دشمن تلاش کرنے کی ضرورت نہیں

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں سخت بیان کو پاکستان کے لئے شرمناک قرار دیا ہے ۔ پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پہلے کبھی اتنی ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ایک طرف ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے اور سب سے بڑی پارٹی کے سربرا قوم کو درپیش مسائل کے حوالے سے اس قدر تشویش کا اظہار کررہے تھے لیکن اگلی ہی سانس میں انہوں نے عدلیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کوئی عدالت کسی فوجی کے خلاف فیصلہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتی، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ وہ عدلیہ کے نہیں بلکہ بعض ججوں کے خلاف ہیں۔ گویا وہ یہ اصول تسلیم کروانا چاہتے ہیں کہ جب کوئی جج کسی کے خلاف کوئی فیصلہ دے تو متاثرہ فریق کو ان ججوں کے خلاف مہم جوئی کا اخلاقی اور قانونی حق حاصل ہو جاتا ہے ۔ ملک کے اہم ترین لیڈر کا یہ رویہ نہ صرف ناقابل فہم ہے بلکہ اس سے تصادم، سیاسی انتشار اور ذاتی خواہشات کی تکمیل کے مناظر مزید واضح ہوتے ہیں لیکن اس کھیل میں نہ تو نواز شریف اکیلے ہیں اور نہ ہی اس لڑائی میں صرف سیاستدان ایک دوسرے کا گریبان پکڑے ہوئے ہیں،بلکہ اب یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ ملک کے طاقتور ادارے سیاسی بساط پر اپنا کنٹرول بحال رکھنے کے لئے چالیں چلنے اور مداخلت کرنے کا ہر ہتھکنڈا اختیار کررہے ہیں۔
اور یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آرہا ہے جب امریکہ پاکستان کو دباؤ میں لانے اور اس سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کے لئے ہر ممکن اقدام کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ یکم جنوری کو صدر ٹرمپ نے پاکستان کو جھوٹا اور فریبی قرار دیا اور اس کے بعد ہر سطح کے امریکی عہدیداروں نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کا سلسلہ شروع کردیا۔ پینٹاگون کے گزشتہ روز کے بیان کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ پاکستان کو افغان جنگ میں ‘کرائے کی فوج ’ کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستانی حکومت اس پر چیں بچیں ہے لیکن ملک کی فوج یہ سوچ رہی ہے کہ امریکی قیادت کا ‘غصہ’ کس طرح کم کیا جائے ۔ سیاست دانوں کے بارے میں سخت اور براہ راست ٹویٹ کرنے یا بیان جاری کرنے کی شہرت رکھنے والے آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور بھی صرف افسوس کا اظہار کرنے سے آگے بڑھنے کے لئے تیار نہیں ہیں جبکہ ملک کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے اس بیان کے بعد کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون اور اشتراک کا رشتہ ختم ہو چکا ہے ، اب ملک کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ‘پاکستان نے صدر ٹرمپ کے توہین آمیز ٹویٹ پیغام کے بعد امریکہ کے ساتھ فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کا سلسلہ معطل کردیا ہے تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ نے ملک کے وزیر دفاع کے اس بیان سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارت خانہ کو اس بارے میں کوئی باقاعدہ اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔



اصلی اور نقلی انقلاب

گویا ملک کا وزیر دفاع اپنے ہی دارالحکومت میں ایک ایسا بیان جاری کررہا ہے جس کی نہ تو کوئی عملی حیثیت ہے اور نہ اس کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنی حکومت کے اس فیصلہ پر عمل درآمد کروا سکے کیوں کہ پاکستان میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے تو ہر موڑ پر دکھائی دیتے ہیں لیکن اس بات کا ادراک رکھنے والے بھی سب ہی ہیں کہ وزیر دفاع کی حیثیت دستخط کرنے والی مشین سے زیادہ نہیں ہے ۔ ملک کا اصل اختیار وزیر اعظم سے بھی پہلے فوج کے سربراہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے کیوں کہ ستر برس کی تاریخ میں یہ طے ہو چکا ہے کہ فوج کی قیادت خود کو ملک کے مفادات اور معاملات کا سب سے بڑا محافظ سمجھتی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہتی ہے ،یعنی قومی مفاد کا تحفظ کرنے کے اس یقین کے ساتھ کسی منتخب وزیر اعظم کو پھانسی کے تختے پر چڑھایا جا سکتا ہے اور کسی کو طیارہ اغوا کرنے کا مجرم قرار دے کر ملک بدر کیا جاسکتا ہے ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کے وزیروں اور حکمرانوں کی باتوں کو بس اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں یعنی ان پر بچہ لوگ تالی بچا سکتے ہیں یا نعرے لگا کر دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ یوں کہ اس سے زیادہ ان بیانات کو کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ خرم دستگیر خان بھی سیاست کی اتنی دھول تو چاٹ چکے ہیں کہ انہیں بھی اپنی بات کی اہمیت اور اپنے اختیار کی حیثیت کا اندازہ ہوگا لہذا خفت مٹانے کے لئے خود ہی اپنی تقریر میں اس بات کا اضافہ کرنا بھی ضروری سمجھا کہ پاکستان نے 2011 ء میں سلالہ پر حملہ کے بعد نیٹو سپلائی لائین بند کرنے کا درست فیصلہ کیا تھا لیکن موجودہ حالات میں پاکستان اس ہتھیار کو ابھی استعمال کرنا نہیں چاہتا کیوں کہ اسے کسی مناسب موقع پر استعمال کیا جائے گا۔ ملک کی تاریخ میں یہ مناسب موقع صرف اس وقت آتا ہے جب فوج کی قیادت اسے ضروری سمجھتی ہے ۔ فی الوقت فوج جو سمجھتی ہے وہ خود تو کہنے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن وزارت خارجہ کی سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ نے ان الفاظ میں اسے بیان کیا ہے کہ ‘پاکستان جس حد تک بھی ممکن ہوگا امریکہ کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا کیوں کہ امریکہ نہ صرف یہ کہ دنیا کی سپر پاور ہے بلکہ وہ اس علاقے میں بھی موجود ہے ۔ اس طرح وہ ہمارے ہمسایہ ہی کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
یہی بیان دراصل پاکستانی ‘حکمرانوں ’ کا اصل مؤقف ہے ۔ اب وزیر خارجہ ہوں یا وزیر دفاع ان کی باتوں کا حظ تو اٹھایا جا سکتا ہے لیکن کسی کو انہیں ملکی پالیسی سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے کیوں کہ اس پالیسی کا فیصلہ ان
راہداریوں میں ہوتا ہے جہاں سے ضروت پڑنے پر یہ صدا بھی آسکتی ہے کہ ‘ہمیں امریکی امداد نہیں چاہئے بلکہ دہشت گردی کے خلاف اپنی قربانیوں کا اعتراف چاہئے ’ لیکن جب امدا معطل کرنے کا اعلان سامنے آجائے تو اسے مؤخر کروانے یا امریکیوں کا غصہ کم کرنے کے لئے وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں جو گزشتہ 65 برس کے باہمی تعلقات میں سیکھے جا چکے ہیں۔ یہ علیحدہ سوال ہے کہ کیا اب بھی آزمودہ طریقے کارآمد ہوں گے کیوں کہ اب امریکی اسٹیبلشمنٹ وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ جیسے جنونی صدر کی موجودگی کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو خاک چٹوانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے ۔ اس دست بدست لڑائی میں کون کامیاب ہوگا ، یہ کہنا تو قبل از وقت ہے لیکن پاکستان کی کمزور پوزیشن کا اقرار کرنے کے لئے افلاطون ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔
بظاہر برابری اور لاتعلقی کے اظہار کے لئے وزیر بیان دے رہے ہیں اور امریکیوں کو ‘زمینی حقائق’ سے آگاہ کرنے کے لئے دفاع پاکستان کونسل کے ولولہ انگیز جلسے سجائے جا سکتے ہیں جن میں حافظ سعید جیسا ‘محب الوطن’ بتاتا ہے کہ پاکستان کیوں کر امریکہ سے دو دو ہاتھ کرسکتا ہے ۔ یا پھر کوئی ہائی کورٹ صوفی محمد جیسے دہشت گرد کی ضمانت قبول کرکے امریکیوں کی آنکھیں کھول سکتی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور نظام امریکہ کو زچ کرنے کے لئے کیا کیا قدم اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہے ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ سارے ہتھکنڈے آزمائے ہوئے ہیں اور جب پاکستان پر ڈبل گیم کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے تو دراصل انہی پرانے ہتھکنڈوں پر شکوہ شکایت بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ امریکیوں نے پاکستان کو جو دھوکے دیئے اس کا بیان اس لئے غیر اہم ہو جاتا ہے کہ ایک تو امریکہ جنگل کا بادشاہ ہے وہ جو چاہے کہے اور کرے ۔
دوسرے اس کے تمام اقدامات میں کسی نہ کسی طرح پاکستان کے قائدین شامل رہے ہیں۔ جب امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے قوم کی بجائے اداروں اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر اتفاق یا اختلاف کیا جائے گا تو اس کا فائدہ تو شخصی ہوگا لیکن نقصان پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔
اس قوم کے لوگوں کو ان معاملات سے دوررکھنے کے لئے میڈیا اور سیاست دانوں کے ذریعے ایسا اہتمام کرنا ہرگز مشکل نہیں ہوتا جو ہر وقت اسکینڈل ، الزام ، بدخوئی اور سازش کی کہانیاں سننے کی خوگر ہو چکی ہو۔ ملک میں گزشتہ نو دس روز کے دوران سب سے نمایاں خبروں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں اہم ترین ایک سیاستدان کی شادی کے حوالے سے بال کی کھال اتارنے کا معاملہ ہے ، عدالتوں اور خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کا ذکر ہے یا پھر اب چند روز سے بلوچستان میں حکومت کو گرانے کا کھیل رچا کر ہر کسی کو قومی مفاد، جمہوریت اور عوام کی ضرورتوں کے بارے میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کا سنہرا موقع فراہم کردیا گیا ہے ۔ یہ بحث بے حد دلچسپ اور مزیدار ہے کہ کیا سینیٹ کے انتخاب ہو سکیں گے ، کیا نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف عدام اعتماد کی قرار داد سامنے لانے میں خفیہ ایجنسیاں شامل ہیں اور کیا انہوں نے وزیر اعظم کے کہنے پر استعفیٰ دیا ہے یا خود ہی پارٹی اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں یہ فیصلہ کرلیا۔
کوئی یہ کہنے اور جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ جو جمہوریت منتخب نمائیندوں کو بے نوا اور بے اختیار بنا رہی ہے ، جو منتخب حکومت اور اسمبلی اہم قومی معاملات پر غور اور فیصلے کرنے کی صلاحیت اور اختیار سے محروم ہے ، اس کی اصلاح کے لئے سب کو مل کر غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس اشتراک کی راہ میں ذاتی انا اور مفاد دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ ایسے میں فیصلے تو وہیں ہوں گے جہاں پالیسیاں بنائی جاتی ہیں اور قومی مفاد کا تعین کیا جاتا ہے ۔ باقی قوم لیڈروں کی شادیوں اور درآمد شدہ احتجاجی ملاّ کے لانگ مارچ کے بارے میں سرخوشی اور سنسنی محسوس کرکے اپنا پیٹ بھر سکتی ہے ۔
یہ حالت ایک ایسی قوم کی ہے جسے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی طرف سے اپنی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے ۔ سنسنی اور الزام تراشی کے ہجوم میں یہ طے کرنا بھی محال ہے کہ اس معاملہ پر تحمل سے غور کرنے کی ضرورت ہے یا واضح طور سے ترک تعلق کا اعلان اہم ہے ۔
کون طے کرے کہ قوم کا مفاد کیا ہے ۔ کیسے پتہ چلے کہ امریکہ سے دوستی یا دشمنی میں ملک کے غریب کی بھوک میں اضافہ ہوگا یا اسے سہولت حاصل ہوگی۔ گلیوں محلوں میں امن بحال ہوگا یا دہشت کا ایک نیا عفریت منہ پھاڑے قوم کے بچوں اور جوانوں کو نگلنے کے لئے سامنے آئے گا۔ ایسے میں کیسے طے ہوگا کہ امریکہ ہمارا دوست ہے یا دشمن۔ یوں بھی اس قوم کو دشمن تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے جو خود ہی اپنی سب سے بڑی دشمن ہو۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
دشمن تلاش کرنے کی ضرورت نہیں
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں