نوڈومور کے عزم کا اعادہ!

قومی سلامتی کمیٹی اور کور کمانڈر کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق بیان کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ردعمل میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا ۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور عالمی برادری کو پاکستان کی ان قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہئے ۔پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کا یہ رویہ سفارتی اصولوں کے برعکس ہے لیکن صرف پاکستان کے ساتھ اس قسم کا رویہ اختیار نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ اس سے پہلے متعدد یورپی ممالک خصوصی طور پر برطانوی وزیر اعظم اور جرمن چانسلر کے ساتھ یہ طرز عمل اختیار کر چکا ہے اور ٹرمپ کے احمقانہ بیانات سے چین کی قیادت بھی امریکہ سے خوش نہیں ہے۔ ٹرمپ نے چند روز پہلے الزام لگایا تھا کہ وہ شمالی کوریا کو تیل فراہم کر رہا ہے اور اس نے شمالی کوریا کو بھی دھمکی آمیز لہجے میں وارننگ دی تھی کہ وہ اپنی اوقات میں رہے جس پر شمالی کوریا کے صدر نے ایک انتہائی جارحانہ بیان سے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے کہ امریکہ کے تمام شہروں کو نشانہ بنانے والے ایٹمی میزائل کسی بھی وقت‘ پورے امریکہ کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں اور ان کو چلانے کے لئے جن بٹنوں کو دبانا ہے وہ ان کے سونے کے پلنگ کے ساتھ نصب ہیں اور وہ ایک بٹن دبا کر ٹرمپ کی دنیا کو تہہ و بالا کر سکتے ہیں ۔پوری دنیا کو معلوم ہے کہ شمالی کوریا ایک غیرعلانیہ ایٹمی طاقت بن چکا ہے اور شمالی کوریا کی قیادت کبھی بھی امریکہ کو خاطر میں لانے پر آمادہ نہیں ہوئی۔ چین کو معلوم ہے کہ امریکہ اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خائف ہے اور اب چونکہ چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ سی پیک کی صورت میں گوادر تک پہنچ گیا ہے سی پیک کی تکمیل کے بعد ون بیلٹ‘ ون روڈ کو افغانستان میں جانا ہے اور وہاں سے اسے یورشیا میں داخل ہونا ہے اور اس طرح چین کی طرف سے اقتصادی رابطے کی اس شاہراہ کو وسطیٰ ایشیا‘ ایران اور ان سے بھی آگے جا کر پورے ایشیاء تک چین کو لنک کرنا ہے لہذا اب امریکہ چین کے اس اثر ورسوخ کو آدھے راستے میں روکنا چاہتا ہے۔ امریکہ نے سابق صدر اوبامہ کی طرف سے اس اعلان کے باوجود کہ امریکہ اب مزید افغانستان میں نہیں رہنا چاہتا، صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد افغانستان سے نہ نکلنے کا ارادہ کر لیا ہے کیونکہ امریکہ جانتا ہے کہ اگر یہ ون بیلٹ کھلتا ہے تو اس کے نتیجے میں روس کو بحیرہ ہند کے گرم پانیوں کے ذریعے درجنوں ممالک تک رسائی مل جانے سے روس کی اقتصادی صورت حال مستحکم ہو سکتی ہے۔ امریکہ کو روس اگر نہ روکتا تو وہ اب تک بشارالاسد کو گرا دینے میں کامیاب ہو چکا ہوتا۔ روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور معاشی ترقی کو روکنا امریکہ کا وہ مقصد ہے کہ جس کی بناء پر امریکہ کو پاکستان کا موقف بہت زیادہ کھٹکتا ہے اور وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کو ملک کی سلامتی سے کاٹ دینے کے لئے بھارت کو اپنا اتحادی بنا کر نہایت سرگرم ہو چکا ہے۔ پاکستان نے بلوچستان سے بھارتی حاضر سروس بڑے افسر کلبھوشن کو گرفتار کر کے نہ صرف بھارت اور امریکہ کے اشتراک سے قائم جاسوسی کے ایک بڑے نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے بلکہ کلبھوشن کے ذریعے پاکستان کو بھارت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ کی سازش کا بھی علم ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کی بناء پر کھسیانے پن میں مبتلا ہے اور اسی کیفیت میں امریکی صدر ڈونلڈ نے سال 2018ء کی پہلی ٹویٹ میں پاکستان کے خلاف اپنی ہرزہ سرائی کا پتھر ہماری طرف پھینک دیا ہے ۔پاکستان کے دانشوروں کی یہ رائے بالکل درست نظر آتی ہے کہ ان دنوں ڈونلڈ ٹرمپ مختلف ممالک کے خلاف جو سیاسی لب و لہجہ اختیار کر رہا ہے یہ سب اس کے کچے کانوں میں ڈالے جانے والے زہر کا نتیجہ ہے اور پاکستان کے خلاف ٹرمپ کے کانوں میں یہ زہر امریکہ کے حلیف ملک بھارت کے حامی حلقوں کی طرف سے ڈالا جا رہا ہے ،کچھ افغان رہنما بھی ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف فیڈ کر رہے ہیں۔



ٹرمپ کی دھمکی۔۔۔ تدبرّ،حکمت ،دُوراندیشی کی متقاضی

افغانستان کے سابق صدر کرزئی نے ٹرمپ کے سال نو کے پہلے بیان کو نہایت خوش آئند قرار دیتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے بحیثیت مجموعی ٹرمپ کے جو کان بھرے گئے ہیں اس کے نتیجے میں ٹرمپ کو اس طرح کی بات کرنے کا خیال آیا ہے جو قطعی طور پر ناجائر ہے اس کا پیٹرن بھی واضح ہے کہ جو کام حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبے سے شروع ہوا تھا اب اس سلسلے میں بات بہت زیادہ آگے بڑھ چکی ہے ۔اب جس انداز میں ٹرمپ نے پاکستان کو دھمکیاں دی ہیں اور جس طرح امریکہ نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اب وہ یکطرفہ طور پر بھی کارروائی کر سکتے ہیں یہ بہت واضح دھمکی ہے کہ امریکہ کو جہاں کہیں اور کبھی بھی جو نظر آئے گا وہ وہاں کارروائی کریں گے ،اس سے پاکستان کو یہ سمجھنے میں کوئی مغالطہ نہیں ہے کہ امریکہ اب پاکستان پر ڈرون حملے کرے گا کیونکہ اس کے لئے ایسے حملو ں کے لئے یہ جواز ہو گا کہ امریکہ نے اپنے مطلوب افراد کو نشانہ بنایا ہے ۔افواج پاکستان نے اس حوالے سے بہت مضبوط اور توانا ردعمل ظاہر کیا ہے اور کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی مشترکہ سول ملٹری قیادت کی طرف سے کہاگیا کہ امریکہ کو یہ ضرور جان لینا چاہئے کہ پاکستان آرمی اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتی ہے ۔امریکہ کی سابق سیکرٹری آف سٹیٹ اور صدارتی الیکشن میں ٹرمپ کو انتہائی ٹف ٹائم دینے والی ہیلری کلنٹن نے امریکہ کی ناکام پالیسیوں کو تسلیم کیا ہے اور کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں امریکہ کی
ناکامیوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا‘ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے پاکستان کو 33ارب ڈالر امداد دینے کی بات ایک کھلا جھوٹ ہے ۔ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ دراصل ٹرمپ اپنے رائے دھندگان کو خوش کر رہے ہیں اور ہیلری کلنٹن کا یہ تبصرہ بالکل درست ہے کہ ٹرمپ کو امریکہ کے پس ماندہ اور ان پڑھ لوگوں کے ووٹوں سے کامیابی ملی ہے اور یہ ایسے لوگ ہیں جو ٹرمپ کے احمقانہ اور دیگر ممالک کے خلاف دیئے جانے والے بیانات کو پسند کرتے ہیں ۔ان حالات میں قومی سلامتی کمیٹی کااعلانیہ بہت مناسب ہے۔ عوامی سطح پر یہ خواہش ہو سکتی تھی کہ امریکہ کو دندان شکن جواب دیا جائے۔ مثال کے طور پر نیٹو کی سپلائی لائن کاٹ کر ‘ امریکہ کے لیے افغانستان میں رہنے کی یہ شاہراہ بند ہو جانے سے امریکہ کے لئے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا اور ہر چند پاکستان کے عوام امریکہ کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کر دینے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن جو موقف اپنایا گیا ہے اس پر نہ صرف ملٹری اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں بلکہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دان بھی قومی سلامتی کمیٹی کے جاری کردہ اعلامیہ کی حمایت کرتے ہیں اور ہمارے سیاست دان واضح طور پر صدر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کر رہے ہیں عمران خان نے سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نہایت دلیرانہ لب ولہجے میں صدر ٹرمپ کو ہدف تنقید بنایا ہے اور دنیا سے کہا ہے کہ انہوں نے کئی برس پہلے بتا دیا تھا کہ امریکہ کی انسداد دہشت گردی کی جنگ ہماری نہیں ہے ۔پاکستان نے اس پرائی جنگ میں 110ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانے کے علاوہ 70ہزار سے زائد اپنے افراد کی زندگیوں کا نقصان اٹھایا ہے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی فوجی امداد کے تقریباً 28ارب 5کروڑروپے امریکہ نے روک دیئے ہیں اور پاکستان کے بیشتر سیاسی حلقوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں امریکہ کی طرف سے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ملنے والی امداد لینے سے انکار کر دے۔ پاکستان صرف تجارتی تعلقات قائم رکھے اور امریکہ کو یہ باور کرا دے کہ پاکستان میں امریکہ کی طرف سے ہونے والی جاسوسی کارروائیوں اور امریکہ کی بھارت نوازی کے باعث اب پاکستان سے کبھی بھی ڈومور کی توقع نہ رکھی جائے البتہ امریکہ کو اس امر کی یقین دہانی کرا دی جائے کہ افغانستان کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لئے جائز حدود میں رہ کر پاکستان اپنا اخلاقی اور پڑوسی ملک ہونے کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
نوڈومور کے عزم کا اعادہ!
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں