درود والوں سے چند سوال ۔۔۔

تحریر: رضی الدین رضی
کوئی ایک ماہ سے دھرنے کا کھیل جاری تھا ۔ ہم اس دوران خاموش رہے ۔ اور اس لئے خاموش رہے کہ یہ عقائد کا معاملہ تھا ۔ پھر ایک ناکام آپریشن ہوا ہم خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہے ۔ آپریشن کی ناکامی کے بعد ایک کامیاب اور بے مثال معاہدہ ہوا ، قانون شکنی کے مرتکب افراد کو تھانوں سے نکال کر انہیں لفافے دیئے گئے ۔ اس عمل کی وڈیو بھی بنائی گئی ۔ ہمیں لفافہ دھرنا کی اصطلاح تو سوجھی مگر ہم پھر بھی چپ رہے کہ جب لفافے والی صحافت بھی اب مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکی اور اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا تو لفافہ دھرنے کا ویڈیو کے ذریعے باضابطہ اعلان کرنا بھی کوئی بری بات نہیں ۔
عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے میں اگر یہ عمل خاموشی سے کیا جاتا رہا ہے تو اس نازک صورت حال میں اس کی ویڈیو بنوا لینا زیادہ مناسب تھا کہ ملکی سالمیت جب داؤ پر لگی ہو تو غیر معمولی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اور دفاعی بجٹ ہوتا بھی تو اسی لیے ہے کہ ملکی سلامتی کا تحفظ کیا جائے ۔ ایک دھرنا ختم ہوا تو خیال تھا کہ لاہور والے بھی دھرنا چھوڑ دیں گے لیکن پھر پتہ چلا کہ لبیک تحریک کے جلالی صاحب جلال میں آ گئے ہیں ۔ نیا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ اصلی تحریک کون سی ہے ۔ پھر عقدہ یہ کھلا کہ جھگڑا تو پیسے کا ہے ۔ آپ سب کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ ہم اپنے فشار خون کو معتدل رکھنے کے لیے ٹی وی چینلز دیکھنے سے گریز کرتے ہیں ۔ کبھی کوئی بہت اہم خبر یا پریس کانفرنس ہو تو نیوز جینل دیکھنا مجبوری بن جاتا ہے ورنہ ٹاک شوز کا تماشہ دیکھنے کے لیے ہمارے پاس وقت ہی کہاں ہوتا ہے ۔ ہاں البتہ ہمارے بہت مصروف رہنے والے بعض دوست کبھی کبھار ان شوز کی کہانیاں ہمیں سنا دیتے ہیں ۔



جمہوریت میں عدلیہ کا کردار اور ججوں کی غیر جانبداری

دو روز پہلے معلوم ہوا کہ ایک ٹاک شو میں دو محترم قائدین کے درمیان لپا ڈگی بھی ہوئی تھی اور اس شو کے کیمرہ مین کو کیمرہ چھوڑ کر بھاگنا پڑ گیا تھا ۔ تنازع یہ تھا کہ تحریک کے ایک دھڑے کے قائدین ایک دوسرے قائد پر دھرنے کے خاتمے کے عوض کروڑوں روپے تنہا وصول کرنے کا الزام لگا رہے تھے ۔پھر لاہور کے دھرنے کے بارے میں خبر آئی کہ جلالی صاحب نے وہ دھرنا بھی اپنا بنیادی مطالبہ منظور نہ ہونے کے باوجود ختم کر دیا ہے ۔ بنیادی مطالبہ اب رانا ثناء اللہ کا استعفا قرار دیا جا رہا تھا اور مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ رانا صاحب دھرنا قائدین کو کلمہ سناد یں ۔ ہم یہ بد گمانی تو نہیں کرتے کہ فیض آباد کی طرح لاہور میں بھی کوئی لفافہ تقسیم ہوا یا کوئی ڈیل ہو گئی جس کے نتیجے میں یہ دھرنا رانا صاحب کے استعفے کے بغیر ختم ہو گیا۔ لیکن اس طرح سے دھرنے کے خاتمے پر حیران ضرور ہیں ۔ افسوس کہ عید میلاد النبی ﷺ، کے موقع پر یہ دھرنا نہ صرف جاری رہا بلکہ دھرنے والوں نے ہمارے دوست مستحسن خیال کے بقول رحمت ا للعالمین ﷺ کے نام پر لوگوں کو زحمت دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ ہم نے زندگی میں پہلی بار ربیع الاول کا مہینہ کچھ اس ڈھب سے دیکھا کہ جس میں صبح سے شام تک عاشقان رسول ﷺ درود کے ورد کی بجائے دشنام طرازی میں مصروف رہے ۔ اور کوئی انہیں دشنام سے روکنے کی جرات بھی نہیں کرتا تھا کہ اس کے نتیجے میں فتنہ پروروں کی جانب سے فتوے کا خطرہ تھا ۔
درود اور بارود کی اصطلاح اس ملک میں چند برسوں سے با قاعدہ رائج ہو چکی ہے لیکن اس مرتبہ تو یہ ہوا کہ جس طرح اس ملک میں اب شہید اور یزید کی تمیز ختم ہو چکی ہے اسی طرح درود اور بارود والوں میں بھی کوئی فرق باقی نہیں رہا ۔ وہ جو مسلک کے اختلاف کی بناء پر دوسروں پر بارود والے کی پھبتی کستے تھے ، ہم نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ان کی زبانوں کو شعلے بلکہ بارود اگلتے اور پھر احادیث کی روشنی میں انہیں دشنام کا دفاع کرتے دیکھا ۔ وہ جو خانقاہوں کو امن کا مرکز اور خود کو محبت کا داعی کہتے تھے اور رواداری کا درس دیتے تھے ، ان کا اصل چہرہ بھی اسی دھرنے میں بے نقاب ہوا ۔ نام تو ایک ترمیمی بل کا لیا جا رہا تھا اور استعفا وزیر قانون سے طلب کیا جا رہا تھا ۔ وزیر قانون کا جرم اگر ناقابل معافی تھا اور اگر ان کی بار بار معافیوں اور وضاحتوں کو بھی قبول نہیں کیا جا رہا تھا تو سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ طاقت ور لوگوں کی مداخلت کے بعد زاہد حامد کی معافی کیوں اور کیسے قبول کر لی گئی ۔ نتیجہ تو یہ نکلا کہ اصل معاملہ وہ نہیں تھا جو بیان کیا جا رہا تھا ۔
اب جب کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے ہم درود والوں سے چند سوال کرنے کی جسارت کر رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اس دھرنے کے دوران جن چھ افراد کی شہادت کا ذکر ہوتا رہا اور جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ ہم ان کی تدفین کے بغیر دھرنا ختم نہیں کریں گے ، کیا ان تمام افراد کو سپرد خاک کیا جا چکا ہے ؟
ان چھ شہدا کے جنازے کب اور کہاں ہوئے ؟
ان کے ورثا کس حال میں ہیں ؟
ان تمام افراد کے نام بھی پہلے روز ہی میڈیا کو جاری کئے گئے تھے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی شناخت بھی ہو گئی تھی ۔ اگر وہ نام درست تھے تو قانون شکنی پر انعام حاصل کرنے والوں نے ان شہدا کے ورثاء کے لئے کسی امداد کا مطالبہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا انہیں بھی شہدا کی طرح قیامت کے روز ہی اجر ملے گا ؟

Summary
Review Date
Reviewed Item
درود والوں سے چند سوال ۔۔۔
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں