پاکستان ہاکی ٹیم کیلیے غیرملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز

لاہور: پاکستان ہاکی ٹیم کیلیے غیرملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔ انٹرنیشنل پلیئر طاہر شاہ کا کہنا ہے کہ ملکی کوچز میں کوچنگ کی صلاحیت موجود نہیں، گرین شرٹس کی کامیابی کیلیے غیرملکی کوچ کا ہونا ناگزیر ہے ، ان کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کے تمام غیر ضروری دورے بند کرکے تمام توجہ ڈومیسٹک ہاکی پر دی جائے ۔ میڈیا سے بات چیت میں طاہر شاہ کا کہنا تھا کہ گرین شرٹس کی پے در پے ناکامیوں سے ثابت ہوگیاکہ ملکی کوچز میں کوچنگ کی صلاحیت موجود نہیں، اگر پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پاس فنڈز کی کمی ہے تو ہالینڈ میں موجود پاکستانی سفیر کی مدد سے یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ یاد رہے کہ پی ایچ ایف کی موجودہ انتظامیہ نے ورلڈ ہاکی لیگ کے سیمی فائنل مقابلوں میں خواجہ محمد جنید کو قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ بنایا، ایونٹ میں ناکامی کے بعد ان کو ہٹا کر سابق اولمپئن فرحت خان کو نئی ذمہ داری سونپی گئی، فرحت خان کی کوچنگ میں بھی پاکستانی ٹیم آسٹریلیا میں شیڈول 4 ملکی ٹورنامنٹ میں آخری نمبر پر رہی، اب فیڈریشن حکام ایک بار پھر ٹیم مینجمنٹ میں تبدیلی کے حوالے سے غوروفکر کر رہے ہیں۔



ویرات کوہلی کو سالانہ 12 کروڑ روپے ملنے کا امکان

طاہر شاہ نے کہا کہ ماضی میں گرین شرٹس جرمنی، ہالینڈ، سمیت یورپ کی کسی بھی ٹیم کیخلاف میدان میں اترتے تھے تو شائقین میں بڑا جوش وخروش ہوتا تھا، پاکستانی ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کے بعد اب حالات اس کے برعکس ہوگئے ہیں اور پاکستان ٹیم کے مقابلوں کے دوران تماشائی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں، انھوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے غیر ملکی دوروں کے دوران غیر ضروری لوگوں کا ساتھ جانا سمجھ سے بالاتر ہے ، جو فنڈز کھلاڑیوں پر خرچ کیے جانے چاہئیں وہ فیڈریشن عہدیداروں اور ان کے ساتھیوں کے سیرسپاٹوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کے تمام غیر ضروری دورے بند کرکے تمام توجہ ڈومیسٹک ہاکی پر دی جائے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
پاکستان ہاکی ٹیم کیلیے غیرملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں