معاشرتی مسائل پرچیف جسٹس کاازخودنوٹس!

ان دنوں چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک کے بعض بڑے معاشرتی مسائل کے حوالے سے ازخودنوٹسز لینے او راس سلسلے میں عملی اقدامات کاسلسلہ شروع کررکھاہے۔ وہ حکمرانوں کی طرف سے پورے ملک کو درپیش پینے کے صا ف پانی کامسئلہ حل کرناچاہتے ہیں اوراس سلسلے میں انہوں نے دسمبر میں سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں وزیراعلیٰ سندھ سیّدمرادعلی شاہ کوعدالت میں بلاکر یہ پیش کش کی تھی کہ آئیے وہ ان کے ہمراہ کراچی کے شہریوں کوسرکاری طورپر سپلائی ہونے والے پانی کاایک ایک گلاس ایک ساتھ بیٹھ کر اپنے اپنے حلق میں اتاریں تاکہ انہیں یہ احساس ہوسکے کہ سندھ حکومت کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں رہنے والوں کوکس معیار کاپینے کاپانی فراہم کررہی ہے ۔سیدمراد علی شاہ نے اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے کاوعدہ کیاتھااوراب وہ کوشش کررہے ہیں کہ کراچی میں پانی کے زیادہ سے زیادہ فلٹریشن پلانٹ لگاکرپینے کے پانی کے مسئلے سے نبردآزماہوسکیں ۔وزیراعلیٰ سندھ نے بعدازاں ایک بیان میں کہاتھاکہ پانی کامسئلہ تو لاہوراورپورے پنجاب میں بھی موجود ہے ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کی لاہوررجسٹری میں بیٹھ کرچیف سیکرٹری پنجاب کوبلاکران کوبھی پنجاب کے شہروں اوردیہات میں سرکاری طورپرسپلائی کیے جانے والے پانی میں ملاوٹ کوختم کرنے اورشہریوں کوپینے کاشفاف پانی فراہم کرنے کامشورہ دیااورساتھ ہی پنجاب میں ہیلتھ اورتعلیم کے مسائل کودرست کرنے کابھی نوٹس دیا۔انہوں نے لاہور کے سب سے بڑے ہسپتال یعنی میوہسپتال کادورہ بھی کیااوراس کے بعد سے ہسپتالوں کے مسائل کوحل کروانے کے لیے بھی کمرکس لی۔سال نوکے آغاز پرانہوں نے لاہور کے تمام ہسپتالوں کے سربراہوں کوازخودنوٹس کے ذریعے بلاکر صحت کے مسائل کے حوالے سے اپنااپناقبلہ درست کرنے اورزیادہ سے زیادہ توجہ سے ان ہسپتالوں میں موجودصحت کی سہولتیں فراہم کرنے سے متعلق حالات کاجائزہ لیااورپنجاب کے شہروں میں پارکنگ نہ رکھنے والے ،شادی ہالوں کومسمار کرنے کابھی حکم دے دیاہے کہ ان ہالوں میں پارکنگ کی سہولت نہ ہونے کی بناپرٹریفک کے مسائل پیداہورہے ہیں۔ ہمارے ہاں ،شادی ہالز کے علاوہ شاپنگ پلازہ کی تعمیر کرتے وقت بھی پارکنگ کابہت کم خیال رکھاجاتاہے اورشادی ہالزاورپلازوں کے نقشے پاس کرتے وقت ،ضلعی انتظامیہ کے لوگ مٹھی گرم ہونے پرپارکنگ وغیرہ کی گنجائش دیکھے بغیر ایسی بلندوبالا عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دے دیتے ہیں ۔اب جب اربوں روپے کی مالیت کے شادی ہال مسمارہوں گے تواس سے بہت زیادہ قومی سرمایہ ضائع ہوگا۔چیف جسٹس پاکستان نے برآمد ہونے والے دودھ کے ایسے برانڈز بھی فروخت کرنے کی ممانعت کردی ہے جن کی تیاری میں متعدد مُضرصحت کیمیکلز کااستعمال کیاجاتاہے۔چیف جسٹس نے لاہور کی 56کمپنیوں میں کرپشن پرازخودنوٹس کے تحت پنجاب حکومت کی اشتہارات کی بندربانٹ کابھی نوٹس لیا،ہسپتالوں کی بہتری کے لیے حکومت کوباقاعدہ پالیسی بنانے اورسرکاری ہسپتالوں میں آئے روز ہونے والی نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتالوں پربھی پابندی عائد کردی۔



امریکی سکیورٹی تعاون معّطل۔۔۔مضمرات کیاہوں گے؟

لاہوررجسٹری میں ازخود نوٹسز کے مقدمات کی سماعت کے دوران ،ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاکہ تعلیم وصحت کے معاملات پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گااوران معاملات کی اہمیت کے حوالے سے پنجاب کے حکمرانوں سے مخاطب ہوکرکہا کہ اگرانہوں نے صوبے میں تعلیم اورصحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مناسب فنڈز فراہم نہ کیے تووہ لاہور میں زیرتعمیراورنج ٹرین اوربعض دوسرے ترقیاتی منصوبے بندکردیں گے۔امرواقع یہ ہے کہ ہماری موجودہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی ترجیح تعمیروترقی کے منصوبے توضرور ہیں لیکن،تعلیم اورصحت دونوں کی طرف حکومتوں کی کوئی توجہ نہیں ہے ۔اسلام آباد اورپنجاب میں نجی تعلیمی اداروں میں طلباء طالبات جس قدرزیادہ فیس وصول کررہے ہیں اوران بھاری بھرکم فیسوں کے مقابلے میں طلباء طالبات کے لیے تعلیمی سہولتوں کاجومعیار ہے،جس قسم کے چھوٹے کیمپوں میں تعلیم دی جاتی ہے اوران پرائیویٹ کالجوں اوریونیورسٹیوں کوجس طرح بعض چھوٹی عمارتوں اورکرائے کی کوٹھیوں میں قائم کرلیاجاتاہے ان سب باتوں کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لیاہے۔صحت کے حوالے سے ہی انہوں نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں بھاری فیسوں سے ہونے والے داخلوں کے مقابلے میں غیرمعیاری تعلیم دینے کانوٹس لے کرنجی میڈیکل کالجوں اوریونیورسٹیوں کے مالکوں اورمنتظمین کوسپریم کورٹ میں بلاکر یہ بتادیاہے کہ اگران کے ہاں ٹیچنگ کامعیار ،مناسب نہیں ہواتووہ ان اداروں کوبندکردیں گے اورانہوں نے مزیدداخلوں پرپابندی بھی لگادی ہے کہ جوکمیٹی ان اداروں میں دی جانے والی تعلیم اوردیگرسہولتوں کاجائزہ لے رہی ہے کون جانے ان کی طرف سے کن اداروں کو بندکردینے کی سفارشات آجائیں اورداخلے لینے والوں کوکئی کئی لاکھ روپے کانقصان برداشت کرناپڑجائے۔تعلیم اورصحت کے شعبے پنجاب میں ہی نہیں دوسرے صوبوں میں بھی بہترحالت میں نہیں ہیں ،ہسپتالوں کی عمارتیں خستہ ہیں ،صفائی اورسیوریج کاناقص نظام، غریبوں اورمستحقوں کے لیے فراہم کی جانے والی ادویات ندارد،ہسپتالوں میں مریضوں کودی جانے والی ادویات میڈیکل اسٹوروں کوفروخت کرکے ،عملے کااپنی جیبیں بھرنے کارحجان اورڈاکٹرز،خصوصاََ اسپیشلسٹوں کاٹیچنگ کالجوں میں ایک آدھ لیکچردینے کے بعدغائب ہوجانا،سینئرسرکاری ڈاکٹروں کی تمام ترتوجہ ہسپتالوں کے بجائے اپنے پرائیویٹ کلینکوں کی طرف مبذول ہونا اورپھران ڈاکٹروں کی بھاری بھرکم فیسیں ،یہ سب ایسے چیلنج ہیں جن سے نبردآزما ہوناحکومتوں کی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس نے یہ بات حکمرانوں پرواضح کررکھی ہے کہ وہ امورِحکومت میں جوخلاء چھوڑیں گے ،ان مسائل کوپُر کرناسپریم کورٹ کی ذمہّ داری ہے اوروہ آگے بڑھ کران مسائل کوحل کرنے کی کوشش کریں گے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے دودھ دینے والی بھینسوں کوٹیکے لگاکران سے زیادہ سے زیادہ دودھ حاصل کرنے کوان جانوروں کی صحت کی بربادی کے ساتھ ،دودھ کے ساتھ زہریلے اثرات انسانوں میں منتقل ہونے اورانسانوں کے مختلف بیماریوں میں مبتلاہونے کابھی نوٹس لیااوردودھ بڑھانے والے ٹیکے کی فروخت اوراس کے استعمال پرپابندی عائد کردی ہے۔ہمار ے اکثر فارموں میں لائیوسٹاک سے زیادہ دودھ حتیٰ کہ مرغیوں کی تیزی کے ساتھ بڑھوتری کے علاوہ ان سے زیادہ سے زیادہ انڈے حاصل کرنے کے لیے جانوروں اورچکن کی خوراک میں کیمیکلز کااستعمال اس حد تک بڑھ گیاہے کہ اب یہ کیمیکلز ،دیہات میں لائیوسٹاک کے چارے پرچھڑکنے اورجانوروں کوکھلانے کابھی رحجان زورپکڑگیاہے اورچیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے جانوروں کولگائے جانے والے ٹیکے پرتوپابندی لگائی گئی ہے ،ان ادویات پربھی پابندی لگائی جانی چاہیے جولائیوسٹاک کی بڑھوتری کوغیرفطری طورپرتیزکرنے اوران کے اندرگوشت ،دودھ اورانڈوں کی مقداربڑھانے کے لیے مارکیٹ میں موجود ہیں ۔ہمارے ہاں توفصلوں کی بڑھوتری کے لیے استعمال ہونے والی کھادوں اوربعض سبزیات کی کاشت کے لیے کیمیکلز زدہ پانی کے استعمال کابھی بہت زیادہ رحجان ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ہرچند پنجاب حکومت کونہایت سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ وہ صحت اورتعلیم کے مسائل کودیکھے اور ان کوزیادہ سے زیادہ توجہ کے ساتھ حل کروائے ،ورنہ اورنج ٹرین منصوبہ بھی بندکیاجاسکتاہے لیکن ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ حکومت کاکوئی ترقیاتی منصوبہ بندکرنے کاارادہ نہیں رکھتے اورانہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوعوام کے حقیقی مسائل کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایساکیاہے۔جہاں تک اورنج ٹرین کاترقیاتی منصوبہ ہے ،اوّل تو شایداس کی ضرورت فی الحال نہیں تھی لیکن ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات بالعموم انوکھی ہی ہیں تاہم اب اورنج ٹرین منصوبے کوجتنا تیزی کے ساتھ مکمل کیاجاسکتاہے مکمل ہونے دیاجائے تویہی مناسب ہوگا۔اسے درمیان میں روکاگیا توکھربوں روپے کانقصان ہوگا۔ہمارامشورہ ہے کہ چیف جسٹس ،شادی ہالوں کی مسماری ا ورٹاؤن پلاننگ کی خرابی کی بناپرتعمیرہونے والی دیگرعمارتوں کے حوالے سے ان کومسمارکرنے کے احکامات پربھی نظرثانی کریں اوراس کی مسماری سے پہلے اس امرکاجائزہ لیاجائے کہ ان میں سے کن کن عمارتوں کومسمارکروائے بغیریاکسی نہ کسی دیگرمقاصد کے لیے استعمال میں لانے کی صورت میں زمیں بوس کروانے سے بچایا جاسکتاہے تاکہ کم سے کم اقتصادی نقصان ہو۔چیف جسٹس آف پاکستان نے عدل گستری کے لیے شاہ زیب قتل کیس میں قتل کے مجرموں کے لیے مقتول شاہ زیب کے والدین کی طرف سے ان کومعاف کردیئے جانے پر عدالت سے ان کی رہائی اوراس پرشدیدعوامی ردّعمل کے باعث یہ کیس کراچی سے سپریم کورٹ اسلام آباد میں طلب کرلیاہے جسے عوامی حلقوں میں تحسین کی نظرسے دیکھاجارہاہے۔والدین نے توکسی نہ کسی دباؤ میں آکر یادیت وصول کرکے قاتلوں کومعاف کردیالیکن اس سلسلے میں قاتلوں نے قانون کوہاتھ میں لے کرریاست پاکستان کوجس مشکل میں ڈالا اورعوام میں جوخوف وہراس پھیلایااس کاتویقیناًانہیں خمیازہ بھگتنا چاہیے ۔چیف جسٹس کی طرف سے مفادعامہ کے دیگرشعبوں میں بھی اصلاح احوال کے لیے فکرمندی لائق ستائش ہے لیکن اُمیدرکھنی چاہیے کہ اسے آئین وقانون کے دائرے میں رکھتے ہوئے ماضی کی طرح کی ’’جوڈیشل ایکٹوازم‘‘سے دُوررکھاجائے گا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
معاشرتی مسائل پرچیف جسٹس کاازخودنوٹس!
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں