چاہ بہاربندرگاہ کاافتتاح۔۔۔۔۔۔بازدید!

آج جب یہ سطوررقم کی جارہی ہیں ،بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اوران کی وزیرخارجہ سشماسوراج ایران میں موجود ہیں جہاں ایرانی صدرحسن روحانی چاہ بہار کی بندرگاہ کاافتتاح کررہے ہیں۔ایرانی حکومت نے خطّے کے دیگرممالک بالخصوص افغان صدراشرف غنی کو بھی اس موقع کے لیے مدعوکررکھاہے۔بھارت افغانستان کودس لاکھ ٹن گندم بطور امداد بندرگاہ چاہ بہار کے ذریعے بھیج رہاہے اوراُس نے طویل سمندری راستے کے ذریعے براستہ چاہ بہار افغانستان کے ساتھ زمینی تجارتی راہداری کھولی ہے کیونکہ پاکستان نے اُسے افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے زمینی راستہ دینے سے انکار کیاہے۔آج سے دوبرس قبل ہم نے یکم نومبر 2015ء کے روزنامہ البیان کے اداریے میں چاہ بہار کی بندرگاہ کوبھارت کی جانب سے ترقی دینے کے پس پردہ مودی حکومت کے عزائم آشکارکیے تھے جوآج درست ثابت ہوئے ہیں ۔ملاحظہ کیجئے وہ اداریہ:
’’جوچیزیں ہم بدلنے کی قدرت نہیں رکھتے ،ان میں سے ایک ہمارے ہمسائے ہیں۔بدقسمتی سے ہماراایک ہمسایہ بھارت ہے جس نے آج تک پاکستان کی تخلیق کودل سے تسلیم نہیں کیا۔وہ مختلف محاذوں پرپاکستان کے ساتھ پراکسی وار،یعنی درپردہ جنگ میں مصروف رہتاہے۔یہ محاذ خواہ سیاست کے ہوں یاتجارت کے ،ثقافت کے ہوں یاکھیل کے ،اُس کی درپردہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔چین بھی ہماراہمسایہ ہے جس کے ساتھ دوستی کابندھن ایسااٹوٹ ہے کہ اس کی بلندی کے لیے ہمالیہ اورگہرائی کے لیے سمندروں کی مثال صادق آتی ہے ۔چین نے پاکستان کے معاشی استحکام میں تعاون کے جوبھی منصوبے بنائے ،بھارت نے ہمیشہ انہیں کینہ توزنگاہوں سے دیکھااور ایسی برعکس حکمت عملی اپنائی جس سے پاکستان کومعاشی نقصان پہنچ سکے۔پاکستان نے گوادر کی بندرگاہ کوترقی دینے کے لیے چین سے تعاون حاصل کیا توبھارت نچلا نہیں بیٹھ سکا،اُس نے فی الفور ہمارے ہمسائے اوربرادراسلامی ملک ایران سے روابط بڑھائے اورگوادرکی بندرگاہ کے مقابلے میں چاہ بہار کی ایرانی بندرگاہ کوترقی دینے کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں ۔بظاہراس میں کوئی خرابی نہیں لیکن جب جنوبی ایشیا اورشرقِ اوسط میں جاری عالمی تنازعات کے تناظر میں دیکھاجائے توبھارت کی جانب سے ایرانی بندرگاہ چاہ بہارکو ترقی دینے کے اس کے عزائم مخصو ص مفادات سے تہی دکھائی نہیں دیتے اورلامحالہ یہ کہاوت ذہن میں آتی ہے کہ’’بنئے کابیٹا،کچھ دیکھ کرہی گرتاہے۔‘‘



عید میلاد النبی ؐکے موقع پر دہشت گردی

’’گزشتہ دنوں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری رئیر ایڈمرل علی شمخانی نے پاکستان کا دورہ کیاوزیراعظم پاکستان سے علاقائی صورتحال اورپاک ایران گیس پائپ لائن سمیت دونوں ملکوں کے باہمی منصوبوں پربھی بات چیت کی ۔انہوں نے وزیراعظم کوایران کے صدرحسن روحانی کاپیغام پہنچایااورکہا کہ ایک مستحکم افغانستان ہی ایران اورپاکستان دونوں برادراسلامی ملکوں کے مفاد میں ہے۔اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اورایران کواپنے درمیان فائبرآپٹک لنک قائم کرناچاہیے کیونکہ دونوں ملکوں کے مابین اقتصادی اورمواصلاتی شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔اس موقع پروزیراعظم پاکستان جناب نوازشریف نے یہ گہری بات کی کہ گوادراورچاہ بہار حریف نہیں ،جڑواں بہنیں ثابت ہوں گی۔
’’چاہ بہار کی ایرانی بندرگاہ ایران کے جنوب مشرق ،بحرہند کے شمال مغرب اوربحیرہ عمان کے شمال مشرق میں واقع ہے۔اس کی آب وہوا گوادرہی کی طرح گرمیوں میں گرم مرطوب اورسردیوں میں معتدل ہے ۔ایرانی حکومت نے بھارت کے ساتھ چاہ بہار کوترقی دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پردستخط کئے تھے ۔اس منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی بھارت کوبحری راستے سے افغانستان تک براہ راست رسائی مل جائے گی۔گزشتہ مہینے بھارت نے یہاں یوریاکھاد کے پلانٹ کوبھی ترقی دینے کااعلان کیا۔بھارت کے وزیرمواصلات نے ایران کے انفراسٹرکچر کوبڑھاوا دینے کے ساتھ ساتھ بندرگاہ پرایک بلین ڈالر سرمایہ کاری کے عزم کااظہار کیاتھا۔دراصل یہ ایران عراق جنگ تھی جس کے دوران ایران کوچاہ بہار کی اہمیت اورجغرافیائی پوزیشن کی افادیت کا احساس ہوا۔بالخصوص یہ امر کہ یہ آبنائے ہرمزاورخلیج فارس سے باہرواقع ہے ۔گوادرسے اس کافاصلہ350میل ہے ،بھارت نے اس کوگہرے پانی کی مکمل بندرگاہ بنانے کامعاہدہ کیاہے ۔بھارت کی نگاہیں اس امرپربھی مرکوز ہیں کہ براستہ چاہ بہار انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور استعمال کرتے ہوئے یورپ سے تجارت کرسکے گا۔اس بندرگاہ کوترقی دینے میں بھارت کی دلچسپی میں تب روزافزوں اضافہ ہواتھا جب چینی صدرنے پاکستان کادورہ کیا اورپاکستان میں توانائی اورانفراسٹرکچر کے منصوبوں میں 46بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کااعلان کیا۔اس کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری نے بھی مودی کی راتوں کی نیند حرام کردی تھی، چنانچہ جہاز رانی کے بھارتی وزیرفی الفورایران پہنچے اوراپنے ایرانی ہم منصب احمدخوندی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ۔دونوں ملکوں نے معاہد ہ کرتے وقت امریکی تنبیہ کو بھی نظرانداز کردیاجس نے خبردارکیا تھا کہ بھارت ایران کے ساتھ معاہدے میں عجلت کامظاہرہ کررہاہے جس سے ایران پرعائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے ۔امریکہ نے واضح طورپرکہاتھاکہ ایران کے ساتھ تجارتی روابطہ بڑھانے کی خواہش رکھنے والے ملکوں کو پی۔1+5گروپ(یعنی امریکہ ،روس،چین ،فرانس ،برطانیہ اورجرمنی) کی تہران کے ساتھ جوہری معاملات پربات چیت کے نتائج کاانتظارکرناچاہیے ۔ایسامگر نہیں ہوااوربھارت نے امریکی تنبیہ کودرخوراعتنانہ سمجھتے ہوئے تہران کے ساتھ اپنے معاملات میں پیش رفت جاری رکھی۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جب سابق صدرآصف علی زرداری نے اپنے اقتدارکے آخری ایام میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کاافتتاح کیا تواکثر حلقوں نے اُس وقت جہاں ایک طرف اسے ایک سیاسی ضرورت سے تعبیر کیا وہیں ازاں بعد جناب وزیراعظم نوازشریف نے اس منصوبے میں پیش رفت کے لیے امریکی تنبیہ کی عمرپوری ہونے کاانتظارکیا۔اس دوران بہرحال بھارت نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی۔اب گوادر میں چین اورچاہ بہار میں بھارت گویاآمنے سامنے ہیں۔
’’جہاں تک وزیراعظم پاکستان کی جانب سے دونوں بندرگاہوں کوبہنیں قراردینے کے خیرسگالی جذبات کے مظاہرے کی بات ہے ہمیں اس کوشرقِ اوسط کے خاص تناظر میں دیکھنے کی بھی ضرورت ہے جہاں شام کے بحران نے علاقائی طاقتوں کی مخاصمت بڑھادی ہے۔شام کے مسئلے پر صدربشارالاسد کے حامی اور مخالف ممالک کے وزرائے خارجہ کاویانا(آسٹریا)میں اجلاس شروع ہوگیاہے۔ایران اورروس نے صدربشارالاسد کواقتدارہی میں دیکھنے کی بات کی ہے جبکہ اسد کے مخالفین ترکی،سعودی عرب اورامریکہ اُسے ہرصورت میں اقتدارسے الگ کرنے کے خواہشمند ہیں۔
سعودی عرب نے توان مذاکرات میں ایران کی شرکت کی بھی مخالفت کی تھی۔یادرہے کہ روس کے ساتھ کچھ ہی روز پہلے پاکستان نے لاہوراورکراچی کے درمیان گیس پائپ لائن بچھانے کے معاہدے پربھی دستخط کیے ہیں جسے مختلف حلقوں کی جانب سے اس اعتبار سے تاریخی قراردیاجارہاتھا کہ ہم امریکی اثرسے آزاد ہونے جارہے ہیں ،بہرحال یہ توایک جملہ معترضہ تھا ،دراصل بات یہ ہے کہ کیاایران کے ساتھ ہم بامعنی اورٹھوس روابط کوفروغ دے پائیں گے جودوبرادراسلامی اورہمسایہ ملکوں کی فی الواقع ضرورت بھی ہیں اوروہ بھی ایسے منظرنامے میں جہاں بھارت اپنی معاندانہ پالیسی کے تحت بے حدفعال ہے۔ایران کے ساتھ ہمارے روابط میں ایک اورنازک پہلوبھی شامل ہے اوروہ ہے شام کے بحران میں ایران اورسعودی عرب کی ناچاقی !سعودی عرب بھی ہمارادیرینہ دوست ،رفیق اوربرادراسلامی ملک ہے جس نے ہرآڑے وقت میں پاکستان کی طرف دستِ تعاون بڑھانے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔شاید بھارت اسی نازک صورتحال سے فائدہ اٹھا کرایران سے اپنی دوستی میں اضافے کی پالیسی پرعمل پیراہے جس کی تہہ میں پاکستان کے معاشی واقتصادی اورسٹریٹجک مفادات کو زک پہنچانا ہے ۔ایسے میںیہ نتیجہ اخذکرناغلط نہ ہوگا کہ بھارتی عزائم کی روشنی میں آنے والے وقتوں میں گوادراورچاہ بہار دوبہنوں کے بجائے سوکنیں ثابت ہوں گی۔‘‘
آپ نے ملاحظہ کیا،دوبرس بعدہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں روارکھی جانے والی سفارت کاری کے نتیجے میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟افغانستان اورایران کوہمارے پالیسی سازوں کے فیصلوں نے بھارت کی آغوش میں دے دیاہے۔ہماری تمام ترتوقعات اب چین/سی پیک سے وابستہ ہیں ۔گویاہم نے اپنے معاشی مفادات کے انڈے سی پیک کی ٹوکری میں رکھ دیے ہیں جس کے بارے میں میڈیا میںیہ خبریں آرہی ہیں کہ چین نے گوادر میں چینی کرنسی یوآن رائج کرنے کامطالبہ کیاہے۔علاوہ ازیں عالمی سازشوں کے نتیجے میں اگرسی پیک منصوبے میں تاخیر یاکسی اورنوع کادھچکالگتاہے توسوال یہ ہے کہ پھرہماری یہ یک پہلوخارجہ پالیسی ہمیں کہاں لاکھڑا کرے گی؟

Summary
Review Date
Reviewed Item
چاہ بہاربندرگاہ کاافتتاح۔۔۔۔۔۔بازدید!
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں