ایک لاوارث اور لادین معاشرہ

اور یہ چوتھی معصوم بچّی ہے جسے قصور میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہے اور فیصل آباد سے پھر ایک نویں جماعت کے طالب علم کی لاش برآمد ہوئی ہے جو لاپتہ تھا ۔ اُسے بھی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد ہلاک کیا گیا ہے اور یہ اپنی نوعیت کی پہلی واردات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی فیصل آباد کم سن لڑکوں کے قتل اور جنسی زیادتی کی وارداتوں کی وجہ سے ایک عرصے سے خبروں میں رہا ہے ۔ حکومت ایک شخص کی اقتدار کی کرسی بحال کروانے میں اپنی پوری قوت صرف کر رہی ہے ۔ اُس کے نزدیک قوم کا سب سے اہم مسئلہ یہی ہے کہ معاشرے کا امن و استحکام بحال ہو نہ ہو مگر نواز شریف بحال ہوجائے ۔ اس کے لیے موجودہ ظِلّی وزیر اعظم کی پوری کابینہ اور نون لیگ کے سارے عہدیدار تن من دھن سے بلکہ جعلی نوٹوں کی طلسمی قوت سے نا اہلی کو اہلیت میں بدلنے کے لیے کوئی دقیقہ بھی فروگذاشت نہیں ہونے دے رہے ۔ مگر قوم کی معصوم بیٹیاں اور بیٹے چونکہ شریف خاندان کے بچے بچیاں نہیں ہیں اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا اور چونکہ قصور میں ہوس کا نشانہ بننے والی بچی کا جنازہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پڑھایا تھا اور جنازے کے بعد احتجاج پھوٹ پڑا تھا ، اس لیے سزا کے طور پر دو مظاہرین سے زندگی چھین لی گئی ۔ یہ حکام کی طرف سے طاہر القادری کو انتباہ ہے کہ چودہ لاشوں میں دو اور شامل کر دی ہیں ، کر لو جو کرنا ہے ۔
اس صورتِ حال کے دو پہلو ہیں ۔ ایک قانونی اور دوسرا مذہبی ۔ ملک کے مسلمان عوام کو دین سکھانا ، صادق و امین بنانا اور خُلقِ محمدی ﷺ کے راستے پر ڈالنا مذہب کی ذمہ داری ہے لیکن فیصل آباد میں کم سن لڑکوں کو جنسی درندگی کے بعد قتل کی وارداتیں ایک دینی مدرسے میں سرزد ہوئی ہیں ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان وارداتوں پر مذہبی ادارے اور اکابرین خاموش رہے ہیں اور دینی مدرسے کی بے حرمتی پر اُن کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ شاید اُن کے کان پگڑیوں کے شکنجے میں اس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ وہاں جوں کے رینگنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی ۔ پاکستان میں مذہب ایک جنسِ تجارت ہے جو دو تین کروڑ ملاؤں ، قاریوں ، علماء اور خطیبوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے ۔ کسی کو اس کی فکر نہیں کہ مسلمانوں کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سکھانا اُن کی ذمہ داری ہے ۔ معاشرے میں بے راہروی کے شواہد یہ کہتے ہیں کہ معاشرے میں دین نافذ کرنے والے ادارے یا تو ناکام ہو چکے ہیں یا اپنی موت مر چکے ہیں جن کی لاشیں ملاّ لوگ اپنے کندھوں پر اُٹھائے پھرتے ہیں اور اسے اسلام کہتے ہیں ۔ اوراُن کے پاس ایک دفاعی ڈھال یہ ہے کہ ملک میں قانون موجود نہیں حالانکہ قانون تو موجود ہے مگر قانون کی پابندی کرنے والے لوگ موجود نہیں ۔



ملک کو بدلنے کے لئے ہر فرد کو بدلنا ہوگا

قرآن میں واشگاف الفاظ میں لکھا ہے کہ کتاب اللہ کے ایک حصے کو ماننا اوردوسرے سے انکار کرنا کفر کی ذیل میں آتا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا عام پاکستانی جس کا تعلیمی معیار واجبی ہے اور جس کے سیاستدانوں اور وزیر وں کا دینی مبلغِ علم یہ ہے کہ اُنہیں سورہ ء اخلاص تک نہیں آتی وہاں اسلام کیسے نافذ ہو۔ اگر شرفا کو چھ کلمے سنانے اور ایمان مجمل و مفصل کا متن زبانی سنانے کو کہا جائے تو شاید وہ اپنا مونہہ چھپا کر بھاگ جائیں ۔ ناظرہ خوان معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ وہاں مذہب ایک مخصوص مذہبی طبقے کی ملکیت ہوتا ہے جس سے وہ اپنے یورو اور ڈالر کھرے کرتے ہیں اور بونس میں روپے بھی وصول کرتے ہیں ۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں پاکستانی معاشرہ فی زمانہ ایک لادین معاشرہ بن چکا ہے جہاں عام آدمی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بجائے اپنے اپنے فرقے کے علمبرداروں کی اطاعت کرتا ہے کیوں کہ بے چاروں کو علم ہی نہیں اللہ کون ہے اور اس کی اطاعت کیا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کیا ہیں اور ان پر کس طرح چلنا ہے ۔ اُنہیں تو عشقِ رسول کا تعویذ دے کر فارغ کردیا گیا اور وہ بے چارے بے دام غلاموں کی طرح اپنے مذہبی آقاؤں کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں اور اپنے اپنے شیوخ سے محبت کو اسلام سمجھتے ہیں ۔ مذہبی حوالے سے یہ معاشرہ ہر اعتبار سے لادین ہے اور لادینیت کی وبا پینے کے گندے اور آلودہ پانی کی طرح عام ہے ۔ ہر شخص داڑھی ، پگڑی اور شرعی پاجامے کو اسلام سمجھتا ہے اور اعمال میں مسجدوں کی اذانیں ، نمازیں اور خطبے ہیں جو عوام کا باطنی میل کچیل صاف کرکے اُنہیں صیقل تو نہیں کر سکتے مگر مذہب کا ڈھول خوب پیٹتے ہیں ۔ بُلھے شاہ نے اس صورتِ حال پر اپنا بیان یوں رقم کیا تھا:
مُلّا اتے مشالچی ، دونویں اِ کو چِت
لوکاں ونڈن چاننا آپ ہنیرے وچ
پاکستانی معاشرے میں قانوں کی حکمرانی تو پہلے ہی نہیں تھی اور اب مذہب بھی صرف ایک نمائشی ادارہ ہے جس میں اسلامی نظریاتی کونسل سے لے کر وفاقی شرعی بورڈ اور علما کی کروڑوں مساجد سے لے کر شیوخ کی لاکھوں گدیوں تک سب اسلام کو عملاً نافذ کرنے میں ناکام ہیں ۔
وہ اسلام جو کافر کو دین دار ، قانون شکن کو قانون کا پابند اور انا پرست کو بندہ ء عجز انکسار بناتا ہے پاکستان میں کہیں نہیں ہے ، کہیں نہیں ہے اور اس کا دعویٰ کرنے والے نہ صرف خود دھوکے میں ہیں بلکہ اُمتِ مسلمہ کو بھی دھوکے میں ڈالے ہوئے ہیں ۔ اور یہی ہے ایک لاوارث اور لادین معاشرے کی کہانی ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
ایک لاوارث اور لادین معاشرہ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں