیلوں کا مطالبہ منظور کر لیا گیا ہے ۔ آئندہ انتخابات کے پر امن ہونے اور انتخابی ماحول کو باوقاربنانے پر بھی رضا مندی ہو گئی ہے۔ بعض پارلیمانی لیڈروں کی طرف سے ملک کے موجودہ تلخ سیاسی ماحول کے پیش نظر ‘ ایک سیاسی ضابطہ ء اخلاق کی تشکیل اور اس ضابطہ کے نفاذ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ملک میں شفاف انتخابی ماحول کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلا ف الزام تراشیوں کا جو سلسلہ تواتر کے ساتھ چل رہا ہے، خصوصاً‘ بعض قومی لیڈروں پر دوسری جماعتوں کے بعض چھوٹے اور غیر اہم لیڈروں کی طرف سے کیچڑ اچھالنے کا چلن بند ہونا ضروری ہے۔ اگر ایک پارٹی کا مرکزی یا دوسراکوئی اہم لیڈر کسی دوسری پارٹی کے لیڈر کے خلاف بیان دیتا ہے تو اس کا جواب برابر کی سطح کے لیڈروں کی طرف سے آنا چاہیے۔ اگر سیاسی جماعتوں کے عام کارکنوں ‘ صوبائی یا قومی اسمبلیوں کے ارکان اور وزیروں ‘ مشیروں کی توجہ اپنے اپنے لیڈروں کے دفاع پر لگی رہے گی تو ان کے فرائض منصبی کی ادائیگی کا معیا ریقیناًبہتر نہیں رہے گا، بہر حال نئی حلقہ بندیوں اور2017ء کی مردم شماری کے بل کی منظوری کے علاوہ پارلیمنٹ ‘ سیاسی رواداری اورکسی انتخابی ضابطہ اخلاق پر بھی رضا مند ہو جائے تو بہت سے معاملات از خود راست روی کی طرف

اپنا تبصرہ بھیجیں