ملک کو بدلنے کے لئے ہر فرد کو بدلنا ہوگا

ایک سال سے کچھ زائد عرصہ پہلے جب پاکستان کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنے الوداعی استقبالیہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان کے تمام ادارے بدعنوانی میں لتھڑے ہوئے ہیں تو میں نے چیف جسٹس صاحب کو ایک خط لکھا تھا اور اپنے کالم میں بھی بہت کچھ لکھا تھا اور سوال اٹھایا تھا کہ چیف جسٹس صاحب آپ اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر قوم کو جو مژدہ سنا رہے ہیں اس کو ٹھیک کس نے کرنا ہے ۔آپ کی عدالت سے اوپر کون سی عدالت ہے جس میں ہم ان بدعنوانیوں کے خلاف رٹ دائر کر سکیں۔ چیف جسٹس ایک اعلی پائے کے قانون دان ہونے کے علاوہ ہائیکورٹ کے جج، چیف، سپریم کورٹ کے جج اور چیف جسٹس کے عہدوں پر فائز رہے اور قوم نے ان پر اپنے کثیر اخراجات برداشت کئے ۔ چیف جسٹس صاحب جاتے جاتے ہمیں بدعنوانی میں لتھڑے اداروں کے تحفے عنایت فرما گئے اور اپنی باقی زندگی اسی قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے انجوائے کرتے رہیں گے ۔ اب آئیں آج کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ ایک خبر یہ ہے کہ موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار (جو اپنے پیش روؤں سے کچھ کم بولتے یا ریمارکس دیتے ہیں ) نے فرمایا ہے کہ پورے پاکستان میں فروخت ہونے والے ڈبوں کے دودھ جعلی اور مضر صحت ہیں اور اس دودھ میں ایسے کیمیکلز پائے جا رہے ہیں جن سے کینسر سمیت مختلف موذی امراض کا خطرہ موجود ہے ۔ بات صرف ڈبوں کے دودھ اور خشک دودھ تک ہی ہوتی تو خیر تھی مگر یہاں تو معاملہ بہت آگے تک جا چکا ہے ۔ اسی کیس میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بھینسوں کے دودھ بھی کینسر کا باعث ہیں کیوں کہ بھینسوں کے مالکان دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے اپنی بھینسوں کو ایسے ٹیکے لگواتے ہیں جن سے کینسر ہو سکتا ہے ۔ اسی کے ساتھ ایک اور خبر کے مطابق فوڈ اتھارٹی نے دودھ بنانے والی ایک فیکٹری سے چھپن ہزار لیٹر دودھ تلف کیا ہے کیونکہ وہ دودھ نہ صرف جعلی تھا بلکہ انتہائی زہریلے کیمیکلز سے تیار کیا گیا تھا۔
یہ تو تھی پاکستان میں فروخت ہونے والے دودھ کی صورتحال ادھر فیصل آباد میں ایک مربع زمین سے سبزیاں تلف کی گئی ہیں کیونکہ وہ ایسے زہریلے اور گندے پانی سے اگائی گئی تھیں جو انسانوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر سکتا ہے اس کے علاوہ آئے روز جعلی دوائیں جعلی پیروں اور مختلف جعل سازوں کی خبریں ہمارے میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ اب ذرا غور فرمائیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ یہ 2018 ء ہے اور ہم دودھ کے ایک ایک قطرے کے محتاج ہیں۔ یعنی پورے پاکستان میں خالص دودھ کا ایک قطرہ ملنا محال ہے ۔ جس قوم کی یہ حالت ہوگی، جس قوم کے چیف جسٹس صرف ریمارکس میں قوم کو ایسی اطلاعات دے رہے ہوں کہ ملک کا کوئی ادارہ بدعنوانی سے پاک نہیں تو پھر اس قوم کی حالت کیا ہو گی۔ ملک میں کس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے ۔ اگر بندہ کسی سے بات کرے بھئی بے ایمانی کیوں کرتے ہو۔ جھوٹ کیوں بولتے ہو، تو جواب ملتا ہے کہ بھائی یہ پاکستان ہے یہاں ایسے ہی ہوتا ہے ( فٹے منہ اس میں پاکستان کا کیا قصور ہے ) میں اکثر چلتے پھرتے لوگوں کو غلط کاموں پر ٹوکتا ہوں تو آگے سے یہی رٹا رٹایا جواب ملتا ہے کہ بھئی یہ پاکستان ہے ۔ اگر ہم اپنے زیر تعمیر مکان کے ٹھیکیدار صاحب سے یہ سوال کر بیٹھتے ہیں کہ آپ اپنے وعدے کے مطابق کام کیوں نہیں کر رہے ہو اور تاریخ پر تاریخ دیئے جاتے ہو تو بھی جواب ملتا ہے کہ سر یہ پاکستان ہے یہاں تو ایسے ہی ہوتا ہے ۔ اگر کسی سے ٹریفک قوانین کی پابندی کی بات کی جائے تو اس کا جواب بھی یہی ہوتا ہے ۔



کیاڈونلڈ ٹرمپ عہدحاضر کا سائرس اعظم ہے ؟

ہر بندہ اپنی بے ایمانی، اپنی بری حرکات اور اپنی بدعنوانی کا ملبہ پاکستان پر پھینک کر خود بری الذمہ ہو جاتا ہے ،حالانکہ پاکستان ہر لحاظ سے ایک انتہائی خوبصورت ملک ہے ۔ اور دنیا کے بیشتر ممالک سے بہتر ہے لیکن کسی بھی ملک کا چہرہ اس ملک کے عوام ہوتے ہیں۔ جیسے عوام ہوتے ہیں ویسے ہی راہنما ہوتے ہیں۔ اگر آج پاکستان کے حالات دگرگوں ہیں تو اس کی ساری ذمہ داری پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی ہے ۔ میں روز مرہ کے معاملات میں اکثر مشاہدہ کرتا ہوں کہ زیادہ تر لوگ صرف اپنی ذات کے گرد گھومتے ہیں اور صرف اپنے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ملکی حالات سے خوفزدہ ہے ، شاکی ہے اور حالات بہتر ہونے کا خواہش مند بھی ہے ۔ لیکن خود کو ٹھیک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن یہ بات سمجھنی چا ہیے کہ جھٹکے لینے سے بہتر ہے کہ انسان خود میں حرکت پیدا کرے ۔ اپنے مردہ ہوتے ضمیر کو ہلائیں۔ زنگ لگی سوچ کو پھر سے کام میں لائیں اور جذبات کی بجائے دماغ سے کام لیں۔
اپنے اوپر اعتبار کریں اور پھر ایک دوسرے پر اعتماد کو بحال کریں۔یہ سب اس وقت ہوگا جب ہم خود کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اور یہ بات کرنے سے گریز کریں گے کہ ہم غلط کام اس لیے کرتے ہیں کہ یہ پاکستان ہے ۔ اب ہمیں ضرورت سے زیادہ ایماندار بننا ہے کیونکہ ہم پاکستانی ہیں۔ اب ہمیں بہت زیادہ محنت کرنی ہے کیونکہ ہم پاکستانی ہیں۔ اب ہمیں وقت کی قدر کرنی ہے ، وعدوں کا پاس رکھنا ہے ، دوسروں کا احترام کرنا ہے ، کسی کا حق نہیں مارنا (لائن توڑ کر آگے ہونا بھی حق مارنا ہوتا ہے ) ، دوران ڈرائیونگ قوانین کی پابندی کرنی ہے ، جھوٹ نہیں بولنا، ظلم کے خلاف بات کرنی ہے ، انتخابات میں ووٹ ذاتی مفاد کے بجائے قومی مفاد میں کاسٹ کرنا ہے ، جس کام کے ہمیں پیسے ملتے ہیں وہ کام پوری محنت اور ایمانداری سے کرنا ہے ، راستے میں ملنے والے لوگوں کو سلام کرنا یے اور مسکرا کر دیکھنا ہے ، خواتین کا حقیقی احترام کرنا ہے ، اپنے گھروں اور گلی محلوں کو مکمل صاف رکھنا ہے ، اپنے قریبی لوگوں کا خیال رکھنا ہے ، ملکی قانون کا احترام کرنا ہے ، کسی بھی حال میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا، ہر طرح کے ظلم سے اجتناب برتنا ہے ، کھاتے وقت اپنی جیب اور صحت کا خیال رکھنا ہے ، اپنے بچوں کی درست سمت میں تربیت کرنی ہے ، نیکی اور فلاح کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے ، صحت مند ایکٹویٹیز کو فروغ دینا ہے ۔ اپنے اندر برداشت پیدا کریں، دنیا میں جہاں کہیں بھی رہتے ہیں اپنے قومی مفاد اور قومی عزت کے لیے کام کریں، کیونکہ ہم پاکستانی ہیں کیونکہ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ دنیا میں پاکستانی قوم ہی سب سے اچھی قوم ہے کیونکہ ہم مصطفوی ہیں۔
کیونکہ ہم مسلمان ہیں، کیونکہ ہم دین اسلام کے داعی ہیں، کیونکہ ہم اللہ کے نائب ہیں ، کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں کسی جانور کی شکل میں پیدا نہیں کیا بلکہ ایک مکمل انسان پیدا کر کے فرشتوں سمیت سب کو ہمارا دست نگر بنایا۔ کیونکہ اللہ نے اپنا علم ہمیں سکھایا تو کیا پھر ہمیں اپنے رب کے قوانین کا احترام نہیں کرنا چایئے ۔
کسی غیبی مدد سے پہلے انسان کو اپنے اہداف مقرر کرکے ان کے لئے کام کرنا چاہئے ۔ پھر کسی غیبی مدد کی امید بھی کی جا سکتی ہے ۔ ہم دعائیں تو مانگتے ہیں لیکن دعاؤں میں جو جو کچھ مانگتے ہیں اسے حاصل کرنے کی کبھی سعی نہیں کرتے تو پھر دعائیں کیونکر قبول ہوں گی۔
ہر کوئی ججوں سے تو انصاف مانگتا ہے لیکن اپنے گھر اور محلے میں انصاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہر کوئی حکومت سے تمام فوائد اور سہولیات لینے کا متمنی ہے لیکن خود ٹیکس دینا چاہتے ہیں نہ اپنے حصے کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو سکے گا۔ تو پھر آئیں آج سے وعدہ کریں کہ ہم خود کو ٹھیک کرتے ہیں جب فرد ٹھیک ہوگا تو فرد سے قوم ٹھیک ہوگی اور قوم سے ملک۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
ملک کو بدلنے کے لئے ہر فرد کو بدلنا ہوگا
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں