دھرتی، ماں کیسے بنتی ہے !

حیدرآباد سے بدین کی طرف جاتے روڈ پر آئیے ۔ دونوں جانب کچی بستیاں، کھیت، ساتھ ساتھ چلتی ریل کی دو پٹڑیاں اور تناور درخت دکھیں گے ۔
19 کلو میٹر پر دائیں جانب کھتڑ نام کا گاؤں آتا ہے ۔ یہاں مڑ جائیں اور کھتڑ کے میلے ، غربت مارے بازار سے گزر کر ذرا آگے جائیں تو منظر اچانک زرد رنگ میں ڈھل کر اک بیابان میں بدل جائے گا۔
زرد رنگ چھوٹے چھوٹے پہاڑوں کے دامن میں بچھے زردی مائل پتھریلے میدان کے بیچ سے دور تک جاتی ایک پتلی سی سڑک ملے گی، جس کے دونوں جانب، کہیں کیکٹس کا خودرو پودا، کہیں سوکھی جھاڑی اور کہیں ایک آدھ مرجھایا ہوا درخت گردن ڈھلکائے ملے گا۔
ڈھلوانی سڑک پر گاڑی کبھی اوپر کی طرف جا رہی ہوگی اور کبھی نیچے کی طرف اترے گی۔
اس پورے علاقے کو گنجو ٹکر کہتے ہیں۔
ہاں کبھی کبھی اگر بہت زیادہ بارشیں ہوں تو منظر مختلف ہوتا ہے ۔
بیابان سبزہ زار میں تبدیل ہو جاتا ہے اور زرد پہاڑیوں سے پھسلتا پانی کئی جگہوں پر آبشار کی صورت گرتا ہوا ملے گا۔ ہرے بھرے میدانوں کی گھاس میں منہ ڈالے جگالی کرتے جانور ملیں گے ۔ ریوڑ ہانکتے چرواہے ملیں گے اور جگہ جگہ خانہ بدوشوں کا پڑاؤ ملے گا۔
مگر ایسا کم کم ہی ہوتا ہے ۔
عموماً یہ ایک ویرانہ ہی ہے جو اگر آباد ہے تو پتھر کھود کر ٹرکوں میں بھرتے ہوئے مزدوروں سے ۔
اس پتلی سڑک پر تقریباً چھ سات کلو میٹر آگے جا کر اچانک نگاہوں کے سامنے ایک اور منظر آ جائے گا۔
دور سے سندھو دریا کا پانی اور دریا کے کنارے آباد کھیت زرد منظر میں سبز اور نیلگوں لکیر بھرتے ہوئے دکھیں گے ۔
اسی منظر کے ساتھ ہی بائیں جانب ایک اونچی پہاڑی پر ایک قدیم مسجد کے مینار اور ایک مزار کا گنبد اور اس کا احاطہ دکھائی دے گا۔
سڑک آپ ہی آپ مڑتے ہوئے اس مسجد اور مزار کی طرف لے جائے گی آپ کو۔
اسے مقبرہ شریف کہتے ہیں۔
یہ تقریباً دو ڈھائی صدیوں پرانا ہمارا آبائی قبرستان ہے ۔ یہاں میرے آباؤ اجداد سو رہے ہیں۔
مرکزی دروازے سے اندر جائیں تو آپ کے سامنے دو سو سالہ قدیم مسجد کا صحن اور سامنے اتنے ہی قدیم اور سادہ سے مزار کا برآمدہ آجائے گا۔ مزار کے عقب میں کئی پختہ و مٹی سے ڈھکی قبریں پھیلی ہوئی ہیں جن کے کتبے اگر سو سال پرانے ہیں تو فارسی میں لکھے ہوئے ہیں اور اس کے بعد کے کتبے اکثر سندھی میں کنندہ ہیں۔
یہاں شیخ احمد سرھندی مجدد الف ثانی کی بارھویں پشت کے خاندان کے افراد اور وہ بزرگ سو رہے ہیں جو تقریباً دو ڈھائی سو سال قبل افغان حکمرانی کی کشمکش کے باعث سندھ ہجرت کر کے آئے تھے اور یہیں کے ہو رہے اور اب پشتو اور فارسی بھول چکے ہیں اور خود کو سندھی کہتے ہیں۔ گو کہ چہروں سے آج بھی افغانی دکھتے ہیں۔
اس قبرستان کے دوسرے حصّے میں تقریباً دو ڈھائی صدیوں کے دوران جا سوئے ہوئے تمام لوگ خون کے بہت ہی قریبی رشتوں میں میرے کچھ نہ کچھ لگتے ہیں۔
بچپن اور شروع جوانی میں جب کبھی نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں جانا ہوا تو دل ان قبروں سے خوف کھاتا تھا۔ لگتا تھا کہ ان قبروں میں سوئے مردے کفن اوڑھے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہاہاہا ہوہوہو کہتے ہوئے مجھ سے لپٹ جائیں گے ۔ بحالت مجبوری دور سے ہی اوپری دل کے ساتھ تین قل پڑھ دیتی تھی۔ سن رکھا تھا کہ ان میں علماء دین اور شاعر و ادیب بھی ہیں۔ پھر بھی نہ دل جُڑتا تھا اور نہ خوف پیچھا چھوڑتا تھا۔
پھر آہستہ آہستہ اس قبرستان میں وہ لوگ بھی جاکر ابدی بسیرا کرنے لگے جنہیں میں نے اپنے ارد گرد زندگی بسر کرتے دیکھا تھا۔
پھر بھی خوف اپنی جگہ ڈٹا کھڑا رہا۔ جو لوگ کل تک اپنے ارد گرد دکھتے تھے ، قبروں میں جانے کے بعد میرے لیے قطعی اجنبی ہوگئے ۔ جیسے ان میں اور مجھ میں کبھی کوئی قرار ہی نہ تھا!
کچھ برس مزید گزرے ، اب دھیرے دھیرے ان میں وہ لوگ بھی شامل ہونے لگے جن کے ساتھ میں گھنٹوں بیٹھی تھی، باتیں کی تھیں، ہنسی مسکرائی تھی، دکھ سکھ سنے اور بانٹے تھے اور کئی برس ان کی قربت میں گزارے تھے ۔
اسی بارے میں: ۔ ہمیں اپنے گھر کی فکر کرنی چاہئے
اب انجانے میں اس قبرستان سے رشتہ جُڑنے لگا۔ اب اگر کبھی جانا ہوتا تو لاشعوری طور پر چند قدم خود بخود اندر کی طرف بڑھ جاتی۔ کسی نہ کسی قبر کے سامنے ٹھٹک کر رک جاتی۔ قبر جیسے مجھے مخاطب کرتی ہو کہ
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد
پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ پہلے میرے والد اس قبر میں جا سوئے جو انہوں نے خود اپنے بھائی کے پہلو میں اپنے لیے دو سال سے کھدوا رکھی تھی۔ سات مہینے بعد اماں بھی اس قبر میں جا سوئیں جو انھوں نے اپنی ماں کے پیروں اور باپ کے سرہانے کے بیچ اپنے لیے پانچ سال سے کھدوا چھوڑی تھی۔
اب اس قبرستان سے میرا ذاتی تعلق جُڑ گیا۔ بابا کی قبر پختہ کرواتے وقت قبر کی ساتھ والی جگہ پر میں نے اپنے بیٹھنے کے لیے ایک چبوترہ سا بنوا چھوڑا تھا۔ بابا کے آگے اس چبوترے پر دیر دیر تک بیٹھے ہوئے مجھ پر پچھلے آٹھ برسوں میں کئی معاملات کھلتے چلے گئے ۔
اپنے باپ کے پہلو میں ایک قبر جتنی خالی جگہ کی زمین کا لمس اپنے پیروں تلے مجھے یوں محسوس ہونے لگا، جیسے یہ میری اپنی زمین ہو! میرے لیے ہو! میرے حصّے کی ہو!
زمین اپنا ایک لمس بھی رکھتی ہے ، یہ انکشاف مجھ پر اسی جگہ بیٹھے ہوئے ہوا۔ ماں کی گود جیسا لمس۔
اماں کی قبر کے قریب بیٹھنے کی جگہ نہیں۔ پیروں تلے آتی زمین بھی کچی اور بھربھری اور کھنکتی ہوئی سی ہے جو پیروں سے لپٹ لپٹ سی جاتی ہے ۔ وہاں ننگے پاؤں کھڑے ہوئے سوچا کرتی ہوں کہ انسان ایسی ہی مٹی سے تو بنایا گیا ہے ! انسان کسی اور چیز سے بھی تو بنایا جا سکتا تھا! ہوا، پانی یا روشنی سے ! مٹی ہی کیوں! مٹی جو زمین ہے ۔ مگر دیکھو کہ کیسے زمین اور انسان کو آپس میں جوڑا گیا ہے !
یوں ماں کی قبر کے پاس پیروں سے لپٹی مٹی نے آہستہ آہستہ مجھے سمجھانا شروع کر دیا کہ دھرتی ماں کیسے بنتی ہے !
اب اس قبرستان سے مجھے ڈر نہیں لگتا۔ میں دیر دیر تک والدین کی قبروں کے علاوہ کئی دوسری قبروں کے سرہانے جا کھڑی ہوتی ہوں، جن میں اب وہ لوگ بھی ابدی نیند سو رہے ہیں جن سے میرا دل کا بندھن تھا۔ جنہوں نے مجھے بے پناہ محبت دی اور جنہیں میں نے دل کی گہرائیوں سے چاہا۔ ان قبروں کی مٹی کو چھوتی ہوں تو لگتا ہے انھی اپنوں کو چھوُ رہی ہوں!
مٹی میں انسان کا لمس کیسے سرایت کرتا ہے ، یہ میں اب محسوس کیا کرتی ہوں۔
پچھلے چند برسوں میں وہ لوگ بھی وہاں کی خاک میں جا بسے ہیں جو میرے ہم عمر تھے اور جن کے ساتھ کے قہقہوں کی گونج اب بھی کانوں میں گونجتی ہے ۔ بے اختیار ہاتھ بہت ہی پیار سے ان کی مٹی کو چھوُتا ہے ۔
میرے اجداد کے اس قبرستان میں میرے والدین سمیت کئی ایسے لوگ بھی سو رہے ہیں جنہیں میں نے عاشقِ رسولؐ کی صورت میں دیکھا اور جنہوں نے اپنی اپنی زندگیوں کا بہت سا وقت مدینے کی قربت میں گزارا۔
جب وہ لوگ حیات تھے اور اس قبرستان میں اپنی قبروں کی جگہ وقت سے پہلے مقرر کرتے تھے تو میں حیرت سے سوچا کرتی تھی کہ عشقِ رسولؐ کی اس انتہا پر بھی یہ لوگ اپنا مدفن جنت البقیع میں کیوں نہیں سوچتے ! نہ تو اس کے لیے دعا مانگتے ہیں اور نہ ہی خواہش کرتے ہیں!
اب سمجھ پائی ہوں کہ دین و عشق اور چیز ہیں اور دھرتی اور چیز ہے ۔ جو جس دھرتی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے ، اسی دھرتی میں اترنا چاہتا ہے کیونکہ اسی دھرتی پر اس کی نسلوں کی فصل تیار ہوتی ہے ۔
حال ہی میں اس قبرستان میں میری ایک بہت ہی قریبی اور عزیز ہستی دفن ہوئی ہے ۔ ایک دن ان کی قبر پر کھڑی تھی کہ ایک خیال نے چونکا دیا مجھے ۔
وہ آگرہ میں پیدا ہوئیں۔ پاکستان بنا تو کم عمری میں ہی بھائیوں اور ماں کے ساتھ حیدرآباد آ گئیں۔ والد وہیں آگرہ میں رہ گئے ۔ جوان ہوئیں تو میرے خالہ زاد کا دل آ گیا ان پر اور ایک مختلف زبان اور کلچر والے گھر میں شادی کرکے آ گئیں۔ رخصتی کے وقت بھائی نے باپ کا آگرے سے بھیجا ہوا خط مٹھی میں دبا دیا۔ سہاگ رات خط کھولا تو باپ نے لکھ بھیجا تھا کہ جس گھر میں بیاہ کر جا رہی ہو اسے ہی اپنا سب کچھ سمجھنا اور وہیں کی ہو رہنا۔ آگرہ میں بیٹھے باپ کی نصیحت کا ایسا پاس رکھا کہ ایک اجنبی خاندان کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ سندھی بولتی تھیں مگر اردو لہجے میں۔ ان کا پورا خاندان اور ہمارا خاندان اس ایک رشتے کی وجہ سے ہمیشہ آپس میں جڑے رہے ۔ ہماری بڑی بوڑھیاں سندھی نما اردو میں ان سے ہم کلام ہونے لگیں۔
مجھے اردو ادب پڑھتا دیکھ کر بہت خوش ہوتی تھیں اور آگرے کی یادیں دہرایا کیا کرتی تھیں۔
اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا۔ سنتے ہوئے آنکھیں بھر آیا کرتی تھیں ان کی۔
ان کی قبر پر کھڑی سوچ رہی تھی کہ کیا کمال کا رشتہ ہے دھرتی اور انسان کا!
آگرے میں پیدا ہوئیں۔ آگرے کے باغوں میں پینگ ڈال کر بچپن میں ہم جولیوں کے ساتھ گاتی ہوں گی کہ بھیا کو دیا بابل محلے دو محلے ۔ ہم کو دیا پردیس۔ لکھی بابل موہے ۔ کاہے کو بیاہی بدیس۔
پھر سچ مچ پردیس پہنچ گئیں مگر ایسی اس میں رچ بس گئیں کہ مجال ہے کہ کوئی بھولے سے بھی ان کے سامنے لفظ مہاجر بول دے ۔ فوراً تردید کرتیں کہ ہم سندھی ہیں سندھی۔ یہ اور بات کہ چھوٹا بیٹا انھیں جب لاڈ سے چھیڑتا تو گلے میں باہیں ڈال کر سندھی میں کہتا۔ میری بوڑھی مہاجر ماں۔ !
اور وہ اسے ہلکا سا پیچھے کو دھکیل کر جھوٹ موٹ کی ناراضی کے ساتھ کہتیں۔ ہٹ پرے ۔ خبردار مجھے مہاجر کہا تو۔
آج وہ آگرے سے بہت بہت دور، سندھ کے ایک گاؤں کے قبرستان میں پرسکون نیند سو رہی ہیں، جہاں اور کوئی بھی ان کا ہم زبان نہیں ہے ۔ جیسے آگرہ سندھ میں جذب ہو گیا ہو!
اب میں جب اس قبرستان میں بہت سا وقت گزار کر باہر نکلتی ہوں تو مجھے ہر بار خیال آتا ہے کہ دھرتی واقعی ماں کی طرح ہے ۔
آٹھ نو برس پہلے دلی میں مظفر علی ( فلم امراؤ جان والے ) کے ساتھ فلم کے ایک اسکرپٹ پر بیٹھی تھی۔ اچانک اٹھ کر میرے قریب آ بیٹھے ۔ کہنے لگے ۔ آپ وہاں کیا کر رہی ہیں! یہاں آ جائیے ۔ آپ کو یہاں کی فلم انڈسٹری میں ہونا چاہیے ۔
جواب میں میں نے مسکرا کر کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔
پھر خود ہی ہنس کر بولے ۔ ہاں یہاں کی تو قبریں بھی آپ کو نہیں پہچانیں گی۔ آپ کی مٹی تو وہاں ہے ۔
مظفر علی کی کہی بات کی گہرائی اب سمجھ آتی ہے ۔
کبھی کبھی جب اپنے اس آبائی قبرستان کا ذکر اپنے کراچی کے اردو بولنے والے دوستوں سے کیا کرتی ہوں تو وہ بڑے شوق سے کہا کرتے ہیں کہ کسی دن ہمیں بھی لے چلیں۔
میں ہنس کر کہا کرتی ہوں کہ تم لوگ مجھے وہاں ہمیشہ کے لیے چھوڑنے جانا۔ جب مجھے چھوڑ کر لوٹو گے تو تمہیں بھی اس زمین اور اس کی مٹی سے پیار ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں