بلوچستان کاسیاسی بحران۔۔۔نشانہ وزیر اعلیٰ یاسینٹ الیکشن؟

بلوچستان کے 65میں سے 14ممبروں نے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائی ہے جس کے بعد 14روز کے اندرسپیکربلوچستان اسمبلی اجلاس بلا کراسے منطقی انجام تک پہنچانے کا ذمہ دار ہوگا۔تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے والوں میں مخلوط حکومت کی اتحادی مسلم لیگ قائداعظم گروپ کے عبدالقدوس بزنجو کے علاوہ میرعبدالکریم نوشیروانی،خالد لانگو،میر امان اللہ نوتیزئی،نوابزادہ طارق مگسی،سردار اختر جان مینگل،میرحمل کلمتی،خلیل الرحمن دمڑ،زمرک خان اچکزئی ،محترمہ رقیہ ہاشمی ،شاہدہ رؤف اورحسن بانو شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کی کابینہ کے دواہم ارکان صوبائی وزیرداخلہ سرفرازبگٹی اورماہی گیری کے وزیرمیر سرفراز ڈومکی نے بھی استعفیٰ دے دیاہے۔میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعلیٰ پرفنڈز کی غیرمناسب تقسیم کاالزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس میں بھی ہمارے تحفظات دورنہیں کیے گئے ۔تب سے اب تک باربارمطالبات اورخواہشات پربھی ہمیں ترقیاتی فنڈز سے محروم رکھاجارہاہے جس کے باعث ہم اپنے ووٹروں کی مشکلات کاازالہ کرسکے نہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی تیز ہوسکی لہٰذا وقت آگیاہے کہ ہم وزیراعلیٰ کاساتھ چھوڑدیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ان کے رابطے شروع ہیں جن میں جمعیت علمائے اسلام ،عوامی نیشنل پارٹی اوربلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ شامل ہیں۔معلوم ہواہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کے شبے پروزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے اپنے مشیرامان اللہ نوتیزی کوبرطرف کردیا۔بلوچستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اورمختلف ارکان صوبائی اسمبلی میں پھیلی ہوئی بے چینی دورکرنے کے لیے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی متحرک ہوچکے ہیں اورانہوں نے حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے قائدین کے ساتھ رابطے شروع کردیئے ہیں جن میں نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اوروفاقی وزیر پورٹس میرحاصل بزنجو اورپختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمودخان اچکزئی شامل ہیں ۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے5،پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے 14،نیشنل پارٹی کے10جبکہ مسلم لیگ ن کے 23ارکان پر مشتمل مخلوط حکومت قائم ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے8،بلوچستان نیشنل پارٹی کے2،عوامی نیشنل پارٹی کاایک جبکہ نیشنل پارٹی کے 2ممبران اپوزیشن بنچوں پربیٹھے ہیں ۔پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمودخان اچکزئی نے نواب ثنا ء اللہ زہری کے خلاف سامنے آنے والی تحریک عدم اعتماد کوغلط وقت پرغیرمناسب انداز قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس تحریک سے خطرناک نتائج برآمدہوسکتے ہیں لہٰذا جمہوری انداز میں صورتحال کوحل کیاجائے گا۔انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے ڈانڈے فاٹاکے مسئلے سے ملاتے ہوئے کہاکہ اس فیصلے پرپاکستان کی بقااورسلامتی کومقدم رکھناضروری ہے جس کے لیے فاٹا جیسے حساس معاملے کونہ چھیڑاجائے وگرنہ ’’ہم کہیں کے نہ رہیں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ملک میں جمہوریت کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں اورنہیں چاہتے کہ جمہوری سسٹم چلتارہے۔انہوں نے خالدلانگو کے رویے کوافسوسناک قراردیتے ہوئے کہاکہ تحریک عدم اعتماد پردستخط کرتے ہوئے انہیں ہمارے ساتھ مشاورت اوراپنے تحفظات ظاہرکرنے چاہئیں تھے ۔



نوڈومور کے عزم کا اعادہ!

جہاں تک پانچ سالہ جمہوری دورکے آخری دنوں میں تحریک عدم اعتماد لانے کاتعلق ہے تواسے محض ایک وزیراعلیٰ کے خلاف غم وغصے یافنڈز کی فراہمی میں امتیازی سلوک کے طورپر نہیں بلکہ عالمی سطح پرپاکستان کے خلا ف بچھائی جانے والی سیاسی شطرنج کی بساط کے نقطہ نظر سے دیکھناچاہیے ۔چین نے خنجراب سے گوادرتک جس اقتصادی راہداری کی تعمیر شروع کررکھی ہے ،وہ مستقبل کے خوشحال پاکستان اورمعاشی ،اقتصادی وتجارتی طورپر مستحکم بلوچستان کے نقطہ نظرسے انتہائی اہمیت کاحامل ایک منصوبہ ہے ۔امریکہ اوربھارت جس انداز سے اس پراجیکٹ کو ناکام کرنے پرتلے ہوئے ہیں ،اس کے لیے مہرے اندرون ملک سے ہی ملنے لگیں توسازشیں کامیاب بھی ہوسکتی ہیں۔500ارب ڈالر کاون بیلٹ ون روڈمنصوبہ افروایشین ہی نہیں بلکہ افرویورپ راہداری بھی ہے جس سے امریکی اثرورسوخ میں کمی جبکہ ایشیا،افریقہ اوریورپ کے درمیان براہ راست زمینی رابطوں کاقیام ہے جوکم خرچ اورکم وقت میں اشیائے ضروریہ ایک خطے سے دوسرے خطے تک پہنچانے کی بنیاد ثابت ہوگا۔معاشی واقتصادی رابطوں میں بہتری سے جہاں بیشترممالک کامالی استحکام وابستہ ہے ،وہیں تجارتی وپیداواری ،برآمدی ومنتقلی ٹیکنالوجی کی سرگرمیاں فروغ پاسکیں گی ۔وسط ایشیائی ریاستوں میں موجود قدرتی گیس اوردیگرمعدنی وسائل دیگرملکوں تک پہنچ سکیں گے وہیں چین سے پاکستان کے راستے افریقی ممالک اوربراستہ ایران وترکی یورپی ملکوں کے درمیان معاشی زنجیر وجود میں آجائے گی۔روس کی اس منصوبے میں دلچسپی بیجنگ کوماسکو تک ملادے گی۔بھارت گزشتہ ڈیڑھ برس سے میربراہمداغ بگٹی اورچندمری قبائلی سرداروں کے ذریعے پاکستان کوغیرمستحکم کرنے اور گرپٹربلوچستان کے نعرے کوہوادینے کی کوشش کررہاہے،اس کاثبوت سوئزرلینڈ سے لے کربرطانیہ ،فرانس اورجرمنی تک اوراب امریکہ تک میں گریٹربلوچستان کی پروپیگنڈہ مہم چلانے سے کھل کرسامنے آچکی ہے ۔اندرون پاکستان بھی متحرک چند قوتیں یہاں سیاسی انتشار،بے چینی بلکہ افراتفری پھیلانے کے لیے سرگرم ہوچکی ہیں جن کابظاہر مقصدتوملک میں پائی جانے والی سیاسی وجمہوری بدگمانیاں ہیں مگرحقیقت میں منفی سرگرمیوں کاانجام استحکام پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ سے محرومی کے بعدمسلم لیگ ن جس طرح اسٹیبلشمنٹ اورعدلیہ کے لتے لے رہے ہیں وہ اندرونی سیاسی اتحاد کے لیے انتہائی نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے جبکہ تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی اقتدار کی جنگ میں ملکی استحکام واتحاد تک کوداؤپرلگانے کی راہ پرچل پڑی ہے ۔ایسی ہی صورتحال فاٹاکوقومی دھارے میں شامل کرنے کی حامی اورمخالف قوتوں میں ہے۔مولانافضل الرحمن ملکی سیاست میں اہم کردار ضروراداکررہے ہیں مگرفاٹا میں ریفرینڈم یااسے الگ صوبہ بنانے کے پیچھے ان کی حکمت عملی کوئی اچھا تاثرنہیں پیداکررہی ۔ایسی ہی سوچ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمودخان اچکزئی کی ہے جن کی پارٹی کافاٹا میں کوئی اثرورسوخ ہے نہ کوئی عوامی نمائندگی ،وہ بھی فاٹا پرسیاست کرنے میں مصروف ہیں ۔پاک افغان ڈیورنڈلائن 1893ء کی بات ہے جبکہ وہ 2017ء میں بھی گلگت بلتستان اورسوات کومتنازع علاقہ ثابت کرنے پرتلے ہوئے ہیں حالانکہ والی سوات خوداپنی ریاست کوپاکستان میں ضم کرچکے ہیں ۔پاکستان کی مستقل کی انرجی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیامیربھاشا ڈیم انتہائی اہمیت کاحامل اور4500میگاواٹ انتہائی سستی بجلی پیداکرنے کاذریعہ ہے جسے مولانافضل الرحمن اورمحمودخان اچکزئی جیسے اکابرین کے متنازع ومخالفانہ طرزعمل کے ذریعے بھارت ہوادینے میں مصروف ہے ۔ایک اورانتہائی اہم عنصر اس وقت حکومت مخالف سیاسی قوتوں کے منفی طرز عمل سے سامنے آرہاہے ۔نوازشریف کی مسلم لیگ ن کی سیاسی مقبولیت کم کرنے ،شاہدخاقان عباسی کی حکومت گرانے اورپنجاب میں حکمران ن لیگ کوتنہا کرنے کے لیے جہاں چندمذہبی ودینی حلقوں کواستعمال کیاجارہاہے،وہیں تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی کسی بھی وقت خیبرپختونخواہ اورسندھ اسمبلی توڑنے کی حکمت عملی پربھی عمل پیراہیں ۔مقصد اس کاصرف یہ ہے کہ مارچ2018ء میں ہونے والے سینٹ الیکشن میں حکمران مسلم لیگ ن کواکثریت حاصل ہونے سے روکا اور18 مارچ کو52نشستوں پرہونے والاالیکشن رکوانا ہے۔عمران خان اورآصف زرداری وسیع ترقومی سوچ کی بجائے محض اقتدار تک پہنچنے کے لیے ملکی سا لمیت،وسیع تر مفاہمت اورقومی تقاضوں تک کوفراموش کیے بیٹھے ہیں ۔1971ء کاسقو ط ڈھاکہ بھی سیاستدانوں کی خودغرضیوں ،مفاد پرستیوں اورغیرذمہ داریوں کاردعمل تھامگر47برس گزرنے کے باوجود ہمارے سیاستدان قومی تقاضوں کی بجائے محض وقتی مفادات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔بلوچستان میں ہونے والی حالیہ ٹوٹ پھوٹ اورنواب ثناء اللہ زہری حکومت کے خلاف پیش ہونیو الی متوقع تحریک عدم اعتماد کوبھی اسی تناظر میں دیکھناضروری ہے۔اگرثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہوجاتی ہے اورنیاوزیراعلیٰ بلوچستان خوداسمبلی توڑنے کی ایڈوائس گورنر کودے دیتاہے توسینٹ الیکشن ضروررک جائیں گے مگرسیاسی مخالفین کی کھینچاتانی جمہوری نظام اوراس کے تسلسل کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اورصوبائی وزیرراناثناء اللہ کے استعفے کے لیے پیرحمیدالدین سیالوی 9جنوری کولاہور میں داتادربار پردھرنادینے کااعلان کرچکے جبکہ تحریک لبیک کے مولانا خادم رضوی وفاقی وزیرزاہدحامد کے استعفے کے بعد مزیداستعفوں کی آس لگائے بیٹھے ہیں جبکہ تحریک صراط مستقیم کے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی بھی پنجاب حکومت کو گرانے کے لیے کوئی غیرمعمولی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکی دھمکیوں اور33ارب ڈالر کے بدلے جھوٹ اور دھوکے جیسے الزامات لگاکر پاک فوج کوانڈرپریشر لانیوالوں کامقابلہ کرنے کے لیے اندرونی اتحاد مضبوط بنانے کے لیے تین ماہ مزید برداشت کر لیے جائیں، اپریل میں بہرصورت نگران حکومتیں قائم اورنئے الیکشن کااعلان ہوسکتا ہے اور قوم نئی قیادت چن سکے گی۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
بلوچستان کاسیاسی بحران۔۔۔نشانہ وزیر اعلیٰ یاسینٹ الیکشن؟
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں