اقبال: وسیع المشرب یا فرقہ پرست

انگریزی زبان کا ایک لفظ ذہن میں آ رہا ہے : Gerrymander ۔ اس لفظ کی تاریخ کافی دلچسپ ہے ۔ سنہ 1812 میں میساچوسٹس کے گورنر ایلڈرج گیری نے ایک انتخابی حلقے کی حدود کو مفید مطلب طریقے سے طے کیا۔ ایک اخبار کے دفتر کی دیوار پر لٹکے نقشہ پر گلبرٹ سٹوئرٹ نامی آرٹسٹ نے لکیریں کھینچ کر کہا یہ salamander دکھائی دیتا ہے ۔ اخبار کے ایڈیٹر نے جواب دیا نہیں Gerrymander ۔ اس طرح ایک نیا لفظ وجود میں آیا جس کا مطلب ہے : کسی امیدوار یا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی خاطر انتخابی حلقے کی تراش خراش کرنا۔
علامہ اقبال کی شاعری اور فکر پر بہت سے دانش وران ملت کی تحریریں پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ لفظ گونجنے لگتا ہے ۔ علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفیانہ فکر کی جس طرح gerrymanderingکی جارہی ہے وہ از حد افسوس ناک ہے ۔ ہماری تہذیب میں ناسخ و منسوخ کی روایت بھی اتنی قدیم ہے کہ اس کی جڑیں پاتال تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کسی صاحب فکر کے ان عناصر پر، جو ناپسندیدہ ہوں، یا جادہ راسخ سے ہٹے ہوئے معلوم پڑتے ہوں، ان پر ناسخ و منسوخ کا رندا چلا کر حسب منشا فکر کی تشکیل کر لی جاتی ہے ۔ اقبال کے ساتھ یہی سخن سازی روا رکھی جا رہی ہے ۔ اقبال کے ابتدائی کلام کو بعد کے کلام نے منسوخ کر دیا۔ ’’تشکیل جدید‘‘کو بعد کی شاعری نے منسوخ کر دیا۔ بعض لوگ تو یہ تک کہہ گزرتے ہیں کہ اقبال نے خود ہی ‘‘تشکیل جدید ’’میں بیان کردہ خیالات سے رجوع کر لیا تھا۔
اس وقت موضوع سخن اقبال کا شاعرانہ پیغام ہے ، ان کے فکری اور فلسفیانہ کنٹری بیوشن کی بات کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔ اقبال کی شاعری پڑھنے کے بعد یہ جاننا مشکل نہیں رہتا کہ کرافٹ کے اعتبار سے اس قدر بلند مقام شاعری خون جگر صرف کیے بغیر ممکن نہیں۔ اقبال کی بیاضوں اور گرامی وغیرہ سے ان کی خط کتابت سے اس بات کی گواہی ملتی ہے کہ وہ درست، موزوں اور اعلیٰ ترین پیرایہ اظہار کے لیے کس قدر تردد کرتے تھے اور کن کن کنوؤں میں ڈول ڈالتے تھے ۔ اگرچہ یہ بات تسلیم کرنے میں بھی کوئی ہرج نہیں کہ خود اقبال کے بعض بیانات کسی قدر گمراہ کن صورت حال کو پیش کرتے ہیں۔ تاہم اقبال اکیڈمی نے اقبال کی اردو کلیات کے سرنامہ کے طور پران کا یہ بیان درج کرنا پسند کیا ہے :
میں نے اپنے آپ کو کبھی شاعر نہیں سمجھا۔۔۔۔ فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی، ہاں! بعض مقاصد خاص رکھتا ہوں جن کے بیانات کے لیے حالات و روایات کی رو سے میں نے نظم کا طریقہ اختیار کر لیا ہے ورنہ:
نہ بینی خیر ازاں مرد فرودست
کہ بر من تہمت شعر و سخن بست
یعنی قاری کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل جس کلیات کا مطالعہ کرنے والا ہے ، اگر وہ اس کو محض شاعری سمجھ کر لطف کشید کرنے کی سعی کرے گا تو اپنا وقت ضائع کرے گا ۔ اقبال، جسے ہم بڑے فخر سے شاعر مشرق بھی کہتے ہیں، اپنے ہی نام پر بنی ہوئی اکیڈمی کی طرف سے اس سلوک کا مستحق نہیں تھا۔
ساقی فاروقی کہتے ہیں مصرع کہنا انیس اور اقبال سے سیکھا۔ مجھے اس بات سے بحث نہیں کہ ساقی فاروقی نے کیا سیکھا لیکن اس جیسا کٹر شخص اگر اقبال کو مصرع سازی کی اتنی بڑی داد دیتا ہے تو اقبال کی شاعرانہ ہنر مندی کے بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔ اقبال نے افکار کی شاعری کرکے مشکل ترین راستے کا انتخاب کیا تھا لیکن وہ اس دشوار گزار صحرا کو بڑی کامیابی سے عبور کرگیا۔ بجا کہ اقبال کے ہاں پیغام اہم ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ پیغام، بالخصوص فلسفیانہ پیغام، کی ترسیل کے لیے نثر بہترین میڈیم ہے ۔ جب ہم اقبال کے فلسفیانہ خیالات کو جاننے کے لیے اس کی نثر، بالخصوص’’تشکیل جدید‘‘، کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اقبال کی نثر اس کی نظم کے مقابلے میں ہیچ ہے ۔
البتہ سیاسی ضروریات نے ہمیں اقبال کی تراش خراش پر مجبور کر دیا ہے ۔ یہ قول ایک طے شدہ حقیقت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ابتدائی زندگی میں وطنی قومیت کے علمبردار تھے ۔ یورپ کی فضا نے انہیں مسلمان بنا دیا اور وہ وطنی قومیت کو خیر باد کہہ کر امتِ مسلمہ کے ترجمان بن گئے ۔ اس لیے ‘ ترانہ ہندی’، ‘ہندوستانی بچوں کا گیت’ اور ‘نیا شوالہ’ جیسی نظمیں ان کے دورِ جاہلیت کی یادگار ہیں اور ان کی بعد کی شاعری ان نظموں کی ناسخ ہے ۔ کیا یہ دعوی درست ہے کہ اقبال نے بانگ درا کی نظموں ،‘ترانہ ہندی’، ‘ہندوستانی بچوں کا گیت’ اور ‘نیا شوالہ’، کو ردکر دیا تھا ۔ جواب تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اقبال کی شعری اور نثری کاوشوں کا تاریخی ترتیب کے ساتھ جائزہ لیں۔ اقبال نے ’’بانگ درا‘‘کاآغاز نظم ‘ہمالہ ’ سے کیا تھا جس کا ابتدائی ورژن سر عبدالقادر کے رسالہ مخزن میں 1901 میں شائع ہوا تھا۔ اس کے ایک برس بعد اسی رسالے میں اقبال کی نظم ‘آفتاب’ شائع ہوئی تھی جو دراصل ایک سنسکرت اشلوک ،گایتری، کا ترجمہ تھا۔ واضح رہے یہی وہ نظم تھی جس کی بنیاد پر بعد ازاں اقبال پر کفر کا فتویٰ صادر کیا گیا تھا۔ اس ترجمے کے ساتھ اقبال کا ایک طویل نوٹ بھی شائع ہوا تھا۔ اس نظم کا ایک شعر یہ ہے :
ہر چیز کی حیات کا پروردگار ہے تو
زائیدگان نور کا ہے تاج دار تو
اقبال نے ایک حاشیے میں زائیدگان نور کی تشریح کچھ یوں کی تھی: یعنی دیوتے ۔ سنسکرت میں لفظ دیوتا کے معنی زائیدہ نورکے ہیں یعنی ایسی ہستی جس کی پیدائش نور سے ہوئی ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے قدیم ہندو دیوتاؤں کو دیگر مخلوقات کی طرح مخلوق تصور کرتے تھے ۔ ازلی نہیں سمجھتے تھے ۔ غالباً ان کا مفہوم وہی ہوگا جس کو ہم لفظ فرشتہ سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ فرشتوں کا وجود بھی نوری تسلیم کیا گیا ہے اگرچہ ان کو مخلوق مانا گیا ہے ۔ پس ہندو مذہب کو شرک کا مجرم گرداننا میرے نزدیک صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ (بحوالہ خرم علی شفیق، اقبال: ابتدائی دور ۔ ص 251 )
اگر ہم’’ بانگ درا‘‘سے آغاز کرکے ‘‘ جاوید نامہ’’ تک کا سفر طے کریں تو یہ معلوم کرنا زیادہ مشکل نہیں رہتا کہ جہاں اقبال کے بہت سے خیالات میں تغیر و تبدل واقع ہوا ہے وہاں کچھ خیالات اور رویوں کو مستقل اور دوامی حیثیت حاصل ہے ۔ اس میں ایک نمایاں رویہ یہ ہے کہ اقبال نے مذہب کو آلہ توہین و فساد، یا تخریب و انتشار کے طور پر کبھی استعمال نہیں کیا۔ اس نے ‘ترانہ ہندی’ میں کہا تھا:
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا
ترانہ ہندی سے بھی پہلے نظم ‘سید کی لوح تربت ’ کے ان اشعار میں بیان کردہ نصیحت پر بھی غور کر لیجیے :
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامہ محشر یہاں
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
اقبال کی نظم ‘نیا شوالہ’ اس کے مذہبی مداحین کے پہلو میں چبھتا ہوا کانٹا ہے ۔ اس پر معذرت خواہ بھی ہوتے ہیں اور شرمندہ بھی۔ وہ اسے اقبال کی جوانی کی ایک ترنگ یا لغزش سمجھ کر فراموش کر دینا چاہتے ہیں۔ کیا اقبال نے واقعتا ‘نیا شوالہ’ سے توبہ کر لی تھی۔
‘نیا شوالہ’ جب 1905 میں پہلی بارمخزن میں شائع ہوئی تو اس کے اٹھارہ اشعار پر مشتمل دو بند تھے ۔ پہلے بند میں پانچ اور دوسرے میں تیرہ شعر تھے ۔ درج ذیل دس اشعاررد کر دیئے گئے ۔
کچھ فکر پھوٹ کی کر مالی ہے تو چمن کا
بوٹوں کو پھونک ڈالا اس بس بھری ہوا نے
پھر اک انوپ ایسی سونے کی مورتی ہو
اس ہر دوار دل میں لا کر جسے بٹھا دیں
سندر ہو اس کی صورت، چھب اس کی موہنی ہو
اس دیوتا سے مانگیں جو دل کی ہو مرادیں
زنار ہو گلے میں، تسبیح ہاتھ میں ہو
یعنی صنم کدے میں شان حرم دکھا دیں
پہلو کو چیر ڈالیں، درشن ہو عام اس کا
ہر آتما کو گویا اک آگ سی لگا دیں
آنکھوں کی ہے جو گنگا لے لے کے اس سے پانی
اس دیوتا کے آگے اک نہر سی بہا دیں
’’ہندوستان‘‘لکھ دیں ماتھے پہ اس صنم کے
بھولے ہوئے ترانے دنیا کو پھر سنا دیں
مندر میں ہو بلانا جس دم پجاریوں کو
آوازہء اذاں کو ناقوس میں چھپا دیں
اگنی ہے وہ جو نرگن، کہتے ہیں پیت جس کو
دھرموں کے یہ بکھیڑے اس آگ میں جلا دیں
ہے ریت عاشقوں کی تن من نثار کرنا
رونا ستم اٹھانا اور ان کو پیار کرنا
یہ نظم دو مصرعوں میں اصلاح اور آخر میں ایک شعر کے اضافے کے ساتھ بانگ درا میں اس طرح شائع ہوئی:
سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
تنگ آ کے آخر میں نے دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
آ غیریت کے پردے اک بار پھر اٹھا دیں
بچھڑوں کو پھر ملا دیں، نقش دوئی مٹا دیں
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی
آ، اک نیا شوالہ اس دیس میں بنادیں
دنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ
دامان آسماں سے اس کا کلس ملا دیں
ہر صبح اٹھ کے گائیں منتر وہ میٹھے میٹھے
سارے پجاریوں کو مے پیت کی پلا دیں
شکتی بھی شانتی بھی، بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
مخزن اور بانگ درا کی اشاعت میں تقریباً انیس برس کا فرق ہے ۔ اس عرصے میں اقبال کے تین فارسی مجموعے شائع ہو چکے تھے ۔ اقبال کا فکر کتنی ہی نئی وادیاں قطع کر چکا تھا۔ اس نے اردو کا بہت سا ابتدائی کلام رد کر دیا اور جو بانگ درا میں شائع ہوا، وہ ترمیم، تنسیخ، اصلاح اور اضافے کی چھلنیوں سے گزار کر شائع کیا گیا تھا۔ چنانچہ بانگ درا میں اس کی شمولیت سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اقبال نے ‘نیا شوالہ’ کو رد نہیں کیا تھا۔ گزشتہ صدی کی دوسری اور تیسری دہائی اقبال کی فکری زندگی میں بہت اہم ہیں۔ اسی عرصے میں ان کا زیادہ تر شعری اور نثری سرمایہ شائع ہوا۔ ’’اسرار خودی ‘‘ کے پہلے ایڈیشن (1915 ) میں شائع ہو نے والے دیباچے میں شری کرشن اور راما نوج کا اچھے الفاظ میں تذکرہ کیا۔ ’’ اسرار و رموز‘‘ کی اشاعت کے بعد ’’رامائن‘‘اور’’گیتا‘‘کا ترجمہ کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا تھا کیونکہ ان کی رائے میں فیضی اپنے ترجمے میں ‘‘گیتا’’ کی روح کو پانے میں ناکام رہا تھا۔ رام اور نانک پر نظمیں لکھی تھیں۔ اس کے حلقہ احباب میں سکھ اور ہندو سبھی شامل تھے ۔ اقبال کی نظموں کے ابتدائی انگریزی تراجم جوگندر سنگھ اور امراؤ سنگھ شیر گل نے کیے تھے ۔ آخری دنوں کی علالت میں ایک معالج ڈاکٹر جمعیت سنگھ تھے ۔
تیسری دہائی میں اقبال عملی سیاست میں بھی سرگرم ہو گئے تھے ۔ اب وہ آوازہء اذاں کو ناقوس میں چھپانے کے قائل نہیں رہے تھے بلکہ کثرت میں وحدت کا پرچار کر رہے تھے ۔ وہ تمام امتیازات کو سوخت کرکے دھارمک ایکتاکو آئیڈیلسٹ سراب سمجھتے ہوئے رد کرکے ایسی وحدت چاہتے تھے جس میں تمام فرقے اپنی اپنی شناخت قائم رکھتے ہوئے ایک دستوری اور آئینی سمجھوتے کے تحت امن اور آشتی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ اپنی کمیونٹی کے حقوق کی بات کرنا کسی دوسری کمیونٹی کے ساتھ نفرت و عداوت کا نتیجہ نہیں تھا۔ ‘خطبہ الہٰ آباد’، جو ہماری سیاسی تاریخی میں اب ایک اساسی دستاویز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ، کے یہ الفاظ قابل غور ہیں:
جو فرقہ دوسرے فرقوں کی طرف بدخواہی کے جذبات رکھتا ہو وہ نیچ اور ذلیل ہے ۔ میں دوسری قوموں کے رسوم، قوانین، معاشرتی اور مذہبی اداروں کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ یہی نہیں بلکہ قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق ضرورت پڑے تو ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت بھی میرا فرض ہے ۔ (ترجمہ ڈاکٹر ندیم شفیق ملک۔ علامہ اقبال کا خطبہ الہٰ آباد، ص 106)
’’جاوید نامہ ‘‘میں آسمانی سفر میں سب سے پہلے جس سے ملاقات ہوتی ہے وہ وشوا متر ہے جسے اقبال نے عارف ہندی کہا ہے ۔ اس کے بعد جنت کے مکینوں میں بھرتری ہری بھی شامل ہے جو اس بات کا وافر ثبوت فراہم کرتا ہے کہ اقبال کی نظر میں اس کا مقام کتنا بلند تھا۔ ’’بال جبریل‘‘کا آغاز بھرتری کے اشلوک کے ترجمے سے کیاہے ۔ طواسین رسل میں گوتم بدھ اور زرتشت کا تذکرہ کیا ہے جو اقبال کے مذہبی شارحین کو بہت کھلتا ہے ۔ گوتم بدھ سے اقبال کو ہمیشہ دل چسپی رہی ہے ۔ ’’بانگ درا‘‘کی ایک بہت شروع کی نظم، سرگزشت آدم، میں گوتم کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے :
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی
بسایا خطہ جاپان و ملک چیں میں نے
اس کے بعد بابا گرو نانک پر جو نظم ہے اس میں زیادہ اشعار گوتم کے متعلق ہیں۔ نانک کا ذکر تو آخر ی دو اشعار میں ہے ۔ گویا اقبال کے نزدیک نانک اصل میں گوتم کے سلسلے کی ہی کڑی ہے ۔ ‘‘جاوید نامہ’19’ میں غنی کاشمیری کی زبان سے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں جن برہمان کشمیر کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ پنڈت موتی لال اور جواہر لال نہرو کی طرف اشارہ کیا ہے :
ہند را ایں ذوق آزادی کہ داد
صید را سودائے صیادی کہ داد
آں برہمن زادگان زندہ دل
لالہ احمر ز روئے شاں خجل
تیز بین و پختہ کار و سخت کوش
از نگاہ شاں فرنگ اندر خروش
اصل شاں از خاک دامن گیر ماست
مطلع ایں اختراں کشمیر ماست
اقبال نے ابتدائی دور کی نظم ‘زہد اور رندی’ میں ایک مولوی صاحب کی زبانی اپنی ذات پر جو الزامات بیان کیے ہیں ان میں یہ بھی ہے :
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثرِ فلسفہ دانی
’’بانگ درا ‘‘سے لے کر’’جاوید نامہ ‘‘تک اقبال نے مولوی صاحب کے اس اعتراض کو غلط ثابت کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ اقبال کے ہاں تضادات نہیں ہیں۔ ہر بیدار و خبردار انسان کی طرح اس کے ذہنی سفر کا راستہ بھی چوٹیوں اور وادیوں سے گزرتا ہے لیکن اقبال نے کبھی دوسرے مذہب کی نہ تعلیمات کی توہین کی اور نہ مقدس افراد کی۔ اقبال کو پسند یا ناپسند کرنے سے پہلے اس کی مکمل تصویر کو قطع و برید کے بغیر دیکھنا لازمی ہے ۔ اقبال زندگی کے کسی مرحلے پر بھی مسلم جن سنگھی نہیں تھا۔ آج ہم جن حالات کا شکار ہیں ان میں اقبال کا یہ پیغام حیات بخش و حیات آفریں ہی نہیں، حد درجہ برمحل بھی ہے :
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے ۔

دو اچھی خبریں مگر شبہات کا سایہ موجود ہے
پاکستان کے پیچیدہ، مشکل اور الزام تراشی سے بھرپور ماحول میں دو اچھی خبریں موصول ہوئی ہیں جن پر اہل پاکستان سکھ کا سانس لے سکتے ہیں۔ سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل محمد سعید نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس بات کی تردید کی ہے کہ رینجرز گزشتہ ہفتہ کے دوران ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان اتحاد قائم کروانے میں شامل تھی یا ایک ہی روز بعد اس مجوزہ اتحاد کا شیرازہ بکھرنے میں ان کا کوئی کردار ہے ۔ اس طرح انہوں نے مصطفی کمال کے اس دعویٰ کی تردید کی ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ڈاکٹر فاروق ستار سے ملے تھے اور اتحاد کرنے پر آمادہ ہوئے تھے ۔ اس حوالے سے دوسری اچھی خبر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے نواز شریف اور اہل خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا ریفرنس دوبارہ کھولنے کی سماعت کرنے والے سہ رکنی بنچ کی قیادت کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ آج اس بنچ کے روبرو پہلی سماعت شروع ہوتے ہوئے جسٹس کھوسہ نے یہ کہتے ہوئے اس مقدمہ کی سماعت سے معذرت کرلی کہ وہ اس بارے میں پہلے ہی رائے دے چکے ہیں، اس لئے اب اس مقدمہ کی سماعت نہیں کرسکتے ۔
یہ دونوں خبریں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ملک کے سیاسی معاملات میں اداروں کی مداخلت کے حوالے سے بہت دھول اڑائی جارہی ہے ۔ اب ملک کے دونوں اہم اداروں کی طرف سے سیاست اور ادارہ جاتی معاملات کو علیحدہ کرنے کے اعلان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوج یا سپریم کورٹ سیاست میں مداخلت کی کسی پالیسی پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آج مقدمہ کی سماعت سے گریز کرکے سپریم کورٹ کی نیک نیتی اور اپنی غیر جانبداری پر اٹھنے والے بہت سے سوالات کو ختم کرنے کی مؤثر کوشش کی ہے ۔ ان کا یہ فیصلہ قابل قدر ہے اور یہ اس کی روشنی میں امید کی جاسکتی ہے کہ عدالت عظمی مستقبل میں سیاسی معاملات پر فیصلے دیتے ہوئے سیاست اور قانون کے تقاضوں کے درمیان فرق کو واضح کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کے احکامات یا ججوں کے ریمارکس سے یہ قیاس نہ ہو کہ جج کسی خاص سیاسی یا اخلاقی نقطہ نظر کی حمایت کررہے ہیں یا کوئی خاص ایجنڈا آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
پاناما کیس کے حوالے سے آنے والے فیصلوں ، ریمارکس اور احکامات سے اس قسم کی رائے قائم کرنا آسان ہو گیا تھا۔ یوں لگنے لگا تھا کہ سپریم کورٹ بھی ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی قیادت کے خلاف فریق کی حیثیت اختیار کرچکی ہے تاہم جسٹس کھوسہ کے دانشمندانہ اقدام سے اس تاثر کو زائل کرنے میں مدد ملے گی، البتہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ کو مستقبل میں مزید احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوگی تاکہ ایسے ججوں کو ان مقدمات کی سماعت پر مقرر نہ کیا جائے جو اس حوالے سے پہلے ہی واضح رائے کا اظہار کرچکے ہوں۔ جسٹس کھوسہ نے حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمہ کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے یہی بات واضح کی ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے انہیں بنچ میں شامل کرتے ہوئے پاناما کیس میں ان کا فیصلہ نہیں پڑھا تھا ورنہ وہ اس کیس کے حوالے سے ان کی رائے جاننے کے بعد انہیں اس بنچ کا حصہ نہ بناتے ۔ الزام تراشیوں اور قیاس آرائیوں سے بھرپور سیاسی ماحول میں اس قسم کی احتیاط بے حد ضروری ہے ۔ اسی طرح اداروں کا احترام اور ان پر اعتماد برقرار رہ سکتا ہے ۔
سندھ رینجرز کی طرف سے کراچی کی سیاسی صورت حال میں کردار کے حوالے سے وضاحت بھی اہم ہے کیوں کہ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ اتحاد ٹوٹنے کے بعد واضح کیا تھا کہ یہ اتحاد اسٹیبلشمنٹ کی کوششوں اور ڈاکٹر فاروق ستار کی خواہش کی وجہ سے قائم کیا گیا تھا۔ میجر جنرل محمد سعید نے اس بیان کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ رینجرز کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کراچی میں مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان تصادم کو روکا جاسکے ۔ اسی طرح انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا ہے کہ گزشتہ برس ایم کیو ایم پاکستان رینجرز سندھ کے سابق سربراہ جنرل بلال اکبر کے دفتر میں قائم کی گئی تھی۔ میجر جنرل محمد سعید نے بتایا ہے کہ رینجرز سیاسی جماعتیں بنانے یا توڑنے کا کام نہیں کرتے ۔ ان کا مقصدامن و امان بحال رکھنا اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا ہے ۔ تاہم انہوں تسلیم کیا کہ مختلف سیاسی دھڑے رینجرز کے ذریعے بات چیت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امکان کو قبول کیا کہ ایسے مذاکرات کے دوران کسی فوجی افسر نے اپنی اس رائے کا اظہار کیا ہو کہ اگر دونوں جماعتیں اکٹھی ہو جائیں تو یہ بہتر ہوگا۔ البتہ انہوں نے اسے سیاسی معاملات میں مداخلت ماننے سے انکار کیا ہے ۔
یہ بات اب سندھ رینجرز یا سیاسی معاملات طے کروانے میں ملوث دیگر عسکری اداروں کے علم میں بھی آگئی ہوگی کہ اس قسم کے کردار کو سیاست دان، میڈیا یا عام لوگ مختلف انداز میں دیکھ سکتے ہیں اور ایسی معلومات کی من مانی توضیح کرکے مرضی کے نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ تاثر قوی کیا جاتا ہے کہ ملک میں بدستور ملک کی فوج ہی چھوٹے بڑے سیاسی فیصلے کرنے ، جماعتوں کو ملانے اور توڑنے یا حکومت بنانے یا اس حوالے سے مدد فراہم کرنے کا سب سے مؤثر ادارہ ہے ۔ یہ خبریں یا اس حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیاں کس حد تک درست یا غلط ہیں، اس کی مکمل تصویر کبھی سامنے نہیں آتی۔ ملک میں تسلسل سے یہ کہنے والے سیاستدان اور صحافی موجود ہیں کہ فوج ہی ملک کی اصل سیاسی قوت ہے ۔ جب سندھ رینجرز کے سربراہ سیاسی اتحاد کے لئے اثرانداز ہونے کی تردید کرتے ہوئے یہ مان لیتے ہیں کہ رینجرز سیاسی رابطوں اور ان مذاکرات میں رائے دینے میں ملوث رہے ہیں تو اس قیاس کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ فوج کے ادارے سیاسی معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں اور اپنی مرضی کے گروہوں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔
ان ‘غلط فہمیوں ’ کی بیخ کنی کے لئے یہ ضروری ہے کہ فوج کا کوئی بھی ادارہ سیاسی گروہوں سے روابط کو محدود کرے ۔ حکومت کی حد تک یہ رابطے کئے جاتے ہیں اور باقی گروہوں کو برسر اقتدار پارٹیوں کے ذریعے پیغام رسانی بھی کی جا سکتی ہے ۔ لیکن مختلف سیاستدانوں اور پارٹیوں سے رابطوں کے نتیجے میں سیاست میں فوج کی دلچسپی کے بارے میں شبہات برقرار رہیں گے ۔ اول تو یہ ملاقاتیں ہونی نہیں چاہئیں یا پھر انہیں خفیہ نہیں ہو نا چاہئے ۔ ایسے مواقع پر میڈیا کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ کسی قسم کے شک کی گنجائش باقی نہ رہے ۔ اور میڈیا بھی بے سر و پا خبروں کو نشر و شائع کرنے سے باز رہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں