درندوں سے مقابلہ کرنا ہے تو جنسی تعلیم کا آغاز کریں

تحریر:تحریم عظیم

یہ کوئی شیطان نہیں بہکاتا۔ یہ کوئی اسکرٹ یا جینز نہیں اکساتی۔ یہ کوئی ہمارے گناہ سامنے نہیں آتے ۔ یہ ذہنوں کی غلاظت ہوتی ہے ، یہ وجود کی گندگی ہوتی ہے ، یہ گندی سوچ کا تعفن ہوتا ہے کہ جو بچی تمہیں بھائی بھائی، انکل انکل کہہ کر رو رو کر مزاحمت کر رہی ہے تم اسکی شلوار اتارنے میں مصروف ہو۔ یہ شیطان نہیں ہے بلکہ تم شیطان ہو۔ یہ اس بچی کے خاندان کے گناہ نہیں بلکہ تمہارے کردار کے خلا ہیں جسے تم ہوس پوری کرکے یک نیا بچہ تلاش کرنے نکل جاو گے ۔ 
کیا زینب آخری تھی؟ نہیں۔ 
ابھی زینب کی ہی خبر چل رہی ہے تو ساتھ فیصل آباد کی خبر آجاتی ہے کہ ایک 15سالہ لڑکے کو بعد از زیادتی گلا گھوٹ کر مار دیا گیا۔ یہ ہوس کا جن جو ہوتا ہے وہ نہ جنس دیکھتا ہے نہ عمر۔ اب تو مشاہدے میں یہ بھی آ چکا ہے کہ انسان حیوان کی تمیز بھی ختم ہو جاتی ہے ۔ ایک دوست نے ٹویٹ کیا کہ شیخوپورہ سے 6روز قبل گمشدہ بچی کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی جسکے ہاتھ پیر توڑ کر بوری میں ڈالا گیا تھا۔ اس سے زیادہ حیوانیت کہیں سنی دیکھی ہے ؟ 
کہتے ہیں پاکستان اسلام کا قلعہ ہے تو پھر سلامتی کہاں ہے ؟ کہتے ہیں زلزلے اس لئے آتے ہیں کیونکہ ہم گنہ گار ہیں۔ اچھا؟ تو پھر ہم ایک ہی بار غرق کیوں نہیں ہو جاتے کیونکہ ہم تو ذلتوں اور جہالتوں کی پستی تک جا پہنچے ہیں۔ سینکڑوں بچوں کی چیخیں مل کر کیوں یہ زمین نہیں پھاڑ دیتیں کہ ہم اس میں جا دبیں۔ کیوں 
کہتے ہیں کہ یہ عذاب تو خاندان کی برائیوں کا ہوتا ہے جو بچے بھگتتے ہیں۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم بچوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہیں اسی لئے ان کے ساتھ ہوئے ظلم کو ظلم نہیں بلکہ اپنے گناہوں کی سزا سمجھ کر بخشش کا سبب جانتے ہیں۔ 
آج سب پر ہیٹ آف دی مومنٹ کی وجہ سے ایک کیفیت طاری ہے ۔ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ چل گیا، فیس بک پہ ڈی پی جسٹس فار زینب کی لگا لی اور واٹس ایپ کے گروپس میں بھی غصہ نکال لیا۔ اب سب سو جائیں گے ۔ کل کام پر جائیں گے ۔ شام تک کوئی عمران خان کی شادی پر تبصرہ کر رہا ہو گا تو کوئی بالی وڈ کی فلم دیکھے گا۔ کسی کو شادی کی تقریب میں نمایاں اور منفرد نظر آنے کی فکر ستائے گی تو کوئی فون پر غیبتوں میں لگا ہو گا۔ 
اور اسی تنگ نظر معاشرے میں اگر یہ کہہ دو کہ بچوں کا سیکس ایجوکیشن کا مضمون بھی کورس میں ہونا چاہیئے تو سب کانوں کو ہاتھ لگائیں گے کیونکہ ہمارے جاہل اور تعلیم و شعور سے دور معاشرے کیلئے سیکس کا نام سن کر ذہن کے پردے پر رینگتا ہوا عکس بھی لباس سے عاری ہوتا ہے ۔ 
آئیں ذرا یہ دیکھیں کہ وہ سیکس ایجوکیشن یا جنسی تعلیم ہے کیا جسے کورس میں شامل کرنے کے نام سے ہی ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے ؟ جنسی تعلیم کسی بھی بچے کا بلوغت سے تعارف اور اطراف سے اپنی حفاظت ہے ۔ اپنی صفائی ستھرائی اور حفاظت کا خیال رکھنا، خود کو کسی بھی اجنبی یا آشناء کی جانب سے غیر مناسب انداز میں چھونے پر کیا ردعمل ہو گا اور اپنے آپ کو کسی اچانک رونما ہوئے حادثے کے دوران کیسے محفوظ رکھنا ہے ، کس پر اور کتنا اعتماد کیا جا سکتا ہے ، جسم میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کو ذہنی طور پر کیسے قبول کرنا ہے ؟ 
یہ سب جنسی تعلیم کاحصہ ہے ۔ بڑی بڑی باتیں تو سب کر لیں گے مگر بچوں کو سمجھانے میں سب پیچھے ہٹیں گے ۔ 
آج بہت لوگوں نے گڈ ٹچ بیڈ ٹچ کی تصاویر شیئر کیں۔ مگر کتنے لوگوں نے اپنے بچوں کو بٹھا کر سمجھایا ہو گا؟ فوٹیج میں دکھائی دے رہا ہے کہ بچی کسی کا ہاتھ تھام کر چل رہی ہے ۔ کیا ہم نے بچوں کو بتایا کہ آپ کس کس کا ہاتھ پکڑ کر چل سکتے ہیں؟ آپ کس پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو اتنا اعتماد دیا ہے کہ وہ ہم سے ہمارے کسی بہت عزیز کے بارے میں کوئی 
شکایت کریں تو ہم بچوں کو جھڑکنے کے بجائے ان کی پوری بات سنیں۔ کیا ہم ہی وہ لوگ نہیں جو چیختے چلاتے بچے کو پڑوس یا خاندان کی کسی خاتون کی بات سننے کی خاطر کسی کے بھی حوالے کر دیتے ہیں کہ ذرا اسے چیز دلا لاؤ۔ 
ہم کیوں قاری صاحب کے آنے پر کمرے کا دروازہ بند کر کے ایک گھنٹے تک بچہ تنہائی میں انکے ساتھ اکیلا چھوڑ دیتے ہیں؟ ہم کیوں کسی بھی گھر میں بچی کو ٹیوشن ڈال دیتے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ راستہ کیسا اور کتنا ہے ؟ اس گھر میں کتنے افراد ہیں؟ بچوں کو کون، کس کمرے میں، کتنی دیر پڑھائے گا؟ بچہ اگر ٹیوشن، اسکول وین یا اسکول سے بھاگ رہا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ۔ 
یہ الزام کہ سلیبس میں جنسی تعلیم کا مواد مغربی ممالک کی جانب سے فنڈ کیا جاتا ہے تو خدارا فوراً سے پہلے ان ممالک سے یہ فنڈ پکڑیں۔ کورس میں یہ مواد شامل کریں کیونکہ آپ کے بچے کی حفاظت کسی بھی پروپیگنڈا سے بڑھ کر ہے ۔ 
بچوں کی باتیں بڑے بیٹھ کر کر چکے تو اب ایک بچے کو بھی بٹھائیں اور اسے اعتماد میں لے کر سمجھانا شروع کریں۔ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ پاکستان میں سب پاک ہے ۔ یہاں سوچ ناپاک ہے جو درندوں کو ہمارے بچے نگلنے پر اکساتی ہے ۔ یہاں اندھی ڈولفن، غریب مرغی اور معصوم بچے اپنی حفاظت کے خود ذمہ دار ہیں ۔(بقیہ صفحہ7نمبر1) 
کیونکہ بڑے تو شادی ہو گئی، نہیں ہوئی، اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے میں نمائش بلاک کرنے اور جمہوریت و آمریت پہ وزنی تبصرے کرنے میں مصروف ہیں۔ 
نورجہاں نے قصور کی محبت میں گایا تھا میرا سوہنا شہر قصور۔ کتنا بدصورت ہو گیا نورجہاں کا شہر۔ ایک ایسا علاقہ جہاں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی اسکینڈل بنا، شور مچا، ریٹنگ کی دوڑ لگی، کسی نے نوٹس لیا تو کسی نے نوٹ لیے مگر مسئلہ پاکستان کا یہ ہے کہ نیوز ’بریک‘ ہوتی ہے ’فالو‘ نہیں۔ تازہ اطلاعات یہ ہیں کہ خبردینے والے کو خبر بنانے کی دھمکی دی جا رہی ہے اور وہ بھی کچھ اس عبرتناک انداز میں کہ یقین ہو جائے کہ گروہ صرف طاقتور ہی نہیں بلکہ با اثر بھی ہے ۔ اور وہ متاثرین جن کا کوئی قصور بھی نہ تھا وہ علاقہ چھوڑنے پہ مجبور ہیں۔ اس لیے کہ وہ ایک ایسے ملک کے باشندے ہیں جہاں شرم اور معاشرتی دباؤ متاثرین کیلئے مختص ہیں جبکہ جرم اور اس جرم پہ فخر بااثر ہونے کی نشانیاں سمجھی جاتیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں