آرمی چیف مشورہ پر عمل بھی کروائیں

؂؂؂
فیض آباد انٹر چینج پر گزشتہ بیس روز سے جاری دھرنے کو ختم کروانے کے لئے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی کارروائی معطل ہونے کے بعد مظاہرین دوبارہ اسی مقام پر جمع ہورہے ہیں۔ گزشتہ صبح نو بجے شروع ہونے والی یہ کارروائی اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح حکم کے بعد شروع کی گئی تھی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک تو حکومت بے یقینی کا شکار ہے اور دوسرے تین ہفتے کا وقت ملنے کے باوجود سیکورٹی فورسز نے اس آپریشن کے لئے مناسب تیاری نہیں کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے لئے 8500 اہلکار تعینات کئے گئے تھے لیکن وہ مبینہ طور پر دو ہزار احتجاج کرنے والے لوگوں کو فیض آباد انٹر چینج سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ مظاہرین اور سیکورٹی فورسز میں سارا دن کی آنکھ مچولی کے بعد بالآخر اس آپریشن کو معطل کردیا گیا ہے اس دوران ایک پولیس افسر جاں بحق ہؤا ہے اور دو سو لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں نصف کا تعلق سیکورٹی فورسز سے ہے ۔ دھرنا اور مظاہرہ بدستور جاری ہے ۔
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کل مظاہرین کو نصف شب تک منتشر ہونے کا نوٹس دیا تھا۔ لیکن اس حکم کی واضح حکم عدولی اور دھرنا ختم نہ ہونے کے باوجود پولیس کارروائی کے لئے دن چڑھنے کا انتظار کیا گیا۔ اس دوران پیمرا کی طرف سے تصادم کی لائیو کوریج کرنے سے منع کیا گیا تھا تاہم متعدد ٹیلی ویژن اسٹیشنوں نے اس کی خلاف ورزی کی جس کے بعد ملک کے بیشتر حصوں میں اکثر ٹیلی ویژن نشریات بند کردی گئی تھیں۔ حکومت کا یہ اقدام بھی معلومات کی فراہمی کے بنیادی انسانی اور جمہوری حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔ حکومت یہ سمجھنے میں بھی ناکام رہی کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں ٹیلی ویژن نشریات بند ہونے سے معلومات کی فراہمی تو نہیں رکتی البتہ افواہوں کا سلسلہ ضرور شروع ہوجاتا ہے ۔ یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ پاکستانی حکام رپورٹروں اور ٹیلی ویژن کیمروں کو دور رکھنے کے لئے دنیا بھر کے ملکوں میں اختیار کیا جانے والا طریقہ کیوں اختیار نہیں کرسکتے ۔ پولیس عام طور سے ایسے مواقع پر علاقے کو گھیر لیتی ہے اور عام شہریوں اور صحافیوں کا داخلہ وہاں منع ہوتا ہے ۔ لیکن ماضی میں پولیس کی طرف سے اس قسم کی کوئی کارروائی مؤثر ثابت نہیں ہوئی کیوں کہ ٹیلی ویژن رپورٹر اور کیمرا مین بھی دیگر شہریوں کی طرح قانون یا قانون نافذ کرنے والوں کو خاطر میں لانے پر تیار نہیں ہوتے ۔



مصر میں خوں ریزی اورپاکستان میں دھرنا

پولیس کی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں ڈیڑھ سو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن مظاہرین سے چار گنا تعداد میں ہونے کے باوجود سیکورٹی فورسز یہ دھرنا منظم کرنے کے ذمہ داران کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اسے پولیس اور اس کی معاونت کرنے و الے دیگر اداروں کی ناکامی کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ پولیس کو سب سے پہلے قائدین کو ٹارگٹ کرکے انہیں غیر مؤثر کرنے کی ضرورت تھی تاہم اس ساری کارروائی اور اس کی ناکامی کے پس پردہ حکومت کی ناقص انتظامی صلاحیت کے علاوہ اس کی سیاسی بے حوصلگی کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ وزیر داخلہ احسن اقبال ایک روز پہلے یہ دعویٰ کررہے تھے کہ وہ حکم دیں تو مظاہرین کو تین گھنٹے میں فیض آباد انٹرچینج سے ہٹایا جا سکتا ہے لیکن اس اقدام کو ان کی حکومت کے خلاف سیاسی طور سے استعمال کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ کا دعویٰ تو غلط ثابت ہو چکا ہے اب دیکھنا ہے کہ اس ناکامی کے حکومت اور مسلم لیگ (ن) پر کیا سیاسی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مظاہرین کے حوصلہ و ہمت اور مقابلہ پر قائم رہنے اور حکومتی فورسز کی ناکامی کا جائزہ لیتے ہوئے دو عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس تنازعہ کا خواہ جو بھی انجام ہو لیکن مستقبل میں پاکستان کی صورت حال کے حوالے سے امور کو پیش نظر رکھنا اہم ہوگا۔ ان میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ دھرنا دینے والے رہنما پیغمبر اسلام کا نام لے کر اور ان کی حرمت کے تحفظ کا دعویٰ کرتے ہوئے لوگوں کو مشتعل کررہے تھے ۔ یہ سلسلہ یوں تو مسلسل کسی نہ کسی طور سے جاری رہتا ہے لیکن نومبر کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے والے دھرنے کے دوران مقررین نے مسلمانوں کے جذبہ ایمانی اور رسول پاکؐ کے لئے ان کی محبت کو ٹارگٹ کرکے لوگوں کو مشتعل کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ اس دوران متعدد حلقوں کی جانب سے دھرنا لیڈروں کے انداز تکلم کو مسترد کیا گیا اور عدالتوں میں یہ بات واضح ہوئی کہ اس احتجاج کے اصل مقاصد سیاسی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ملک کا عام مسلمان کسی نہ کسی طرح یہ محسوس کرنے لگا کہ خواہ یہ دھرنا دینے والے جو بھی ہوں لیکن وہ عشق رسولؐ میں خطرہ مول لے رہے ہیں۔ ایسے میں گھر بیٹھے بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں یہ خیال بھی ضرور گھر کرگیا ہوگا کہ انہیں بھی اس نیک کام میں قدم آگے بڑھانا چاہئے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ روز پولیس کارروائی شروع ہوتے ہی ملک بھر کے تمام شہروں میں احتجاج، توڑ پھوڑ اور فساد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ملک کے سیاست دانوں اور طاقت ور اداروں نے مولوی اور دین کا علم اٹھا کر سیاست کرنے والے عناصر کو یہ طاقت خود عطا کی ہے کیوں کہ وہ انہیں ضرورت پڑنے پر اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک میں ناقص تعلیمی نظام اور گمراہ کن نصاب کی وجہ سے بھی مذہبی تفیم کی بجائے مذہبی جوش و خروش اور شدت پسندی میں اضافہ ہؤا ہے ۔
اس ناکامی میں دوسرا اہم پہلو دھرنے کے حوالے سے فوج کا کردار ہے ۔ حیرت انگیز طور پر آج پولیس کارروائی شروع ہوتے ہی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ پیغام میں اطلاع دی تھی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیر اعظم کو فون کرکے کہا ہے کہ ‘دھرنے کے مسئلہ کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے ۔ فریقین کی جانب سے تشدد قومی مفاد میں نہیں ہے ’۔ اس حوالے سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیکورٹی فورسز کا آپریشن شروع ہونے کے بعد فوج کے سربراہ کو وزیر اعظم کو یہ مشورہ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اور اگر مشورہ دیا گیا تھا تو اس کی تشہیر کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا۔ اس سے قبل دھرنا کے حوالے سے فوج تین ہفتے تک خاموش تماشائی بنی رہی تھی۔ اس پیغام کا لازمی نتیجہ ہے کہ حکومت کے حوصلے پست ہوئے ہوں گے اور مظاہرہ کرنے اور پولیس کا مقابلہ کرنے والوں کو یہ پیغام ملا ہوگا کہ انہیں پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ فوج ان کی پشت پر ہے ۔ حکومت اور حکومت سے باہر سب ہی جانتے ہیں کہ ملک میں معاملات طے کرنے کا اصل اختیار فوج کے پاس ہے ۔یہ سوال کیا جارہا ہے کہ کیا آرمی چیف نے دھرنا قائدین کو بھی ایسا ہی مشورہ دیا تھا۔ اس کا جواب تو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل ہی دے سکتے ہیں لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ انہوں نے اس کا اعلان کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ ایسے میں اگر یہ چہ میگوئیاں شروع ہوں گی کہ فوج موجود جمہوری حکومت کے خلاف ہونے والی ‘سازشوں ’ میں شاملہے تو عجب نہیں ہو گا۔ اس لئے اب فوج پر لازم ہے کہ وہ اپنی پوزیشن بھی واضح کرے اور دھرنا ختم کروانے کے لئے وہ ‘پرامن’ کردار بھی ادا کرے جس کا مشورہ آرمی چیف نے آج وزیر اعظم کو دیا ہے ۔

دبئی میں اربوں کی جائیدادیں رکھنے والے پاکستانی

فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے دبئی میں اربوں روپے کی جائیدادیں اوراثاثے رکھنے والے 100کے قریب ایسے پاکستانیوں کی فہرست تیارکی ہے جنہوں نے اس خریدوفروخت کے لیے سٹیٹ بنک سے اجازت لی نہ حکومت پاکستان سے باقاعدہ اجازت لی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین قیصراحمدشیخ کی زیرصدارت اجلاس میں بھی دبئی میں مقیم پاکستانیوں اوران کی جائیدادوں کے بارے میں فیڈرل بورڈآف ریونیو ،سٹیٹ بنک،ایف آئی اے اورنیب کوبھی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ذیلی کمیٹی کی کنونیئرڈاکٹرشذرہ منصب علی کھرل نے کمیٹی کاآگاہ کیا کہ دبئی میں پاکستانیوں نے 8ارب کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے ممبراسدعمر کے مطابق دبئی میں 100نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی انوسٹر اورجائیدادیں خریدنے والے افرادموجود ہیں۔پانامہ لیکس اورپیراڈائز لیکس کے بعددبئی بھی دنیا کی چندایسی محفوظ جنتوں میں شامل ہے جہاں جدید طرزتعمیر والے بنگلوں ،فلیٹس اوردیگرکاروباری مراکز میں اربوں ،کھربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی۔پاکستان میں لوٹ مار،کرپشن ،غیرقانونی ذرائع یاٹیکس چوری سے کمایا جانے والا سرمایہ گزشتہ 10/12برس سے دبئی سمیت خلیجی ریاستوں میں خریدوفروخت کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔رواں سال جون میں یہ حیر ت انگیز انکشاف سامنے آیاتھا کہ دبئی میں 40سے50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری صرف پاکستانیوں کی طرف سے کی گئی جن میں سیاستدان ،صنعتکار،بزنس مین ،فنکار اورمختلف مافیاز کے لوگ شامل ہیں ۔بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں دہشتگردی ،بدامنی،مہنگائی وبیروزگاری کے علاوہ سرکاری پالیسیاں ہی ایسی ہیں کہ روپیہ کمانے والے کی بھنک پڑتے ہی ایف بی آر کے ذیلی ادارے انکم ٹیکس سیلزٹیکس کے اعلیٰ حکام اس کے گردگھیراتنگ کرکے اپناحصہ وصول کروانے کاراستہ اختیار کرنے لگتے ہیں ۔نیب اورایف آئی اے والے بھی’’شک‘‘ کی عینک پہن کرایسے پاکستانیوں کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں سے خودان کے لیے ’’پرکشش مالی وسائل‘‘کاراستہ نکل سکے۔قومی ذمہ داریاں ،فرائض اورحب الوطنی کے تقاضے ان کے لیے بے معنی یاثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔کسی بڑی مچھلی یامگرمچھ کے گرد احتسابی شکنجہ کس کریااسے بلیک میل کرکے’’موٹے نذرانے‘‘و صول کرنافیشن بن چکاہے ۔ایک جمہوری واسلامی ریاست کے باعث پاکستان میں کاروبار کرنایاجائز منافع کمانا نہ صرف قانونی واخلاقی لحاظ سے درست ہے بلکہ کوئی شخص اگر بیرون ملک سرمایہ لے جانایاکاروبارکرناچا ہے تواس پربھی کوئی پابندی نہیں تاہم قواعدوضوابط کی پابندی کے ساتھ کاغذی کارروائی پوری کرنی پڑتی ہے۔مروجہ پاکستانی قوانین کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیاں ،فرمیں یاادارے اپنامنافع بیرون ملک بذریعہ سمگل ٹرانزیکشن لے جاسکتے ہیں تاہم کسی بھی پاکستانی کے لیے بیرون ملک پراپرٹی خریدنے یاکاروباری مقاصد کے لیے سرمایہ منتقل کرنے کے لیے سٹیٹ بنک کی اجازت ضروری ہے۔گزشتہ سال پانامہ لیکس میںیہ بات سامنے آئی کہ ساڑھے چارسو کے قریب پاکستانیوں نے دنیا کی12محفوظ جنتوں میں آف شورکمپنیوں یااداروں کے ذریعے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ سمیت مختلف مغربی ممالک میں300ارب ڈالر سے زائدسرمایہ پاکستانیوں کابڑاہونابھی ثابت ہوچکاہے۔پاکستانی ہونے کے ناطے یہاں بسنے یاپیداہونے والے ہرشخص کے حقوق کے ساتھ کچھ فرائض اوراخلاقی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ایک ایساملک جہاں ریاست کے لیے بنیادی سہولتیں تک فراہم کرنے کے لیے پیسہ نہیں ،تعلیم کے لیے کافی سکول اورکالج نہیں ،سرکاری ہسپتالوں میں کافی بیڈز،لیبارٹریز نہیں ،سستی اربن ٹرانسپورٹ چلانے کے لیے وسائل نہیں حدیہ کہ پینے کاصاف پانی اوردیہاتوں سے شہروں تک اجناس پہنچانے کے لیے رابطہ سڑکیں تک نہیں وہاں اتنی بڑی رقوم لوٹ کر بیرون ملک شاہانہ زندگیاں گزارنااخلاقیات ہے نہ حب الوطنی ۔70برس قبل آزادی حاصل کرنے والے پاکستان میں آج بیروزگاروں ،پڑھے لکھے بیروزگاروں کے لیے نوکریاں نہیں ،معاشرے کی 51فیصد آبادی یعنی خواتین کے لیے سماجی تحفظ نہیں ۔سڑکوں کے لیے سٹریٹ لائٹس،کارخانے اورفیکٹریاں چلانے کے لیے بجلی نہیں،وہاں اربوں ڈالر لوٹنے والے چندہزارافراد موجیں کریں ،اشرافیہ قانون سے بالاترتوسوشل ویلفیئر سٹیٹ کاتصور کہاں نظر آئے گا۔گزشتہ 20/25 برس سے برسراقتدار آنے والے ہرشخص نے کرپشن کی روک تھام ،قومی وسائل کے تحفظ اورگڈگورننس کے دعوے ضرور کیے مگرعملی طورپر ملکی سرمائے کوخفیہ ذرائع سے بیرون ملک منتقل کرنے والوں پرکبھی ہاتھ ڈالاگیا نہ انہیں کیفرکردار تک پہنچایاجاسکا۔اڑھائی برس قبل کرنسی سمگلنگ میں ملوث ماڈل ایان علی کامقدمہ آج بھی ابتدائی مراحل میں ہے جبکہ چین میں صرف گزشتہ ایک برس کے دوران قومی وسائل لوٹنے ،رشوت ،کمیشن لینے والے402خائن افراد کوپھانسی دی جاچکی ہے ۔پاکستان میں سول کورٹس اورفوجداری عدالتوں کے ساتھ کسٹم کورٹس،کنزیومرکورٹس،بنکنگ کورٹس،سپیشل کورٹس،اینٹی ٹیررسٹ کورٹس،نیب ،ایف آئی اے،پانچ ہائیکورٹس موجود ہیں مگر آج تک کسی لٹیرے ،ڈاکو،ٹیکس چور،سمگلر یامنشیات فروش کو تختہ دارتک نہیں کھینچاجاسکا۔ستمبر2015ء میں سامنے آنے والے ایک سروے کے مطابق دبئی میں بیرونی سرمایہ کاروں میں پاکستان تیسرے نمبر پرتھا جبکہ امریکہ اوربرطانیہ جیسے متمول ممالک کے افراد اس فہرست میں بالترتیب آٹھویں اورپانچویں نمبر پرتھے ۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے اگست میں منصب سنبھالتے وقت ممنوعہ اسلحہ کی موجودگی پرتشویش ظاہرکرتے ہوئے 15جنوری2018ء تک معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کے لیے احکامات جاری اور خطرناک اسلحہ لائسنس منسوخ کرتے ہوئے انہیں غیرممنوعہ لائسنسوں میں تبدیل کرنے کی مہلت دی تھی جس کاوالہانہ خیرمقدم کیاگیاتھا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ کرپشن کے خاتمہ اورسالانہ غیرقانونی طورپر اربوں ڈالر منتقل کرنے والوں پربھی نہ صرف آہنی ہاتھ ڈالاجائے بلکہ20کروڑ پاکستانیوں کے وسائل لوٹ کربیرون ملک عیش وعشرت کی زندگیاں گزارنے والے ننگ وطن اورننگ انسانیت لیٹروں ،ڈاکوؤں کوبھی نشان عبرت بنانے کی طرف ریاستی سطح پرپیشرفت شروع کی جائے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
آرمی چیف مشورہ پر عمل بھی کروائیں
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں