دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ نہیں تھی!

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے گزشتہ روز کرک کے علاقہ گڑھ خیل میں ایک ہی والدین کے تین بیٹوں کی انسداد دہشت گردی کی جنگ میں ہونے والی شہادتوں پران جواں سال شہیدوں کے والدین سے ملاقات کے موقع پر پاک فوج میں شوق شہادت رکھنے والے جوانوں پرفخرکرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی عام ملٹری کے سپہ سالار نہیں ہیں بلکہ وہ شہادت کے جذبہ سے سرشار افواج پاکستان کے سپہ سالار ہیں اورایسی بہادرفوج کی موجودگی میں کسی سپرطاقت کی کوئی دھمکی پاکستان کونقصان نہیں پہنچاسکتی۔جنرل باجوہ جن تین شہیدوں کے والدمحمدعلی خان کے گھرتعزیت کے لیے گئے تھے اُس نے چیف آف آرمی سٹاف سے کہاکہ شہیدوں کی تعزیت نہیں کی جاتی کہ وہ اللہ کی راہ میں شہیدہوئے ہوتے ہیں اوروہ قبروں میں مردے نہیں زندہ ہوتے ہیں۔محمدعلی خان نے کہا کہ ان کے مزیدتین بیٹے پاک فوج کاحصہ بن کر مادرِوطن پراپنی جانیں نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں اوران کے خاندان کے متعدد دوسر ے نوجوان بھی ان کے شہید ہونے والے بیٹوں کے نقش قدم پرچل کرشہادتوں سے سرفراز ہوناچاہتے ہیں جس پرجنرل قمرجاویدباجوہ نے،محمدعلی خان اوران کی اہلیہ کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نہایت یقین کے ساتھ کہاکہ شہید اء کی قربانیاں بھی ملک کوسلامتی وبقاکے ساتھ ساتھ امن واستحکام کی طرف لے جارہی ہیں ۔دریں اثناء پاک فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفورنے ایک بیان میں کہاہے کہ امریکہ نے2001ء سے لے کراب تک اپنی جنگ میں جتناپیسہ خرچ کیاہے،پاکستان نے اس رقم کے ایک فیصد سے دہشت گردی کی یلغارختم کردی اوردنیاکوباورکروایاکہ پاکستان اورپاک فوج نے پیسوں کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑی اورواضح کیاکہ خطے کی سکیورٹی کے لیے پاک فوج کااپناعزم اوراپنی حکمت عملی ہے اوراس سلسلے میں صدرٹرمپ سمیت دنیا کی کوئی اورطاقت انہیں ڈکٹیشن نہیں دے سکتی۔کسی بھی امریکی ایکشن کا عین قومی امنگوں کے مطابق جواب دیاجائے گا۔پاکستان ایٹمی قوت ہے اور اس کے سامنے کوئی بھی ہوپاکستان اپنے وقارپرسمجھوتہ نہیں کرسکتا۔پاک فوج کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ ابتداء میں انسداد دہشت گردی کے نام سے شروع ہونے والی جنگ پاکستان کی جنگ نہیں تھی۔پاکستان کے اکثر سیاسی حلقوں نے بھی دراصل ابتداء ہی سے اس جنگ میں امریکہ کاہراوّل دستہ بننے کو ہدف تنقید بنایاتھااورفی الحقیقت الیکشن2002ء کے لیے ملک کی مذہبی جماعتوں نے جنرل پرویز مشرف کی طرف سے امریکہ کے سامنے ایک ٹیلی فون کال پرگھٹنے ٹیک دینے کو دیکھتے ہوئے ہی متحدہ مجلس عمل قائم کرکے اس کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں فقید المثال کامیابیاں حاصل کی تھیں ۔جماعت اسلامی کے امیرقاضی حسین احمدمرحوم آخر تک سابق صدر جنرل پرویزمشرف کے خلاف ڈٹے رہے ،لیکن متحدہ مجلس عمل کی سب سے بڑی پارٹی جمعیت علمائے اسلام (ف)تھی لہٰذا مولانافضل الرحمن اپنے مفادات کے لیے جنرل پرویزمشرف کواکثر معاملات میں رعائت دیتے رہے۔انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرکامنصب حاصل کرنے کے لیے جنرل پرویزمشرف کو2004ء کے آخرتک چیف آف آرمی سٹاف کی وردی میں رہتے ہوئے صدرمملکت کے طورپرکام کرنے کی رعائت دی اوربعد میں جنرل پرویز مشرف نے دسمبر2007ء تک چیف آف آرمی سٹاف کی وردی میں ملک کی صدارت چلائی۔انہوں نے الیکشن 2008ء سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیربھٹو کے ساتھ این آراوکے بعدچیف آف آرمی سٹاف کی وردی اتاری۔اوراب یہ بات تمام سیاسی حلقوں کی طرف سے سامنے آرہی ہے کہ نائن الیون کے نتیجے میں افغانستان پرتھونپی گئی امریکی جنگ میں پاکستان کے فوجی آمرجنرل پرویزمشرف کی طرف سے ’’پہلے پاکستان‘‘کے نام سے امریکہ کو جوتعاون دیاگیا اورجس طرح پاکستان نے القاعدہ اورپاکستان کے جہادی عناصر کے خلاف جنگ لڑی،یہ سب پاکستان کی قومی امنگوں کے برعکس تھا اورفی الحقیقت یہ سابقہ مجاہدین کے خلاف جنگ تھی جس پرپاکستان کے اندرموجود جہادی عناصر بھی پاک فوج کے خلاف ہوگئے اورانہوں نے پاکستان کے اندر تخریبی اقدامات شروع کردیئے ۔جب پاکستانی طالبان کی طرف سے ملک کے طول وعرض میں بم دھماکوں اوردہشت گردی کی وارداتوں کاسلسلہ شروع ہواتوایک مرحلے پردہشت گردوں کے خلاف شہیدہونے والے پاک فوجوں کے افسروں،جوانوں اورجاں بحق ہونے والے طالبان انتہاپسندوں کے حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر،مولانا سراج الحق کے پیش رومولانامنورحسن نے ایک بہت زیادہ متنازعہ بیان بھی جاری کردیاتھاکہ اس بات کافیصلہ توآخرت میں خود خداکرے گاکہ شہیدہونے والے ہمارے فوجی تھے یاوہ انتہاپسند جنہوں نے پاکستان کی امریکی دوستی میں القاعدہ اورطالبان پر ہتھیاراٹھانے کوقبول نہ کرتے ہوئے جانوں کے نذرانے دیئے۔جماعت اسلامی کے امیرمنورحسن کوشدیدردعمل کاسامناکرناپڑا اوروہ پارٹی کی قیادت سے ریٹائرہوگئے ۔ان کے بعد بھی خودمسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت میں طالبان کے لیے نرم گوشہ موجودرہا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کھلم کھلا،طالبا ن سے مذاکرات کے حق میں آواز اٹھاتے رہے ۔انہوں نے صوبہ خیبرپختونخواہ کے مدارس کی بھاری فنڈنگ کے ذریعے ان مدارس کوقومی دھارے کی تعلیمی تبدیلی کی طرف موڑااورجمعیت علمائے اسلام کے امیر مولاناسمیع الحق سے ملاقات کرکے ان کی پارٹی کوالیکشن 2018ء کے لیے اپنااتحادی بنایااوروہ انتہائی پُراُمید ہیں کہ وہ مدارس میں اصلاح ،مساجد کے پیش اماموں کے لیے سرکار کی طرف سے ماہانہ تنخواہوں اورمساجد کے بجلی وپانی کے بلزکاخرچہ اُٹھا کرصوبہ کے پی کے رہنے والوں کے اسلامی مزاج کوقومی سلامتی اوربقاکے لیے مثبت بنانے کے لیے کامیاب ہوجائیں گے۔میجرجنرل آصف غفور جنہیں گزشتہ ماہ وفاقی وزیرسعدرفیق کی طرف سے پاک فوج کی چین آف کمان کے متعلق ایک غیرذمہ دارانہ بیان پرردّعمل میں ان کے بیان کی مذمت کے ساتھ یہ پوچھناپڑاتھاکہ حکومتی جماعت کواسٹیبلشمنٹ سے کوئی شکایت ہے تواس پربات کریں ،غیرذ مہ دارانہ بیانات سے پاک فوج کوتقسیم کرنے کی کوشش نہ کریں ،انہوں نے اپنے گزشتہ روز کے بیان میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف سے امریکی صدرٹرمپ کے بیانہ کی مذمت کوسراہااورامریکہ کے خلاف پوری قوم کے ایک پیچ پرہونے کوپاک فوج کے لیے حوصلہ افزا قراردیا۔پاکستان میں اب افغانستان کے جہادی عناصر کے حوالے سے واضح طورپر ہمدردی محسوس کی جارہی ہے اوربظاہریہ بات کھل کرسامنے آگئی ہے کہ پاکستان کی طرف سے اگرافغانستان میں ملک کی آزادی کے خلاف لڑنے والوں کے خلاف امریکہ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کیاگیاتو قوم اسیقبول نہیں کرے گی۔ان حالات میں امریکہ میں موجود پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کے دیئے گئے اس بیان کوقومی اُمنگوں کے برعکس قراردیاجارہاہے جس میں انہوں نے کہاہے کہ امریکہ پاکستان کی 
قربانیوں کی قدرنہیں کرے گاتوپاکستان کواپنے تعلقات پرنظرثانی کرنی پڑے گی۔تعلقات پرنظرثانی کاوقت گزرچکاہے اور مذکورہ بیان امریکی صدر کے یکم جنوری کے ٹویٹ کے برعکس سمجھاجائے گا۔ان حالات میں امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیرجنرل(ر)ایچ آرمک کی طرف سے دیاگیا یہ بیان بھی مسترد کردیاجاناچاہیے کہ ’’صدرٹرمپ کابیان حرف آخر نہیں ہے،پاکستا ن کے ساتھ معاملات بہترہوسکتے ہیں۔‘‘امریکہ کے ساتھ معاملات کوبہتربنانے میں کوئی ہرج نہیں ہے لیکن اب پاکستان کے لیے کسی نئے ’’ڈومور‘‘کاحصہ بننے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ہم چیف آف آرمی سٹاف کے پُرعزم بیان کوتحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں کہ’’پاکستان کودھمکانے والے اس کابال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔‘‘ 
رازوں کی پٹاری، جمہوریت اور سیاسی مفادات 
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر انہیں سیاسی طور پر تنہا کرنے کی کوششیں بند نہ ہوئیں اور اپنے لاڈلوں کو انتخاب میں جتوانے کے لئے ناجائز ہتھکنڈے جاری رکھے گئے تو وہ بھی رازوں سے پردہ اٹھا دیں گے اور بتائیں گے کہ گزشتہ چار برس کے دوران اسلام آباد میں کیا ہوتا رہا ہے ۔ سعودی عرب سے واپسی پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پروپیگنڈے کا سلسلہ بند نہ ہؤا اور انتخابی عمل کو ذاتی رائے کی بنیاد پر تبدیل کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں تو وہ بھی تمام شواہد کے ساتھ اندر کی ساری کہانی بتا دیں گے ۔ سابق وزیر اعظم نے البتہ سعودی عرب کے دورہ کے بارے میں کوئی ‘راز’ کی بات بتانے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ وہ اور ان کے چھوٹے بھائی پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اچانک کیوں سعودی عرب کے دورہ پر گئے تھے ۔ نواز شریف نے پاکستان واپسی سے قبل سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی تھی۔ 
پاکستان میں اس دورہ کے حوالے سے قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں۔ یہ باتیں سامنے آتی رہی ہیں کہ نواز شریف کو اس وقت پاکستان میں جن مشکلات کا سامنا ہے ، وہ ان سے نجات پانے کے لئے سعودی حکمرانوں کی مدد لینے گئے تھے ۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں سعودی مداخلت کی وجہ سے ہی نواز شریف جیل سے نجات پا کر اپنے اہل خاندان سمیت سعودی عرب میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ اسی لئے اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ میڈیا میں یہ کہا جارہا تھا کہ نواز شریف کسی این آر او کی تلاش میں سعودی عرب گئے تھے ۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے البتہ ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف پارٹی لیڈر کے طور پر سعودی حکام سے پاکستان کے بارے میں بات چیت کرنے گئے تھے ، لیکن ان کے ترجمان یا اب خود نواز شریف نے یہ بتانے کی کوشش نہیں کی کہ وہ سعودی عرب سے پاکستان کے لئے ایسی کون سی سہولت حاصل کرنے گئے تھے جو مرکز میں قائم ان کی حکومت کو فراہم نہیں ہو سکتی تھی۔ اور ریاستوں کے تعلقات میں انفرادی تعلقات کیوں اہم ہو گئے ہیں۔ البتہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر یہ دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ بند نہ ہؤا تو وہ بھی راز ہائے دروں خانہ کا پردہ فاش کردیں گے ۔ 
نواز شریف نے امریکہ کی دھمکیوں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پیغام کے تناظر میں بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کہ ‘ میں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ بے شمار قربانیوں کے باوجود دنیا ہمارا احترام کیوں نہیں کرتی۔ ،لیکن میری باتوں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ کبھی اسے ڈان لیکس کی شکل دے دی گئی اور کبھی سازشوں سے اس کی تعبیر کی گئی ’۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس سوال کا جواب تلاش کریں کی دنیا کیوں ہماری بات سننے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ آخر ہم سے کون سا جرم سرزد ہؤا ہے کہ سترہ برس کی قربانیوں اور جد و جہد کے باوجود ہمارا بیانیہ قبول نہیں کیا جاتا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی بجائے ان سے گریز کی حکمت عملی خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگی۔ اب ہمیں اس سراب سے باہر نکلنے اور ریاست کے تمام اداروں اور قیادت کو مل کر ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے اور ملک کا وقار بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ 
نواز شریف نے وہی سوال اٹھائے ہیں جو ملک کے متعدد ہوشمند طبقے عرصہ دراز سے سامنے لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن درپردہ حکمت عملی کو ‘خفیہ’ رکھنے اور عوام کو اعتماد میں نہ لینے کا سلسلہ ان ادوار میں بھی جاری رہا ہے جب نواز شریف ملک کے وزیر اعظم تھے ۔ اب بھی وہ بطور وزیر اعظم حاصل ہونے والے تجربات اور رازوں کو فاش کرنے کی دھمکی دے کر خود اپنے لئے ‘ سیاسی سپیس’ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے باختیار اداروں نے انہیں بطور وزیر اعظم کام کرنے نہیں دیا اور پارلیمنٹ دراصل محض دکھاوا ہے اور حقیقی فیصلے کہیں اور ہوتے رہے ہیں، تو سب سے پہلے تو انہیں قائد ایوان کے طور پر اس غیرذمہ دارانہ فعل کا حصہ بننے پر عوام سے معافی مانگنی چاہئے ۔ اس کے ساتھ ہی یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ وہ وزیر اعظم کے طور پر کیوں قومی اسمبلی میں جا کر یہ اہم سوال اٹھانے میں ناکام رہے ۔ عوام کے منتخب نمائیندے کے طور پر ان کا فرض تھا کہ اگر وہ حق نمائیندگی ادا کرنے اور عوام کی خواہشات اور ملک کی ضروریات کے مطابق فرائض انجام دینے میں ناکام رہے تھے تو وہ عوام کو اس سے آگاہ کرتے وہ کون سے راز ہیں جن کا بوجھ اٹھائے نواز شریف اشاروں کنا یوں میں فوج کو دھمکی دینے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ ضمانت حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اس سال ہونے والے انتخابات میں ان کی پارٹی کو مفلوج کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ 
کیا یہی رویہ اس ملک میں سیاستدانوں کی ہزیمت، جمہوریت کی ناکامی اور فوجی اداروں کی سرفرازی کا سبب نہیں بنا ہے ۔ سیاست دانوں نے ہمیشہ ذاتی اقتدار کے لئے سودے بازی کی ہے اور اسے جمہوری تسلسل کے لئے ‘مفاہمت ’ کا نام دیا گیا۔ لیکن جب یہ ‘مفاہمت’ کسی دوسرے سیاسی گروہ کے ساتھ کی جانے لگی تو اسٹیبلشمنٹ یا خفیہ ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی مظلومیت کا راگ الاپا جانے لگا۔ اسی لئے عسکری ادارے ملک کی سیاست میں من مانی کرنے میں کامیاب رہے ہیں کیوں کہ سیاست دان ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے اور اپنی باری لینے کے لئے ہر قیمت ادا کرنے اور کسی کا بھی آلہ کار بننے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ 
ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے اور سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہونے کے باوجود اگر آج بھی نواز شریف کو ‘سہولت’ حاصل کرنے کے لئے غرانے اور دھمکانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ نواز شریف سمیت ملک کے تمام سیاست دان جمہوریت کا نام لینے اور اس کے ثمرات سمیٹنے کے باوجود اس کو بطور نظام قبول کرنے اور نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں