اصلی اور نقلی انقلاب

جوں جوں ہماری سیاسی، سماجی اور معاشی حالت بگڑ رہی ہے اور توں توں عوام کی زندگی مشکل ہورہی ہے اور بدعنوانی اور بدانتظامی سے نجات کے لیے نظام میں تبدیلی کی خواہشیں انگڑایاں لے رہی ہیں۔اصلاحات کے ذریعے تبدیلی میں دلچسپی ختم ہوچکی ہے اور لوگ انقلاب کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ لوگ انقلابات کو یاد کررہے ہیں جن کے بعد پرُانا نظام ختم ہوا ترقی پسند نظام نے اس کی جگہ لے لی۔ فرانسیسی، روسی اور چینی انقلاب ان کے لیے نمونہ ہیں،البتہ، جیسا کہ 18ویں برومیئر میں مارکس کہتا ہے ، انسان اپنی تاریخ خود بناتا ہے لیکن اپنی خواہشات کے مطابق نہیں، لہذا انقلاب کا خیال دل میں لانے سے قبل ہمیں تاریخی پس منظر میں اس کے معنی اور تصور کو سمجھنا ہوگا۔انقلاب کا اصل معنی دائروی حرکت ہے ۔ قدیم یونان میں سیاسی نظام شہنشاہت، اولیگارکی اور جمہوریت کے گرد گھومتا تھا۔ اس تصور میں بنیادی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی۔حکمران طبقات کو یہ قابل قبول تھا کیونکہ اپنا مقام برقرار رکھنے کے لیے وہ نظام میں تبدیلی نہیں چاہتے تھے ۔عہد وسطیٰ میں ہونے والی بغاوتیں سماج کے مخصوص طبقات مثلاً کسانوں، غلاموں یا اشرافیہ کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے خلاف ہوتی تھیں۔ شاہی خاندان کے افراد تاج کے لیے بغاوت کرتے تھے ۔ باغیوں کا مطمح نظرعموماً سماجی ڈھانچے میں تبدیلی نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ ایسی حکومت لانا چاہتے تھے جو ان کے مطالبات تسلیم کرے ۔مسلمانوں میں عہدوسطیٰ کے ماہرقانون الماوردی نے اپنی کتاب الاحکام السلطانیہ میں لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شرپسندوں کو پہچانیں اور حکمرانوں کے خلاف کسی قسم کی آواز نہ اٹھائیں،تاہم، قانونی پابندیوں کے باوجود تمام تر تاریخ میں مسائل کے حل کے لیے بغاوتیں ہوتی رہی ہیں۔



جلا وطن کی واپسی درزبان کوئٹہ

دوسری جانب مزاحمتی تحریکوں کے ذریعے حکومت سے رنجش کے ازالے کی کوشش کی گئی۔17 ویں صدی میں ‘ڈگرز’ اور ‘لیویلرز’ کی تحریک نے ووٹ کے حق اور دار الامرا کے خاتمے کے لیے برطانوی حکومت پر دباؤ بڑھایا۔ نوآبادیاتی دور میں جنوبی ہندوستان کے موپلوں نے ٹیکسوں کے خلاف مزاحمت کی اور ان کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔نظام کو چیلنج کرنے کا تیسرا طریقہ جنگ آزادی تھی۔ یہ قابض نوآبادیاتی طاقت کے خلاف آزادی کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد ہوتی۔1857ء میں ہندوستانیوں نے لڑ کر برطانویوں کو نکالنے کی کوشش کی۔امریکیوں کی برطانویوں کے خلاف جدوجہد کامیاب رہی اور وہ آزاد ہوگئے ۔’کامن سینس‘ کے مصنف تھامس پن نے اس جنگ میں حصہ لیا اور ان کی کتابوں نے لوگوں کو آزادی کے لیے لڑنے پر تیار کیا۔ وہ اسے انقلاب کہتے تھے اور یوں اسے جنگ آزادی کی بجائے انقلاب کہا جانے لگا۔1789ء کے فرانسیسی انقلاب کے بعد انقلاب کی اصطلاح کو نئے معنی ملے ۔اس نے سیاسی و سماجی ڈھانچے اور ثقافتی اقدار کو بدل دیا۔یہ تبدیلیاں پرتشدد طریقوں سے آئیں۔ انقلابی طاقتوں نے ان عناصر کا خاتمہ کردیا جو نئے نظام کی راہ میں حائل تھیں۔ انقلاب روس اور چینی انقلاب میں بھی یہی کچھ ہوا۔انقلاب کے معنی سماجی تبدیلی کے ہیں۔ تاریخ دان تاریخی شواہد کی روشنی میں دو اعمال کی نشان دہی کرتے ہیں۔اول، جب سماج میں تبدیلی مرحلہ وار ہوتی ہے اور دوم، جب مختصر عرصے میں یہ سب کچھ تلپٹ کردیتا ہے ۔ اسے نظر میں رکھتے ہوئے تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ عوام کے طرز میں ’سائنسی انقلاب‘ آہستہ آہستہ مگر ٹھوس تبدیلیاں لایا۔کوپرنیکس، گلیلیو، ڈارون اور آئن سٹائن نے فطرت اور دنیا کے بارے میں خیالات کو بدل کر رکھ دیا۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے علم کو پھیلا دیا جس سے عوام اپنے ماحول کو عقلی بنیادوں پر سمجھنے لگے ۔ یہ عقیدہ پرستی کے خلاف عقلیت کی جیت تھی۔18ویں صدی کے ایک تاریخ دان ٹوئن بی نے صنعت کاری کے عمل کو انقلاب قرار دیا کیونکہ اس کی وجہ سے سماج جاگیرداری سے صنعت کی جانب منتقل ہوا۔ اس سے ایسی ثقافت نے جنم لیا جو جاگیرداری سے مختلف تھی۔نوآبادیات سے آزادی کے بعد بیشتر ایشیائی اور افریقی ممالک میں فرانس، روس اور چین کی طرز پر انقلاب نہیں آئے ۔ اس کے برخلاف فوجی بغاوتیں ہوئیں۔ انہیں بونا پارٹیز بھی کہا جاتا ہے کیونکہ 1799ء میں نپولین بونا پارٹ نے فوج کی مدد دے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا۔ اس نے اسمبلی ہال پر قبضہ کرلیا اور قانون سازوں کو یرغمال بنا لیا۔ اس نے رومی روایت کے مطابق خود کو ’فرسٹ کونسل‘، اعلیٰ ترین سیاسی منصب کے مالک قرار دے دیا۔بعد ازاں یہ ریت بن گئی۔فوجی جنرل حکومت کا تختہ الٹانے کا اعلان کرتا اور فوج ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن پر قبضہ کر لیتی۔ صدر اور وزیراعظم کی رہائش گاہوں پر قبضہ کرکے انہیں قیدی بنالیا جاتا۔ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی جاتی۔ٹریڈ یونین اور طلبہ تنظیموں کو غیر قانونی قرار دے دیا جاتا۔ ذرائع ابلاغ کو نصیحت کی جاتی کہ خبریں احتیاط سے دیں۔فوجی بغاوت کو جواز دینے کے لیے سابق حکومت پر بدعنوانی اور قومی معاملات میں بدانتظامی کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ ایوب خان نے مارشل لا لگایا اور اسے انقلاب کا نام دیا، البتہ تبدیلی کی بجائے اس کے دورحکمرانی میں جمہوری ادارے اور روایات تباہ ہوئیں جس کے نتیجے میں ملک بدانتظامی کا شکار ہوا۔عالمی سطح پر سرمایہ داری غالب ہے جس کی وجہ سے انقلاب کے بعد کسی اکیلے ملک کی بقا مشکل ہے کیونکہ اسے فوراً سرمایہ دارانہ قوتیں گھیر لیتی ہیں اور گلا گھونٹنے کے لیے پابندیاں لگا دیتی ہیں۔نگارا گوا میں ساندانیستا کے ساتھ یہی ہوا تھا۔کیوبا سخت جان ہے اور تمام تر پابندیوں کے باوجود قائم ہے ۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ عالمی سرمایہ داری سے مقابلے کے لیے انقلاب بھی عالمی سطح پر آنا چاہیے ۔اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
اصلی اور نقلی انقلاب
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں