میثاق جمہوریت کی تجدید اورقومی حکومت کی ضرورت!

مفادات قائم رکھنے کے لیے تمام طبقات پرلازم ہے کہ وہ باہمی اختلافات کی ڈگر کوچھوڑکر ملک اورقوم کی سلامتی و بقاء کے لیے اپنااپناکرداراداکریں۔سابق وزیراعظم وزارت عظمیٰ سے نااہل ہوجانے کے بعد بھی ملک کے حقیقی وزیراعظم کاکرداراداکررہے ہیں او راس امرکا اعتراف ہمارے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی بھی کرچکے ہیں کہ ان کے وزیراعظم میاں نوازشریف ہیں اورپوری قوم دیکھ رہی ہے کہ وفاقی کابینہ کے تمام ارکان اپنی اپنی وزارت کے لیے ہدایات لینے جاتی امراء کاہی رُ خ کرتے ہیں اورخودوزیراعظم شاہدخاقان عباسی غالباََوزارت عظمیٰ کاقلمدان چلانے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے ۔اس وقت ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کوکسی ایک مشترکہ لائحہ عمل پرچلنے کی ضرورت ہے اورسابق وزیراعظم نوازشریف نے اپنے تمام نامی گرامی وزراء کویہ ٹاسک دے کر کہ وہ دیگرسیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت سے رابطے کریں،اپنے حکومتی پارٹی کے سربراہ ہونے کابہترین حق اداکیاہے لیکن بدقسمتی ہے کہ مسلم لیگ ن کے جن وفاقی اورصوبائی وزراء اوردیگراہم شخصیات کوسیاسی جماعتوں اورسیاسی شخصیات سے رابطوں کاٹاسک دیاگیاہے،وہ اپوزیشن کے لیڈروں کے خلاف بدزبانی اوران کی کردارکشی میں اس حدتک شامل رہے ہیں کہ شایدانہیں اپنا مفاہمتی کرداراداکرتے ہوئے بہت زیادہ ندامت کااحساس ہورہاہوگا۔یہ بات درست ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتوں کوکسی ایک قومی ایجنڈے پرمتحدہوکر موجودہ حکومت کومدددینے کی ضرورت ہے ۔



پاکستان میں تیزی سے فروغ پانے والادھرنا کلچر

اس سلسلہ میں حکومت نے ایک مرتبہ پھرپیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرسیدخورشیدشاہ کے ساتھ رابطہ کیاہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ موجودہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی کابینہ میں سب سے نااہل اورانتظامی صلاحیتوں سے عاری وفاقی وزیراحسن اقبال ہیں جن میں پیپلزپارٹی اورپی ٹی آئی جیسی بڑی جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کی بالکل بھی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ایسے کاموں کے لیے مسلم لیگ ن کے پاس سابق وفاقی و زیر خزانہ اسحاق ڈار اورسابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی بہترین سیاست دان کے طور پر پارٹی میں موجودتھے۔اسحاق ڈار چونکہ نیب اورحدیبیہ پیپرزکے متوقع مقدمات کے پیش نظرملک کوچھوڑچکے ہیں ا ورشدیدعلالت کے بہانے لندن میں گمنام زندگی گزارنے پرمجبورہوگئے ہیں اورچوہدری نثارعلی خاں کوسابق وزیراعظم میاں نوازشریف اپنے ذاتی اوراپنی فیملی کے مفادات کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت دینے کوآمادہ نہیں ہیں لہٰذا چوہدری نثارعلی خاں بھی اپنی پارٹی کی سیاست میں خودکوپس منظر میں رکھے ہوئے ہیں اوردیکھ رہے ہیں کہ انہیں قومی سیاست میں اپناآئندہ کردارکس انداز میں اداکرناہے اورغالباََ سوچ رہے ہیں کہ اگرپانامہ اورحدیبیہ مقدمات نے جاتی امراء کو سیاست میں حکمران پارٹی کی قیادت کرنے کے حوالے سے نااہل کردیا تووہ حکمران مسلم لیگ ن کی ٹو ٹ پھوٹ میں خودکو پارٹی کی متبادل قیادت کے طورپر سامنے لاسکیں گے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت وفاقی وزیرداخلہ کے بجائے پاکستان پیپلزپارٹی سے رابطوں کاٹاسک خودوزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف اورپی ٹی آئی سے رابطوں کے لیے سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خاں کوسونپاجائے توان دونوں کی مفاہمتی سیاست سے موجودہ حکمران پارٹی کومسلم لیگ ن کی حکومت تک محدودرکھنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کووفاقی کابینہ میں نمائندگی دے کرملک اورقوم کو موجودہ سیاسی بحران سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف ،شاہدخاقان عباسی کوان کے پُرانے قلمدان تک محدودرکھتے ہوئے آئندہ مدت کے لیے چوہدری نثارعلی خاں کواپنی پارٹی کی طرف سے وزیراعظم بنانے پراتفاق کرلیں اورپاکستان پیپلزپارٹی چنداہم وزارتوں کاقلمدان سنبھالنے پرآمادہ ہوجائے تو سیّدخورشید شاہ ،اعتزازاحسن،نویدقمرکوچناجاسکتاہے کیونکہ یہ ارکان اچھی شہرت کے حامل ہیں وزارت خزانہ کے لیے پی ٹی آئی کے عمراسداور شاہ محمودقریشی کواس قومی حکومت میں ضرورشامل کیاجائے اورایم کیوایم سے ڈاکٹرفاروق ستار اورکوئی ایک اوروزیرلیاجائے، مولانافضل الرحمن توپہلے ہی حکومت کے اتحادی ہیں جماعت اسلامی کے مولاناسراج الحق کوبھی کوئی اہم وزارت دی جانی چاہیے جبکہ مسلم لیگ ق توپہلے ہی ملک میں قومی حکومت کی جگہ اہم سیاسی شخصیات اورٹیکنوکریٹس پرمشتمل قومی حکومت چاہتے ہیں لیکن ہم ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کرسکتے۔پارلیمنٹ کوقبل ازوقت تحلیل کروانے کی بجائے ایسی حکومت بننی چاہیے جس میں وزیراعظم کاعہدہ مسلم لیگ ن ہی کے پاس ہواوراگرپارٹی کے چیئرمین میاں نوازشریف اپنے دیرینہ ساتھی چوہدری نثارعلی خاں کوآگے لانے میں تردّو سے کام لیناچاہتے ہیں تواس قسم کی قومی حکومت کے مشترکہ وزیراعظم ،اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق بھی ہوسکتے ہیں ۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت ملک کو سیاسی بحران میں سے نہیں نکال سکتی اوراس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حکمران پارٹی اس امرکاادراک نہیں کررہی کہ اس ملک میں آئندہ پانچ دس برسوں میں ایک بارپھرجاتی امراء کی کسی شخصیت کوملک کاوزیراعظم نہیں لایاجاسکتا۔مسلم لیگ ق فی الحقیقت حکمران مسلم لیگ کاہی حصہ ہے اورچوہدری برادران کوجاتی امراء سے ہزارگلے شکوؤں کے باوجود مشکل وقت میں جاتی امراء میں واپس آنے میں کوئی بہت زیادہ تردّو نہیں ہوگا، میاں نوازشریف دونوں جماعتوں کاانضمام کرکے پنجاب کی قیادت ،میاں شہبازشریف کے بجائے چوہدری پرویز الہٰی کے سُپردکرکے پورے شریف خاندان کو اقتدارکے ایوانوں سے نااہل ہونے سے پہلے ہی اپنے ماضی کے گجرات کے ساتھیوں کوقومی سیاست کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت پارٹی کوزندہ رکھنے کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں جومستقبل میں ان کے کام آئے گی اورپھرچوہدری برادران کی یہ خوبی ہے کہ وہ پیپلزپارٹی اورپی ٹی آئی دونوں کی مرکزی قیادت میں اپنے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔میاں نوازشریف اگرآئندہ قومی حکومت کے حق میں نہیں ہیں اورکسی بھی دوسری سیاسی قوت کواپناشریکِ اقتدار کے لیے بغیراقتدار کے ایوانوں میں بہت زیادہ سیاسی مخالفت اورمخاصمت سے دوچارنہیں رہناچاہتے اورمسلم لیگ ارکان اسمبلی کوبہت زیادہ بکھرتے ہوئے دیکھنانہیں چاہتے توانہیں چوہدری برادران کوجاتی امراء میں دعوت پربلالینا چاہیے۔یہ جاتی امراء پرچوہدری برادران کاپراناقرض بھی ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ایک مرحلے پر انہیں جاتی امراء میں دعوت پربلاکر،ان کے اعزاز میں دیاجانے والاڈنرمنسوخ کرکے،پیپلزپارٹی کی قیادت کوجاتی امراء میں دعوت پر بلالیاتھا ار2008ء میں پیپلزپارٹی کواپوزیشن میں بھیجنے کی کوششوں کوختم کرکے ان کاشریک اقتداربن جانے پرصادکردیاتھا۔یہ میثاق جمہوریت پرعمل پیراہونے کی ابتداء تھی اوراب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو میثاق جمہوریت کی طرف رجوع کرنے کے لیے یقیناًسیاسی مفاہمتوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

ٹیکس چورموبائل فون کمپنیاں۔۔۔مزید گھپلے بھی پکڑے جائیں

چیئرمین قومی احتساب بیوروجسٹس(ر) جاویداقبال نے پاکستان میں کام کرنیوالی نجی موبائل فون کمپنیوں کوسالانہ 400 ارب روپے ٹیکس چوری کی مرتکب قراردیتے ہوئے ملک بھر میں نیب کے 7علاقائی بیورو کے ڈائریکٹر جنرلز کوہدایات جار ی کی ہیں کہ بدعنوانیوں کاجائزہ لے کر جائز شکایا ت کاازالہ کیاجائے اورانکوائری وانوسٹی گیشن کے ذریعے ریفرنس تیارکیے جائیں تاکہ ملکی خزانے کونقصان پہنچانے والی ان کاروباری فرموں کوقانون کے شکنجے میں کس کرمسروقہ رقم برآمد اورآئندہ ٹیکس ریکوری کا میکنزم مرتب کیاجاسکے۔پاکستان میں کام کرنے والی دیگرکمپنیوں ،فرموں اورتنظیموں کی طرح جوموبائل فون کمپنیاں گزشتہ 30/35برس سے معاشرتی ضروریات اورخدمات کے علاوہ معیاری سروسز کی فراہمی کے لیے حکومتی اجازت ناموں اورباقاعدہ لائسنسوں کے ذریعے آپریشنل ہیں،ان میں موبی لنک،یوفون ،وارد،ٹیلی نارکے علاوہ زونگ شامل ہیں۔رابطے اورانفارمیشن اس دور کی اہم ترین ضرورت ،پیغام رسائی کاذریعہ اورباخبررہنے کی بنیاد ہیں۔موبی لنک سب سے پہلے پاکستان میں قائم ہوئی۔ اپنے بہترین وموثرنیٹ ورک کے باعث آج اس کے ساڑھے تین کروڑ کے نزدیک صارف موجود ہیں جبکہ واردکمپنی جس کے پاس دوکروڑکے قریب کنکشن ہولڈر ہیں دوسرے نمبر پر ہے۔ دوبرس قبل یہ کمپنی بھی موبی لنک والوں نے خریدلی تھی اس کے علاوہ ٹیلی نار،یوفون،اورزونگ کمپنیوں کے صارفین کوملاکرپاکستان کے 12کروڑلوگ موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔انڈرلائسنس کام کرنے والی کمپنیاں اپنے لوڈاورایزی لوڈ کے ذریعے آپریشنل سہولتیں فراہم کرتی ہیں جن پر24فیصد کے قریب جنرل سیلزٹیکس وصول کیاجاتاہے۔ایزی لوڈ کی صورت میں روزانہ اربوں روپے کاکاروبار ہوتاہے ۔انٹرنیٹ ،ایزی پیسہ کے علاوہ یہ کمپنیاں اپنے صارفین کومتعدد دیگرسہولیات فراہم کرتی اوراس کے عوض سروس چارجز وصول کرتی ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ35کھرب روپے کی ٹرانزیکشن کی جاتی ہے مگریہ کمپنیاں بہت سے معاملات میں صارفین سے وصول کی جانے والی رقوم اپنے کاروباری معاملے میں ظاہرنہیں کرتیں مثال کے طورپرہرکمپنی سم کی فروخت،ڈیلی کیٹ سم کی فراہمی کے عوض صارف سے 50تا100روپے وصول کرتی ہے مگرکاغذات میں ا س خدمت کومفت جبکہ ہرسم پر20سے50روپے ایڈوانس بیلنس کی سہولت ظاہر کرکے جہاں سموں کی فراہمی سے حاصل رقوم خوردبردجبکہ دوسری سہولت کی مد میں یہ رقم اپنے اخراجات میں ڈال کرٹیکس بچاتی ہے۔ صارف کواس کابیلنس بتانے،ایک سم پر ذیل سہولت،مختلف ٹونز لگانے ،الارم،نعت یاآیات قرآنی کی سہولت ،سم بلاک یاغیرضروری پیغامات روکنے کی آڑ میں وصول کیے جانے والے سروس چارجز کابھی ریکارڈ نہیں رکھتیں اس طرح خزانے کوسالانہ کھربوں ر وپے کانقصان پہنچارہی ہیں۔بنکنگ سہولت،بیلنس شیئراورایسی ہی دیگرخدمات کی فراہمی کی آڑ میں بھی بھاری منافع خودحاصل کرتی ہیں مگر قومی خزانے میں اس کاٹیکس نہیں پہنچ پاتا۔ صرف یہی نہیں بلکہ طویل عرصے تک ٹیکسوں کی مد میں قابل ادائیگی رقوم اپنے تصرف میں رکھتی ہیں جو کاروباری دھاندلی،غیرقانونی وغیراخلاقی صورتحال قراردی جاسکتی ہے ۔ماضی میں متعدد مرتبہ ان موبائل کمپنیوں کے خلاف شکایات منظرعام پر آئیں اوران کی انکوائری بھی کی گئی مگرخفیہ ہاتھوں ،سفارشات اورمقتدروبااختیار افراد کے ذریعے ایسے معاملات ٹھپ کروادئیے گئے ۔چیئرمین جسٹس جاویداقبال کی طرف سے اس صورتحال کی نشاندہی بہرصورت دیرآیددرست آید کے مترادف سمجھی جائے گی۔بدقسمتی سے ملک بھر میں کام کرنے والی بیشتر نجی کمپنیاں ،فرمیں اورکاروباری ادارے جعلسازیوں ،حقائق چھپانے اورکاروباری ضابطوں کی دھجیاں بکھیرکر مالی مفادات اٹھانے میں نہ صرف آج بھی مصروف ہیں بلکہ متعلقہ وزارتوں ،محکموں اوراداروں کے انتظامی ذمہ دار،ایڈمنسٹریٹراوران کاماتحت عملہ اس فراڈ میں برابر کاشریک ہے ۔یہ بات بھی انتہائی غورطلب ہے کہ یہ کمپنیاں اپنے صارفین کومختلف سہولتوں ،سروسز اورورکنگ کے ٹیرف کچھ اوربتاتے مگرکٹوتیاں زیادہ کرتے ہیں۔اپنے نیٹ ورک کے دیگرصارفین کے ساتھ رابطے کاٹیرف 50پیسے یاایک روپیہ فی منٹ بتایاجاتاہے مگرعملی طورپر دوسے اڑھائی روپے وصول کیے جارہے ہیں جس کی آڑ میں ریکارڈ سے کہیں زیادہ منافع حاصل کرکے اربوں ر وپے ہضم کرلیے جاتے ہیں ۔ایسی سہولتوں کے لیے بھی کٹوتیاں کی جارہی ہیں جوصارفین کوفری فراہم کر نی چاہیے یعنی بیلنس بتانا،کسی خاص گانے ،موسیقی یاٹون کی سروسز رضاکارانہ طورپردی جانی چاہئیں مگر اس کے چارجز وصول کیے جاتے ہیں ۔اگرکوئی صارف صرف دس پندرہ یا20سیکنڈ سہولت حاصل کرے توچارجز ایک منٹ کے وصول کرلیے جاتے ہیں حالانکہ گاہکوں سے15,30,45یا60سیکنڈ کے چارجز لیے جانے چاہئیں۔ایساہی رویہ انٹرنیٹ،تھری جی اورفورجی کی سہولتوں کی فراہمی کے عوض اختیار کیاجارہاہے۔اگرنیب حکام معاملے کی گہرائی تک پہنچیں تونہ صرف پاکستان میں دس بارہ کروڑموبائل صارفین کوموبائل کمپنیوں کے ظالمانہ ،غیرقانونی وغیرکاروباری طورطریقوں سے نجات دلائی جاسکتی ہے بلکہ قومی خزانے کوچونالگانے کے شرمناک ہتھکنڈوں کاتدارک بھی ممکن ہوسکے گا۔ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اورپی ٹی سی ایل،براڈبینڈ،انٹرنیٹ اوردیگرسائنسی سہولتوں کی نسبتاََ کم خرچے میں فراہمی کی تشہیرکرکے چوری،سینہ زوری اورلوٹ مارکے کلچر کو روکاجائے۔ہرپاکستانی کولٹنے سے محفوظ رکھنا ریاست اوراس کے اداروں کی ذمہ داری ہی نہیں فرض اورکاروباری اداروں کے ذمے واجب چارجز کی بروقت اورپوری شرح سے وصولی وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔کرپشن اورٹیکس چوری کلچر کاخاتمہ ہوسکے تواندرونی محصولات اورریکوریاں دگنی ہوسکتی ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
میثاق جمہوریت کی تجدید اورقومی حکومت کی ضرورت!
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں