امریکی وزیر دفاع کا دورہ پاکستان

امریکہ کے وزیر دفاع جیمز ماتھس ایک روزہ دورہ پر سوموار کو اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ۔ یہ دورہ اگست میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نئی افغان پالیسی کے تناظر میں بے حد اہمیت رکھتا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا تھا اور اور اسے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی درپردہ دھمکی دی تھی۔ اس کے برعکس بھارت کے بارے میں امریکی صدر کا لب و لہجہ خوشگوار تھا اور انہوں نے نئی دہلی سے افغانستان کے ترقیاتی منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ پاکستان میں اس پالیسی کے حوالے سے سخت رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ وہ ‘ڈو مور’ کے تقاضے پورے کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکی خواہش اور ضرورت کو سمجھتا ہے اور اس بارے میں تعاون بھی کرنا چاہتا ہے لیکن وہ دھمکی اور دباؤ کی پالیسی کو قبول نہیں کرتا۔
جیمز ماتھس کے دورہ اسلام آباد کے دوران بھی ایک دوسرے کی پوزیشن کو سمجھنے اور اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش دیکھنے میں آئی ۔ تاہم اس دورہ سے حالات میں کسی ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی سخت الفاظ پر مبنی تقریر کے بعد اگرچہ امریکی حکام نے اپنا لب و لہجہ نرم کیا ہے اور پاکستان کو بعض رعائیتیں دینے کی کوشش بھی کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے ۔ واشنگٹن بدستور یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کرتا ہے اور طالبان سے اس کے مراسم ہیں۔ پاکستان ان دونوں الزامات کو مسترد کرتا ہے ۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے ذریعے ملک میں تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف یکساں قوت سے کارروائی کی ہے اور اب ملک میں کسی دہشتگرد گروہ کا کوئی ٹھکانہ موجود نہیں ہے ۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان پر الزام تراشی کے ذریعے سفارتی فضا خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان سمجھتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی جاتی ہے اور اکثر صورتوں میں اس کارورائی میں شامل دہشت گرد بھی سرحد پار سے ہی آتے ہیں۔ کل ہونے والی ملاقاتوں میں خاص طور سے گزشتہ روز پشاور کے ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ پر حملہ کا حوالہ بھی دیا گیا۔ یہ خوں ریزی کرنے والے دہشت گرد براہ راست افغانستان میں موجود اپنے سرپرستوں سے رہنمائی لے رہے تھے ۔



کیا ٹیکنو کریٹ حکومت کا راستہ روکنا ممکن ہے !

پاکستان کو امریکہ سے یہ گلہ بھی ہے کہ وہ افغانستان میں خوں ریزی روکنے کے لئے تو پاکستان کی مدد کا خواہشمند ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت کو افغانستان میں پاؤں جمانے کا موقع فراہم کرتا رہا ہے ۔ اس طرح بھارت افغان سرزمین سے پاکستان میں تخریب کاری کرنے والے گروہوں کی امداد اور تربیت کرنے میں کامیاب ہے ۔ امریکہ نے اس شکوہ شکایت کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے ۔ اس کا کہنا کہ وہ اس علاقے میں سب ملکوں کے ساتھ میرٹ کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات متاثر نہیں ہو سکتے ۔ امریکی وزیر دفاع بھی اسی مزاج اور رویہ کے ساتھ ہی اسلام آباد پہنچے ہیں۔ جیمز ماتھس کا کہنا ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی سے شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اس لئے دہشت گرد گروہوں کے خاتمہ کا سب سے زیادہ فائدہ اسی کو ہوگا۔ اس اصول پر پاکستان کو بھی کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن امریکہ کی افغانستان میں حکمت عملی کے حوالے سے دونوں ملکوں میں اختلاف واضح ہے ۔
امریکہ چاہتا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی میں اضافہ کرے اور پاکستان اپنے علاقوں میں افغان طالبان کو پناہ دینے سے گریز کرتے ہوئے انہیں یہاں سے مار بھگانے کے لئے فوجی کارروائی کرے ۔ ٹرمپ حکومت کا خیال ہے کہ اس طرح طالبان کو سیاسی مذاکرات اور مصالحت پر آمادہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے برعکس پاکستان کا دوٹوک مؤقف ہے کہ صرف ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے جو مصالحت کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان سمجھتا ہے کہ طالبان کے خلاف سترہ برس کی فوجی کارروائی میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی، اس لئے اب یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس تنازعہ کا صرف سیاسی حل ہی تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ اس مقصد کے لئے جنگ جوئی ، تصادم ، دھمکی اور انتقام کی باتیں کرنے کی بجائے مفاہمت اور سیاسی حل پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
کل کی ملاقاتوں میں اگرچہ امریکی وزیر دفاع نے پاکستان سے تعاون بڑھانے کے لئے دباؤ ڈالا اور کہا کہ پاکستان اپنی کوششیں ڈبل کرے لیکن پاکستان نے اپنی پوزیشن پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی اپنے حصے سے زیادہ کر چکے ہیں ۔ امریکہ یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار محدود کئے بغیر امریکہ پاکستان کا اعتماد جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل جارحیت کا ارتکاب کررہا ہے ۔ نریندر مودی حکومت نے ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کیا ہے ۔ اب وہ افغان سرزمین میں اثر و رسوخ کے ذریعے پاکستان کو حصار میں لینے کی کوشش کررہا ہے ۔ پاکستان اس صورت حال میں سخت دباؤ کا سامنا کررہا ہے اور اسے قومی سلامتی کے حوالے سے شدید اندیشے لاحق ہیں۔ امریکہ کو افغانستان میں امن کے لئے پورے خطے کی صورت حال کو سمجھتے ہوئے حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔ جب تک وہ اپنی غلطیوں کو دہرانے پر اصرار کرتا رہے گا، پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات بھی مشکلات اور بحران کا شکار رہیں گے ۔

خواتین کے قومی شناختی کارڈ مفت بنانے کی مہم
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2018ء کے عام انتخابات سے قبل بڑی تعداد میں خواتین کے نام انتخابی فہرستوں میں شامل اور انتخابی عمل کے دوران ووٹ کاسٹ کرنے کی بنیادی شرط قومی شناختی کارڈ بنا کر دینے کیلئے موثر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ملک کے 79ضلعوں میں الیکشن کمیشن کا عملہ نادرا ٹیموں اور سول سوسائٹی کی رجسٹرڈ این جی اوز کے ہمراہ چار دسمبر سے میدان عمل میں آچکاہے ۔ نئے ووٹرز بنا نیکا کام اپریل2018ء تک جاری رکھا جائیگا۔ ایک اندازے کے مطابق اب بھی ایک کروڑ 20لاکھ خواتین کے نام نہ صرف انتخابی فہرستوں میں درج نہیں ہو سکے بلکہ انکی بڑی اکثریت کے پاس شناختی کارڈ تک نہیں۔ جہاں جہاں رجسٹریشن کا کام کیا جائیگا ان میں اسلام آباد کے علاوہ پنجاب کے27‘ خیبر پختونخواہ 16‘ سندھ24جبکہ بلوچستان کے گیارہ اضلاع شامل ہیں۔ رواں سال کی جانیوالی مردم شماری کے مطابق ملک کی آباد ی تقریباً20کروڑ 70لاکھ سے زائد سامنے آئی جن میں 5کروڑ 40لاکھ 60ہزار مرد جبکہ چار کروڑ 20لاکھ 42ہزار خواتین شامل تھیں۔ اس آبادی کا تناسب دیکھا جائے تو 56.27فیصد مرد جبکہ 43.73فیصد خواتین ہیں جو شائد درست اعدادو شمار نہیں ہو سکتے کیونکہ مارچ2013ء میں ایک کروڑ 97ہزار خواتین کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا جبکہ 2017ء میں یہ فرق بڑھ کر ایک کروڑ 20لاکھ 17ہزار ہو گیا ہے۔ عملی طور پر شرح خواندگی میں اضافے ‘ معیار زندگی میں بہتری اور عوامی شعور میں موثر تبدیلی کے باعث یہ شرح کم ہونی چاہیے تھی۔ الیکشن کمیشن کے تجزیئے کے مطابق 2017ء میں بڑی تعدادمیں خواتین کے 18برس کی عمر کو پہنچنے کے باعث انکی تعداد مردو ں کے برابر بلکہ کچھ زیادہ ہی ہونی چاہیے تھی مگر عملی طور پر یہ کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ بڑی تعدادمیں خواتین کے نام ووٹرز فہرست میں شامل نہ ہونیکی وجہ معاشرے میں مذہبی انتہا پسندی ‘ معاشرتی و معاشی امتیاز یا مناسب مواقع نہ ملنے کیساتھ غیر ذمہ داری و بے حسی بھی ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنی انتخابی فہرست اپ ڈیٹ کرنے اور آئندہ الیکشن سے قبل نظر انداز شدہ خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور شناختی کارڈ بنا کردینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ چیف الیکشن کمیشن سردار رضا محمد خاں نے نادرا کی موبائل وینوں کو بھی ووٹوں کے اندراج کیساتھ فری شناختی کارڈ بنا کر دینے کیلئے طلب کر لیا ہے تاکہ جیسے ہی کسی کا ووٹ بنے‘ اسکا شناختی کارڈ بھی بن جائے۔ اس سکیم کی بڑی پیشکش یہ بھی ہو گی کہ شناختی کارڈ بنوانے کی خواہش میں انکے والدین ‘ علاقے کے چوہدری ‘ جاگیردار ‘ قبائلی سردار اور مذہبی و دینی رہنما رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ فافن جیسی این جی اوز کے پاس موجود سروے رپورٹوں اور تحریری ڈیٹا کی روشنی میں بھی معاشرے کی بڑی تعداد میں نظر انداز شدہ خواتین کو نہ صرف مردم شماری کے اعدادو شمار میں جگہ مل سکے گی بلکہ شناختی کارڈ بنوانے کیلئے نادرا دفاتر میں پہنچنے‘ اپنی شناخت کی تصدیق اوردیگر محکمہ جاتی پابندیوں ‘ قواعد و ضوابط سے نجات مل سکے گی۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک( فافن) کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق بھی 10لاکھ 70ہزار خواتین کو ابھی تک بطور ووٹرز رجسٹرڈ نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان میں اصولی طور پر تو سات مرتبہ مردم شماری ہو جانی چاہیے تھی مگر بد قسمتی یا معروضی حالات کے باعث رواں سال چھٹی مردم شماری ہو سکی اور جو کام سر انجام دیا گیا ‘ اس پر بھی بعض سیاسی و سماجی حلقوں کے اعتراضات موجود ہیں جن میں ایم کیو ایم پاکستان‘ پیپلز پارٹی اور چند دیگرجماعتیں سر فہرست ہیں۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ ‘ فاٹا اور بلوچستان میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں خواتین کو گھر سے نہیں نکلنے دیا جاتا یا پھر انہیں شناختی کارڈ بنوانے جیسی قومی ضرورت کی سہولت میسر نہیں۔ چیف الیکشن کمیشن کا حالیہ اقدام نہ صرف بر وقت، موثر اور قومی ضرورت ہے بلکہ آئندہ انتخابی دنگل میں ایک کروڑ سے زائد خواتین کیلئے ووٹ دینے کی سہولت میسر آنے کیساتھ ترقیاتی ‘ تعمیراتی و مواصلاتی منصوبوں کی تیاری میں بہتر اعداد و شمار موجود ہونگے مگر دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ ارکان پارلیمنٹ ‘ بلدیاتی نمائندوں اور علاقے کے با اثر افراد کی خدمات کیوں حاصل نہیں کی جارہیں۔ ملک بھر کے 102ضلعوں میں یونین کونسل کی سطح تک کا نہ صرف سیٹ اپ موجود ہے بلکہ ہر وارڈ کے منتخب جنرل کونسلر ‘ مخصوص نشستوں کے ممبر‘ چیئر مین ‘و ائس چیئرمین موجود ہیں۔ اگر الیکشن میں خواتین ووٹروں کی 10فیصد سے کم تعداد کے ووٹ ڈالنے پر انتخابی عمل کا لعدم قرار دیا جا سکتا ہے تو بلدیاتی نمائندوں کو مردم شماری اور ووٹرز کے اندراج جیسے مراحل میں قانونی طور پر شامل ہونیکا پابند کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ہر گلی محلے یا علاقے میں مساجد سمیت دیگر مذہبی عبادت گاہیں ‘ سکول ‘ کالج ‘مراکز صحت ‘ ڈسپنسریاں اور پولیس اسٹیشن یا چوکیاں بھی قائم ہیں ‘ جنہیں نئے شناختی کارڈوں اور بطور ووٹر رجسٹریشن جیسے مراحل کیلئے استعمال کیا جائے تو صورتحال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ رجسٹرڈ ووٹروں کی بڑی تعداد بھی ایسی ہے جن کے پاس ابھی تک شناختی کارڈ یا سمارٹ کارڈ نہیں ہیں۔ شناختی کارڈوں کے اجراء کی آڑ میں نادرا کیلئے کروڑوں روپے کے اضافی فنڈز منظور کرانے جیسی مشکل صورتحال پیدا کرنے کی بجائے اگر آئندہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کیلئے الیکشن لڑنے کے خواہشمندوں کو اپنے علاقے کے ووٹروں کے اندراج کا پابند اور کاغذات نامزدگی دیتے وقت شناختی کارڈ اور نئے ووٹر بنانے کیلئے اپنی گرہ سے کچھ رقم خرچ کرنی پڑے تو انہیں ایسا ضرور کرنا چاہیے کیونکہ خود انکی نیک نامی ‘ شناخت اور خدمت خلق کی یہ اچھی مثال ہو سکتی ہے، وہیں قومی خزانے کو بھاری بوجھ سے محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ حکومتوں سے اعزازیے اورمراعات لینے والے سیاسی و بلدیاتی نمائندوں کو اس پر غور ضرور کرنا چاہیے تاکہ صحتمند وخو شگوار بات سامنے آسکے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
امریکی وزیر دفاع کا دورہ پاکستان
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں