اناڑی سیاستدان

یوں تو وطن عزیز نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں انتہائی نادر و یکتا ، قد آور و نابغہ روزگار گوہر نایاب بخشے ہیں جو درخشندہ ستاروں کی مانند افق اقوام عالم پر جگمگا رہے ہیں اور تا قیامت ان ستاروں کی روشنی ماند نہیں پڑ سکتی۔ انہی درخشندہ ستاروں میں ایک نام تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کا بھی ہے کہ جس نے اپنے کھیل سے ایک دنیا کو اپنا گرویدہ کئے رکھا جبکہ ان کی اپنی زبانی کہ اس وقت کے ماہرین کرکٹ کے مطابق عمران کرکٹ کے لئے نا موزوں تھے، مگر اپنی لگن ،محنت اور ثابت قدمی سے عمران نے اس کھیل کو نہ صرف زیر کیا بلکہ ایک عرصہ تک شائقین کرکٹ کھیل کے میدان میں صرف عمران کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے آتے،اس سے ہاتھ ملانا،اس کے آٹو گراف لینا ایک کارنامہ اور اعزاز سمجھاجاتا۔ لوگ کرکٹ کو کھیل کا حسن تو کئی عمران کو کرکٹ کا حسن کہتے،خیر یہ تو اس وقت کی باتیں ہیں جب عمران انتہائی شرمیلا ہوا کرتا تھا،اس کے لئے ماسوائے کرکٹ کے حوالے سے کوئی اور بات کرنا قدرے دشوار ہوا کرتا تھامگر ایک بات تب بھی عیاں تھی کہ عمران دھن اور لگن کا پکا ہے اور جس کام کے پیچھے پڑ جائے اسے انجام تک پہنچائے بغیر دم نہیں لیتا۔گو کہ اس دوران ایک وقت آیا جب عمران نے بغیر ورلڈ کپ جیتے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا تھا مگر قدرت کو یہ منظور نہیں تھا اور عمران کو کرکٹ میں واپس لانے کا سبب جنرل ضیاء بنے ۔ قدرت کرکٹ کے اس حسین اور کامیاب کپتان کو عالمی کپ کے بغیر میدانوں سے رخصت نہیں کرنا چاہتی تھی،ہر کرکٹر اور کرکٹ ٹیم کے کپتان کی مانند عمران کا یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوا اور وطن عزیز کرکٹ کا عالمی چیمپئین بن گیا۔کرکٹ کے میدان میں عمران کی بلاشرکت غیرے اجارہ داری رہی،کوئی بورڈ یا سلیکٹر اس کو دباؤ میں نہ لا سکا الٹا ٹیم سلیکشن میں اس سے پوچھا جاتا کہ وہ کون سے کھلاڑی ٹیم میں کھلانا چاہتا ہے۔ اس اجارہ داری کے سبب اس کی شخصیت کا ایک آمرانہ تاثر بنا مگر اسے اس کی کوئی پرواہ نہ رہی لیکن جب ٹیم اس کی مرضی کی ہوتی تب وہ کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے نہ صرف تیار ہوتا بلکہ کسی بھی قسم کا چیلنج دینے سے بھی نہ ہچکچاتا،یہ اس کی حد درجہ خود اعتمادی یا اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی قابلیت پر بھروسہ تھا کہ اس نے ہندوستان کو کشمیر کا فیصلہ ’’ون ڈے‘‘ پر کرنے کا چیلنج تک دیدیا۔وہی شرمیلا سا کھلاڑی اپنی والدہ کی نا گہانی موت کے بعد ،ایک نئے مشن میں جت گیا اور اپنی شبانہ روز لگن ،جستجو کے باعث پاکستان جیسے ملک میں کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لئے ایک جدید ترین ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو گیا۔
عمران کی یہ تاریخ بطور کرکٹر اور انسان ،اس کی مستقل مزاجی کو ظاہر توکرتی ہے اور اپنی اس حیثیت میں عمران نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے داد سمیٹی مگر جیسے ہی عمران نے سیاست میں قدم رکھا،سیاست کے سرخیلوں نے کم اور اس کی اپنی پالیسیوں نے ہی اسے ملکی سیاست میں بے اثر رکھا۔ ایک عرصے تک وہ سیاست میں اپنی اہمیت کو تسلیم کرانے میں ناکام رہا ،اپنی سیاسی جماعت بنانے کے فوراً بعد ہی ایک غیرملکی امیر ترین یہودی النسل نو مسلم خاتون سے شادی کے باوجود انتخابات میں ایک نشست بھی حاصل نہ کر سکا،اس سے اگلے انتخابات 2002ء میں وزیراعظم کا امیدوار ہوتے ہوئے بھی فقط ایک نشست سے کامیابی حاصل کر پایا،2008کے انتخابات میں بائیکاٹ کی غلطی کر بیٹھا اور میدان گھاگ سیاستدانوں کے لئے خالی چھوڑ دیامگر مستقل مزاجی کا حامل عمران میدان چھوڑ کر نہیں گیا اور بالآخر کے پی میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ اس دوران اس کی سیاست اور سیاسی انداز پر پرانے اور گھاگ سیاستدان پھبتیاں کستے اور مشورے دیتے کہ سیاست آپ کے بس کی بات نہیں،آپ صرف کھیل کے میدانوں تک محدود رہو یا اپنی سماجی سر گرمیوں پر توجہ دو۔کوئی بھی سیاسی جماعت تحریک انصاف کو سنجیدہ لینے کے لئے تیار ہی نہ تھی اور حقیقت بھی یہی تھی کہ تحریک انصاف کے پاس الیکٹ ایبلز کا شدید فقدان تھا ،علاوہ ازیں وہ پاکستان میں مروجہ سیاسی داؤ پیچ سے نا بلد بھی ۔ تحریک انصاف کو نہیں پتہ کہ انتخابات کا کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے،کس طرح سرکاری مشینری کو اپنا ’’دوست‘‘ بنایا جاتا ہے،کس طرح مقتدر حلقوں میں پذیرائی حاصل کی جاتی ہے،کن راستوں پر چل کر اقتدار کے در وا ہوتے ہیں،کیسے انتخابی اتحاد قائم کئے جاتے ہیں،کس طرح حریفوں کو استعمال کیا جاتا ہے،بیانات کب اور کن الفاظ میں دینے ہوتے ہیں،حتیٰ کہ تحریک انصاف آج بھی ان معاملات میں کوری ہے۔عمران کی سادگی یا ملکی و عالمی معاملات پراس کے سطحی بیانات اور بعد ازاں اپنے بیانات سے انحراف نے اس کی شخصیت کو بری طرح متاثر کیا،اسے ’’یو ٹرن خان،طالبان خان‘‘جیسے القابات سے نوازا گیا،اس کے دھرنے کے پس منظر میں مقتدر حلقے اپنے سابق سربراہ کو بڑی آسانی کے ساتھ ملک سے باہر لے گئے،جو اس کے اناڑی پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ عمران
اپنی سادگی میں اپنی جماعت پر بھی مؤثر کنٹرول رکھنے میں کامیاب نہیں رہااور آج اس کی جماعت پر روایتی سیاستدانوں کا اثر اس کی نسبت کہیں زیادہ ہے جو جانتے ہیں کہ کس طرح اور کیسے عمران سے اپنی بات منوائی جا سکتی ہے، اس کے وفادار کارکنان آج پچھلی نشستیں سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ نو وارد،وارداتئے اس کے دائیں بائیں بکثرت دیکھے جا سکتے ہیں۔اتنے تضادات کے باوجود تحریک انصاف آج ایک سیاسی حقیقت تو ہے مگر حقیقی معنوں میں ایک سیاسی جماعت نہیں کہلا سکتی کہ کان نمک میں یہ بھی نمک بن چکی ہے۔
پانامہ کے ہنگام ملک کی تجربہ کار سیاسی جماعتیں (حالانکہ حقیقتاً یہ بھی سیاسی حقیقتیں ہی ہیں،سیاسی جماعت کہلانے کی حقدار قطعاً نہیں)،مفاہمت کے تحت درون خانہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل رابطے میں تھیں اور ہمیشہ کی طرح اس ناسور کو بھی قالین کے نیچے دفن کرنے میں کامیاب ہو جاتی اگر عمران اس مسئلے کو عوام کے سامنے نہ لاتا،بیشتر غلطیاں کرنے کے باوجود یہ وہ واحد مسئلہ تھا جس پر عمران نے کسی بھی جگہ
یو ٹرن نہیں لیا اور پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس پر ڈٹا رہا۔ کبھی اسے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کے لئے کہا گیا،کبھی اسے عدالت جانے کے مشورے دئیے گئے اور کبھی وہ ایجی ٹیشن کی سیاست کرتا رہا مگر کسی صورت اس نے اس مسئلے کی جان نہیں چھوڑی۔ حکومت اور اپوزیشن نما حکومتی پارٹی کی بہتیری کوشش رہی کہ کسی طرح اس مسئلے کو دفنا دیا جائے مگر بہر صورت وہ اپنی اس کوشش میں بری طرح ناکام ہوئیں اور جب معاملات مکمل طور پر بے قابو ہونے کی طرف بڑھتے نظر آئے تو عدالت عظمیٰ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ان کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ گو کہ اس دوران بھی عدالتی کارروائی میں بے شمار الجھنیں پیدا ہوئی اور کئی مواقع پر یوں محسوس ہوا کہ پانامہ کا مقدمہ بھی اپنی موت آپ مر جائے گا لیکن عمران کی مستقل مزاجی رنگ لائی اور آج عدالتی فیصلے کے مطابق’’گاڈ فادر اور سیسلین مافیا‘‘ سڑکوں پر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف پانامہ میں ملوث اشرافیہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عمران کے خلاف بھی مقدمات دائر کئے،ان کی سماعت ہوئی/ہو رہی ہے مگر چند ریمارکس پر مسلم لیگ ن کے کارکنان عوام الناس کو گمراہ کرنے پر کمر باندھے ہوئے ہیں کہ کسی بھی طرح عمران کو سیاسی منظر نامے سے نکال باہر کریں اور پھر سے وہی مک مکا کا کھیل جاری و ساری رہے۔ عدالت کہتی ہے کہ کاروباری لین دین میں قانون کی خلاف ورزی نا اہلی کی وجہ نہیں بن سکتی ،ان ریمارکس کو مسلم لیگی عدالتوں کا تعصب بنا کر زہر اگل رہے ہیں کہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینا کیسے نااہلی کا سبب بن سکتا ہے۔ کسی بھی فانون کی خلاف ورزی متعلقہ قانون میں درج ضابطے کے مطابق کارروائی کی محتاج ہے،الیکشن کمیشن میں اثاثے چھپانے پر نا اہلی ہے،جبکہ کاروباری لین دین یقینی طور پر کمپنیز آرڈیننس کے تحت کارروائی کا محتاج ہے،جو مسلم لیگ ن کی سمجھ سے باہر صرف اس لئے ہے کہ وہ صرف غبار اڑانا جانتے ہیں۔ اللہ کریم چاہے تو چڑیا سے باز مروا دے،چاہے تو ابابیل سے ہاتھیوں کو مروا دے،بہر طور

اپنا تبصرہ بھیجیں