پیپلزپارٹی کی نشاۃ ثانیہ؟

سابق صدرآصف علی زرداری نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پارٹی کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس خواہش کااظہار کیاہے کہ موجودہ حکومت کے وقت سے پہلے رخصت ہوجانے کاانتظارہے کیونکہ قرائن بتارہے ہیں کہ حکومت اپنا دورانیہ پوراکرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔انہوں نے نااہل وزیراعظم میاں نوازشریف کانام لیے بغیرکہاہے کہ گاڈفاردنے ملک کنگال کردیاہے اوراپنی تقریر میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے لیے عمران خان کے بجائے جعلی خان کالقب استعمال کیااورکہا کہ انہیں سیاست کرنے کے لیے عقل نہیں ہے گویاانہوں نے دونوں حریف جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے لیے عزت اوراحترام سے ہٹ کراپنے تلخ لہجے سے قوم کویہ تاثر دیاہے کہ مسلم لیگ ن اورپاکستان تحریک انصاف اس ملک کونہیں چلاسکتیں۔اس بات کوپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کاچھ نکاتی ایجنڈابیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کوجب بھی کسی جمہوری بحران کاسامنا ہوا،پیپلزپارٹی ملک کو جمہوری اندا ز میں چلاتے ہوئے جمہوریت کو پٹڑی پرچڑھایااوربحران سے نکالااوریہ کام اب بھی پیپلزپارٹی ہی کرے گی۔انہوں نے کہاجمہوریت کے بغیروفاق قائم نہیں رہ سکتا۔انہوں نے کہا کہ وہ پیپلزپارٹی کے وارث نہیں ہیں کیونکہ پیپلزپارٹی ہراس شخص کی میراث ہے جوسیاست اورمذہب کے گٹھ جوڑکرنہیں مانتا اوردعویٰ کیاکہ استحصالی قوتوں کے خلاف چلتے ہوئے پاکستان کوحقیقی جمہوری ملک بنانے کی ضرورت ہے او ریہ کام پاکستان پیپلزپارٹی ہی کرے گی۔پاکستان کودہشت گردی اورانتہا پسندی سے پاک ریاست بنایاجائے گا۔عدلیہ ،پریس اورسول سروس میں اصلاحات لائی جائیں گی۔بلاول بھٹو نے کہاکہ جب جب ملک میں آمریت مسلط ہوئی،پاکستان پیپلزپارٹی نے علم بغاوت بلندکیااورپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو کی شروع کی گئی یہ جدوجہد ایک جمہوری روایت کے طورپر آج ان کی تیسری نسل کومنتقل ہوگئی ہے اوروہ اس روایت کاپرچم اٹھائے پاکستان کوایک جمہوری اورلبرل معاشرہ بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔انہوں نے پاکستان کوملک کاجمہوری اورلبرل معاشرہ بنانے کے لیے پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹواورمرحومہ وزیراعظم بے نظیربھٹو کی سیاسی جدوجہد اوردونوں کی الم ناک شہادتوں کاذکرکیااورعزم ظاہر کیاکہ وہ پاکستان کوذوالفقارعلی بھٹو کاپاکستان بنائیں گے۔بلاول بھٹوزرداری کی قومی سیاست میں آمدبلاشبہ خاصی دھماکہ خیز ہے اورپاکستان پیپلزپارٹی جس کی سیاسی ساکھ ہے ،بلاول بھٹو زرداری کی قومی سیاست میں امیدافزا انٹری کی وجہ سے خاصی ہلچل میں آگئی ہے اورلگتاہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم سے پارٹی کوعوام میں زندہ کرنے کے لیے اہم رول ادا کریں گے۔سندھ میں پیپلزپارٹی کواپوزیشن سے بہت زیادہ خطرہ درپیش ہے لیکن اسلام آباد کے جلسے سے کم از کم سندھ میں پیپلزپارٹی کے لیے آئندہ انتخابات میں ایک مرتبہ پھرابھرنے اوراقتدار میں آنے کاموقع بن سکتاہے ۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے جڑواں شہروں میں ہونے والے گزشتہ ماہ کے د ھرنے کوحکومت کی رٹ کے خاتمے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہاکہ نااہل وزیراعظم اب حکومت چلانے میں ناکام ہوچکے ہیں اورحکومت کی رٹ کواب پاکستان پیپلزپارٹی ہی بحال کرے گی۔



امریکی وزیر دفاع کا دورہ پاکستان

چندروزپہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے ماضی کے ایک بڑے لیڈرڈاکٹر مبشرحسن نے بتایاتھاکہ جب پیپلزپارٹی کوقائم کیاگیا اس کے لیے ایک چارنکاتی منشور کوملک میں سیاست کرنے کی اساس بنایاگیاتھا۔یہ نکات کچھ یوں تھے:اسلام ہمارادین ہے ،جمہوریت ہماری سیاست ہے۔سوشلزم ہماری معیشت ہے اورطاقت کاسرچشمہ عوام ہیں ۔بلاول بھٹوزرداری نے ایک طرف توملک کوذوالفقارعلی بھٹو کاپاکستان بنانے کے عزم کااظہارکیاہے اوردوسری طرف انہوں نے اپنے پیش کیے گئے چھ نکات میں اسلام ہمارادین ہے ،کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی بلکہ انہوں نے پارٹی کو ان سیاسی کارکنوں کی میراث قراردیاہے جوجمہوریت کودین سے الگ رکھ کر ملک کوایک لبرل سوسائٹی بناناچاہتے ہیں۔ذوالفقارعلی بھٹو نے ہرچند،سوشلزم کوملک کی معاشی اساس بنانے کومنشور کاحصہ بنایا تھااورانہوں نے اقدار میں آنے کے بعد ملک میں مرّوج سرمایہ داری نظام پرتمام نجی اداروں کوقومی تحویل میں لے کرایک بہت بڑی ضرب بھی لگائی تھی لیکن وہ1977ء کے انتخابات میں جانے تک ،سوشلزم کوبہت حدتک خودہی ملک کامعاشی نظام بنانے کی راہ ترک کرچکے تھے اوربلاول بھٹوزرداری نے اپنے چھ نکاتی ایجنڈے میں ،ملک کوجمہوری اورلبرل نظام دینے کی بات توبالکل بجاطورپر کہہ دی ہے مگرانہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے حوالے سے قوم کویہ یقین دلانے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ ان کے نانا مرحوم کے دئیے گئے آئین میں اسلام کو جس طرح مملکت کامذہب قراردے کرغیراسلامی قوتوں اورغیراسلامی افراد کو اقلیتوں کانام دیاگیاتھا،بلاول بھٹوزرداری آئین میں شامل اسلامی اقدارپرمشتمل شقوں کوکس حدتک پارٹی کے منشور میں شامل کریں گے۔پوری قوم نے اس بات کامشاہدہ کرلیاہے اورخودبلاول بھٹوزرداری بھی اعتراف کرسکیں گے کہ چندہزارمذہبی عناصر نے حکومت کی طرف سے ذوالفقارعلی بھٹو کے ذریعے 1973ء کے آئین میں کی گئی ترمیم جس میں ختم نبوت کاقانون اور حلف نامہ شامل کرکے قادیانیوں کوغیرمسلم اوراقلیتوں کاحصہ ظاہر کیاگیاتھا،اس ترمیم کوختم کرکے مسلم لیگ ن کی حکومت نے خود کو خوفناک حدتک تما شا بنالیااورحتیٰ کہ بلاول بھٹوزرداری کویہ کہناپڑا کہ یہ دورحکومت کی ریاست پر رٹ ختم ہوجانے کے مترادف تھا۔پاکستان پیپلزپارٹی اس وقت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اوردونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی باگ ڈورپیپلزپارٹی کے ہی ہاتھوں میں ہے لیکن پارلیمنٹ سے باہر پاکستان پیپلزپارٹی گزشتہ چندبرسوں سے اس حدتک غیرفعال رہی ہے کہ اب بلاول بھٹوزرداری کے لیے پارٹی کی عمررفتہ کوآواز دینابہت بڑا چیلنج ہے اورچونکہ وہ خودبھی ذوالفقارعلی بھٹو کے حقیقی وارث نہیں ہیں کہ وہ بھٹوخاندان کی پراکسی ہیں اوران کاتعلق ،نواب شاہ کے ’’زرداری‘‘قبیلے سے ہے لہٰذا،ذوالفقارعلی بھٹو کاپاکستان بنانے کے لیے انہیں لاڑکانہ میں موجود ان کے خاندان کی باقیات کوبھی پارٹی کی جدوجہد میں شامل کرناچاہیے اوراگر وہ اپنی شہیدوالدہ بے نظیربھٹو کی پرسنل سیکرٹری ناہیدخان اوران کے شوہرصفدرعباسی کوبھی ساتھ لے کرعوام کے پاس جاتے توبے نظیربھٹو کے ووٹ بینک کوکیش کروانے میں انہیں بہت زیادہ سہولت میّسر ہوسکتی تھی۔ناہیدخان انہیں ایسے ایسے خاندانوں،قبیلوں اورسیاسی ورکروں تک لے جاسکتی ہے جوپارٹی پرزرداری قبضہ کی وجہ سے سائڈلائن ہوچکے ہیں۔گزشتہ دنوں پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کے سابق صدر آفتاب احمدخاں نے پاکستان پیپلزپارٹی کوچھوڑکرپاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی توان سے سیاسی حلقوں کوبہت زیادہ حیرت ہوئی۔ انہوں نے الیکشن2013ء میں پارٹی سے کسی بھی حلقے کے لیے پارٹی ٹکٹ تک طلب نہیں کیاتھاحالانکہ وہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے متعددحلقوں سے انتہائی فعال امیدوار ہوسکتے تھے ۔انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ پارٹی قیادت نے انہیں مکمل طورپرنظرانداز کررکھاتھا۔ان سے پہلے سابق سینئر صوبائی وزیرراجہ ریاض بھی پاکستان تحریک انصاف کا رخ کرچکے تھے ۔اگربلاول بھٹوزرداری ،پاکستان پیپلزپارٹی کو فی الواقعی 2018ء کے انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی یادوسری بڑی سیاسی جماعت دیکھناچاہتے ہیں توانہیں ذوالفقارعلی بھٹو اورمحترمہ بے نظیربھٹو کے ان تمام سیاسی رفیقو ں کو سیاست میں فعال ہونے یاسیاست سے دورہونے کے باوجود،ان کے گھروں سے نکال کرجیالوں کی صف بندی کاحصہ بناناہوگا ورنہ اسلام آباد کے جلسہ میں ان کی بہت زیادہ اُمیدافزا سیاسی انٹری کے باوجود قومی سیاست میں آصف علی زرداری کے سیاسی ’’گاڈفادر ‘‘اور’’جعلی خان‘‘ کے مقابلے میں پیپلزپارٹی اب بہت حدتک قصہ پارینہ بن چکی ہے۔آصف علی زرداری نے بلاول زرداری کوجعلی بھٹو بنایاہے ۔انہوں نے اپنے بیٹے کو اسلام آباد کے جلسے میں بھٹوکی سیاسی میراث کاعلمداربناکرتوپیش کردیامگرخود اپنے حریف سیاسی لیڈروں کو جعلی قراردے رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے قائد کاحسب ونسب کسی سے چھپا ہوانہیں ہے اوراپنی منصبی پہچان کے ساتھ ہی قومی سیاست میں موجود ہے لہٰذا بلاول بھٹوزرداری کے لیے ضروری ہے کہ وہ پارٹی کی نشاۃ ثانیہ کے لیے سابق صدرمملکت کوآرام کرنے کے لیے بلاول ہاؤس میں بٹھادیں۔

بیت المقدس کے معاملہ پر تنازعہ بڑھ سکتا ہے
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ مؤخر کیا ہے اور اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ دنیا بھر سے سامنے آنے والے احتجاج کی وجہ سے شاید سفارت خانہ منتقل کرنے کے اقدام سے باز رہیں۔ امریکی میڈیا نے گزشتہ ہفتہ کے دوران خبر دی تھی کہ ٹرمپ اپنا انتخابی وعدہ پورا کرنے کے لئے دسمبر کے شروع میں ا مریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں، تاہم ٹرمپ کے مشیر اور یہودی العقیدہ داماد جیرڈ کشنر نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ ابھی اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یورپین یونین کے علاوہ فلسطینی انتظامیہ اور اسلامی تعاون تنظیم نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امکان پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ 28 رکنی یورپین یونین نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے یک طرفہ فیصلہ کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے حوالے دشواریوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
اسرائیل نے 1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ میں دیگر عرب علاقوں کے علاوہ بیت المقدس پر بھی قبضہ کیا تھا۔ تاریخی اہمیت کا حامل یہ شہر مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے یکساں طور سے اہم ہے اور وہاں ان تینوں عقائد کے مقدس مقامات موجود ہیں۔ فلسطینی قیادت یہ واضح کرتی رہی ہے کہ بیت المقدس مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے اور سرکاری دفاتر وہاں منتقل کردیئے گئے ہیں، تاہم اسرائیل کو تسلیم کرنے والے حتیٰ کہ اس کی سرپرستی کرنے والے امریکہ نے بھی بیت المقدس کو متنازعہ علاقہ مانتے ہوئے اسے اسرائل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی سفارت خانے وہاں منتقل کئے گئے ہیں، البتہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران یہودی ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیں گے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کردیا جائے گا۔ اب انتخابی مہم کے دوران روس کے ساتھ ساز باز کے سوال پر سیاسی دباؤبڑھنے کے بعد وہائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ اشارے دیئے گئے تھے کہ صدر ٹرمپ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔
ان خبروں پر دنیا بھر سے سخت رد عمل دیکھنے میں آیا ہے ۔ امریکہ کے روایتی یورپی حلیف ملکوں نے اس فیصلہ کے نتائج کے بارے میں متنبہ کیا ہے اور امریکی صدر کو اس قسم کا متنازعہ اور اشتعال انگیز فیصلہ کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے ۔ فرانس کے صدر ایمینیول میکران نے اس معاملہ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیت المقدس کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کے درمیان بات چیت سے ہی کیا جاسکتا ہے ۔ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس معاملہ پر سخت انتباہ دیتے ہوئے قرار دیاہے کہ ایسا امریکی فیصلہ عرب اور مسلمان ملکوں کے خلاف علی الاعلان جارحیت کے مترادف ہوگا۔ تنظیم نے اپنے 57 رکن ملکوں سے کہا ہے کہ اگر کوئی ملک ناجائز طور سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو تمام ممالک اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیں۔اس تنظیم کی رسمی حیثیت اور عرب ملکوں کے امریکہ پر انحصار کی وجہ سے اس بات کا امکان نہیں ہے کہ امریکی ناگوار فیصلہ کے بعد مسلمان یا عرب ملکوں کی اکثریت اس قسم کا انتہائی اقدام کرنے کا حوصلہ کرسکے گی خاص طور سے صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اشتراک میں اضافہ کیا ہے اور اس کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف محاذ آرائی کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے ۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے انتہا پسندی سے نمٹنے اور سعودی عرب کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے جو اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے ، ان میں اسرائیل کے ساتھ تعاون بڑھانے کے امکانات کا حوالہ بھی دیا جاتا رہا ہے ۔ یہ خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ دونوں ملکوں کے نمائیندوں کے درمیان درپردہ ملاقاتوں کا سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے اسرائیل اور سعودی عرب انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔
اس پس منظر ہی کی وجہ سے سعودی عرب نے امریکہ سے آنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار بھی وزارت خارجہ کے غیر اہم ترجمان کے ذریعے کرنا کافی سمجھا ہے ۔ اس کے برعکس اسلامی تعاون تنظیم کی اس وقت صدارت کرنے والے ترکی کے صدر طیب اردوان نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے ۔ انہوں نے کل ٹیلی ویژن پر اپنی پارٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے بیت المقدس کی حیثیت کو مسلمانوں کے لئے ‘ریڈ لائن ’ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس حوالے سے کوئی غلط فیصلہ کیا تو ترکی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلے گا۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور امریکہ کا اہم حلیف ہے ۔ اس لئے امریکہ کی خواہش رہی ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار ہوں۔ اس طرح مسلمان ملکوں میں اسرائیل کو تسلیم کروانے کی مہم میں بھی مدد ملتی ہے ۔ 2010 میں غزہ کے لئے امداد لے جانے والے ترک امدادی جہاز پر اسرائیلی حملہ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوگئے تھے جو کافی مشکل سے بحال ہو سکے ہیں۔ صدر اردوان فلسطینی ریاست کے شدید حامی ہیں۔
ان حالات میں صدر ٹرمپ کی طرف سے اگر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان ہوتا ہے تو اس سے فلسطینی علاقوں میں بے چینی اور احتجاج دیکھنے میں آئے گا تاہم یہ بات ممکن نہیں ہے کہ مسلمان یا عرب ممالک امریکہ جیسی سپر پاور کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا انتہائی اقدام کریں۔ مسلمان ملکوں کے اسی کمزور رویہ اور بے اصولی کی وجہ سے فلسطین ، کشمیر ، میانمار کے روہنگیا اور دیگر علاقوں میں مشکلات کا شکار مسلمانوں کے کسی مسئلہ کا کوئی باعزت حل تلاش کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
پیپلزپارٹی کی نشاۃ ثانیہ؟
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں