ٹرمپ کی دھمکی۔۔۔ تدبرّ،حکمت ،دُوراندیشی کی متقاضی

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے دُنیاتیسری عالمی جنگ کے دہانے پرکھڑی نظر آتی ہے اورقرائن بتارہے ہیں کہ ٹرمپ کانشانہ زیادہ ترعالم اسلام ہے ۔مسلمانوں کے ممالک میں پاکستان واحدایٹمی طاقت ہے لیکن بدقسمتی کہ پاکستان کے پاس سپرطاقت کی دھمکیوں اوربھارت نوازی کے اقدامات کامنہ تو ڑجواب دینے والے حکمرانوں کافقدان ہے ۔عالم اسلما میں ترکی واحدملک ہے جس کے پاس بہادر ،دلیر،زیرک اورمقبول قیادت ہے اورعالم اسلام کادوسرا طاقت ورملک ایران ہے ،لیکن بدقسمتی سے ایران اورپاکستان کے مابین رشک آمیز تعلقات کاغیاب ہے۔پاکستان میں جب سے چین کے اقتصادی تعاون سے سی پیک منصوبہ کاآغازہواہے پاکستان کے دوستوں اوردشمنوں کے چہرے بے نقاب ہوناشروع ہوگئے ہیں ۔اگرسی پیک منصوبہ کامیابی سے دوچار ہوتاہے تواس کے نتیجے میں سب سے فائدہ تویقیناًپاکستان کوہی پہنچے گالیکن اس منصوبے سے چین کوپوری دنیاتک اقتصادی راہداری میسرآجائے گی ۔روس کے لیے بھی بحیرہ وہند کے گرم پانیوں تک پہنچنا بہت زیادہ ممکن ہوجائے گا۔افغانستان اورایران سمیت پاکستان کے تمام پڑوسی ممالک کی اقتصادیات کے باعث یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے اوریہی وجہ ہے کہ امریکہ کے سابق صدر اوباما کے دورمیں امریکہ کی طرف سے اپنی افواج افغانستان میں سے نکالنے کااہتمام کیاگیا تھا اورامریکہ کے موجودہ صدرٹرمپ نے اس اعلان کے برعکس اپنی فوج افغانستان میں رکھنے اورامریکی مفاد کے لیے خطے سے نکلنے کاارادہ کرلیاہے۔امریکہ کوسب سے زیادہ خطرہ چین سے ہے کہ چین وہ ملک ہے جونہایت تیزی کے ساتھ امریکہ سے بھی بڑی سپرطاقت بنتانظر آرہاہے اورپاکستان کاسی ۔پیک منصوبہ مکمل ہوجانے کے بعدچین کوامریکہ کے مقابلے میں بڑی طاقت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔امریکہ نے چین کی طرف سے دنیاکی سپرپاور بننے کی کوششوں کوروکنے کے لیے خطے میں بھارت کواپناحلیف بنالیاہے اوراب پاکستان کے اس ازلی دشمن کوہرطرح کی امداد خصوصاََ ہرقسم کاآتشیں اسلحہ بھی فراہم کررہاہے۔پاکستان جوابتداء سے ہی امریکہ کادوست ملک رہاہے اورماضی میں جنوبی ایشیاء میں پاکستان ہی امریکہ کے لیے دوستی کاعلمبردار رہاہے،اب امریکہ نے چین کے ساتھ کسی عسکری تصادم کی شروعات کے لیے بھارت کوہرقسم کی ٹیکنالوجی اورایٹمی اسلحہ سمیت تجارت کے وسیع ترمواقع اورکھلی اقتصادی امداد کے ذریعے خطے میں ایک منی سپرپاور بناناشروع کردیاہے اوربھارت چونکہ پاکستان کواکھنڈبھارت کاحصّہ سمجھتاہے لہٰذا ،بھارت کی فطری خواہش ہے کہ وہ پاکستان کوخطے میں ایک خوشحال اورطاقت ورملک نہ بننے دے ۔یہ بھارت کی دشمنی ہے جس نے پاکستان کوایٹمی اسلحہ بنانے کی راہ پرلگایااورجب بھارت نے مئی1998ء میں ایٹمی دھماکوں کے ذریعے،دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں داخلے کااعلان کیاتواسی ماہ کے آخر میں پاکستان نے بھی پانچ ایٹمی دھماکے کرکے عالم اسلام کی پہلی اورواحدطاقت کے طورپرخود کومنوالیا۔امریکہ نے نوگیارہ کے بعدالقاعدہ کوواشنگٹن اورنیویارک دھماکوں کاذمہ دارقراردے کرافغانستان کے پہاڑوں میں براجمان القاعدہ پرچڑھائی کی تواس وقت کے صدرمملکت پاکستان نے امریکہ کی طرف سے شروع کی جانے والی نام نہادانسداد دہشت گردی جنگ میں خودکو امریکہ کا صف اوّل کااتحادی بناکرامریکہ کے لیے بہت سی آسانیاں پیداکردیں۔امریکہ کونیٹوافواج کے ساتھ افغانستان پراپناتسلط مستقل کرنے کے لیے گزشتہ16برسوں میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی ،البتہ امریکہ کے افغانستان میں آنے سے پوری دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت کوفروغ ملا۔عالم اسلام کے جہادی عناصردنیاکے تمام حصوں میں امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے خلاف کھڑے ہوناشروع ہوگئے اوراس طرح پوری دنیا دہشت گردی کے واقعات کی لپیٹ آگئی۔پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے لیکن ایٹمی اسلحہ استعمال کیے بغیرصرف پاکستان ہے جس نے دہشت گردی کی ایک طویل جنگ لڑی اورامریکہ کی مخالفت میں شروع ہونے والی دہشت گردی کے واقعات اوردہشت گردوں کاڈٹ کرمقابلہ کیااور اب جب امریکہ بھارت کوافغانستان میں لاکربھی،افغانستان میں موجود طالبان کوامریکہ کے خلاف بغاوت سے نہیں روک سکاتواس کی طرف سے پاکستان پردباؤ ڈالنے کامطالبہ امریکہ کی خواہش بن گیا۔پاکستان نے امریکہ کی دوستی میں امریکہ مخالف عناصر کے خلاف اپنی پندرہ سالہ جنگ میں اربوں ڈالرکامالی نقصان اٹھایا اور70ہزارسے زائد افرادانسداد دہشت گردی کی اس جنگ کالقمہ بنے اس دوران امریکہ ہمیشہ افغانستان میں اپناوجود قائم رکھنے کے لیے پاکستان کی اقتصادی امدادکرتارہااورجب سے ڈونلڈٹرمپ اقتدار میں آیاہے،اس کی طرف سے پاکستان کی مالی امداد کے حوالے سے توہین آمیزبیانات کے باعث پاکستان کویہ سوچناپڑاکہ امریکہ انہیں ’’کرائے کے قاتل‘‘سمجھ کران سے باربار’’ڈومور‘‘کامطالبہ کررہاہے۔گزشتہ ماہ امریکہ کے نائب صدرنے افغانستان کے دورہ کے درمیان بھارت کے دورے پرروانہ ہونے سے پہلے پاکستان کوامریکہ کی خواہشات کے مطابق افغانستان سے دہشت گردی ختم کرنے کے لیے آگے نہ آنے پریہ بتادیاتھاکہ امریکی صدر نے پاکستان کووارننگ دے دی ہے اوراب پاکستان کے خلاف کچھ بھی ہوسکتاہے اورپھردنیا میں 2018ء کے پہلے سورج کے طلو ع کے ساتھ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے پاکستان کے ساتھ دوستی ختم کرنے اوراس کے ساتھ تعلقات ختم کرکے نتائج کے لیے تیاررہنے کی دھمکی دے دی ہے گویاامریکہ کی طرف سے پاکستان پرجنگ مسلط کرنے کاارادہ ظاہرکردیاگیاہے۔



پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ۔۔۔چیف جسٹس ازخودنوٹس لیں

ڈونلڈٹرمپ نے کہاہے کہ امریکہ نے پاکستان کوامداددے کر بے وقوفی کی ہے ۔پاکستان ہمارے حکمرانوں کوماضی میں بھی بے وقوف سمجھتارہاہے اور امریکہ سے امداد لیتارہا اوراس کے بدلے میں امریکہ کو دھوکہ دیتارہاہے گویاڈونلڈٹرمپ اورامریکی انتظامیہ اب کھل کرکہہ رہی ہے کہ پاک فوج ہم سے امداد لے کرہمیں ہی افغانستان میں ماررہی ہے۔امریکہ نے کہاہے کہ پندرہ برسوں کے دوران پاکستان کو33ارب ڈالر کی فوجی امداد دی گئی ہے اوراس خطیررقم کے عوض امریکہ کوصرف دھوکہ ہی دیاگیاہے۔پاکستان کے ایک سابق وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے جواب میں کہاہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جوامریکہ کی وجہ سے شروع کی گئی امریکی امداد کے مقابلے میں پانچ گنازیادہ رقوم کانقصان اٹھایا۔110ارب ڈالر خرچ کرنے کے علاوہ70ہزارجانیں ضائع کیں اورجوکچھ اب تک پاکستان نے کیاہے اس کاحساب امریکہ کیسے دے گا۔امریکہ کاکہناہے کہ 16برسوں کی جنگ میں ابھی40فی صدافغانستان پردہشت گردوں کاقبضہ ہے ۔ایک طرف یہ کہاجارہاہے کہ 40فیصد افغانستان کابل انتظامیہ کوتسلیم نہیں کرتا اورافغانستان کایہ علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے اوردوسری طرف الزام لگایاجارہاہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کوپاکستان میں ’’محفوظ ٹھکانے‘‘ فراہم کررکھے ہیں اگر40فیصد افغانستان امریکہ کے اثرورسوخ سے باہرطالبان کے قبضے میں ہے تودہشت گردوں کوپاکستان میں ٹھکانوں کی کیاضرورت ہے ۔امریکہ کوپاکستان کے خلاف کوئی اقدام لینے سے پہلے یہ سوچ لیناچاہیے کہ پاکستان نہ توافغانستان ہے اورنہ ہی عراق یاشام ہے اوردنیا کی طاقت ورافواج اوربھارت کے مقابلے میں بہترایٹمی ہتھیارپاکستان کااثاثہ ہیں اوربھارت کوبھی یہ باورکرلیناچاہیے کہ کرکٹ ڈپلومیسی کے دورہ کے اختتام پرمرحوم صدرجنرل محمدضیاء الحق نے بھارتی وزیراعظم آنجہانی راجیوگاندھی کے کان میں جوالفاظ کہے تھے کہ بھارت اپنے ایٹمی ہتھیاروں پرغرورنہ کرے ،پاکستان کے پاس بھی یہ شے موجود ہے۔باقی رہاامریکہ تواب خطے میں چین اورروس کے اپنے مقاصدہیں اورپاکستان اب بھی امریکہ ،بھارت اوراسرائیل کے مقابلے میں تنہانہیں ہے۔چین ،روس ،ترکی ،ایران اوردنیاکے متعدد انصاف پسندممالک پاکستان کی پشت پرکھڑے ہیں۔ڈونلڈٹرمپ کی دھمکی کے بعد پاکستان میں مقتدرحلقوں کوتیز رفتاراوربڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔امریکہ افغانستان میں 160 ارب ڈالرخرچ کرنے کے بعدبھی’’کابل انتظامیہ‘‘ کے کنٹرول تک محدود ہے اورامریکہ یہ بات بھول رہاہے کہ ماضی میں پاکستان،افغانستان پرروس کے جارحانہ قبضہ کوختم کروانے اوردنیا کی دوسری سُپرپاورکوٹکڑے ٹکڑے کرنے کاکرداراداکرچکاہے اوراب اگرپاکستان کے خلاف جنگ مسلط کی گئی توامریکہ اوربھارت دونوں کودندان شکن جواب دیاجائے گا۔پاکستان کے سیاست دانوں کواب عقل کے ناخن لینے کی بھی شدیدضرورت ہے اورباہمی خلفشارکوچھوڑ کراس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان عمران خان،آصف زرداری،مولانا فضل الرحمن،اسفندیارولی سراج الحق ،فاروق ستار،معصطفےٰ کمال سمیت تمام مذہبی رہنماؤں کوبھی سیاسی خیرسگالی کی ایک کانفرنس میں ایک ساتھ بٹھایاجائے ۔پاکستان کے ماضی کے ان تمام وزرائے خارجہ کوجواب تک حیات ہیں ،مختلف ادوارکے خارجہ امور کے سیکرٹریوں سمیت اورپاک فوج کے تمام سابق سربراہوں ،جنرل مشرف ،جنرل اشفاق کیانی،جنرل راحیل شریف وغیرہ کو بھی اس کانفرنس میں بلاکر،ایک دفاعی پروگرام تشکیل دیااورا س طرح اس پروگرام کے مطابق پاکستان کی دفاعی حکمت عملی بناکر اس کے مطابق سفارتی سطح پر امریکہ سے نبردآزما ہونے جبکہ بھارت کے جارحانہ اورعسکری عزائم کوخاک میں ملانے کاانتظام کیاجائے ۔امریکہ نے قبلہ اول کو اسرائیل کے سپردکرنے کاجومذموم کام کیاہے اس کے بعد تمام عالم اسلام کو بھی اب امریکہ کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔حکمرانوں کوکھلے دل کے ساتھ،اپوزیشن جماعتوں کوحکمران پارٹی کے لیڈروں سے بھی زیادہ پروٹوکول دینے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کودنیا کی سپرطاقت کے بے محابازعم سے نکالنے کے لیے بے حدتدّبر،حکمت اوردُوراندیشی کی ضرورت ہے جوقومی وسیاسی ہم آہنگی کابھی تقاضا کرتی ہے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
ٹرمپ کی دھمکی۔۔۔ تدبرّ،حکمت ،دُوراندیشی کی متقاضی
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں