سفارتی محاذ کو تیز کرنے کی ضرورت

پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ محمدآصف کی طرف سے امریکی جریدے وال اسٹریٹ کودیئے گئے ایک انٹرویو میں کہاگیاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی امداد کی معطلی کے بعدان کے خیال میں اب امریکہ اورپاکستان ایک دوسرے کے اتحادی ملک نہیں رہے اوروہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے نائن الیون کے دھماکوں کے بعد افغانستان میں طالبان کی حکومت اورافغانستان کے پہاڑو ں میں موجود بین الاقوامی دہشت گردتنظیم القاعدہ کے خلاف جوجنگ شروع کی گئی تھی،پاکستان کے اس وقت کے فوجی آمرجنرل پرویز مشرف کی طرف سے اس جنگ میں پاکستان کوامریکہ کے صف اوّل کے اتحادی کے طورپر شامل کرنابہت بڑی غلطی تھی اورمشرف کے اس فیصلے پرملک میں موجود جہادی عناصر نے ا مریکہ سے پاکستان کے عسکری روابطہ کوقبول نہیں کیااوران کاشدید ردعمل دہشت گردی بن کرپاکستان کے لیے ایک بہت بڑاچیلنج بن گیا۔امریکہ چاہتاہے کہ پاکستان ،افغانستان میں کابل انتظامیہ کوتسلیم نہ کرنے والے افغان مزاحمت کاروں کابھی صفایاکرے اوراس کے لیے وہ پاکستان میں افغان مزاحمت کاروں کومحفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی الزام تراشی سے دباؤ میں لانے کی مساعی کرتارہاہے لیکن فی الحقیقت پاکستان میں اب دہشت گردوں کے کوئی ٹھکانے موجود نہیں ہیں۔ وزیرخارجہ خواجہ آصف نے حالات کابالکل درست تجزیہ پیش کیاہے اورنہایت کھل کرتسلیم کرلیاہے کہ امریکہ نے انسداد دہشت گردی کی جوجنگ نیٹوافواج کوافغانستان میں لاکرشروع کی تھی، وہ امریکہ کی جنگ تھی اورپاکستان نے اس میں شامل ہوکرملک کی مذہبی تنظیموں ا و رجہادی عناصرکواپنامخالف بنالیااوروہ حکومت کے امریکہ نواز اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں مصروف ہوگئے۔



معاشرتی مسائل پرچیف جسٹس کاازخودنوٹس!

خواجہ آصف نے کہاہے کہ پاکستا ن امریکہ کے دباؤ پر افغانستان کے عسکریت پسندوں کے پیچھے اس لیے نہیں جارہاکہ اس کے نتیجے میں پاکستان دہشت گردی کی ایک نئی لہرسے دوچارہوجائے گا۔امریکہ سے پاکستان کااتحادختم ہوچکاہے لیکن پاکستان تنہانہیں ہے۔اس کے پاس نئے اتحادیوں کے آپشن موجود ہیں۔نئے آپشنز میں چین پہلے نمبرپرہے کہ وہ پہلے ہی پاکستان میں سی ۔پیک منصوبہ مکمل کروانے میں پاکستان کی مدد کررہاہے اورچین کی طرف سے ڈونلڈٹرمپ کے یکم جنوری کے بیان کے بعدجوابی بیان میں کہاگیاہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف امریکہ کی طرف سے کوئی کارروائی کی گئی توچین پاکستان کی حمایت میں بہت آگے تک جانے کوتیار ہے۔چین کوا مرکابھی یقیناًاحساس ہے کہ امریکہ کوپاکستان میں سی پیک منصوبے کی تکمیل اورچین کے کردار اوردوستی کی وجہ سے پاکستان کے خلاف بہت زیادہ رنج ہے اورامریکی صدرکی پریشانی اورڈپریشن میں پاکستان کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ترکی عالمِ اسلام کی ایک بڑی قوت ہے اورترکی کے صدر اردگان کی طرف سے ٹرمپ کے بیان کے بعد بہت واضح طورپر امریکہ کویہ کہہ دیاگیا ہے کہ وہ پاکستان کوتنہانہ سمجھیں ،پاکستان عالم اسلام کی ایٹمی طاقت ہے اوراسلامی ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔بھارت پاکستان کاازلی دشمن ہے اورامریکہ نے کابل انتظامیہ اورافغانستان کی فوج میں بھارت کاکردارشامل کرکے افغانستان کی موجودہ حکومت کوپاکستان دشمن بنا دیاہے اورکابل انتظامیہ سے شہ پاکر سرحد پارکے بھارت نوازعناصر ،پاکستان کی سرحد کے اندر چوکیوں پردہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے مواقع کی تلاش میں ر ہتے ہیں اوریہ تمام صو رتحال امریکہ کے علم میں ہے۔پاکستان کا تیسرا اہم پڑوسی ملک ایران ہے ایران وہ ملک ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے پاکستان کوایک خودمختار اسلامی ملک کے طورپرتسلیم کیاتھااور ایران کے ساتھ ہمارے بہت گہرے رشتے ہیں۔ایران کی حکومت کوا س بات کا یقینااحساس ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات کے باوجود دوبرس قبل سعودی عرب کی طرف سے یمن پرحملہ کرنے کے لیے عسکری امداد فراہم کرنے سے انکارکردیاتھا اورچونکہ ایران خودبھی امریکہ کے زیرعتاب ہے لہٰذا پاکستان اب کھل کرایران کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھائے اوراسے مستقبل کے لیے کسی عسکری اتحاد میں شامل ہونے کی پیش کش کرے تو اس کے نتائج بہت حوصلہ افزاہوں گے۔تازہ ترین خبروں کے مطابق پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل(ر)ناصرجنجوعہ اس وقت ایران میں اپنے ایرانی ہم منصب ایڈمرل علی شمخانی سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور،علاقائی صورتحال او رسرحدی سکیورٹی بہتربنانے سے متعلق معاملات پرتبادلہ خیال کررہے ہیں اورباورکیاجاتاہے کہ ان دنوں امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ ختم ہونے کے بعدکسی بھی ممکنہ ردعمل کے حوالے سے بھی یقیناًتبادلہ خیال ہوگااوردونوں ممالک کے مابین سکیورٹی معاہدے اورعسکری اتحادکی کوئی نہ کوئی راہ یقیناًہموارہوسکے گی۔پاکستان خطے میں موجود امریکہ اوراس کے اتحادی بھارت کی طرف سے ابھرنے والے سکیورٹی چیلنجوں کودیکھتے ہوئے روس کوبھی،امریکہ مخالف اتحادمیں شامل ہونے کی پیش کش کرسکتاہے۔ اب جبکہ حکومت کے ساتھ ساتھ سیاسی وعسکری اداروں اورملک کی بیشترسیاسی جماعتوں کااس بات پراتفاق ہوچکاہے کہ بنیادی قومی مفادملک کی سلامتی اورخودمختاری پرسمجھوتہ نہیں ہوگا توحکومت ا س بات کوقرین امکان کیوں نہیں سمجھتی کہ امریکی صدرٹرمپ پاکستان کے خلاف مزیداقدامات کرنے کاراستہ اپناسکتے ہیں۔اس سلسلے میں اب تک جوقیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ان کے مطابق امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کادائرہ وسیع کرسکتاہے اوروزیرخارجہ بھی اس بات کی تسلی کرچکے ہیں کہ پاکستان ،ممکنہ ڈرون حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔پاکستان کے خلاف امریکی اقدامات میں بعض اہم شخصیتوں پرحقانی نیٹ ورک سے رابطوں کے الزامات کوجوازبنایاجائے گااورورلڈبنک اورآئی ایم ایف پرامریکی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں پاکستان کوقرضے فراہم کرنے سے روکاجائے گا۔امریکہ کہہ چکاہے کہ اس نے پاکستان کے خلاف سب اقدامات پاکستان کوسزادینے کے لیے نہیں بلکہ سبق سکھانے کے لیے کئے ہیں لہٰذا،اب پاکستان کے لیے بین الاقوامی برادری سے جس میں چین ،روس ،جاپان اوریورپی ممالک بھی شامل ہیں ،ان سے روابط بڑھانے میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

جمہوریت کے خلاف سازشیں اورثبوت لانے کااعلان

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سینے میں موجود بہت سے رازظاہر کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے اپنے اورمسلم لیگ ن کے خلاف سازشوں کاذکرکیا اورکہا2018ء الیکشن کاسال ہے مگرانتخابی نتائج بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پنجاب ہاؤس کی پرہجوم میڈیاٹاک میں انہوں نے انتباہی انداز میں کہا کہ ’’غیرقانونی فیصلوں کے ذریعے کسی کے ہاتھ نہ باندھے جائیں،کسی لاڈلے کے لیے ڈیل یاڈھیل کاانتظام نہ کیاجائے ،جھوٹ ،الزام،دھرنوں اوربہتانوں کی سیاست کرنے والوں کوتھپکی دے کر قوم پرمسلط کرنے کے منصوبے نہ بنائے جائیں ،ملک کی تقدیرمنصفانہ،غیرجانبدارانہ اورشفاف الیکشن سے جڑی ہوئی ہے ،ہرجماعت کوآزادی کے ساتھ ’’انتخابات‘‘میں حصہ لینے اورجمہوریت کوحقیقی شکل میں پھلنے پھولنے کاموقع دیاجائے۔‘‘انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں،اچھابراسمجھتے ہیں ،قوم کوفیصلہ کرنے دیں،ان کی رائے اورووٹ کاتقدس پامال نہ کیاجائے ۔سابق وزیراعظم کازورسچی اورکھری جمہوریت پرتھاتاکہ عوام ملکی ترقی کے لیے سفر کوجاری رکھنے اوروطن عزیزکوخوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لیے واضح فیصلہ دے سکیں ۔اپنے گرماگرم گلوں ،شکوؤں ،شکایتوں اورانتباہات سے بھرے بیانیے کی تان انہوں نے ا س با ت پرتوڑی کہ ’’اگرپردے کے پیچھے جاری کارروائیاں بند نہ کرکیں توچاربرس کے دوران اپنے علم میں آنے والے واقعات سمیت تمام ثبوت قوم کے سامنے رکھیں جائیں گے۔‘‘جہاں تک میاں نوازشریف کے نشترچبھوتے اورکس بل کھاتے بیان کی گہرائی کاتعلق ہے تواسے مختلف رنگوں کی عینکیں لگاکردیکھنے والوں کواپنی مرضی ومنشا کاپرتونظر آئے گامگرسنجیدگی کے ساتھ دیکھاجائے تو28جولائی 2017ء سے لے کر3جنوری2018ء تک کے نشیب وفراز ان کے بیانیے کالب لباب بھی ہوسکتاہے۔محرومی ،پریشانی اورمشکلات اپنی جگہ مگراس بات میں کوئی شبہ نہیں ہوناچاہیے کہ پانامہ سے شروع ہونے والی تحقیقات اقامے پراختتام پذیرہوئیں ۔کرپشن کے حمام میں کون کون ننگاہے،اس کی وجوہات جاننے کے لیے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاویداقبال نے گزشتہ روزہی احکامات جاری کیے ہیں تاکہ اس بات کاسراغ لگایاجائے کہ 435 آف شورکمپنیوں کے لیے پاکستان سے اربوں ڈالر قانونی طریقے سے باہربھجوائے گئے یامنی لانڈرنگ اورکرنسی سمگلنگ کی گئی۔اس ضمن میں سٹیٹ بنک سے بھی ریکارڈ طلب کرلیاگیاہے مگرمیاں نوازشریف کے معاملے میں بات آف شورکمپنیاں قائم کرنے کی بجائے لندن کے ایوان فیلڈفلیٹس کی ملکیت کے بارے میں تھی۔گلف سٹیل سے العزیزیہ سٹیل ملز سعودی عرب اورپھروہاں سے کاروباروائنڈاپ کرکے ملنے والی رقوم برطانیہ پہنچنے کے حقائق جانناتھا۔قطری شہزادوں کے ساتھ شریف فیملی کے کاروباری روابط کس طرز،نوعیت اورانداز کے تھے یہ بھی ایک سربستہ رازہے۔سپریم کورٹ کے لارجربنچ میں جس طرح گاڈفادر اورپھربعدازاں سسلین مافیا کاتذکرہ سامنے آیا،اس نے حکمران خاندان کی کاروباری ،سیاسی واخلاقی ساکھ بری طرح متاثر کی ۔احتساب عدالت اسلام آباد میں سابق وزیراعظم انکے صاحبزادوں ،صاحبزادی اور داماد کے خلاف زیرسماعت کرپشن مقدمات بھی لمحہ بہ لمحہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے ان ریفرنسز کافیصلہ چھ ماہ کے اندر کرنے کی جوڈیڈلائن دی تھی،28فروری 2018ء کوختم ہورہی ہے اس طرح ہرآنے والادن شریف خاندان کے خدشات،تحفظات اورامکانی فیصلے کی طرف بڑھ رہاہے مگرلندن میں عمران خان کے فلیٹ کی خریدوفروخت اورجہانگیرترین کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے،الیکشن کمیشن میں زیرسماعت پارٹی فنڈنگ اوراب انسداددہشتگردی عدالت اسلام آباد میں پاکستان ٹی وی پرحملے میں ان کی ضمانت منظورہونے سے سابق وزیراعظم کافی جزبز نظرآتے ہیں حالانکہ غیرجانبداری سے دیکھاجائے تونیب تحقیقات اوراحتساب عدالت اسلام آباد میں شریف خاندان کوضمانتیں ملنے کے معاملات بھی شرجیل انعام میمن اورڈاکٹرعاصم حسین کے مقابلے میں ’’نرمی‘‘ظاہرکرتے ہیں ۔ پاکستان میں ہرجمہوری حکومت کو اپنے خلاف سازشیں ہوتی نظر آئیں،خاص طورپر سابق صدرآصف زرداری کے خلاف سوئس مقدمات سمیت میموگیٹ سکینڈل ،بطورصدریاچیئرمین پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کوبھی عدالتی زیادتیاں قراردیاجاتارہا۔یوسف ر ضاگیلانی کی نااہلی اورراجہ پرویز اشرف کی باربارطلبیاں بھی پیپلزپارٹی کے نزدیک امتیازی وانتقامی کارروائیاں ہی تھیں ۔یہ الگ بات کہ عدالتیں ہرمعاملے کوصرف آئین ،قانون اوراختیارات سے تجاوز کی نظرسے دیکھتی ہیں۔میاں نوازشریف کے نزدیک تحریک انصاف کے چیئرمین کوملنے والی عدالتی سہولت شاید امتیازی سلوک ہومگرحقیقت میں شریف خاندان خودبھی ماضی میں عدالتوں سے ایسی رعائتیں حاصل بلکہ انجوائے کرتارہاہے۔حال ہی میں حدیبیہ پیپرملز کیس میں بھی نیب کے کمزوردلائل کے باعث معاملہ عارضی طورپروائنڈاپ ہوتانظر آیا۔میاں نوازشریف نے گزشتہ چاربرس کے د وران ہونے والی’’سازشوں‘‘ اورپس پردہ کارروائیوں کوبے نقاب کرنے کاعندیہ ظاہر کردیامگرانہیں بطوروزیراعظم اٹھائے جانے والے اپنے حلف کی عبارت بھی ذہن میں رکھنی ہوگی ،چیف ایگزیکٹو کے طورپرملک میں ہونے والی بہت سی باتوں بلکہ رازوں تک رسائی کے باوجود انہیں ظاہر نہیں کیاجاسکتاالبتہ ان کے اس مطالبے یاخواہش میں وزن ضرورہے کہ’’کسی کے ہاتھ پاؤں نہ باندھے جائیں ‘‘خاص طورپرایک ایسے وقت میں جب الیکشن سرگرمیاں شرو ع ہوچکی ہوں۔پیپلزپارٹی،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن کی جماعتوں کی طرح حکمران مسلم لیگ ن کوبھی’’خدشات‘‘سے پاک فٖضا میں کام کرنے کاموقع ملناچاہیے۔مذہبی ودینی جماعتوں کواستعفوں کے مطالبات اورنفرت کی مہم چلانے کی بجائے زمینی حقائق اوراسلامی اساس کی ترویج کی طرف دھیان دیناچاہیے جبکہ آصف زرداری اورعمران خان کوبھی اپنے اصلاحی پروگرام،منشوراورترجیحات کی روشنی میں عوام کے پاس جاناچاہیے۔جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف اپنی تحریک کوالیکشن تک موخر کرکے مہنگائی،بیروزگاری،معاشرتی برائیوں اورطبقاتی کشمکش کے خلاف قوم سے رجوع کرے، تحریک لبیک ،سنی مسلک سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کومسلم لیگ ن پرتابڑتوڑ حملوں کی بجائے اپنے منشورکے بل پرعوامی پذیرائی پرزوردیناچاہیے تاکہ میاں نوازشریف کھلی اورالزامات ودھمکیوں سے بدلی فضاکی بجائے فیئراینڈ فری ماحول میں اپنی انتخابی سرگرمیاں جاری اور’’ثبوت سامنے لانے‘‘ جیسی تکلیف دہ صورتحال سے باہرآسکیں یہی وقت کی ضرورت اورامریکی وبھارتی سازشوں کاتوڑبھی ہوسکتاہے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
سفارتی محاذ کو تیز کرنے کی ضرورت
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں