بلوچستان میں سیاسی افراتفری اورثناء اللہ زہری کااستعفیٰ

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے اورقبائلی سرداروں کے سحرمیں جکڑے صوبے بلوچستان کے 15ویں وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے ایوان میں اکثریت کااعتماد کھودینے پراستعفیٰ دے دیا جسے گورنر بلوچستان محمدخان اچکزئی نے منظوربھی کرلیا۔اپنے استعفے کی کچھ وجوہات انہوں نے لکھیں ،وہ مسائل ،محرومیوں اورخطرات میں گھرے اس صوبے کے سیاسی ،معاشی،معاشرتی بلکہ معروضی حالات کی واضح نقشہ کشی ظاہرکرتی ہیں۔نواب ثناء اللہ زہری اپنے خلاف ابلنے والے تنقیدی لاوے کے محرکات کوسمجھتے ہوئے بیرون ملک کادورہ مختصر کرکے تین روز قبل ہی واپس بلوچستان پہنچے تھے ۔نواب ثناء اللہ زہری 24دسمبر 2015ء سے لے کر9جنوری2018ء تک وزیراعلیٰ کے عہدے پرفائز رہے۔انہیں65ممبران بلوچستان اسمبلی میں سے52کااعتمادحاصل تھاجبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے آٹھ ارکان سمیت صرف13ممبروں پرمشتمل کمزورسی اپوزیشن کاسامنارہا۔مستعفی ہونے کے بعدانہوں نے کہاکہ وہ اپنے ساتھیوں کے اعتماد سے محروم ہوچکے تھے ،جب حکمران مسلم لیگ (ف)سے تعلق رکھنے والے ارکان ہی ان کے ساتھ نہیں رہے تواقتدار سے چمٹے رہنے کاکوئی جواز نہیں ۔انہوں نے دوران اقتدار ساتھ دینے والے ساتھیوں کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ میں نے سب کوساتھ لے کرچلنے کوترجیح دی اوراب حکومت بچانے کے لیے ایوان میں مزیدتقسیم پیدانہیں کرناچاہتا۔عوام نے چاہا توبطورایم پی اے خدمت جاری رکھوں گا۔گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کااجلاس شروع ہواتوآئین کے آرٹیکل 110کے تحت قرارداد عدم اعتماد پیش کی جانی تھی مگر ثناء اللہ زہری خودمنصب سے الگ ہوگئیجس کے بعداجلاس ملتو ی کردیاگیا۔خیال ہے کہ آئندہ چندروز کے اندربلوچستان اسمبلی نیاقائدایوان منتخب کرلے گی۔اس سلسلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف اوروزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے مشاورت شروع کردی ہے۔



اپوزیشن کا17جنوی سے حکومت مخالف تحریک چلا نیکا اعلان

ون یونٹ کے خاتمے کے بعد1970ء میں بلوچستان کی صوبائی حیثیت بحال ہونے کے بعد1972ء سے لے کراب تک دووزرائے اعلیٰ تحریک عدم کاشکارہوئے جن میں میرتاج محمدجمالی اورسرداراخترجان مینگل شامل ہیں جبکہ گزشتہ روز نواب ثناء اللہ زہری بھی ایوان کااعتماد کھوبیٹھنے کے باعث عہدے سے الگ ہوئے۔ معدنی اورقدرتی وسائل سے مالامال اورساحل سمندرجیسی سہولتیں رکھنے کے با وجود پاکستان کے سب سے پسماندہ صوبے میں گزشتہ15برس سے سیاسی حالات ہمیشہ نشیب وفراز کانقشہ پیش کرتے رہے ہیں۔دسمبر2002ء کووزیراعلیٰ منتخب ہونے والے جام یوسف کے بعدنواب اسلم رئیسانی اورآخر میں ڈاکٹرعبدالمالک اڑھائی برس تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ اس عرصے کے دوران امریکہ کاافغانستان پرحملہ اوربعدازاں قبضہ رہا۔سابق گورنر اوروزیراعلیٰ نواب اکبربگٹی کی ہلاکت اورپھربھارت اورافغانستان کی خفیہ تنظیموں کی بڑھتی مداخلت کے باعث کبھی بھی یہاں پرسکون حالات قائم نہ ہوسکے ۔ریکوڈک کا معاملہ ہویاگوادر کوبین الاقوامی طرز کی بندرگاہ بنانے کامنصوبہ ،غیرملکی مداخلت سمیت یہ علاقہ سمگلنگ،انسانی سمگلنگ اورقبائلی طرز حکمرانی کے مناظردیکھتا رہا۔2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن )23 نشستوں کے ساتھ بلوچستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کرابھری مگرایوان میں سادہ اکثریت نہ ہونے کے باعث اسے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ،قائداعظم لیگ اورنیشنل پارٹی کوساتھ ملاکر مخلوط حکومت بنانی پڑی جبکہ وفاق میں مسلم لیگ ن کی اتحادی جمعیت علمائے اسلام ف ،بلوچستان نیشنل پارٹی،مجلس وحدت المسلمین،نیشنل عوامی پارٹی اوراے این پی پرمشتمل13رکنی اپوزیشن قائم ہوگئی۔نیشنل پارٹی کے ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ ایک سیاسی معاہدے کے تحت7جون2013ء سے 23دسمبر2015ء تک اڑھائی سال کے لیے وزارت اعلیٰ پرفائز رہے جس کے بعد باقیماندہ مدت کے لیے مسلم لیگ ن کے نواب ثناء اللہ زہری نے عہدہ سنبھال لیا۔بلوچستان کی بڑی سیاسی پارٹی ہونے کے باوجود اس کے ایم پی ایز وفاق اوراپنے سیاسی قائد نوازشریف کے ساتھ مشاورت سے محروم اورصوبائی مسائل پر اپنے تحفظات وضروریات کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے کسی تائید وحمایت سے محروم رہے ۔ثناء اللہ زہری کااستعفے بھی دراصل ان کی محرومیوں اورغم وغصے کاردّعمل تھا۔صالح محمد بھوٹانی جونومبر2007ء سے 8اپریل2008ء تک نگران وزیراعلیٰ کے طورپربھی فرائض سنبھال چکے اوراب بھی بلوچستان اسمبلی کے ارکان میں انتہائی احترام کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں،ان کے ساتھ جان محمدجمالی،میرسرفراز بگٹی اورایک حدتک چنگیز خان مری بھی متوقع وزیراعلیٰ کے طورپر سامنے آچکے ہیں ۔دیکھنایہ ہے کہ ثناء اللہ زہری ترقیاتی فنڈز کے اجراء جیسے معاملے پر تنقیدیانفرت کانشانہ کیوں بنے ؟گورنر محمدخان اچکزئی اوران کے بھائی محموداچکزئی کابلوچستان کے انتظامی معاملات میں انتہائی اثرورسوخ اورنواب ثنا ء اللہ زہری چنددوستوں کونوازنے کے الزامات کی زد میں رہے ہیں ۔معاملات کوکنٹرول کرنے اورچندارکان کے باغیانہ انداز کاتوڑ کرنے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی دوروزقبل کوئٹہ پہنچے مگر حالات ناقابل اصلاح جیسی سطح پرپہنچنے کے باعث خوداپنی پارٹی کے وزیراعلیٰ کواستعفیٰ کامشورہ دینے پرمجبورہوگئے ۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کایکم جنوری سے جارحانہ انداز،بلوچستان سے گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن،بھارتی ،اسرائیلی اورافغان حکمرانوں کی زیرزمین منفی ومنافقانہ سرگرمیوں ،ان کی خفیہ ایجنسیوں را،موساداوراین ڈی ایس کی زیرزمین سرگرمیوں
،بلو چ راہنما براہمداغ بگٹی کی پاکستان مخالف سرگرمیوں اورگریٹربلوچستان کے لیے بیرون ملک بیٹھ کروطن دشمن حرکتوں کے ساتھ ایرانی حکمرانوں کابلوچستان کی سرزمین کواپنے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے کاواہمہ ایسے عناصر ہیں جنہیں وفاقی حکومت کوسمجھنا اوریہاں حالات ہرصورت پرسکون رکھناناگزیرہے۔گزشتہ چاربرس کے دوران پہاڑوں میں روپوش بلوچ علیحدگی پسندوں کابڑی تعداد میں ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونانہ صرف گریٹربلوچستان کے غبارے سے ہوانکالنے کاباعث ثابت ہورہاتھا بلکہ اقتصادی راہداری کے باعث بلوچستان تیزی سے پاکستانی معیشت میں مرکزی کردارکاحامل یونٹ بننے کی طرف سفرشروع کرچکاہے۔ایسے حالات میں ہمیں جس پرسکون اورعوامی نمائندگی والے بلوچستان کی ضرورت تھی وہ ضرورت یاخواہش بھی خطرات میں گھری نظر آرہی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب میاں نوازشریف کے عدلیہ اوراسٹیبلشمنٹ پرالزامات سامنے آرہے ہوں ،وزیراعظم شاہدخاقان عباسی ’’محدوداختیارات‘‘ کے باعث کوئی جاندار کرداراداکرنے سے قاصر،ڈاکٹرطاہرالقادری چاروں حکومتیں گرانے اورپیرحمیدالدین پنجاب کے وزیرقانون راناثنا ء اللہ کے استعفے کے پیچھے پڑے ہوئے ،تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی آئندہ انتخابات سے قبل اپنے لیے’’مناسب ماحول‘‘ پیداکرنے کی راہ پرگامزن ہیں انتہائی سوجھ بوجھ اورقومی مفادات کے تحفظ کے لیے غیرمعمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرناپڑے گا۔نئے الیکشن جولائی2018ء تک ہونے ہیں جس کے لیے مئی تک موجودہ اسمبلیوں کی تحلیل ناگزیرہوگی۔اگربلوچستان میں امن وسکون بحال نہ ہوا توزیرزمین دبی چنگاریاں پھرشعلوں کی صورت اختیار کرسکتی ہیں۔ سینٹ الیکشن کے لیے مارچ 2018ء میں نئی صف بندیاں یقینی بنانا بھی حکمران مسلم لیگ(ن)کے لیے بھاری پتھرہے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اخترمینگل کی طرف سے وسیع ترجمہوری تسلسل کے لیے نئی حکومت سے تعاون کی یقین دہانیوں کے ساتھ ہی موجودہ بلوچستان اسمبلی کے قائم رہنے کی گارنٹی دینے سے انکاراس کی تحلیل ،معطلی اورکسی نئے گورنر راج کی طرف اشارہ کررہی ہے ۔گزشتہ روز ہی امریکی خفیہ اداروں کی طرف سے پاکستان میں عدم استحکام اورافراتفری کے ماحول کو تیز ترکرنے کے لیے70ارب ڈالرجیسی خطیررقم مختص کرنے کی خبریں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہرقدم سوچ سمجھ کر اٹھاناپڑے گا۔میاں نوازشریف کو اس صورتحال کاادراک اوربلوچستان کوپرامن رکھنے کے لیے جارحیت آمیز روش چھوڑکرملک وقوم کی بہتری کاسوچناپڑے گا ۔

قائداعظم کی نواسی کاکسمپرسی کی حالت میں انتقال

بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی نواسی خورشیدبیگم کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں طویل علالت کے باعث انتقال کرگئیں (اناللہ اناالیہ راجعون) 67سالہ خورشیدبیگم کو چندقریبی عزیزوں اوراہل علاقہ کی موجودگی میں سی ون ایریا قبرستان لیاقت آباد میں سپردخاک کردیاگیا۔بابائے قوم کی بھتیجی شیریں بائی کی بیٹی اچھے علاج معالجے،بہترین نگہداشت اورمعیاری ادویات وریاستی توجہ سے محروم جبکہ اہل اقتدار کی بے حسی کاشکارہوکر دارفانی سے کوچ کرگئیں مگراپنے پیچھے بہت سے سوالات ضرورچھوڑگئیں ۔ایک ایساملک جواسلامی روایات کاحامل اورجہاں بسنے والے افراد بہترین سہولیات سے استفادہ کررہے ہیں ،اپنے بانی کی میراث اورقریبی رشتہ دار کی حفاظت جیسے قومی فر ض سے محروم رہا جولمحہ فکریہ ہی نہیں ،بے حسی وخودغرضی کی شرمناک مثال بھی ہے۔خورشیدبیگم اپنی موت سے قبل پندرہ روز تک وینٹی لیٹر پررہیں مگرکوئی حکومتی شخصیت ،عہدیدار یاسیاستدان ان کی خیریت دریافت کرنے گیانہ کسی مخیرشخص ،تنظیم یاگروپ نے ان کے علاج معالجے میں کسی قسم کاتعاون کیا۔گردش زمانہ اورحالات کے بے رحم تھپڑوں کو سہتے سہتے وہ بالآخر خالق حقیقی سے جاملیں مگران کی نمازجنازہ یاتدفین تک میں حکمران ،سیاستدان ،سول سوسائٹی ،میڈیاسمیت تحریک پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد یاان کے عزیزواقارب نے بھی پہنچنے کی زحمت نہیں کی۔اتنی بے حسی،بے قدری یابے مروتی یہاں بسنے والے ہرشخص کے لیے تازیانہ ہے ۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی ہوں یاسندھ کے وزیراعلیٰ انہیں محترمہ خورشیدبیگم کے متعلق علم ہوناچاہیے تھا۔سات سمندرپارکی خبروں سے آگاہ ہونیو الانام نہاد بلکہ مادرپدرآزادمیڈیا بھی بانی پاکستان کے اہل خانہ کے بارے میں بے خبرنکلا۔کسی فنکارکی شادی ہوتوایک ایک ہفتہ پروگرام نشرکرنے والے نیوزاورفیملی چینل کیاخورشیدبیگم کی بیماری اورہسپتال میں بسترمرگ پرپڑاہونے سے بھی لاعلم تھے؟آصف زرداری،بلاول بھٹو،ایم کیوایم کے فاروق ستار اگربے خبرہونے کا اظہارکریں تومزیدشرمناک معاملہ ہے۔ آف شورکمپنیوں میں اربوں کی سرمایہ کاری ،دبئی اورابوظبہی میں اربوں کے محل اورقیمتی جائیدادیں رکھنے والے توشایدصرف اپنے سرمائے کے تحفظ اورمزیدامیرہونے کاسوچ رہے ہوں مگر ملک بھر میں خیراتی ہسپتال بنانے ،فری دسترخوان سجانے والے بحریہ ٹاؤن کے ریاض ملک بھی بے خبرہوں گے ،یہ سمجھ نہیں آتی۔قومی وسائل کی لوٹ مارمیں مصروف حکمرانوں ،ان کے حاشیہ برداروں،سہولت کاروں اوربڑے بڑے سرمایہ داروں اورخاص طورپر سابق وزیراعظم نوازشریف کوبانی پاکستان کے اہل خانہ کے بارے میں علم ہوناچاہیے تھاکیونکہ ان کے دوسرے دوروزارت عظمیٰ کے دوران1998ء میں کراچی کی ایک شاہراہ پرخورشیدبیگم کااکلوتا بیٹاسکندرجناح پولیس مقابلے میں ہلاک ہوچکاتھا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران وخوشحال طبقہ مرنے کے بعدہی سہی،قائداعظم کی نواسی کی قبریعنی آخری نشانی کومحفوظ کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھائیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
بلوچستان میں سیاسی افراتفری اورثناء اللہ زہری کااستعفیٰ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں