سابق وزیر اعظم اب بھی حکومت کی ساکھ بچا سکتے ہیں!

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے دھرنا آپریشن کی ناکامی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال سے استفسار کیا ہے کہ بتائیں مظاہرین کو 22دنوں تک فیض آباد میں خوراک‘ پانی اور دیگر اشیائے ضروریہ کون فراہم کرتا رہا اور جب مظاہرین کو یہ سہولتیں مل رہی تھیں تو انتظامیہ اور حکومت کہاں تھی۔ آپریشن کیوں کیا گیا اور جب آپریشن شروع کر دیا تھا تو پھر اسے بند کیوں کر دیا گیا۔ مذاکرات میں ناکامی کیوں ہوئی۔ معاہدے کے نکات کو کس نے حتمی شکل دی؟ فوج کو ثالث کیوں بنایا گیا۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ نے کہا کہ ان کے خیال میں دھرنا مظاہرین سے نمٹنے کے لئے بدانتظامی کا مظاہرہ کیا گیا جس سے نہ صرف حکومت بلکہ مسلم لیگ ن کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ میاں نواز شریف نے یہ سوالات اٹھانے کے بعد احسن اقبال سے کہا ہے کہ وہ دھرنا کے شروع ہونے‘ اس کی طوالت اور اس کے خاتمے کے لئے حکومتی آپریشن کی ناکامی کے ذمہ داران کا تعین کرے۔ احسن اقبال نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دھرنا‘ مذاکرات اور حتمی معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور جب ان سے آپریشن کی ناکامی کی وجوہات پوچھی گئیں تو پہلے تولیت و لعل سے کام لیا اور ازاں بعد کہا کہ انہوں نے پارٹی کے زعما اور حکومت کے اتحادیوں کا جو اجلاس بلا رکھا ہے اس کے ختم ہونے پر وہ دھرنا مذاکرات اور اس سے پہلے ہونے والے آپریشن کی ناکامی کے متعلق علیحدگی میں بتائیں گے۔ اسی روز بلائے گئے اجلاس میں سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی اور محمود خان اچکزئی بھی موجودتھے اور غالباً احسن اقبال ان دونوں کے سامنے سابق وزیر اعظم کو حکومتی ناکامیوں کے متعلق بتانے کے لئے آمادہ نہیں تھے۔ اس دھرنے کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ دھرنا اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر کیا گیا جس نے 22دنوں تک ان دونوں جڑواں شہروں کے رہنے اور کام کرنے والوں کی زندگی اجیرن کر دی اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ وفاقی وزیر داخلہ خود ہی بار بار اعلان کرتے رہے کہ وہ اس دھرنے کو 2014ء کا سانحہ ماڈل ٹاؤن اور 2006ء کا لال مسجد آپریشن نہیں بنانا چاہتے جس سے دھرنے والوں کو حکومتی آپریشن سے پہلے اس بات کا یقین دلایا جاتا رہا کہ انہیں وہاں سے اٹھانے کے لئے حکومت کسی قسم کے تشدد یا آپریشن کا ارادہ نہیں رکھتی۔ درمیان میں وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے اس قسم کے اعلانات بھی کئے جاتے رہے کہ دھرنا ختم کرنا حکومت کے لئے صرف تین گھنٹے کی مار ہے۔ دھرنا ختم کرنے کے لئے جو معاہدہ درمیان میں فوج کو ڈال کر مظاہرین سے کیا گیا اس سے پاکستان سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام یقیناً چلا گیا کہ پاکستان پر حکومت کی کوئی رٹ باقی نہیں رہی۔ اگر دھرنا ختم کرنے سے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ ہی لینا تھا تو یہ کام تو دھرنا کرنے والوں کا مطالبہ سامنے آنے پر پہلے روز ہی ہو جانا چاہئے تھا اور اگر مظاہرین سے یہ یقین دہانی کرانی ضروری تھی کہ زاہد حامد کے خلاف وہ کوئی فتویٰ نہیں دیں گے یہ شرط حکومت نے معاہدے میں منوا لی ہے لیکن یہ معاہدہ تو حکومت نے محض ایک چھوٹے سے مذہبی گروہ کے مولویوں سے کیا۔ اس ملک میں ختم نبوتؐ کے حوالے سے فتویٰ ‘ ملک کے حقیقی اسلامی سکالروں یا کم از کم پاکستان نظریاتی کونسل سے یقیناً آئے گا اور اس میں صرف زاہد حامد ہی لپیٹ میں نہیں آئیں گے بلکہ ختم نبوت کے قانون کو ختم کرنے اور پھر دوبارہ اسے آئین میں بحال کرنے کے لئے ذومعنی عبارت سے ختم نبوت کے حلف کی حقانیت کو تبدیل کرنے کی جسارت کرنے والے بھی اس قانون سے مذاق کرنے کی پاداش میں لپیٹے جائیں گے اور پھر ان کے لئے ہمارے پرجوش عاشقان رسولؐ سامنے کیوں نہیں آئیں گے لہذا اگر یہ سب کچھ قرین امکان ہے تو پھر اس معاہدے کی کیا حیثیت ہے۔ سوائے اس کے جو کام پہلے روز زاہد حامد کے اپنی وزارت سے استعفے سے ہو جانا چاہئے تھاوہ ہو گیا اور حکومت کی انتظامی صلاحیتوں پر ایک ایسا داغ بھی لگ گیا کہ اب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھی اپنی پارٹی کی حکومت کے وفاقی وزیر داخلہ پر برہم ہونا پڑ رہا ہے مسئلہ ختم نبوتؐ کو حکومت نے جس حد تک مس ہینڈل کیا اس کے نتیجے میں حکومت اور حکومتی پارٹی دونوں کمزور ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندے اپنے سیاسی ڈیروں پر مشتعل افراد کے حملوں کی زد میں آ کر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ اس حکمران پارٹی کاحصہ کیوں ہیں جس کے وفاقی کابینہ کے نمائندوں نے ‘ برسوں سے طے شدہ ایک آئینی مسئلہ کو ترمیم کر کے آئین سے نکال کر اور ازاں بعد ایک تبدیل شدہ عبارت کو ختم نبوت ؐ کا قانون بنا کر پورے پاکستان کے اسلامی تشخص پر حملہ کر دیا ہے۔ میاں نواز شریف کو دھرنے کے خاتمے میں وفاقی حکومت کی ناکامی کے بعد قیام امن کے لئے فوج کی طلبی و ثالثی‘ دھرنے کے خاتمے کے لئے آپریشن کی ناکامی اور اس سلسلہ میں انتظامیہ کی خفت آمیز پسپائی کے باعث تمام نجی چینلز کی نشریات کے مکمل طور پر بند کر دیئے جانے اور حکومت کے کرتا دھرتا افراد میں اس امر کے عدم ادراک کی وجہ سے سب سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ کو گھر بھیجے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے ختم نبوت کے حوالے سے صرف فیض آباد انٹرچینج سے انہیں ہٹانے تک اپنی کوششوں کو محدود رکھا۔ اعلان کرتے رہے کہ وہ صرف فیض آباد کے وزیر داخلہ نہیں ہیں پورے پاکستان کے وریر داخلہ ہیں لیکن ان کو اس امر کا بھی ادراک نہیں تھا کہ یہ کئی شہروں میں دھرنے کے شرکاء سے ہمدردی کرنے والے‘ تحریک لبیک کا حصہ نہیں ہیں۔ اس ملک کے کسی بھی اہلحدیث اور دیوبندی فقہ کو ماننے والوں کے متعلق بھی سوچ لیتے‘ وہ سڑکوں پر نہیں آئے لیکن ان میں کوئی ایسا بدبخت شامل نہیں ہے جس کو ختم نبوت کا قانون ختم ہونے اور ازاں بعد اسے تبدیل شدہ عبارت میں بحال کرنے پر اضطراب اور بے چینی کا سامنا نہ رہا ہو۔ بہت سے مسلمانوں کو کئی روز تک نیند نہیں آئی کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے کرتا دھرتا لوگوں نے قوم کے ساتھ یہ کیا مذاق کر دیا ہے اگر حکمرانوں میں تھوڑی بہت بھی حب رسولؐ باقی ہوتی تو انہیں اس قانون کے خاتمے کے ذمہ داران کو اقتدار کے ایوانوں سے رخصت کر کے پس دیوار زنداں بھیج دینا چاہئے تھا۔ سابق وفاقی وزیر چوہدری نثار علی نے اس سلسلہ میں احسن اقبال کو تمام تر خرابی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خاں نے ان کی تائید کرنے کے علاوہ دھرنا ختم ہونے کا کریڈٹ وریر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ صوبائی وزیر اعلیٰ نے سب سے پہلے ختم نبوت کا قانون ساقط کئے جانے پر یہ کہا تھا کہ اس میں غلطی کے ذمہ داران کو نہ صرف ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے بلکہ ان کو قرار واقعی سزائیں بھی ملنی چاہئیں۔سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف حکمران پارٹی کے سربراہ ہیں اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں کہ میاں نواز شریف ان کے بھی وزیر اعظم ہیں۔ پورا ملک جانتا ہے کہ اس وقت بھی وفاقی حکومت کی ناکامی یا کامیابی کا ڈس کریڈٹ اور کریڈٹ جاتی امراء کو جائے گا لہذا انہوں نے بالکل بجا طور پر احسن اقبال سے برہمی کا اظہار کیا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن اور حکومت کو گذشتہ تین چار ہفتوں میں وفاقی کابینہ کے ذریعے ہونے والے نقصان سے بچانے کے لئے ختم نبوت کا قانون تبدیل کرنے اور اس قانون کو لفظی تحریف کے ساتھ بحال کرنے کی کوشش کرنے والے تمام‘ سیاہ کاروں کو وزارتوں سے رخصت کر کے پاکستان اسلامی نظریاتی کونسل سے ان کے متعلق فتویٰ حاصل کریں‘ ورنہ ان لوگوں کے حکمران پارٹی میں ہونے کی وجہ سے انہیں الیکشن2018ء کی انتخابی مہم میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میاں نواز شریف کے لئے مناسب ہو گا کہ وہ چوہدری نثار علی جیسے اپنے کسی دیرینہ مخلص رکن قومی اسمبلی کو وزیر اعظم بنا کر اور قومی اسمبلی کے ان ارکان میں سے کابینہ کے زیادہ تر ارکان لے کر جنہوں نے خود کو ختم نبوت کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے الگ رکھا تھا اپنی پارٹی کے سنجیدہ ارکان پر نئی وفاقی حکومت بنا کر جاتی امراء اور ملک کو درپیش مسائل سے نبٹنے کی کوشش کریں اور اس طرح مسلم لیگ ن آئندہ انتخابات میں مستقبل کے اقتدارکی دوڑ میں شامل رہ سکے گی۔ 
پرویز مشرف اور پاکستان کی’’ناقص‘‘ جمہوریت 
پاکستان کے سابق فوجی آمر اور طویل عرصہ تک ملک کی فوج کے سربراہ رہنے والے جنرل (ر) پرویز مشرف نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں لشکر طیبہ کی کارروائیوں کے حامی رہے ہیں اور حافظ سعید سے مل بھی چکے ہیں۔ حال ہی میں حافظ سعید کو طویل نظر بندی کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر رہا کیا گیا تھا کیوں کہ عدالت کے خیال میں ایک شخص کی رہائی سے ملک کے خارجی تعلقات اور مالی مفادات متاثر نہیں ہو سکتے ۔ البتہ اس فیصلہ کے بعد امریکہ اور بھارت کی طرف سے سخت احتجاج سامنے آیا تھا۔ امریکہ نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حافظ سعید کو ان کے جرائم کی سزا دلوانے کا اہتمام کرے ۔ بصورت دیگر امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ ملک کے سابق صد کو 9/11 کے بعد امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اشتراک اور تعاون کی بنیاد رکھنے کی شہرت حاصل ہے لیکن پرویز مشرف اب حافظ سعید کے خلاف امریکی بیان کو پاکستان کی توہین قرار دے رہے ہیں۔ 
پرویز مشرف نے ان خیالات کا اظہار مقامی ٹیلی ویژن کے ایک ٹاک شو میں باتیں کرتے ہوئے کیا ہے ۔ ان سے ان کے حال ہی میں قائم کردہ 23 جماعتی سیاسی اتحاد کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا ۔ میزبان نے ان سے پوچھا تھا کہ انہیں ایک لبرل خیالات کے حامل شخص کی شہرت حاصل ہے تو وہ اس سیاسی اتحاد میں مجلس وحدت المسلمین ، سنی اتحاد کونسل اور پاکستان سنی تحریک جیسے مذہبی گروہوں کے ساتھ کیسے بیٹھیں گے ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مشرف کا کہنا تھا کہ وہ لبرل تو ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مذہبی گروہوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لشکر طیبہ کے حامی ہیں اور اس گروہ کے لوگ ان کے قدر دان ہیں کیوں کہ اس گروہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی مزاحمت کی ہے ۔ میں اس کا بہت بڑا حامی ہوں۔ واضح رہے بھارت کی طرف سے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کرنے اور مسلح جنگجو سرحد پار بھیجنے کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن پاکستان اس الزام کی مسلسل تردید کرتا ہے ۔ یہ تردید پرویز مشرف کے دور میں بھی کی جاتی رہی ہے ۔ اس لئے سابق صدر اور آرمی چیف جب اس بات کا اقرار کریں گے کہ وہ ایسے گروہوں کی حمایت کرتے رہے ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا مقابلہ کرنے میں مصروف رہے ہیں تو اس سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن کمزور ہو گی۔ 
سابق صدر کا یہ کہنا محل نظر ہے کہ حافظ سعید کے بارے میں امریکہ کا بیان پاکستان کی توہین ہے اور اس پر سخت مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ پرویز مشرف خود پاکستان کے ذریعے افغانستان میں امریکی جنگ کے معمار کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے دور میں امریکہ کے خلاف عسکری جد و جہد کرنے کے شبہ میں سینکڑوں لوگوں کو کسی عدالتی فیصلہ یا الزام کے بغیر امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا جنہیں سال ہا سال تک گوانتانامو بے کے عقوبت خانے میں اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 
امریکہ کے ایک اشارے پر افغانستان کے بارے میں ملک کی پالیسی تبدیل کرنے والے شخص کو اب سیاسی مقاصد کے لئے بالکل متضاد مؤقف اختیار کرتے ہوئے البتہ کوئی احساس ندامت نہیں ہے کیوں کہ وہ بدستور ملک میں سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن ان کی باتیں اور ملک کے معاملات پر اس کے اثرات پاک فوج کے لئے باعث تشویش ہونے چاہئیں۔ پرویز مشرف نہ صرف یہ کہ طویل عرصہ تک فوج کے سربراہ رہے ہیں بلکہ فوج ہی کی مداخلت اور’’ضمانت‘‘ پر عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے کی بجائے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ انہیں پاکستان کی عدالتیں مفرور قرار دے چکی ہیں۔ اس لئے سیاسی معاملات پر ان کے ایسے بیانات کی روک تھام جن سے براہ راست فوج کی پوزیشن متاثر ہوتی ہے ، بھی پاک فوج ہی کا کام ہے ۔ 
پرویز مشرف نے اسی انٹرویو میں ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو قطع و برید کی ضرورت ہے ۔ یعنی ان کے نزدیک صرف ایسی جمہوریت پاکستان کے مفاد میں ہے جو ان جیسے عدالتی بھگوڑے کو اقتدار میں حصہ دار بننے کا موقع فراہم کرسکے یا فوج کا واضح کردار متعین کرسکے ۔ سابق صدر کو یہ باتیں پاکستان میں رہتے ہوئے کرنا چاہئیں ۔ وہ ایک شہری کے طور پر سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان میں نظام کی تبدیلی کی جد و جہد کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں لیکن یہ حق اسی شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جو پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور خود پر عائد الزامات کا عدالتوں کو جواب دینے کا بھی پابند ہو۔ اس ذمہ داری سے فرار ہونے والے کو ایک غیر ملک میں بیٹھ کر پاکستانی آئین کے تحت کام کرنے والے نظام کے بارے میں باتیں کرنا زیب نہیں دیتا۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں