امریکی سکیورٹی تعاون معّطل۔۔۔مضمرات کیاہوں گے؟

امریکی قیادت کی طرف سے سال نو کے ساتھ جن پاکستان مخالف بیانات کاسلسلہ شروع ہواتھاہرچندپاکستان کی طر ف سے ان بیانات پربہت دھیمے لہجے اورامریکہ کے ساتھ معاملات کوافہام وتفہیم سے حل کرنے پراتفاق ہواہے مگرفیصلہ ہواہے کہ حتمی ردعمل کااظہار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حالات کے مکمل جائزہ کے بعد کیاجائے گا۔سرکاری بیان کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے امریکہ کے ساتھ ہرقسم کے تعلقات ختم کرکے آئندہ کے لیے چین ،روس اورایران سے مل کرباہمی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کامشورہ دیاہے جبکہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ اپناسکیورٹی تعاون معطل کردیاہے۔پاکستان کوفروخت کیاجانے والا فوجی سازوسامان بھی روک دیاگیاہے اورکہاہے کہ پاکستان جبحقانی نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لیے آمادہ نہیں ہے،اسے ماضی میں دی جانے والی کولیشن امداد بھی روک لی جائے گی بلکہ یہ امداد روک بھی لی گئی ہے ۔ایک زمانے میں جب امریکہ کی ڈیڑھ لاکھ فوج افغانستان میں موجودتھی اس وقت امریکہ کوپاکستان سے زمینی راستے کی بہت زیادہ ضرورت تھی اورپاکستان نے امریکہ کوزمینی راستے کی یہ سہولت فراہم بھی کردی تھی۔یہ اشارہ بھی دیاگیاہے کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کی جنگ میں فیصلہ کن تعاون کی صورت میں پاکستان کی فوجی امداد بحال بھی ہوسکتی ہے ۔امریکہ پاکستان کے ساتھ کام کرناچاہتاہے اورسمجھتاہے کہ پاکستان ،امریکہ کی خواہش کے مطابق تعاون نہیں کررہاہے ۔پاکستان کی طرف سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے بغیرامریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بہترنہیں ہوں گے ۔پاکستان کوانسداد دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے جاری کی جانے والی 25کروڑڈالر کی کولیشن فنڈز کی امداد نئے سال کے صدرٹرمپ کے بیان کے بعد روک لی گئی ہے۔پاکستان کے عوامی حلقوں میں امریکہ کی طرف سے پاک فوج کودی جانے والی کولیشن فنڈز کی رقوم نہ ملنے پرکسی قسم کاافسوس نہیں کیاجارہاہے بلکہ عام آدمی سے لے کراپوزیشن کے صف اوّل کے لیڈروں تک کی طرف سے ایک ہی بات کہی جارہی ہے کہ پاکستان کوامریکہ سے ڈالروں کے عوض تعلقات قائم رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔پاکستان کے مشیرخزانہ مفتاح اسمعٰیل نے امریکہ کی طرف سے سکیورٹی کولیشن فنڈز روکے جانے پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کومعاشی طورپر کمزورکرکے امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصان اٹھائے گاکیونکہ پاکستان کے بغیر امریکہ کے لیے افغانستان کاتنازعہ حل کرنے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔امریکی امداد میں کٹوتی یااس کی بندش کانقصان خودامریکہ کوہوگا۔وزارت خزانہ کے مطابق2016ء میں پاکستان کوایک ارب ڈالر ملے تھے۔2011ء میں یہی رقم تین اعشاریہ پانچ جبکہ2016ء میں 55کروڑ ڈالرکولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں ملے تھے۔باقی 45کروڑدفاعی امداد کے علاوہ بعض انٹرنیشنل این جی اوز اورکچھ ترقیاتی کاموں کے لیے تھے دوسری طرف امریکہ نے پاکستان کومبیّنہ طورپر مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیاں کرنے والے ممالک کی ’’واچ لسٹ‘‘میں بھی شامل کرلیاہے ۔1998ء کے مذہبی آزادیوں کے بین الاقوامی قانون کے تحت امریکہ کی فہرست میں برما،چین ،ارٹیریا ،ایران ،شمالی کوریا،سعودی عرب،تاجکستان،ترکمانستان اورازبکستان شامل تھے اوراب مذہبی آزادیاں محدود ہونے کے الزام میں پاکستان کانام بھی اس لسٹ میں شامل کرلیاگیاہے۔پاکستان ،افغانستان میں بیٹھے امریکہ کے لیے کتنامفید ہے غالباََ امریکہ کے پالیسی سازوں نے صدرٹرمپ کویہ نہیں بتایاکہ اگرپاکستان نے انسداددہشتگردی کی جنگ کے لیے امریکہ کو دیئے گئے اپنے زمینی راستے ،امریکہ پربندکردئیے توامریکہ کے لیے افغانستان میں رہناممکن نہیں رہے گا۔2011ء میں سلالہ پرحملہ کیاگیاتوپاکستان نے کچھ مہینوں کے لیے یہ روٹ بند کردیاتوامریکہ نے ناردرن ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کواستعمال کیاتھا جسے اس نے دوسال پہلے ٹیسٹ کرناشروع کردیا تھا۔ہرچندافغانستان میں اس وقت امریکی فوجیوں کی تعداد بہت کم ہے لہٰذا یقینی بات ہے کہ ان کی ضروریات بھی کم ہوں گی اوران کی سپلائی بھی زیادہ نہیں ہورہی ہوگی۔2010ء میں کولیشن سپورٹ فنڈ سے امریکی امداد ساڑھے چارارب ڈالرتک پہنچ گئی تھی۔اس کے بعد ہرسال ایک ارب ڈالر کم ہوتی گئی اوراب اسے مزید محدودکئے جانے کامعاملہ زیرغورتھاکہ امریکی امداد یکسربندکردینے کااعلان کردیاگیاہے۔



دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی جنگ نہیں تھی!

پاکستان کے امریکہ مخالف حلقوں کی طرف سے حکومت پرزوردیا جارہاہے کہ وہ سی ایس ایف کایہ سلسلہ بند ہی کردے ۔امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ سکیورٹی تعاون ختم ہونے سے ایک طرف توپاک فوج کوملنے والے سکیورٹی کولیشن فنڈز سے محروم کیاگیاہے جبکہ دوسری طرف امریکہ کی طرف سے پاکستان کوفروخت کیاجانے والاسکیورٹی کاسامان روک لیاگیاہے گویاامریکہ نے پاکستان کوہتھیاروں کی فروخت بند کرکے اپنے لیے تجارتی نقصان بھی قبول کیاہے جبکہ امریکی کانگرس کی طرف سے پہلے ہی پاک ،افغانستان سرحد پرلگائی جانے والی حفاظتی باڑ کی 700 ملین ڈالر کی امداد کوگھٹاکر نصف کردیاگیاتھااوراب ا س سلسلے میں پاکستان کودی جانے والی ساڑھے تین سوملین ڈالرکی امداد بھی بندکردی گئی ہے ،امریکہ نے پاکستان کانام نیٹوفہرست کے اپنے اتحادیوں کی فہرست میں سے بھی نکال دینے کافیصلہ کرلیاہے جبکہ امریکہ کے پاس اب پاکستان کودباؤ میں لانے کاآخری آپشن یہ بھی ہے کہ وہ اب افغانستان اوربھارت کی سرحدوں پرسے پاکستان کے خلاف ہونے والی جارحیت کو بڑھائے گا۔پاکستان کوامریکہ خودٹارگٹ نہ کرے اورصرف بھارت اورافغانستان کی سرحدوں پرسے ان دونوں ممالک کی عسکری جارحیت کے آپشن تک محدود رہے توپاکستان کے لیے یہ بالکل بھی تردد کی بات نہیں ہے کیونکہ پاکستان اب خطے میں ان ممالک سے عسکری طورپرنپٹنے کی پوری صلاحیت رکھتاہے اوراس وقت امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ دوستی کوختم کرنے کی حکمت عملی کوسامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی طرف سے سرکاری طورپر جوردعمل دیاگیاہے اس کے جواب میں جومحتاط طرزعمل ملحوظ خاطررکھاگیاہے اس کے مطابق پاکستان نے افغانستان اوربھارت کی طرف سے ممکنہ سرحدی شورشوں کے خلاف اپنا’’جواب آں غزل‘‘ کاآپشن رکھ کرپالیسی بیان جاری کیااوریہ بات بھارت کوبھی معلوم ہے کہ پاکستان برابر کی ایٹمی طاقت ہے ہرچند امریکہ کے ساتھ پاکستان کے70سالہ تعلقات کاخاتمہ بہت سے خلاء پیداکرنے کاباعث بنے گامگر اس و قت گلوبل سطح پر مختلف ممالک اورمختلف قوموں کے تبدیل ہوتے ہوئے مفادات کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بھی اب نئی ترجیحات کاساتھ دینابہت ضروری ہے ۔چین نئی صدی میں امریکہ کے مقابلے میں ابھرتی ہوئی دوسری سپرطاقت بن چکاہے اورپاکستان کے ساتھ سی ۔پیک کامنصوبہ مکمل ہوجانے کے بعد چین ،اقتصادی طورپرامریکہ کے مقابلے میں ایک زیادہ مضبوط اورمستحکم ملک بن جائے گا۔روس بھی اب امریکہ کے سامنے دوبارہ کھڑا ہوناچاہتاہے اورپاکستان ان دونوں طاقتوں کے لیے سی ۔پیک کے ذریعے بحیرہ ہند کے گرم پانیوں تک اس کی رسائی کاباعث بنے گالہٰذا مستقبل میں پاکستان کی طرف سے بھارت کے سرپرست امریکہ کے ساتھ اپنے راستے الگ کرلینا ہی پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ امریکہ پاکستان کی اتحادی حیثیت ختم کرکے ورلڈبنک اورآئی ایم ایف سے پاکستان کوجوقرضے مل رہے ہیں اس کی امداد روک دے کیونکہ ان اداروں میں امریکہ کااثرورسوخ بہت زیادہ ہے مگرسوال یہ ہے کہ اس سے امریکہ کوکیافائدہ ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ کھلے عام اس قسم کے آپشن زیربحث لانے کے بجائے امریکہ اورپاکستان کے مابین براہ راست انٹیلی جنس کے رابطوں سے دونوں ممالک کومفاہمت کی کسی نئی راہ پرچلنے کے امکانات کی طرف دیکھتے رہناچاہیے اوراس دوران نہ توپاکستان امریکہ کے لیے زمینی روٹ بندکرے اورنہ ہی امریکہ ڈرون حملوں کی صورت میں کوئی نئی شرارت کرے۔دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی کوکھ میں سے کوئی ایسی جنگ بھی جنم لے سکتی ہے جوپورے خطّے یاپھر پوری دنیاکواپنی لپیٹ میں لے کربہت کچھ جلاکربھسم کردے ۔پاکستان اورامریکہ کوچاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت کاسلسلہ بیک ڈورڈپلومیسی سے جاری کریں۔ افغانستان میں موجود طالبان کے خلاف جنگ کانیامورچہ کھولناپاکستان کے حق میں نہیں ہے اورپاکستان کاموقف اس سلسلے میں بالکل بجاہے ۔امریکہ کادعویٰ یہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک کی قیادت ابھی بھی پاکستان میں موجود ہے اورافغان طالبان کی قیادت ابھی بھی بلوچستان میں پناہ لے سکتی ہے ۔جب تک امریکہ اس کاثبوت پاکستان کوفراہم نہیں کرتا اورپاکستان اس پرعمل نہیں کرتا،یہ بات دونوں ممالک کے درمیان کھڑی رہے گی۔امریکہ کی عقل مندلابی سمجھتی ہے کہ عراق اورافغانستان چھوٹے ممالک تھے امریکہ نے اتحادیوں کی مدد سے ان کوشکست دے کردونوں کی حکومتیں ختم کردیں لیکن پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اورامریکہ کی طرف سے بھارت کی مدد سے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑی گئی توپاکستان کے ایٹمی اسلحہ سمیت ،چین بھی اپنے سی پیک منصوبے کوبچانے کے لیے میدان میں کود پڑے گا اورامریکہ کی طرف سے پاکستان کودیوار سے لگانے کے نتیجے میں یہ خطہ ایٹمی جنگ کامیدان بن جائے گا۔امریکہ اس خطے کوایٹمی جنگ سے بچانے کے لیے سوچے یانہ سوچے بھارت کو البتہ یہ ضرورسوچ لیناچاہیے کہ امریکہ کے ساتھ سازش کرکے پاکستان کوتباہ کرنے کی کوشش کی گئی تواس کے نتیجے میں بھارت بھی تباہ ہوجائے گا اورہندوتہذیب کایہ واحد ملک پاکستان سے بھی زیادہ کھنڈرات میں تبدیل ہوجائے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کوافغانستان میں اپناکردارختم کرکے اس خطے کوامن وآشتی کے ساتھ مستقبل میں آگے بڑھنے دیناچاہیے اوراگرامریکہ کوکوئی مثبت کردارنبھاناکرناہے تووہ یہی ہوگا کہ بھارت اورپاکستان کے درمیان مفاہمت اوربھائی چارے کی کوئی فضا پیدا کرنے میں اپنااہم کردار اداکرے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
امریکی سکیورٹی تعاون معّطل۔۔۔مضمرات کیاہوں گے؟
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں