اپوزیشن کا17جنوی سے حکومت مخالف تحریک چلا نیکا اعلان

پاکستان عوامی تحریک کے قائد علامہ طاہر القادری نے گزشتہ روز حکمران مسلم لیگ (ن) کو محروم اقتدار کرنے کیلئے 17جنوری سے فیصلہ کن مورچہ لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آج تک اقتدار میں شامل چند افراد سے استعفے مانگتے رہے ہیں لیکن اب بات بہت آگے چلی گئی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو حق دلانے کی بجائے انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت کو بھی اپنی ہٹ لسٹ پر رکھ لیا اور کہا کہ ’’ نواز شریف‘ شہباز شریف ‘ رانا اثناء اﷲ اور انکے حواری ہی نہیں بلکہ اب جہاں جہاں مسلم لیگ ن کی حکومتیں ہیں ‘ ان کا خاتمہ ہو گا۔‘‘ منہاج القرآن مرکز لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس کی سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے مستقبل کا لائحہ عمل واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی تحریک نے میاں شہباز شریف اور رانا ثناء اﷲکو 7جنوری تک مستعفی ہو نے کی ڈیڈ لائن دی تھی جو ختم ہو گئی اس لئے اب استعفےٰ مانگنے کی بجائے لینے کا مرحلہ شروع ہو گا اور ہم دباؤ بڑھا کر حکمران مسلم لیگ (ن) کے بر سر اقتدار افراد کو استعفے دینے پر مجبور کر دینگے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے اقتدار بچانے کیلئے ڈاکہ زنی کی اس لئے اب پس پردہ چہرے بھی بے نقاب ہو نگے۔ ’’ مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو حساب چکانا ہو گا۔‘‘ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ختم نبوت پوری قوم کا مشترکہ ایجنڈہ ہے جس پر کوئی اختلاف نہیں۔ اس معاملے پر بھی ہم ہر تحریک کی حمایت کرینگے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن بارے انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ نے قاتلوں کے چہرے بے نقاب کر دئیے۔ ہم نے بہت صبر کر لیا ۔ ذمہ داروں کو بہت وقت دیدیا مگر اب فیصلوں کی گھڑی آگئی۔ پیپلز پارٹی کے قمر الزمان کا ئرہ ‘ تحریک انصاف کے جہانگیر ترین اور مسلم لیگ قائد اعظم کے سینیٹر کامل علی آغا نے بھی عوامی تحریک کے فیصلوں کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برباد کرنیوالوں کو بر باد اور اس قابل نہیں چھوڑا جائیگا کہ وہ ملکی تقدیر کیساتھ مزید کھلواڑ کر سکیں۔ 17جنوری کو اپنے احتجاجی لائحہ عمل پر عملدرآمد کیلئے آصف علی زرداری ‘ عمران خان ‘ چوہدری شجاعت حسین ‘ سراج الحق سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین و راہنماؤں کو ساتھ چلنے کی دعوت دیدی گئی ہے۔ جہاں تک پاکستان عوامی تحریک کی احتجاجی تحریک کا معاملہ ہے تو بلا شبہ اسکے پیچھے ڈاکٹر طاہر القادری کی طویل شکرر نجیاں اور غم و غصہ ہے۔ 17جون 2014ء کو منہاج القرآن کے باہر جھڑپوں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران جن جانوں کا ضیاع ہوا، وہ نظر انداز کیا جا سکتا ہے نہ برداشت ‘ ایک جمہوری معاشرے میں چاہے طاقتور کیلئے انصاف سے بچنے کے غیر معمولی مواقع بھی موجود ہوں یا اقتدار کے ایوانوں میں خود کو محفوظ کرنے کے راستے ‘ مگر مظلوم کو انصاف ہر صورت ملنا چاہیے اور قانون کی حکمرانی ہر صورت غالب نظر آنی چاہیے۔



سفارتی محاذ کو تیز کرنے کی ضرورت

ڈاکٹر طاہر القادری گزشتہ تین برس سے اپنے حامیوں کے قتل میں ملوث افراد تلاش کر رہے ہیں جس کیلئے جسٹس باقر نجفی رپورٹ کا حوالہ دیا جاتا ہے تو کبھی سٹرکوں پر دھرنے دئیے جاتے رہے ہیں ۔ گزشتہ ایک برس کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اﷲ متعدد مرتبہ اپنی صفائیاں ‘ وضاحتیں اور بے گناہیاں پیش کرتے رہے ہیں ۔ اگر کوئی غیر جانبدار یا چشم کشا افراد ثالثی کیلئے میدان میں اُترتے تو شاید معاملہ احسن انداز سے طے ہو چکا ہوتا۔ یہ بات طے ہے کہ سانحہ ماڈ ل ٹاؤن میں 14قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں پنجاب پولیس کی غیر ذمہ داری کو سامنے رکھا جائے یا علاقے سے رکاوٹیں ہٹانے کے دوران اشتعال انگیز کیفیت پیش آئی ہو ، یہ بات طے ہے کہ جاں بحق ہونیوالے کسی صورت واپس نہیں آسکتے۔ عام سا معاملہ صرف یہ ہے کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بچتی ۔ یہ ممکن ہے کہ منہاج القرآن مرکز کے اندر اور باہر ڈاکٹر طاہر القادری کے حامی سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے جو کسی اشتعال کی صورت میں مقابلے پر آمادہ ہو گئے ہوں۔ حکمران کوئی بھی ہو ، حتی الامکان محض ڈرانے دھمکانے پر اکتفا کرتا ہے، البتہ کسی غیر معمولی یا سخت کشیدہ حالات میں فائرنگ ‘ لاٹھی چارج ‘ آنسو گیس اور گرفتاریوں کی نوبت آتی ہے۔ پنجاب حکومت نے جسٹس باقر نجفی کمیشن کو جوڈ یشل انکوائری کا حکم دیا تو عوامی تحریک کو اسکا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اپنے گواہ بلکہ چشم دیدشاہد ین پیش کرنے چاہئیں تھے۔ منہاج القرآن کے ذمہ دار سانحے کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب کمیشن رپورٹ کے چند کاغذات غائب ہو نیکا الزام معاملے کو مشکوک بنانے اور حکومت کو گنہگار ثابت کرنیکی کوشش ہی ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا فی برسوں سے نواز شریف کے مخالف گروپ میں سمجھے جاتے ہیں اسلئے انکی غیر جانبدارانہ سوچ کو بھی جانبداری کے انداز میں لیا جا سکتا ہے۔ 14اگست 2014ء کو لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ اور پھر دو ماہ تک ڈی چوک میں دھرنے کی بجائے اگر عوامی تحریک ناصر باغ یا لاہور کے کسی بھی اہم مقام پر دھرنا دیکر حقائق منظر عام پر لاتی تو شائد زیادہ بہتر تھا اب جبکہ نئے انتخابات سر پر ہیں تو پیپلز پارٹی ‘ جماعت اسلامی ‘ تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ بھی حکومت گرانے کیلئے خود کسی کندھے کی تلاش میں ہو سکتی ہیں ۔ اگر ڈاکٹر طاہر القادری کے احتجاج کے نتیجے میں حکومت گر بھی جاتی ہے تو نگران حکومتیں ا ور 90روز کا نیا صبر آزما مرحلہ شروع ہو گا۔ ماضی میں پانچ برس تک اقتدار میں رہنے کے باوجود پیپلزپارٹی اپنی شہید چیئر پرسن بینظیر بھٹو کے قاتل تک نہ پکڑ سکی حالانکہ آصف زرداری متعدد مرتبہ خود یہ کہہ چکے تھے کہ وہ قاتلوں کو جانتے ہیں۔ سیاست ‘ انصاف اور عدالتی وقار کے بھی الگ الگ معیار قائم ہو چکے ہیں۔ شریف خاندان کیخلاف کوئی انکوائری بھی شروع ہو تو حکمران خاندان کو گنہگار یاچور قرار دیدیا جاتا ہے لیکن پاکستان ٹی وی پر حملے کے تین سال گزرنے کے باوجود ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان خود انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور اپنے خلاف درج مقدمات کو انتقامی و سیاسی قرار دیتے رہے حالانکہ دونوں پارٹیوں کے سینکڑوں ارکان آج بھی اپنے خلاف درج ایف آئی آرز میں ضمانتوں پر ہیں اور ہر دو ہفتے بعد عدالتوں میں حاضر ہو رہے ہیں ایسے لگتا ہے پاکستان عوامی تحریک کے کندھوں پر اپنی بندوق کسی اور نے رکھی ہوئی ہے۔ آصف زرداری زمینی حقائق تسلیم کرنے کی بجائے 2013ء کو آر اوز کا الیکشن قرار دیکر دھاندلی کے دعوے کر رہے ہیں حالانکہ 11مئی 2013ء کے الیکشن کے وقت وہ خود ایوان صدر میں موجود اور انتخابی عمل کی نگرانی کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ گزشتہ عام انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کروانے کے مطالبات خود پیپلز پارٹی ‘ مسلم لیگ ن ‘ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف سمیت بیشتر سیاسی جماعتوں کیطرف سے کئے گئے تھے۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کیساتھ والہانہ عقیدت رکھنے والے پیپلز پارٹی کے کارکن اور جیالے بد قسمتی سے آصف زرداری کیلئے نرم گوشہ نہیں اختیار کر سکے۔ بلاول بھٹو کی شکل میں پیپلز پارٹی اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت بحال کر سکتی تھی مگر یہاں بھی آصف زرداری نے بلاول کو سائید لائن پر دھکیل رکھا ہے۔ آئندہ مارچ میں ہونیوالے سینٹ الیکشن کیلئے بھی ابھی گروپ بندیوں ‘ مختلف صوبائی اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی عددی بر تری کو استعمال کرنیکا سلسلہ جاری ہے مگر آصف زرداری نے اپنی ہمشیرہ اور قومی اسمبلی کی رکن فریال تالپور کو میاں رضا ربانی کی جگہ چیئر مین سینٹ بنانیکی کوششیں شروع کر دیں اور اس مقصد کیلئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ڈپٹی چیئر مین کا عہدہ پیش کر نیکی دعوت دی جارہی ہے۔ اپنی بیٹی آصفہ کو سیاسی میدان میں اتار کر عوامی حمایت حاصل اور بلاول بھٹو کو خورشید شاہ کی جگہ آئندہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے کی پلاننگ بھی زرداری ہاؤس میں ہو چکی ہے۔ ایسی ہی صورتحال تحریک انصاف کی بھی ہے، عمران خان خود کو مستقبل کا وزیر اعظم سمجھنے لگے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ میں بھی پرویز خٹک کی بجائے جہانگیر ترین کو نیا وزیر اعلیٰ نامزد کرنیکا اختیار دیا جارہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بڑی سیاسی پارٹیوں کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالنے والی مذہبی جماعتیں الیکشن 2018ء میں خود میدان میں اترنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پیر حمید الدین سیالوی ہوں یا جماعت الدعوۃ کے حافظ سعید ‘ متحدہ مجلس عمل ہو یا سنی اتحاد کونسل ‘ تمام مذہبی و دینی گروپ حصہ بقدر جثہ حاصل کرنے کیلئے سر گرم ہو چکے ہیں۔ شیعہ علماء کونسل بھی انتخابی معرکہ میں اپنی الگ شناخت لیکر داخل ہونا چاہتی ہے جبکہ ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی قومی اور سندھ اسمبلی میں جانے کیلئے انتخابی اتحاد کیلئے پھر سے اندرون خانہ رابطوں میں مصروف ہیں۔ پیر صاحب پگاڑا شریف اپنی فنکشنل مسلم لیگ کو جی ڈی اے( گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس) میں تبدیل کرنے کیلئے متحرک ہو چکے جس کیلئے غلام ارباب رحیم ‘ سید غوث علیشاہ ‘ چوہدری شجاعت حسین اور دیگر چھوٹے بڑے گروپوں کو متحد کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد میں الجھے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اﷲ زہری ‘ پشتو نخواہ ملی عوامی پارٹی ‘ نیشنل پارٹی ‘جمعیت علمائے اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی آئندہ اقتدار کی راہداریوں میں پہنچنے کیلئے نئی صف بندیاں کر رہے ہیں ایسے حالات میں ڈاکٹر طاہر القادری کہیں ٹریپ تو نہیں ہورہے؟ اپوزیشن جماعتیں وسیع تر ملکی مفادات ‘ امریکی دھمکیوں ‘ نریندر مودی کی چالوں ‘ افغانستان میں طالبان کے بڑھتے اثرو رسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرنے کی بجائے محض حکومتیں گرانے کی خواہش اور اپنے مطالبات نئے الیکشن تک ملتوی کریں تو بہتر ہو گا۔

فیصل آباد میں موٹر سائیکل ایمبو لینس سروس کا آغاز

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی خواہش اور خصوصی فنڈز کی فراہمی کے باعث 8جنوری کو فیصل آباد میں بھی ریسکیو 1122موٹر بائیک ایمبو لینس سروس کا آغاز ہو گیا۔ طبی و ایمر جنسی سازو سامان سے لیس 100موٹر بائیکس سوار گنجان آباد رہائشی علاقوں اور تنگ و تاریک گلیوں میں کسی بھی ایمر جنسی کی صورت میں تین سے پانچ منٹ کے اندر پہنچ جایا کریں گے تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ نصرت فتح علیخاں آڈیٹوریم میں موٹر بائیک ایمبو لینس سروس کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیر مملکت حاجی اکرم انصاری سمیت ارکان قومی و پنجاب اسمبلی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اﷲ نے حلف اٹھانے والے ریسکیورز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو حلف لیا ہے، اسکی 100فیصد پاسداری اور شہریوں کی توقعات پر پورا اتریں ۔ تیز رفتاری کیساتھ متاثرین کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ رانا ثناء اﷲ نے انکشاف کیا کہ فیصل آباد میں عنقریب موٹر بائیک ایمبو لینس سروس کیلئے مزید 100موٹر بائیکس فراہم کر کے خدمت خلق کی سہولت کو دگنا کر دیا جائیگا۔ جہاں تک موٹر بائیک ایمبو لینس سروس کا تعلق ہے تو تیزی سے بڑھتی آبادی ‘ بڑھتے ٹریفک حادثات اور خاص طور پر تنگ سٹرکوں پر آئے روز وقوع پذیر ہونیوالے ایکسیڈنٹس کیساتھ بو سیدہ عمارتوں کے انہدام ‘ تنگ ‘ تاریک گلیوں بازاروں میں رہائش پذیر افراد کو ہارٹ اٹیک ‘ شارٹ سرکٹ کے باعث آتشزدگی ‘ لڑائی جھگڑے جیسی صورتحال سے بچانے کیلئے پنجاب کے دوسرے بڑے شہر کیلئے ایسی بنیادی سہولیات انتہائی اہم بلکہ وقت کی ضرورت بن چکی ہیں۔ 32لاکھ شہریوں پر مشتمل اربن ایریا کیلئے جہاں اس وقت ایمبو لینس سروس اہم کردار ادا کر رہی ہے، وہیں محدود ایمبو لینس گاڑیوں اور عملے کے باعث لوگوں کا جان و مال کافی حد تک غیر محفوظ ہو چکا تھا۔ میاں شہباز شریف نے صوبے کے چیف ایگز یکٹو کے طور پر جو اچھے اقدامات کئے، ان میں کم خرچ اور نا ہموار وتنگ علاقوں تک رسائی کیلئے موٹر بائیک ایمبولینس سروس اہم کردار ادا کرے گی۔ ان موٹر بائیکس پر بلڈ پریشر مانیٹرنگ ‘ گلو کو میٹر ‘ آکسیجن سلنڈر‘ ادویات ودیگر طبی آلات کی موجودگی سے انتہائی قیمتی جانیں بچانے میں زبر دست مدد مل سکے گی۔ اس وقت پنجاب کے 9ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز پر 900موٹر بائیکس کی موجودگی مشکلات و پریشانی میں گھرے افراد کی بر وقت اور سبک رفتاری کیساتھ خدمت ایسااقدام ہے جسے ہر درد مند پاکستانی سراہے گا۔ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ ریسکیو 1122سروس کے باعث اب تک 50لاکھ سے زائد افراد کو ریسکیو‘ ایک لاکھ نوے ہزار مریضوں کو ہسپتال شفٹ کرنے کیساتھ240ارب روپے کے نقصانات بچائے گئے۔ امید ہے نئی سروس اہل فیصل آباد کیلئے بہترین فری طبی سہولیات کا باعث ثابت ہو گی ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
اپوزیشن کا17جنوی سے حکومت مخالف تحریک چلانیکا اعلان
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں