دھرنا، عدالت اور سیاست

تحریر: حسین شہادت

سینیٹ میں جب انتخابی اصلاحات ایکٹ2017 سابق وزیر قانون زاہد حامد پیش کررہے تھے تو مسلمان ہونے کے حلف نامے کے عنوان سے ختم بنوت کے قانون پر یقین رکھنے کے قانون پر پہنچے توجمعیت علماء اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے نے نشاندہی کروائی کہ یہاں الفاظ تبدیل کئے گئے ہیں۔ اصل لفظ حلف اٹھاتا ہوں تھا نہ کہ اقرار کرتا ہوں ۔ اس کی تائید قائد ایوان راجا ظفر الحق اور سینیٹرز نے بھی کی ۔ یہ ابتدا تھی اس دھرنے کی جو 22دن تک اسلام آباد اور روالپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آبا دانٹر چینچ پر ہوا اور جس نے جڑواں شہروں کے عوام کے معاملات زندگی کو مسلسل متاثر کئے رکھا۔ زاہد حامد نے اسے ٹائپسٹ کی غلطی قرار دے کر اپنے سر سے بلا اتارنے کی کوشش کی ۔ نقطہ اعتراض پر اسے معمولی غلطی قرار دیا گیا۔ البتہ بعد میں اسے درست کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تاکہ بات ختم ہوجائے ۔ شاید یہ بات یہیں ختم بھی ہوجاتی مگر اس معاملہ پر ابلاغ عامہ میں تبصروں نے اسے کہیں سے کہیں پہنچادیا اور اس پر حکومت کی جانب سے ایسی دلیلیں دی گئیں کہ یہ معمولی غلطی سے پہاڑ بن گیا۔ حکومتی اپوزیشن والے تو پہلے ہی حکومت کے خلاف کوئی موقع ڈھونڈ رہے تھے یہ ترمیم ان کیلئے موقع غنیمت ٹہری اور اس نے پورے نظام حکومت کو ساقط کردیا۔ سیکولر اور لبرل کہلانے والی سیاسی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی مگر دبے لفظوں میں ، غالباً انہیں کسی اور شے کا بھی انتظار تھا۔ دینی جماعتوں کی جانب سے بھی سخت رویہ نہیں دیکھا گیا ، ان کی جانب سے بھی مبہم اور غیر واضح انداز میں ملامت کی گئی تاہم ممتاز قادری کی پھانسی سے سیاسی عمل میں آنے والی جماعت تحریکِ لبیک یارسول اللہ ﷺ نے خادم حسین رضوی کی قیادت میں اسے مسلمانوں کے ایمان کا سودا کرنے کے مترادف قرار دیا اور فیض آباد پر دھرنا طے ہوا۔
دھرنے والوں کامطالبہ صرف ترمیم کی درستگی نہیں تھی بلکہ زاہد حامد کو وزارت سے فارغ کیا جانا تھا۔ حکومت ترمیم تک کا مطالبہ تسلیم کرنے کے حق میں تھی ، وزیر کی قربانی کا تصور غلط خیال کہا گیا۔ تحریکِ لبیک کے مطالبے کی گونج ایوانِ اقتدار سے عام لوگوں تک پورے ملک میں سنی گئی ، ردعمل آنا بھی شروع ہوگیا کہ آخر کیا وجہ تھی ، کون سے ضرورت آن پڑی تھی جو اس حلف نامے کو چھیڑا گیا۔ جب جب تحریکِ لبیک والوں کا اصرار بڑھا ، حکومت نے عوامی آگاہی کیلئے اشتہاری مہم چلا کر معاملہ رفع دفع کرانے کی کوشش کی جو بارآور ثابت نہ ہوئی۔ لہٰذا سابق وزیراعظم اور نون کے صدر میاں نواز شریف درمیانی راستہ نکالنے کو آئے اور راجا ظفر الحق کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جو وجوہات کا تعین کرتی اور ذمہ داروں کا تعین کرنے میں معاون ثابت ہوتی۔ کمیٹی کی تشکیل ہوئی ، راجا ظفرالحق نے رپورٹ پارٹی سربراہ کو دی البتہ نہ یہ رپورٹ منظر عام پر آئی اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا گیا۔ یہ صورتحال ایک اور بحران پیدا کرنے کا سبب بنی اور دھرنے کو اس سے مزید توانائی ملی۔ نون لیگ کی اخلاقی ساکھ کی تباہی کی ایک اور وجہ بھی سامنے آگئی۔ اس سے قبل نواز شریف کی نااہلی نے اس کی ساکھ کو بہت حد تک پامال کررکھا تھا۔ میاں شہباز شریف کو پارٹی کی ساکھ عزیز تھی اور پنجاب کی سیاست میں ابھی زندگی گزارنے کی خواہش بھی تھی سو انہوں نے بھی ذمہ داروں کے تعین اور ان کے خلاف انتہائی اقدام پر اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کیا ۔



درود والوں سے چند سوال ۔۔۔

پاکستان میں مذہب سے متعلق پی پی پی زیادہ تر زبان کھولنے سے گریز کرتی ہے ، ان کے یہاں سیاست سیکولر اور لبرل ازم پر قائم ہے اور سلمان تاثیر کی ہلاکت بھی ان کیلئے وجہ ہے کہ وہ اس پر اپنی رائے دینے سے گریزاں رہی۔ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے اس ترمیم کی مذمت کی اور حالات کو قابو میں لانے کیلئے فوج کے تعاون کا مشورہ دیا۔ تحریک انصاف ملک میں تیسری بڑی سیاسی قوت ہے ۔ اس میں پارٹی مسائل اتنے ہیں کہ یہ انہیں ہی سلجھانے میں لگی رہتی ہے ۔ 2018کے انتخابات کی الگ فکر اسے دامن گیر ہے ۔ اس مصروفیت نے انہیں کھل کر اس اہم مسئلہ کی جانب متوجہ ہی نہیں ہونے دیا۔ جے یو آئی نے حکومت کا ساتھ دینا ہے لہٰذا فرض کفایہ سمجھ کر اپنی اور حکومت کی جانب سے نماز کی ادائیگی کی اور سب کی جانب سے معافی مانگ لی ۔ جماعت اسلامی جس نے تحریکِ ختمِ بنوت کے قانون میں آئین کی تیاری کے دوران بھرپور اور موثر کردار ادا کیا اور بانی جماعت جو قادیانیوں کے خلاف کتاب لکھنے کی پاداش میں پابندِ
سلاسل رہے ، اس نے بھی قانونی دائرے میں رہ کر ایوان تک آواز بلند کی حالانکہ انفرادی طور پر جماعت کے کارکن اس دھرنے کا حصہ تھے جس نے حکومت کے دن رات کا سکون تباہ کردیاتھا۔ دھرنا جوں جوں دنوں سے ہفتوں میں تبدیل ہوتا گیا، عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا اور ساتھ ساتھ خادم حسین رضوی کے مطالبات بھی بڑھتے چلے گئے ، بات چیت کے دروازے بند ہونے لگے ۔ بات اسلام آباد ہائی کورٹ تک جاپہنچی ، آپریشن کی نوبت آگئی ، فوج کو بلوانا چاہا لیکن آرمی چیف نے تدبر اور تحمل سے معاملہ حل کرنے کی تجویز دی ۔ فوج نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور دھرنا ختم ہوگیا۔ حکومت نے تمام مطالبات تسلیمِ کئے ، زاہد حامد کو مستعفی ہونا پڑا۔
یہ اس تفصیل کا ایک حصہ تھا، دوسرا حصہ اس سے بھی سنگین ہے کہ جب وزیر داخلہ احسن اقبال شادمان و کامران ہوکر عدالت کو بتا نے آئے کہ ہم نے ملک میں انتشار ، افراتفری ، ملک میں ہونے والی ممکنہ خانہ جنگی کی سازش اور حالات خراب ہونے کے تمام خطرات کو ٹال دیا ہے تو جسٹس شوکت عزیز نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ انہیں انتظامیہ اور پولیس کی تذلیل کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ہمیں معاملے کی حساسیت کا علم تھا لیکن اس معاہدے سے یہ تاثر ملتا ہے گویا حکومت نام کی کوئی شے ملک میں موجود نہیں ۔ کیا ہر مرض کا علاج فوج ہے ، معاہدہ کی ضرورت کیا تھی۔ انہوں نے فوج کو براہ راست مخاطب ہوکر کہا کہ فوج اپنے دائرہ میں رہے ، جن فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے وہ حکومت کا دیا ہوا اسلحہ واپس کریں ، ریٹائر ہوجائیں اور اپنا شوق پورا کرلیں ۔ معاہدہ اگر ہوا بھی ہے تو اس میں عدلیہ کو دی جانے والی گالیوں سے متعلق معافی کی شق کیوں موجود نہیں ۔ عدالت نے کہا کہ فوج انتظامیہ کا حصہ تھی ثالث کس طرح بن گئی۔ جسٹس شوکت عزیز نے ریمارکس دیئے کہ انہیں فوج کا یہ کردار قبول نہیں کہ وہ قانون توڑنے اور قانون کا نفاذ کرانے والوں کے درمیان ثالثی کروائے ۔
عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ بادی النظر میں فوج نے جو کردار ادا کیا ہے وہ آئین کے مطابق نہیں کیونکہ مسلح افواج ملکی قانون کے تحت مینڈیٹ سے باہر نہیں جاسکتیں ۔ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کی گئی لیکن حکومت اور ثالث نے دھرنے والوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ عدالت نے حکومت کو بطور ثالث فوج کے کردار کو واضح کرنے سمیت ذمہ داروں کے تعین کیلئے نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حالیہ دھرنے میں فوج کے کردار پر سوال اٹھایا ہے تو وہیں اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ حکومت ملک چلانے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ حکومت سمیت دیگر سیاسی جماعتیں گزشتہ دس برسوں سے ملک میں جمہوریت کو انجوائے کررہی ہیں ، انہیں عدلیہ اور قانون کی بالادستی پر بھی ایمان کی طرح پختہ یقین ہے لیکن آپ کسی بھی جماعت کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ فوج کے کردار سے مرعوب نہیں ۔ نواز شریف فوج کی حکمرانی کو غیرآنئی قرار دیتے ہیں لیکن عدلیہ پر بھی وہ بھروسہ نہیں کرتے ۔ پہلے وہ فوج کے ہاتھوں ا ور اب عدلیہ کے فیصلے کے سبب نااہل ہوئے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ احسن اقبال بھی اس دھرنے میں کسی طرح سے عدالت کا سامنا کرپائے اور نہ ہی ایک ماتحت ادارے سے کام لے سکے ۔
30نومبر کو سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنے سے متعلق ایجنسیوں کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو بدنام کرنے کے ایجنڈے پر کام کیا جارہا ہے ۔ جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے جہاں میڈیا کے کر دار پر تحفظات کا اظہار کیا وہیں یہ بھی کہہ دیا کہ فوج حکومت سے الگ نہیں۔ وہ انتظامیہ کا حصہ ہے ، پالیمنٹ ، انتظامیہ اور عدلیہ کے علاوہ چوتھا ستون میڈیا ہے ۔ انتظامیہ اور فوج میں کوئی تفریق نہیں۔ ہم فوج کے کردار کے خلاف نہیں اور نہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں فوج اپنے آئینی دائرہ سے باہر وہ کر کوئی کام کرے ۔
حلف نامے کے مسئلہ پر غلطی ہوئی لیکن اس نے ہماری سیاسی جماعتوں کی فہم و فراست کی قلعی کھول دی ہے ۔ دوسری جانب خادم حسین رضوی کی سیاسی اہمیت میں اضافہ ہؤا ہے ۔ اب یہ سمجھنا بھی مشکل ہوجائے گا کہ اگلے برس کے انتخابات کس بنیاد پر لڑے جائیں گے ۔ ساتھ ہی یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ کیا واقعی ملک میں انصاف اور قانون کی بالادستی کے جو دعوے کئے جاتے ہیں ان پر عمل کیا جائے گا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
دھرنا، عدالت اور سیاست

اپنا تبصرہ بھیجیں