پاکستان میں تیزی سے فروغ پانے والادھرنا کلچر

فیض آباد انٹرچینج پرگزشتہ 21روزسے جاری تحریک لبیک یارسول اللہ ؐ کادھرنا بالآخر رینجرز کی ذمہ دارانہ اپروچ اورحکومتی رضامندی کے باعث ختم ہوگیا۔وفاقی وزیرقانون زاہدحامد کے استعفیٰ کوفوری طورپر منظورکرنے کے ساتھ ہی اس کانوٹیفیکیشن بھی جاری ہوگیا۔طے پانیو الے معاہدے کے مطابق راجہ ظفرالحق رپورٹ 30روز میں منظرعام پرلائی جائے گی دھرنے کے دوران تحریک لبیک کے جن کارکنوں کوگرفتارکیاگیا،انہیں رہابلکہ ان کے اوردیگرافراد کے خلاف قانون شکنی،دہشتگردی اوردیگردفعات کے تحت درج مقدمات واپس لے لیے جائیں گے ۔تحریک لبیک کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی دیگرشرائط میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومتی سطح پرکوششیں تیز کرنے ،9نومبر کو اقبال ڈے پرسرکاری چھٹی کی بحالی ،تعلیمی نصاب بورڈ میں اہلسنت کے دو نمائندے شامل کرنے کے ساتھ پنجاب کے وزیر قانون راناثناء اللہ کوتحقیقاتی بورڈکے روبروپیش ہونے اوراپنی پوزیشن واضح کرنے کی خواہش بھی شامل ہے۔ رات بھرجاری رہنے والے مذاکرات کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ’’ہمارے مطالبات وشرائط شہداء کے خون کی قیمت تو نہیں تاہم ملکی مفاد میں احتجاج ختم کیاجارہاہے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے اوردھرنادینے کے کوئی سیاسی مقاصد تھے نہ ہماری اس تحریک کے پیچھے کسی کاہاتھ تھا کیونکہ آرمی چیف اورایک میجر جنرل ضامن ہیں اس لیے ہم ملک بھر میں جاری اپنے دھرنے ختم اوراحتجاج وہڑتال کی کال واپس لے رہے ہیں ۔‘‘جہاں تک تحریک لبیک کے اس دھرنے کی وجوہات،اسباب،اثرات ونتائج کاتعلق ہے توارباب اختیار،سیاستدانوں ،سیاسی قائدین،سماجی،تجارتی ،کاروباری محکمہ جاتی تنظیموں کے لیے بھی یہ بہت بڑا لمحہ فکریہ بن کرسامنے آیاہے۔



پاک فوج نظر ثانی کرے

دنیابھر میں اپنے حقوق،مطالبات اورزیادتیوں کے خلاف دھرنے نہ صرف جمہوری وبنیادی حقو ق میں شامل ہے بلکہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی نشاندہی،حکمرانوں تک اپنانقطہ نظرپہنچانے کابھی یہ انتہائی موثرذریعہ ہے ۔پاکستان میں دھرنوں کی تاریخ نئی نہیں ۔تحریک عقیدہ ختم نبوت کے تحت1953ء میں ملک کے طول وعرض میں مرزائیوں کوغیرمسلم قراردینے کے لیے احتجاج ومظاہروں کے ساتھ سڑکوں کو بلاک کرنے کاسلسلہ شروع ہوا۔فیلڈمارشل ایوب خان نے1958ء میں مارشل لاء لگاکراقتدارپرقبضہ کیاتوزبردستی قبضوں ،کمزوروبے نواء افراد کے خلاف طاقتوروں کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کے لیے اس کی کئی مثالیں سامنے آئیں تاہم یہ دھرنے ’’زنجیرعدل ہلانے کے مترادف‘‘تھے۔1973ء کاآئین بناتو عقیدہ ختم نبوت کودستوری تحفظ دلوانے کے لیے آغاشورش کاشمیری،مولاناتاج محمودسمیت ملک بھر کے دینی ومذہبی حلقے میدان میں آگئے ۔شہرشہراحتجاج مظاہروں اوردھرنوں کے بعد وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے قومی اسمبلی کے ارکان پرمشتمل خصوصی کمیٹی بنائی جس نے مرزاناصر کوطلب کرکے اس پربحث بھی کی جس کے بعد مولانا کوثرنیازی،مفتی محمود،مولاناشاہ احمدنورانی،علامہ حامدکاظمی کے علاوہ ملک بھر کی دینی ومذہبی تنظیموں نے لاہوریوں ،احمدیوں اورقادیانی گروپ کے افراد کے عقیدہ کواسلام اورخاتم النبینؐ کی تعلیمات واحکامات کے منافی قراردے کر 7ستمبر1974ء کومرزائیوں کودائرہ اسلام سے خارج قراردے دیا جس کے لیے آئین میں باقاعدہ ترمیم کرنی پڑی۔1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعدمغربی پاکستان میں مشتعل ودلفگار عوام پاکستانی جنرل یحیٰی خان کے خلاف سڑکوں پرآگئے اوران کے استعفے تک اہم شاہراہوں ،چوکوں اورمقامات سے اٹھنے سے انکارکردیا۔1977ء میں ذوالفقارعلی بھٹوکے خلاف پاکستان عوامی اتحاد(پی این اے)کے نام پراکٹھے ہونے والے 9ستاروں نے احتجاج کے ساتھ گرفتاری پیش کرناشروع کردیں۔جگہ جگہ دھرنے شروع ہوگئے جس کے نتیجے میں 5جولائی کوجنرل ضیاء الحق نے پیپلزپارٹی کی حکومت ختم کرکے مارشل لاء لگادیا۔1979ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کی سزائے موت اوربعدازاں سینٹرل جنرل راولپنڈی میں پھانسی کے بعد بھی جیالوں کے کوچہ وبازاروں میں دھرنے ہوتے رہے۔تاہم ان دھرنوں اوراحتجاجوں میں سیاست یادنیاوی مفادات زیادہ جبکہ دین ومذہب کے بارے میں عقیدت ،جوش وجذبہ اوروارفتگی کم تھی۔وقت گزرنے کے ساتھ احتجاج کے انداز بدلتے رہے مگردھرنا بدستوراہم عنصررہا۔قتل ناحق ہویامعاشرتی ناانصافی،لوگ لاشیں لے کر شاہراہوں ،انتظامی افسروں کے دفاتراورشاہراہوں پربیٹھتے رہے۔دہشتگردی کی شدت میں اضافہ ہواتواہل تشیع اپنی امام بارگاہوں کے تحفظ ،بلوچستان میں ہزارہ برادری کے قتل عام یاکراچی کے گورنر ہاؤس کے سامنے بھی دھرنے دیتے رہے ہیں مگردسمبر2012ء میں پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہرالقادری کاپیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف دھرنااوربعدازاں اگست2014ء میں پی اے ٹی اورپی ٹی آئی کااسلام آباد میں دھرنا نئے انداز سے سامنے آیا۔اگرچہ طاہرالقادری 100روزبعد واپس چلے گئے مگرعمران خان126روز پریڈگراؤنڈ میں بیٹھے رہے ۔اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کایہ طریقہ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی رائج ہے مگراس دوران عوام کو مشکلات سے دوچار کرنابجائے خود ایک نئی صورتحال کوجنم دینے کاباعث بن جاتاہے۔برطانیہ،امریکہ ،کینیڈا،نیویارک سمیت متعدد جمہوری ملکوں میں بھی لوگ اپنااحتجاج ریکارڈ کرواتے یاتنظیمیں سڑکوں پر آتی ہیں لیکن چندمنٹوں یاگھنٹوں کے لیے۔ برطانوی وزیراعظم کی رہائشگاہ 10ڈاؤننگ سڑیٹ،امریکی صدر کی رہائشگاہ وائٹ ہاؤس اوراقوام متحدہ کاہیڈکوارٹرنیویارک بھی احتجاج کے لیے استعمال ہوتاہے مگروہاں لوگ پلے کارڈ اوربینرز لے کرپہنچتے اورکچھ دیررکنے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔احتجاج اوردھرنے کے مناظر تصاویراورٹی وی چینلز کے ذریعے چندمنٹوں کے اندر دنیابھر کے اخبارات والیکٹرانک میڈیا کے دفاتر کوموصول ہو جاتے ہیں مگرپاکستان میں اس کی نوعیت احتجاج کی بجائے انتہاپسندی بلکہ جبر کی حدود کوچھونے لگتی ہے۔7نومبر2017 کو اسلام آبادانٹرچینج پرشروع ہونے والے دھرنے کے باعث راولپنڈی اوراسلام آباد ایک دوسرے سے کٹ کررہ گئے۔اسلام آباد کے20لاکھ لوگ محصور ہوئے توروزانہ اپنے کام کاج ،تعلیمی اداروں یاسرکاری دفاتر میں پہنچنے والے تین لاکھ سے زیادہ لوگ مشکلات کاشکارہوگئے ۔متعدد مریض متاثرجبکہ حاملہ خواتین مشکلات سے دوچار ہوئیں۔اتوار26نومبر کواسلام آباددھرنے کے خلاف آپریشن کی اطلاعات پرچاروں صوبوں کے اہم شہروں میں تحریک لبیک سمیت مختلف مذہبی ودینی تنظیموں کے احتجاج ومظاہروں سے پوراملک ایک دوسرے سے کٹ کررہ گیا۔باراتیں،زخمی،بیماراورمریض ہی نہیں،ججز ،ڈاکٹرز ،طالب علم حتیٰ کہ ملازمین بھی بری طرح متاثرہوئے۔ فیض آباد کادھرناختم ہونے کے باوجود لاہور میں جگہ جگہ ابھی تک دھرنے جاری ہیں جوایک جمہوری یااخلاقی سہولت کے غلط استعمال کی بدترین صورت ہے۔تحریک لبیک کے قائدین خودکو عاشقان رسولؐ قراردینے کے ساتھ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پیغمبراسلامؐ نے راستے بلاک کرنے کوسختی سے منع کیاہے۔اب جبکہ یہ دھرنا ختم ہوہی گیا ہے توتمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کواس کے مضراثرات کاادراک کرتے ہوئے مستقبل میں یہ طریقہ ختم کرناہوگا۔برطانیہ کے ہائیڈپارک کی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں ایسے مقامات موجود ہیں جہاں دھرنے کے باوجود عام شہری متاثرنہیں ہوتے۔لاہور کامال روڈ ہویاکراچی کی شاہراہ قائدین پورے ملک میں شاہراہوں پردھرنے غیرقانونی قراردے دئیے جانے چاہئیں تاکہ کسی تنظیم یاگروپ کے احتجاج کے باعث پوراملک مفلوج نہ ہوکر رہ جائے ۔پاکستان کی شہ رگ پرقبضہ کرنے والے تحریک لبیک کی طرح اگرمستقبل میں کوئی اورتنظیم ،گروپ یاجماعت کسی حساس مقام،سفارتخانے یامقدس مقام کو یرغمال بنالے توکیاہوگا۔وقت آگیاہے کہ انسدادی،احتیاطی اقدامات یقینی بنائے جائیں تاکہ پاکستانی قوم سکون کاسانس لے سکے۔

یکساں ومعیار ی نظام تعلیم کے لیے ٹاسک فورس بنانے کافیصلہ

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی زیرصدارت منعقدہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پورے ملک کے نظام تعلیم میں بہتری ویکسانیت لانے کے لیے ایک ایسی قومی ٹاسک فورس بنانے کافیصلہ کیاگیاجونئے معیارات کے بارے میں اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔مجوزہ ٹاسک فورس موجودہ نصاب تعلیم کاجائز ہ لے گی تاکہ قومی امنگوں کی روشنی اورجدیدعصری تقاضوں کے مطابق نئی کونسل کوایسے زیورتعلیم سے آراستہ کیاجائے جوملکی مفادات،ضروریات ،سائنسی وایجاداتی حقائق کی روشنی میں عملی زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔معاملے کی نزاکت اورہمہ گیریت کے باعث بہترتجاویز کے لیے چاروں صوبوں اورمتعلقہ وزارتوں کوبھی آ ن بورڈ لیاجائے گاتاکہ معیاری ویکساں نظام تعلیم مرتب کرنے کے لیے قابل عمل وموثر لائحہ عمل مرتب کیاجاسکے۔اجلاس نے ہائرایجوکیشن کمیشن اوراس تناظر میں دیگرامور کابھی جائزہ لیا۔جہاں تک نئی سفارشات تک پہنچنے اورجدیدمعاشرتی وتعلیمی تقاضے پورے کرنے کاتعلق ہے توقیام پاکستان کے 70برس بعد بھی ہم بحیثیت قوم ابھی تک اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم کیاہوناچاہیے اورہماری معاشرتی ،معاشی سماجی تقاضے کیاہیں؟ دوقومی نظریے کی بنیادپروجود میں آنے والے ملک کے لیے ایسانظام تعلیم ہوناچاہیے تھاجس میں امیرغریب کے لیے یکساں ترقی کے مواقع میّسرآنے کے ساتھ بیوروکریسی ،انتظامی اداروں اورمعاشرتی تقاضوں کوپوراکرنے کے ساتھ صنعتی،تجارتی ،کاروباری ،پیداواری سیکٹر،ز راعت ،صحت ،ریسرچ اورسائنسی ضروریات بھی پوری ہوسکیں اورایک نظریاتی ریاست کی ترویج وارتقاء کے لیے راستہ بھی ہموار ۔30/35برس قبل تک پاکستان اوربھارت میں رائج نظام تعلیم انگریز کے لیے کلرک،انتظامی ہرکارے اورقاصد ،نائب قاصدجیسے افرادپیداکرناتھا۔پانچویں جماعت تک اردو،اسلامیات ،ریاضی ،معاشرتی علوم اورملکی جغرافیہ کے علاوہ جنرل سائنس جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے جبکہ آٹھویں جماعت تک سائنس،مطالعہ پاکستان،جنرل سائنس ،ریاضی ،انگریزی اورلازمی اسلامیات کواہمیت دی جاتی تھی۔میٹرک میں سائنس اورآرٹس جیسے شعبوں میں طلبہ وطالبات کوتقسیم کرکے انگلش،میتھس،فزکس ،کیمسٹری ،بائیولوجی جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے ۔کمزورمعیشت ،تعلیمی اہمیت سے لاعلمیاورانتہائی کم تعلیمی ادارو ں کے باعث یہاں شرح خواندگی کبھی35فیصدسے زائد نہ رہی تاہم1972ء میں ذوالفقارعلی بھٹو نے اقتدارسنبھالتے ہی میٹرک تک تعلیم مفت کرنے کے ساتھ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انگلش کی اہمیت کومرکزی حیثیت دی ۔اس کے علاوہ اسلامیات ،مطالعہ پاکستان کوبھی اہم قراردیاگیا۔تب تک ہمارانظام صرف پڑھے لکھے افرادپیداکرنے کاباعث تھامگرعصری تقاضوں ،دنیاکی مہذب وتعلیم یافتہ قوموں کے مقابلے میں پاکستانی نظام تعلیم میں بتدریج بہتری لانے کاسفرشروع ہوا توانجینئر،ڈاکٹر ،پائلٹ،سائنسدان،ریسرچ سکالر،ایم بی اے،پروفیسرپیداکرنے اورزرعی وصنعتی تقاضوں کی روشنی میں سائنسی وتحقیقی معاملات پرخصوصی توجہ دی گئی۔ٹاٹ سکولوں کی بجائے میزکرسیاں اورمارکی جگہ پیارکورواج دیاگیا۔معاشرتی خوشحالی ،معیارزندگی میں بہتری،مواصلات وسفری سہولتوں میں اضافے کے ساتھ شرح خواندگی بڑھانے پرخصوصی توجہ دی گئی مگراس کے ساتھ ہی دوہرے تہرے نظام تعلیم کورواج دیاجانے لگا۔اردومیڈیم،انگلش میڈیم ،مشنری سکول سسٹم ،ما نیٹسوں،مغربی تعلیمی اداروں کی برانچز کے نام پرپاکستان میں مختلف نظام تعلیم رائج ہوگئے جن میں فوجی سکول،پولیس ،بیوروکریسی کے اپنے انگلش میڈیم سسٹم اورپرائیویٹ سیکٹر میں یونیورسٹیاں ،کالج اورانسٹی ٹیوٹ وجود میں آنے لگے۔جنرل ضیاء الحق ،بے نظیربھٹو،نوازشریف اورپرویز مشرف دورحکومت میں شرح خواندگی بڑھانے کے لیے قومی بجٹ کا7/8فیصدتعلیم پرلگا نے کی بجائے صرف3فیصد تک ہی فراہم کیاجاتارہا۔سائنس،انجینئرنگ،کمپیوٹرسائنس ،میڈیکل ،ایگری کلچرل،ٹیکنیکل،انڈسٹریل اورفائن آرٹس جیسے مضامین کے لیے کم ریاستی سہولتوں کے باعث پرائیویٹ سیکٹر کوہرپروموٹ کیاگیا جس نے تعلیم کوتجارت بنادیا۔آج ہماری خواندگی کی شرح بڑھ کر 75/80فیصدضرور ہوگئی مگرہماری نئی نسل کے لاکھوں بچوں کے لیے پرائمری،مڈل اورثانوی سکول ہیں نہ سرکاری کالجز اوریونیورسٹیاں ،الیکٹریکل ،مکینیکل،انجینئرنگ ،میڈیکل تعلیم کے شعبے میں خوشحال،کھاتے پیتے طبقات،بیوروکریٹس پھرآگے ہیں جبکہ غریب وکم وسائل والے لوگوں کے بچے آج بھی غیرمعیاری یاانتہائی کم مواقع کے باعث موٹرمکینک،فریج،ٹی وی ،الیکٹرک اپلانسز جیسے شعبوں میں کھپنے پرمجبور ہیں اوراگرکوئی پانچ سات فیصدطلبہ وطالبات اپنی ذہانت ،صلاحیت اورقابلیت کی بنیادپرنمایاں پوزیشن حاصل بھی کر لیتے ہیں تورشوت ،سفارش اوراثرورسوخ نہ ہونے کے باعث یہ ٹیلنٹ سڑکوں پردھکے کھاتااورچھوٹی موٹی نوکریاں تلاش کرتاپھرتاہے۔کمپیوٹر سائنس،موبائل فون،صنعتی وتجارتی ،پیداواری وکاورباری سیکٹرکے باعث بڑی حدتک ناخواندہ،نیم خواندہ یاکم خواندہ نوجوان اپناروزگار حاصل ضرورکررہے ہیں مگرپاکستان میں رائج طبقاتی نظام تعلیم کے پیداکردہ احساس کمتری،احساس برتری اورجاگیردارانہ سوچ نے بڑے بڑے باصلاحیت پاکستانیوں کو محرومیوں کی غار میں دھکیل رکھاہے۔بیکن ہاؤس سکول ،ا یچی سن،کیمبرج،آکسفورڈاورہارورڈیونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے والے کھاتے پیتے طبقات کے نوجوان ہرشعبے میں نمایاں مقام حاصل کرلیتے ہیں ۔دینی مدرسوں میں زیرتعلیم بچوں کومغربی تعلیم سے خائف کرکے لادینی یاشیطانی قرار دیاجاتاہے جومحرومیوں اورکمپلیکس کے باعث بالآخر مغرب مخالف مکتبہ فکر میں شامل اوردہشتگردی ،مذہبی منافرت ،انتہاپسندی کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ۔ایک نظریاتی واسلامی ملک کے طورپراگرشروع میں ہی یہاںیکساں نظا م تعلیم رائج کردیاجاتاتوآج یہاں طبقاتی کشمکش بڑھتی نہ محرومیاں ڈیرے ڈالتیں۔اگرچہ مسلم لیگ ن کی حکومت اب اپنے تکمیلی مراحل کی جانب بڑھ رہی ہے مگر18ویں آئینی ترامیم کے باعث تعلیم صوبوں کی ذمہ داری بن چکی ہے۔پنجاب میں موجود78ہزار سکولوں میں سے22ہزارسکولوں کوکم فنڈہونے کے باعث پرائیویٹ شعبے میں دیاجارہاہے جبکہ56 ہزارسکولوں میں سے بھی آدھے انگلش میڈیم کیے جاچکے ہیں ۔ایسے حالات میں نئی ٹاسک فورس کی ذمہ داریاں بے تحاشہ بڑھ گئی ہیں۔پیپلزپارٹی کی ترجیحات میں تعلیم بہت پیچھے ہے جبکہ تحریک انصاف کویکساں نظا م تعلیم کانعرہ لگانے کے باوجودشاید اقتدارکی راہداریوں تک پہنچنے میں مزیدپانچ برس لگ جائیں ۔وقت آگیاہے کہ مسلم لیگ(ن) وفاق اورصوبوں میں رائج طبقاتی نظام تعلیم اورپیسے کے زور پربہتری لانے جیسی سطحی پالیسیاں چھوڑکر سارے ملک میں خاص طورپر ایسایکساں نظام تعلیم مرتب کرتے جوہماری قومی امنگوں اورعصری وگلوبل تقاضوں کے مطابق ہو۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
پاکستان میں تیزی سے فروغ پانے والادھرنا کلچر
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں