بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت قراردینا شدت پسندی کا سبب بنےگا

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ شدت پسندی اور تشدد میں اضافے کا سبب بنے گا.. اور یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کے کسی کام نہیں آئے گا۔
ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطی کے لیے ان کے نمائندے جیرڈ کُشنر اتوار کے روز یہ کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے یا اس فیصلے کو ملتوی کرنے کے حوالے سے اپنا موقف متعین کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔روم سے واپسی پر قاہرہ پہنچنے کے بعد اتوار کی شب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے احمد ابو الغیط نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض لوگ اس فیصلے پر عمل درامد چاہتے ہیں جب کہ انہیں ادراک نہیں کہ اس کے نتیجے میں مشرق وسطی اور پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے کتنے بڑے خطرات جنم لیں گے ۔



مزید پڑھیں :سعودی مشیرتجارت وسرمایہ کاری کوبرطرف کردیا گیا

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل کے مطابق اس حوالے سے کسی بھی پیش رفت کے بارے میں عرب دنیا کے موقف کی رابطہ کاری کے واسطے فلسطینی حکومت اور عرب ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ابو الغیط نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اس نوعیت کا کوئی بھی اقدام بلا جواز ہو گا، یہ امن اور استحکام کے کسی طور کام نہیں آئے گا بلکہ شدی پسندی اور تشدد کی جانب مائل کرے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے صرف ایک فریق یعنی امن کی معاند اسرائیلی حکومت کو فائدہ پہنچے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے منصوبے کو مزید 6 ماہ ملتوی کرنے کے فیصلے پر دستخط کریں گے یا نہیں۔یاد رہے کہ 1995 ء سے اب تک تمام امریکی صُدور اس فیصلے کے التوا پر دستخط کرتے چلے آئے ہیں۔تاہم سفارت کاروں اور مبصرین کے مطابق اس بات کی بھی توقع ہے کہ ٹرمپ بدھ کے روز اپنے خطاب میں اس بات کا اعلان کریں گے کہ وہ بیت المقدس کو درالحکومت بنانے کے حوالے سے اسرائیل کے حق کی سپورٹ کرتے ہیں۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ 1995 ء میں امریکی کانگریس کے فیصلے کی بنیاد پر امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیں گے ۔عالمی برادری 1967 ء کی جنگ کے بعد بیت المقدس کے انضمام اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کو تسلیم نہیں کرتی۔ اسرائیل میں غیر ملکی سفارت خانے بھی تل ابیب میں واقع ہیں۔یاد رہے کہ فلسطینی مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کو اپنی آئندہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت قراردینا شدت پسندی کا سبب بنےگا
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں