خان شہید: وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

تحریر:ڈاکٹربرکت شاہ کاکڑ
بیسویں صدی کو سیاسی مبصرین اور مورخین انقلابات کی صدی مانتے ہیں۔انقلابات کیسے برپا ہوتے ہیں؟ کیا یہ پکے ہوئے پھل کی طرح حالات کے پیڑ سے ازخود جدا ہوکر سماج کی جھولی میں جاگرتے ہیں یا اس کے تانے بانے بنُنا پڑتے ہیں، اسے تخلیق کرنا پڑتا ہے ؟تبدیلی کے لیے حالات کے تانے بانے کون بنتا ہے ؟ آخر کیسے محکوم، خاموش، منتشر اور نظر انداز اکثریت منظم ہوجاتی ہے ، وہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے ہیں کس طرح تلخیاں بھلا کر ایک منزل کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں؟ یہ اور اس طرح کے کئی سوالات ہیں جو سیاسی علوم کی ورق گردانی سے سمجھ میں نہیں آتے ، کیونکہ یہاں پر معاملات، کبھی علمِ سیاست سے اچھل کر نفسیات میں جا پڑتے ہیں اور کبھی یہ بحث فلسفیانہ موشگافیوں کی طرف نکل جاتی ہے ۔اس گُتھی کو سُلجھانے کے لیے میرے خیال میں تاریخ کو پرکھنا پڑتا ہے ۔دور نہیں جاتے اپنی ہی تاریخ کے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دیکھیں تو سہی کہ انسانوں کے ضبط شدہ آزادی، وقار، عزت نفس اور سچائی کی بحالی کے لیے ہماری ہی مٹی کی عظیم ہستیوں نے کیسی لڑائیاں لڑیں ہیں اور کیسی قربانیاں پیش کی ہیں؟نہ توپ، نہ تفنگ، وہ نہتے ہی لڑے اور عدم تشدد کو اپنا ہتھیار بنایا۔اگرچہ ریاست کے تعلیمی اداروں میں اس طرح کے اصلی ہیروز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کی روایت نہیں رہی اور نہ ہی ثقافتی اداروں اور ذرائع ابلاغ نے روایتی وطیرے سے ہٹ کر کچھ کی کرنے کی سعی کی ہے لیکن سچائی زیادہ دیر تک چھپائی بھی تو نہیں جاسکتی اور آخر کار عیاں ہی ہو جاتی ہے ۔انگریز استعمار کے خلاف لیلٰیِ وطن کی دفاع میں جن مہان عشاق نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ، ان کی فہرست انتہائی طویل ہے ۔یہاں پر ہم عشاق کے اس قافلے کے سرخیل خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کا ذکر کریں گے جنہوں نے طویل ترین جدوجہد، بے لوث خدمت، استقامت، بے غرض محبت اور اپنی جان کی قربانی سے اس مٹی کو اپنا مقروض بنایا۔بلا شبہ وہ بیسویں صدی کے اس قبیل کے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے مادر وطن اور اپنے لوگوں کی محبت پر اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا۔ بقول افتخار عارف:مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے۔ ان کی زندگی اور جدوجہد کے مطالعے سے یہی لگتا ہے کہ وہ ایک خود رو کوہستانی پھول کے مانند کٹھن حالات میں ایک ایسے کوہسار سے پھوٹے تھے جہاں پر بیسویں صدی کی عظیم تبدیلیوں نے رونما ہونا تھا۔ان کی پیدائش (1907ء) کے وقت گریٹ گیم کو 100 سال پورے ہونے کو تھے ۔ابھی 10 سال کے تھے جب روس میں عظیم بالشویک انقلاب برپا ہوا۔ اُس کے دو سال بعد تیسری اینگلو افغان جنگ چھڑگئی اور پھر ہندوستان میں انگریز سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے پے درپے عسکری، نیم عسکری اور عدم تشدد پرمبنی تحریکیں تیز ہوگئیں۔لیکن پشتون قبائلی سماج کو صرف انگریز استعمار سے لڑنے یا آزادی حاصل کرنے کا مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ جن استبدادی حالات میں انگریزی استعمار کی دھاک لوگوں کی دلوں پر بیٹھی تھی، اسی شدت سے لوگ تقدیر پرست، ضعیف العتقاد، توہم پرست اور غیر سیاسی بن چکے تھے ۔اس کے ازالے کے لیے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت تھی اور کلچر یا سماجی ساخت کے اندر موجود اس خامی کو بطور مسئلہ اٹھانے کی ضرورت تھی۔ اپنی خود نوشت ‘زما ژوند او ژوندون’ میں خان شہید لکھتے ہیں کہ اس وقت پشتون قبائلی سماج میں لوگوں کی زندگی توہمات کے زیر اثر چلتی تھی، وہ حقیقت کو اپنے ذاتی تجربے اور عقلی دلیل سے ہٹ کر اساطیری اور توہماتی فریم ورک میں دیکھنے کے عادی تھے ۔جن، بھوت اور بری ارواح کے تصور نے مقامی لوگوں کے لاشعور پر انمٹ نقوش چھوڑے تھے جس کے نتیجے میں سماجی سطح پر ضعیف لاعتقادیت کو پروان چڑھنے کا خوب موقع ملاتھا۔لوگوں میں ملی اور قومی روح پھونکنے کے لیے جس نوعیت کی آگہی اور تنقیدی شعوری بیداری کی ضرورت تھی وہ تعلیم یا پھر پیوستہ مکالمے سے عمل میں آسکتی تھی،لہٰذا خان شہید نے موخر الذکر حکمت عملی اپنائی اور اپنے ہی گاؤں میں فیصلہ سازی کرنے والے اور اختیار رکھنے والے بزرگوں کے ساتھ ایک ایسے شعوری میں مکالمے میں چلے گئے جس نے بہت جلد مثبت اثرات کو جنم دیا۔ اس صورت حال میں خان شہید نے بیک وقت دونوں محاذوں پر جنگ لڑی۔بقول استاد درویش درانی کے وہ ایک طرف جنات سے نبرد آزما تھے تو دوسری جانب فرنگیوں سے ان کا مقابلہ تھا۔



لبرل کیوں معتوب ہیں؟

خان شہید کی خود نوشت پڑھنے سے پتہ لگتا ہے کہ وہ اس خطے کے غالباً پہلے جدید ذہن تھے جنہوں نے اجتماعی تجربات کو رد کرکے انفرادی تجربے سے سچائی کو پرکھنے کی شعوری کوشش کی ہے ، جس طرح علم عمل کے اندر پنہاں ہوتا ہے ، لہٰذا ہمیں خان شہید کے کردار میں عمل، علم پر مقدم نظر آتا ہے ۔انہوں نے اپنی تئیں سچائی ڈھونڈنے کے لیے اپنے تجربے پر زیادہ انحصار کیا۔ ان کے کردار میں غور و فکر یا (Reflexivity) اس قدر رچ بس گئی تھی کہ وہ کسی چھوٹے سے واقعے یا مسئلے کو بھی ایک کلی(Totality) کے ساتھ جوڑنے کی سعی کرتے۔اگرچہ انہوں نے زندگی بھر سیاسی، عصری اور دینوی تعلیم کے حصول کے لیے شبانہ روز محنت کی۔ قرآن مجید کو سمجھنے ، صبح صادق سے بھی پہلے مولانا ابولاکلام کے ہاں پہنچ جاتے ، لیکن انہوں نے علمیت کو اپنے مقصد، مشن اور عملی حقیقتوں سے جوڑنے کی شعوری کوشش کی ہے ۔ان کی سوانح سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جہاں جاتے ، وہاں اپنے فکر اور نظر کے واضح نقوش چھوڑ آتے۔انہوں نے زندگی سے جو کچھ سیکھا اور بیان کیا، اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں اتنے تجربات تو ہوتے ہیں کہ وہ چاہے تو ان سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے ۔ انیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں میں برطانوی ہند میں پشتون افغان خطوں میں اثر و نفوذ کے لیے فارورڈ پالیسی کو بروئے کار لایا گیا۔ مقامی سطح پر منتخب افراد کی شراکت داری سے سماجی انصاف کے مرکزی ادارے ‘جرگے ’ کو مخصوص قانونی اور انتظامی شکل دی گئی، جس کا مقصد لوگوں کو کنٹرول کرنا اور ان کے دلوں میں انگریز سرکار اور ان کے نظام کی دھاک بٹھانا تھا۔سرکاری جرگہ انگریزی استعمار کے مفادات کو عوامی مفادات پر مقدم سمجھتا تھا اور عوام کے بجائے پولیٹیکل ایجنٹ کو جوابدہ تھا۔یعنی جنگ گھر کے آنگن تک آن پہنچی تھی۔لڑنا، نہ لڑنا تو الگ بات، لیکن اس استبدادی صورت حال میں خان ایسے انقلابی لیڈر کی مشکل دو چند ہوجاتی ہے ۔ ایک طرف انہیں اپنے گمراہ شدہ اقارب کو سمجھانا تھا، جن کی آنکھیں انگریزی استعمار کی وظیفہ خوری سے خیرہ ہو چکی تھیں۔دوسری طرف غلامی کے طوق کو اتار پھینکنے کے لیے موثر حکمت عملی تشکیل دینا تھی۔جب ہم خان شہید عبدالصمد خان کے افکار، جدوجہد اور طرزعمل کا دقیق مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے انگریزی استعمار کے گنجلک سامراجی عمل اور اس سے جڑی
استحصالی علامتوں کو سمجھنے میں مستقل غور و فکر، مشاہدے ، مطالعے اور مجاہدے سے کام لیا ہے ۔انہوں نے سماج کے لگے بندہے اور بلا تصدیق کے ذہنی رویوں کو اپنی زندگی کے انتہائی اوائل میں چیلنج کرنا شروع کردیا تھا۔اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ جب انہیں بچپن میں اپنی بڑی بہن کے علاج کے سلسلے میں کوئٹہ مشن ہسپتال میں تین ماہ تک رہنا پڑا تو اس دوران انہیں وہاں خدمت پر مامور نرس مس سٹیورٹ سے دلی لگاؤ ہوگیا۔اگرچہ زیادہ تر بلوچ اور پشتون مریض بشمول ان کے خاندان کے انگریزوں کو پسند نہیں کرتے تھے ، ڈرتے تھے یا پھر نفرت کرتے تھے ، لیکن وہ سات آٹھ سال کی عمر میں ان تمام باتوں کی تصدیق خود کرتے ہیں جو انہیں گھر یا پھر گاؤں میں بتائی گئی تھیں۔لہٰذا وہ مس سٹیورٹ سے دوستی کرلیتے ہیں، ان کے مذہب، بود وباش اور عقائد کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کی خدمت کے جذبے سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مذہبی عقائد الگ ہونے کے باوجود بھی انسانوں کے درمیان محبت اور ایثار کے جذبات مشترکہ انسانی اثاثے ہیں، جن پر یقین کرنا ہی اصل دھرم ہے ۔آٹھویں تک تعلیم پانے کے بعد جب وہ میوہ جات کو منڈی تک پہنچانے حیدر آباد کا رخ کرتے ہیں، تو وہاں ان کا واسطہ ہندو آڑھتیوں سے پڑتا ہے ۔ وہ ان کے ساتھ رہنا شروع کردیتے ہیں۔اس وقت کے مقامی ہندوؤں نے پشتونوں کی سرخ و سفید رنگت کے بارے میں عجیب کہانیاں بنا رکھی تھیں، جیسے کہ پشتون اپنے بچوں کو ہندو بچوں کا خون پلا کر پالتے ہیں، جس سے ان کی رنگت گوری ہو جاتی ہے ۔خان شہید نے ان تصورات کو غلط ثابت کرنے میں انتہائی معاملہ فہمی سے کام لیا اور ان کی مدد کی کہ وہ اپنی معلومات اور ذہنی رویے پر نظر ثانی کریں جو مخصوص
تاریخی عمل کے نتیجے میں بنا تھا۔خان بابا نے لڑکپن میں انگریزوں کے منتخب کردہ اور وظیفہ خور جرگہ ماروں کے خلاف اپنے گاؤں کے اکابرین کو جس انداز میں منظم کیا، وہ بھی اہم واقعہ ہے ۔یہ جرگہ مار برائے نام انصاف دہی اور مقدمہ بازی کے نام پر ہفتوں ان کے گاؤں میں پڑے رہتے اور لوگ ان کے لیے پُرتکُلف ضیافتوں کا اہتمام کرتے ۔ پشتون ولی کی روایات میں مہمان نوازی ایک قدر کے طور پر سب پر واجب ہوتی ہے لیکن انگریز کے نمک خوار ملکوں اور سرداروں نے خود کو اس قدر سے آزاد سمجھ رکھا تھا،اس لیے خان شہید نے ان کے اس رویے کو بطور مسئلہ اُٹھایا۔کم عمر ہونے کے باوجود بھی انہوں نے اپنے گاؤں کے بزرگوں کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ عام مہمانوں اور انگریز کے ریزہ چین جرگہ ماروں میں فرق کو جانیں۔ ان کی اس مکالماتی کوشش نے جرگہ ارکان کے لیے پُر تکلف ضیافتوں کے آگے فل سٹاف لگا دیا، جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ جرگہ یہاں سے سمٹ گیا اور مفت خوروں کا وہ گروہ کسی اور قصبے منتقل ہوگیا۔ خان شہید کی شخصیت میں صنف یا جینڈر سے متعلق ان کے نظریات بہت دلچسپ ہیں۔میرے مطالعے میں خوشحال خان خٹک کے بعد خان شہید ہی ہیں جنہوں نے اپنی والدہ اور رفیق حیات سے متعلق تفصیل بیان کی ہے ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ انہوں نے اپنی خود نوشت جو انہوں نے ملتان جیل میں 1959ء میں لکھنا شروع کی تھی، کا انتساب اپنی شریک حیات کے نام کیا۔ اپنے تعارف میں سب سے پہلے والدہ صاحبہ کا نام لکھتے ہیں اور پھر والد صاحب کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے افکار میں خواتین کے ساتھ انصاف اور برابری سے پیش آنے کی تلقین مسلسل دیکھنے کو ملتی ہے ۔1917ء میں افغانستان کے عقب میں سوویت روس نے کامیاب
انقلاب برپا کیا لیکن مسلمانان ہند کے لیے اگست 1919ء میں افغانستان کی ‘استقلال’ اس سے بڑھ کر تھی۔ جس طرح پہلی اینگلو۔افغان جنگ نے اہل ہند کو کھوئے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دی اور جس نے 1857ء کی جنگ آزادی کا رستہ ہموار کیا، اسی طرح 1919ء میں غازی امان اللہ خان نے اپنے سے کئی گناہ طاقتور سامراج سے مطلق آزادی حاصل کی۔اس آزادی نے جہاں میر امان اللہ خان کو ایک لازوال افسانوی شخصیت بنادیا وہاں جدید افغانستان کی امید بھی جڑ پکڑنے لگی تھی لیکن افغانستان میں مرکزی یورپ کے طرز کے عوامی اداروں کا قیام، ایک ایسا خواب تھا جسے انگریز سرکار اور ان کے ریزہ چین جاسوسوں نے ناکام بنا دیا، جس کے نتیجے میں غازی امان اللہ خان کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ اس واقعے کے وقت خان شہید کی عمر کم وبیش 21 سال تھی۔ اپنے گاؤں سے غازی امان اللہ خان کی مدد کے لیے سب سے پہلے نکلنے والے فرد بھی وہی تھے ، جس نے بعد میں ایک چھوٹے سے لشکر کی شکل اختیار کی۔انگریز سامراج اگرچہ خود کو غیر جانبدار کہہ رہا تھا اور اسے افغانستان کا داخلی مسئلہ بتاتا تھا لیکن خان شہید اور ان کے لشکر کو پشین میں 20 دن تک قید رکھا گیا۔غازی امان اللہ خان کے افغانستان سے کوچ کر جانے کے بعد انہیں رہائی ملی۔ برصغیر پاک و ہند میں انگریزی استعمار کے خلاف ہونے والی مزاحمت کو سمجھنے اور مقامی سطح پر موثر مزاحمتی تحریک چلانے کے لیے خان بابا نے 1924ء میں سندھ اور پنجاب کا رخ کیا۔یہاں سے ہندوستان میں جاری آزادی کی تحریکوں کا خوب پتہ چلتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں استعمار مخالف سرگرمیوں کی پاداش میں انہیں پشین کے سرکاری جرگے نے تین سال قید کا حکم سنایا۔جرگے کے ارکان کے ملی شعور کو جگانے کے لیے خان شہید نے ان سے دلچسپ مکالمہ کیا اور ان پر فقرے چست کیے لیکن اپنے ذاتی مفادات کے لیے انگریزوں کے ہاتھوں بک جانے والے قبائلی رہنماؤں کے دلوں پر غالبا مہر لگ چکی تھی۔جو مقامی سرکاری اٖفسر انہیں پشین سے کوئٹہ لاتے ، ان کی زبان اور رویہ انگریز افسروں سے زیادہ تلخ اور ناقابل برداشت تھا۔ایک سال بعد انہیں بڑے بھائی عبدالسلام خان اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ رہا کردیا گیا اس تنبیہ کے ساتھ کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے ۔ لیکن انہوں نے تو واپس آنے کے لیے جیل جانا تھا، وہ سیاست سے کیسے الگ ہوسکتے تھے
؟ وہ ‘قومی سیاست’ کو نجات اور خدمت کا ایک ہی عظیم وسیلہ جو سمجھتے تھے ۔پشین اور قلعہ عبداللہ میں یہ روایت خاصی پرانی ہے کہ دو بھائیوں میں سے کسی ایک کو کاروبار یا روزگار کے لیے ہجرت کرنا پڑتی ہے ۔ایک کسی دوسرے شہر یا ملک جاتا ہے تو دوسرے کو گھر پر رہنے کو کہا جاتا ہے ۔ منافع اور نقصان میں دونوں کا حصہ برابر ہوتا ہے ۔خان شہید اور ان کے بڑے بھائی کی ملی اور قومی خدمت کے جذبے پر حیرت ہوتی ہے جب وہ اس امر پر سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور شعوری فیصلہ کرتے ہیں کہ دونوں میں سے کس کو گھر کی ذمے داری لینا ہے اور کس نے قومی خدمت اور آزادی وطن کے لیے خود کو وقف کرنا ہے ۔طویل تکرار اور بحث و تمحیص کے بعد 1931ء میں بڑے بھائی عبد السلام خان کو گھر پر رہنے کی ذمہ داری قبول کرنا پڑتی ہے ۔جیل سے رہائی کے بعد خان با با نے ہندوستان کے طول و عرض میں انگریز استعمار سے نبرد آزما مشاہیر اور قومی ہیروز سے ملاقاتیں کیں۔ گاندھی جی کے ساتھ احمد آباد اور دہلی میں غالبا پندرہ روز گزارے اور ان کی ذاتی زندگی کو قریب سے دیکھا۔سیاسی، سماجی اور مذہبی معاملات کے علاوہ گاندھی کس طرح وقت کو بہتر انداز میں سیاسی پروگرامز کے لیے استعمال کرتے یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے خان شہید کی زندگی پر انمٹ نقوش چھوڑے ۔وہ مکمل طور پر عدم تشدد کے مائل ہوئے اور پھر پوری زندگی اسی روش پر قائم رہے ۔
برطانوی ہند میں خان شہید کو مزید دو دفعہ اور جیل جانا پڑا، 1934ء سے 1936ء تک اور اس کے بعد ‘ہندوستان چھوڑ دو تحریک’ کے سلسلے میں 1942ء اور 1943ء میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں انتہائی خندہ پیشانی برداشت کیں۔
خان شہید عبدالصمد خان اور ان کے معاصر سیاسی رہنماؤں کے درمیان موازنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خان شہید کی رسمی تعلیم بنیادی نوعیت کی تھی۔ انہوں نے فارسی اور عربی کی مروجہ اسلامی کتب گاؤں کی مسجد میں پڑھیں اور سکول میں غالبا پانچ سال کے دوران آٹھویں جماعت تک تعلیم مکمل کی۔ مزید تعلیم کے مواقع اگرچہ کوئٹہ میں تھے لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنے علاقے کے میوہ جات سندھ کی منڈیوں تک پہنچانے اور وہاں نیلامی کا کٹھن کام شروع کیا۔اس کے مقابلے میں اس وقت کے سر گرم عمل مسلم لیگی یا کانگریسی کارکن اور رہنما جدید اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے میدان سیاست میں اترے تھے۔ جس طرح محمد علی جناح، گاندھی جی، جواہر لعل نہرو، سر ظفر اللہ خان، قاضی عیسیٰ وغیرہ علی گڑھ یا پھر برطانوی تعلیمی اداروں سے پڑھ کر آئے تھے ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خان بابا کی تعلیم کبھی ختم نہ ہوئی۔
سیکھنے کے ان کے شوق کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ دوسری دفعہ قید کیے جانے پر انہوں نے جیل میں بلوچی اور سندھی زبانین سیکھیں، ڈیوٹی پر مامور نمبردار کو صرف چھ مہینے میں جیل کے فرش پر لکھنا اور پڑھنا سکھایا۔قرآن مجید کا گہرا مطالعہ جیل میں ہی کیا، اس کے بعد اردو، انگریزی، سندھی، پشتو اور دیگر زبانوں میں لکھی گئی متعدد کتابیں پڑھیں۔
مختصر یہ کہ 24 سالہ عبدالصمد خان کو جس عمر میں یونیورسٹی میں علم سیاست یا علم دینیات و سماجیات سیکھنا تھی، انہوں نے اسے جیل میں نسبتاً زیادہ ٹھوس اور عملی شکل میں پڑھا، لکھا اور مشاہدہ اور تجربہ کیا۔تقسیم ہند کے بعد خان شہید مزید 26 سال تک زندہ رہے ۔
ان کی زندگی کے یہ مہ و سال برطانوی ہند کے دور سے بھی زیادہ کٹھن اور آزمائشوں سے بھر پور تھے ۔محکوم قوموں کے حقوق اور شناخت کے مسئلے ، جمہوری اداروں کی فعالیت اور حاکمیت کے سوال اور غیر جمہوری اور سرکاری اداروں کی سیاسی عمل میں شراکت کو نکتہ بحث بنانے کی پاداش میں انہیں مجموعی طور پانچ دفعہ جیل جانا پڑا اور پاکستان بننے کے بعد اپنی زندگی کے بیش قیمت 19 سال جیل میں گزارے ۔
خان شہید کی جدوجہد کو بنظر غایت دیکھا جائے تو وہ صرف پشتونوں کے حقوق کے لیے نہیں تھی، بلکہ وہ مذہب و زبان، صنف اور نسل سے ماورا، انسانی عظمت اور وقار کی بحالی کے عظیم علمبرداروں میں سے ایک تھے۔ نفرت، تعصب، تنگ نظری، تشدد، منافرت اور تقسیم کو وہ بطور منفی رویوں کے رد کرتے اور اس کے مقابلے میں جڑت، محبت، وحدت اور باہمی عزت و تکریم کے مبلغ رہے ۔
شاید اُن کے اس مشن نے کئی لوگوں کے بیوپار کو نقصان پہنچایا تھا، نبرد عشق کا آخری سوار آخر تک اہل ہوس کے سامنے حائل رہا اور آخر کا ر دو دسمبر 1973ء کو اپنے ہی مکان میں شہید کردیا گیا۔ اہل ہوس کی فتح ہے ترک نبرد عشق جو پاؤں اٹھ گئے ، وہی ان کے علم ہوئے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
خان شہید: وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں