عید میلاد النبی ؐکے موقع پر دہشت گردی

ملک بھر میں جب لوگ میلاد نبی پاک ؐمنا رہے تھے ، دہشت گردوں کا ایک گروہ پشاور میں طالب علموں کو ہلاک کرنے میں سرگرم تھا۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی فوری کارروائی کے نتیجہ میں تین دہشت گرد مارے گئے اور چوتھا زخمی حالت میں پکڑا گیا۔ اس کے باوجود حملہ آور 9 افراد کو شہید اور 37 کو زخمی کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ پاکستان تحریک طالبان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ پیغمبر اسلا م ؐکے یوم ولادت پر اس گھناؤنے فعل میں مرتکب ہو کر اس گروہ نے ایک بار پھر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ صرف لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنی دہشت گردی کا جواز فراہم کرنے کے لئے اسلام کا نام لیتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا مقصد ملک میں شریعت اسلامی کا نفاذ ہے ۔ جو لوگ یہ شریعت بنی نوع انسان تک پہنچانے والے پیغمبر آخری الزماں کا احترام کرنے اور ان کے اسوۃ حسنہ پر عمل کرنے سے قاصر ہوں ، وہ اسلامی نظام کے نام پر انارکی اور بے چینی پھیلانے کے سوا کوئی دوسرا مقصد حاصل نہیں کرسکتے ۔ یہ عناصر مسلمانوں کے لئے ہلاکت کا سبب بننے کے علاوہ دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔سیکورٹی فورسز کی اطلاعات کے مطابق حملہ آور برقع میں ملبوس تھے ۔ اس طرح وہ بھیس بدل کر پشاور کے ایگری کلچر ٹریننگ سنٹر کے ہوسٹل میں داخل ہونے اور وہاں پر موجود لوگوں کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ اس حملہ میں جاں بحق ہو نے والوں میں چھ طالب علم تھے ۔

سابق وزیر اعظم اب بھی حکومت کی ساکھ بچا سکتے ہیں!

دیگر مرنے والوں میں ہوسٹل کا چوکیدار اور دو شہری بھی شامل تھے ۔ تاہم سیکورٹی فورسز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور خود کش جیکٹس پہنے ہوئے تھے اوران کے پاس دو درجن کے لگ بھگ ہینڈ گرنیڈ بھی تھے ۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی فوری کارروائی کی وجہ سے انہیں دھماکے کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس صورت میں بہت زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ اس کے علاوہ عید میلاد النبیؐ کی چھٹی ہونے کی وجہ سے بہت سے طالب علم اپنے گھروں کو گئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے بہت کم تعداد میں لوگ حملہ کے وقت ہوسٹل میں موجود تھے ۔ اگر ہوسٹل میں پوری گنجائش کے مطابق طالب علم موجود ہوتے تو بھی زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔پاک فوج کے ترجمان اور پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے دوران افغانستان میں بعض لوگوں سے رابطہ میں تھے جس سے یہ اندازہ کیا جارہا ہے کہ اس دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور وہیں سے حملہ کے دوران ہدایات بھی دی جا رہی تھیں۔ فوج کے ترجمان نے افغانستان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر پاکستان دشمن عناصر کی سرکوبی کے لئے مؤثر کارروائی کرے ۔ تاہم ایک دوسرے کے ملکوں میں حملوں کے حوالے سے الزام تراشی تو کی جاتی ہے لیکن بات ابھی تک اس سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے ۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ کی حکومت نے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ افغان علاقوں میں پاکستان دشمن عناصر کے خلاف بھی اقدام ہوگا۔ امریکہ نے ڈرون حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے بعض لیڈروں کو ضرور نشانہ بنایا ہے لیکن افغان سرزمین پر یہ عناصر پوری آزادی سے اپنی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ حملہ آور صرف ایک روز قبل افغانستان سے پاکستان پہنچے تھے ۔ اس طرح ایک بار پھر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور مواصلت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ملک میں بلا شبہ دہشت گردی کے واقعات میں قابل ذکر کمی ہوئی ہے ۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پاک فوج اور حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کا صفایا کردینے کے دعوؤں کے باوجود تھوڑے تھوڑے وقفے سے پاکستان میں کوئی نہ کوئی حملہ ہوتا رہتا ہے ۔ اس لئے ان سرکاری اعلانات پر پوری طرح یقین نہیں کیا جاسکتا کہ ملک میں دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا گیا ہے اور ان کے تمام ٹھکانے ختم ہو گئے ہیں۔ اس جنگ میں کوئی نہ کوئی ایسی کمزوری موجود ہے جس کی وجہ سے تخریبی عناصر کو کارروائی کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ یہ بات کسی حد تو تسلیم کی جاسکتی ہے کہ پاک فوج کی کارروائی کے بعد متعدد دہشت گرد گروہوں نے افغانستان میں پناہ لی ہوئی ہے جہاں سے وہ بھارتی ایجنسیوں کی مدد سے پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ان منصوبوں کو عملی جامہ بھی پہناتے ہیں۔ لیکن اگر پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کا مزاج ختم کردیا جائے تو ان ملک دشمن عناصر کو ملکی سرزمین پر سہولت کار اور تعاون فراہم کرنے والے عناصر میسر نہیں ہوں گے ۔ صرف اسی صورت میں پاکستان کو دہشت گردی سے پوری طرح محفوظ قرار دیا جاسکے گا۔کسی دہشت گرد حملہ کے بعد یہ سراغ لگانا بھی اہم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کہاں سے آئے اور کون سے عناصر ان کی پشت پناہی کررہے تھے لیکن صرف ہمسایہ ملکوں پر الزام تراشی سے ملک کے عوام کی مکمل حفاظت کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی حملہ کے بعد روٹین کی کارروائی کے طور پر افغانستان میں موجود عناصر پر الزام تراشی کی جاتی ہے ۔ پاکستانی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کو یہ یقین دلانا ہے کہ ان کی زندگیاں محفوظ ہیں۔ یہ یقین دہانی صرف قصورواروں کا تعین کرنے یا ہمسایہ ملکوں کی سازشوں کا سراغ لگا کر نہیں کروائی جا سکتی۔ بلکہ ان سازشوں کے باوجود عوام کی حفاظت کو یقینی بنا کر ہی یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کو ابھی یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔

کرپشن مافیا کے خلاف گھیراتنگ کرنے کاعزمِ صمیم!

چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاویداقبال نے متاثرین کوہتھیائی ہوئی رقوم واپس کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے کمزور افراد کے بجائے اب بڑی مچھلیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کاعزم رکھتاہے اوراس ادارے نے179میگاکرپشن کیسز میں سے96مقدمات پر ریفرنسز مجازعدالتوں میں دائرکردیئے ہیں جبکہ میگا کرپشن مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا کسی جہاد سے کم نہیں ہے اورنیب افسران کوملک کوکرپشن فری ریاست بنانے کے لیے اس جہاد کے لیے تیاررہناچاہیے اوریہ سوچ کراپنے فرائض منصبی مکمل اخلاص کے ساتھ اداکرنے چاہئیں کہ ان کے لیے ریاست کے مفاد اوروقارسے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔بااثرشخصیات کادباؤ قبول نہ کرنا اورکرپشن کوبے نقاب کرکے کرپشن کرنے والوں کوعدالتوں تک لے جانا،ادارے کی ذمہ داری ہے جس پرہرطرح سے پورااترنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کاہاتھ اب او پرسے نیچے کی طرف بڑھے گا۔یہ بات انہوں نے اس تناظر میں خصوصی طورپرکہی ہے کہ اس وقت ملک کے عوام کوعمربھر کی کمائی سے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کوڈوبنے سے بچانے کے مسائل درپیش ہیں۔انہیں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود نہ توپلاٹ ملے ہیں کہ وہ پلاٹوں میں اپنے گھرتعمیر کرلیں اورنہ ہی انہیں ان کی اداکردہ رقوم واپس ملی ہیں۔جسٹس(ر)جاویداقبال نے نیب کے چیئرمین کامنصب سنبھالنے کے بعدبلاشبہ ،اپنے ادارے کے افسران میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف جہاد کرنے کے لیے نئی روح پھونک دی ہے۔ملک کی سب سے زیادہ طاقت ورفیملی،سابق وزیراعظم میاں نوازشریف پرجس طرح منی لانڈرنگ اورقومی خزانوں کی لوٹ مار کے الزامات سامنے آتے تھے ان کے پیش نظر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے حکم پرنیب عدالت میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف ان کے بیٹوں ،حسن نواز،حسین نواز ،ان کی بیٹی مریم نواز اورمریم نواز کے شوہر کیپٹن(ر)صفدرکے علاوہ ان کے سمدھی سابق وفاقی وزیرخزانہ کے خلاف نیب عدالت میں مختلف ریفرنسز کے حوالے سے الزامات کی سماعت ہورہی ہے ا وربظاہران ریفرنسز کوعدالت میں پیش نہ کرنے کے لیے نیب افسران نے طاقت ورملزموں کاکوئی دباؤ قبول نہیں کیاہے اوریہ معاملات بہت حدتک درست انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں سوائے اس کے کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے دونوں بیٹے اوران کے سمدھی اسحاق ڈار ،نیب عدالتوں میں پیش نہیں ہورہے اورعدالت کی طرف سے انہیں اشتہاری بھی قراردیاجاچکاہے۔چیئرمین نیب نے سپریم کورٹ کے 28جولائی کے فیصلے کے مطابق ،میاں نوازشریف خاندان کے خلاف نیب کی طرف سے برسوں پہلے دائر ہونے و الے حدیبیہ پیپرز کیس کی ازسرنوتفتیش کے لیے سپریم کورٹ میں جواپیل دائر کی تھی،اسکی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے دورکنی بنچ نے چندروزپہلے ابتدائی سماعت کے دوران یہ سوال اٹھائے ہیں ،حدیبیہ کیس کس قانون کے تحت بنا؟ملزمان کب کب ،کس کس عہدے پرفائزرہے،کب جلاوطن ہوئے ،احتساب عدالت میں ریفرنس دائر ہونے پرکیاکارروائی ہوئی تھی۔یہ کیس کس بنیاد پرغیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی ہوا۔حدیبیہ کیس کوباضابطہ طورپرکھولنے کے لیے نیب نے اسے سپریم کورٹ کے 28جولائی کے فیصلے کی روشنی اورنیب کے موجودہ چیئرمین کے حکم سے سپریم کورٹ میں دائر کیاتھا۔سپریم کورٹ کے دورکنی بنچ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس فائز عیسیٰ اورسندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس مشیرعالم شامل ہیں۔ دونوں فاضل جج اب پاکستان سپریم کورٹ کے مایہ ناز فاضل ججوں میں شامل ہیں اورانہوں نے نیب کی طرف سے حدیبیہ کیس کو ری اوپن کرنے کی اس اپیل کانہایت عمیق انداز میں مطالعہ کرنے کے بعد نیب حکام سے اس کیس کودوبارہ ری اوپن کرنے کی استدعا کے حوالے سے متعدد حقائق وشواہد سپریم کورٹ میں پیش کرنے کے سوالات اٹھائے ہیں۔سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات میں بنیادی طورپربہت واضح منطق اورجواز موجود ہے اورفاضل ججوں نے حدیبیہ پیپرز کوری اوپن کرنے سے پہلے بالکل بجاطورپر نیب حکام کے استفسارات کردئیے ہیں اورنیب حکام نے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق،ماضی میں لاہور ہائی کورٹ کے حدیبیہ کیس کوبند کردیئے جانے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں بروقت اپیل نہ کرنے کااعتراض ختم کروانے کے لیے اپنی متفرق درخواست میں غیرمعمولی تاخیرپررعائت کی استدعا پرمشتمل اپنے منطقی جواز کے حوالے سے اپنی تازہ اپیل میں جوپہلے سے دائراپیل کاحصہ تصورکی جانے کی استدعا کے ساتھ پیش کی ہے ۔سپریم کورٹ کوآگاہ کیاکہ اس کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے پربروقت اپیل اس لیے دائر نہیں ہوسکی تھی کہ حدیبیہ پیپرز کیس کے حوالے سے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اورلاہورہائی کورٹ کے ججوں کے غیرسنجیدہ رویئے کودیکھتے ہوئے نیب حکام کے لیے ملک کے چیف ایگزیکٹوکے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنابہت بڑاچیلنج بن گیاتھا اورچونکہ ملزم میاں نوازشریف ملک کے چیف جسٹس کی حیثیت سے نیب حکام پراثرانداز ہورہے تھے لہٰذ اان کے اثرورسوخ کے باعث نیب حکام تردد میں رہے اورسپریم کورٹ میں بروقت اپیل نہ کرسکے جبکہ ہائی کورٹ کے فاضل ججوں نے تکنیکی نکات پرحدیبیہ پیپرز ریفرنسز ختم کرکے شریف خاندان کے حق میں فیصلہ دے دیاتھا۔نیب حکام نے اپنی نئی اپیل میں جوسپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے لکھاہے کہ بلاشبہ ملزم قانون کافیورٹ چائلڈ ہوتاہے لیکن شکایت کنندہ کوبھی انصاف سے محروم نہیں رکھاجاسکتا۔دوبارہ تحقیقات سے روکنا انصاف سے روکنے کے مترادف ہوگالہٰذا فاضل سپریم کورٹ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں زیرغورکیس کاجائز ہ لے کراپیل دائر کرنے میں تاخیر سے صرف نظر برتتے ہوئے نیب کودوبارہ تفتیش کی اجازت دے ۔قواعد کے مطابق اپیل دائر کرنے کے لیے وقت مقررہے لیکن وقت کے اس قدغن کااطلاق زیرغورکیس پرنہ کرے۔بہرحال یہ بات واضح ہے کہ جسٹس (ر)جاوید اقبال کے نیب کاچیئرمین مقررہونے کے بعد نیب کے کام کاانداز مثبت سمت پرہوناشروع ہوگیاہے اورتوقع ہے کہ وہ پانامہ لیکس میں ابھرکرسامنے آنیو الی دیگربڑی مچھلیوں کوبھی احتساب کے دائرے میں لاکرملک کوکرپشن مافیا سے صاف کرنے کے لیے مزید تندہی اوراخلاص سے آگے بڑھیں گے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
عید میلاد النبی ؐکے موقع پر دہشت گردی
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں