ریاست اور عوام میں نیا معاہدہ درکار ہے

تحریر:عمیرجاوید

آج میں آپ کو ایک تصوراتی تجربے کی بابت بتاتا ہوں جو بعض حقائق سے آگہی کے لیے خاصا مفید ہو سکتا ہے ۔ایک لحظہ ایسے لوگوں کے بارے میں سوچیے جن کے ساتھ آپ پڑھتے یا کام کرتے ہیں۔ اب ان میں ایسے لوگوں پر توجہ مرکوز کیجیے جنہیں آپ اپنے ہم پلہ سمجھتے ہیں۔ ان میں آپ ہی کے درجے میں تعلیم پانے والے یا آپ جیسی پیشہ وارانہ سطح کے حامل افراد یا ایسے لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں آپ کا خیال ہے کہ انہیں زندگی میں آپ جیسے ہی مواقع حاصل ہوں گے ۔اب ان میں ایسے لوگوں کی گنتی کیجیے جو آپ سے نمایاں طور پر مختلف سماجی و معاشی پس منظر کے حامل ہیں۔ اس تفاوت کو آسان الفاظ میں یوں سمجھا جائے کہ ان میں ایک ہی جگہ تعلیم پانے والے سی سی ایس ایس افسر کے بچے اور کریانے کی کسی دکان کے مالک یا نچلے درجے کے کسی سرکاری ملازم (17ویں سکیل سے نیچے ) کی اولاد شامل ہو سکتے ہیں۔اس فرق کو والدین کی آمدنی میں تفاوت سے بھی ماپا جا سکتا ہے ۔دو لاکھ ماہانہ آمدنی پانے والے گھرانے کے فرد اور 50 ہزار آمدنی والے گھر کے فرد کو زندگی میں ایک جیسی قسمت، پیشہ وارانہ مواقع اور سماجی مراتب ملنے کے کس قدر امکانات ہو سکتے ہیں؟اس حوالے سے جب میں اپنے سماجی دائرے پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ایسا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ میرا اندازہ ہے کہ ان سطور کا مطالعہ کرنے والے قریباً ہر شخص کی یہی رائے ہو گی۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں نسل در نسل بامعنی سماجی تحرک ہی ناپید ہے ۔دوسری جنگ عظیم کے بعد باعزت روزگار اور بین النسلی معاشرتی تحرک کے لیے بیشتر مغربی ممالک نے ازسرنو سماجی معاہدے ترتیب دیے تھے جبکہ ریاستی پالیسی کے یہی دو بنیادی مقاصد تھے ۔ یہ مقاصد پیداواری شعبے میں نوکریوں کو سرکاری تحفظ، اثاثوں کی ملکیت میں اضافے اور گھروں کی تعمیر کے لیے امدادی 
قیمت پر قرضوں کی فراہمی نیز سرکاری یونیورسٹیوں میں سستی یا مفت تعلیم تک رسائی پر بھاری اخراجات ایسے اقدامات سے حاصل کیے گئے ۔ان میں ہر اقدام کا اپنا مثبت اثر مرتب ہوا۔ نوکریوں کو تحفظ ملنے کا یہ مطلب تھا کہ نچلے درجے کے بنیادی پیشوں سے منسلک کارکن بھی اچھی اجرت، ملازمتی فوائد اور ریٹائرمنٹ کی صورت میں پینشن سے مستفید ہو سکتے تھے ۔ گھروں کی ملکیت میں اضافے سے کرایوں پر خرچ ہونے والی رقم کی بچت ہونے لگی اور لوگوں کو ایسا اثاثہ میسر آیا جسے وہ اپنے بچوں کو بھی منتقل کر سکتے تھے ۔اسی طرح اعلیٰ درجے کی تعلیم سستی یا مفت ہونے سے نچلے طبقے میں ہونہار طلبہ کو بھی ایسے علم اور صلاحیتوں کے حصول کا موقع میسر آیا جو اعلیٰ درجے کے پیشوں سے وابستگی کے لیے لازمی تھا۔پاکستان کی بات ہو تو 1980 ء کی دہائی تک شہری علاقوں میں رہنے والے چند خوش قسمت لوگوں کو بھرپور سماجی و معاشی تحرک حاصل تھا۔ اس وقت تک سرکاری تعلیم کا معیار خاصا بلند تھا، زمین سستی تھی اور سرکاری یا نجی شعبے میں باعزت روزگار کا حصول ناممکن نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اگر ایک نسل غریب ہوتی تو دوسری باآسانی متوسط یا بالائی متوسط سماجی درجے تک پہنچ جاتی تھی۔1980 ء کی دہائی کے بعد یہ تینوں چیزیں غائب ہو گئیں۔آج یہ صورتحال ہے کہ اچھی سرکاری یونیورسٹیوں میں بڑے شہروں کے طلبہ کا غلبہ رہتا ہے جبکہ نجی شعبے کی معیاری یونیورسٹیاں اس قدر مہنگی ہیں کہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والا طالب علم یہاں داخلے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔زمین کی مارکیٹ پر سٹے بازوں اور بڑے سرمایہ کاروں کا قبضہ ہے جبکہ نجی شعبے میں روزگار کی صورتحال بھی واجبی سی ہی ہے ۔ اس شعبے میں دستیاب بیشتر نوکریاں عارضی ہوتی ہیں اور ناصرف ملازمین کے معاوضے بہت کم ہیں بلکہ نوکریوں کو تحفظ بھی حاصل نہیں ہوتا، چنانچہ بین النسلی نقل پذیری کے لیے سرکاری اور فوجی ملازمتیں ہی باقی بچتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی لوگ انہی ملازمتوں کی خواہش کرتے ہیں۔پاکستان میں اس حوالے سے بہت کم اعدادوشمار دستیاب ہیں تاہم اس موضوع پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے ایک مخصوص جائزے میں اس بارے واضح نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔جائزے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ پاکستان میں کسی فرد کی معاشی حالت میں اس کے والد کے سماجی و معاشی درجے کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ بنیادی طور پر دولت کی ابتدائی استعداد، سماجی تعلقات اور ثقافتی رویے آپ کی مستقبل کی زندگی متعین کرنے میں نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔آج ہمارے ہاں 42 فیصد امکان ہوتا ہے کہ ان پڑھ باپ کا بیٹا کبھی سکول میں داخلہ نہیں لے پائے گا۔ 72 فیصد امکان ہے کہ نچلے درجے کی ملازمت کرنے والے شخص کی اولاد بھی اسی درجے میں ہی رہے گی۔سادہ الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی پٹرول پمپ پر 
100 افراد کاریں دھونے کے لیے کل وقتی طور پر مامور ہیں تو ان میں صرف ایک کا بیٹا ہی پیشہ وارانہ زندگی میں بینک کلرک یا اس سے مساوی نوکری حاصل کر سکتا ہے ۔ باقی لوگوں کے بچے اپنے باپ جیسی ہی نوکریاں کریں گے ۔آمدنی کی نقل پذیری کے حوالے سے اعدادوشمار بھی ایسے ہی مایوس کن ہیں۔ کم آمدنی والے 100 گھرانوں میں 44 کے ہاں پیدا ہونے والے بچے اتنی ہی آمدنی میں زندگی بسر کریں گے ۔ 
جب میں نے پہلی مرتبہ یہ اعدادوشمار دیکھے تو کسی نے نشاندہی کی کہ 56 فیصد لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ بظاہر یہ بات درست ہے کہ نصف لوگ معاشی اعتبار سے ترقی کر رہے ہیں۔ مگر کتنی ترقی؟معاشی نقل پذیری حاصل کرنے والے 56 فیصد لوگوں میں 30 فیصد اقتصادی سیڑھی کے محض دوسرے قدمچے تک ہی پہنچ پاتے ہیں۔ اسی طرح تین فیصد سے بھی کم لوگ ایسے ہیں جو زیریں 20 فیصد سے بالائی 20 فیصد میں جگہ بناتے ہیں۔ہماری روزمرہ گفتگو میں دولت، خریداری اور تیزی سے پھیلتے متوسط طبقے سے متعلق مسائل نمایاں ہوتے ہیں۔ ہم ایسی داستانوں کا تبادلہ کرتے ہیں کہ مشرف دور میں کیسے ایک شخص نے چھوٹی سی دکان سے ترقی کرتے ہوئے کئی پلازے کھڑے کر لیے ۔شاید ایسی باتیں ہمیں غربت میں جکڑے ایسے لوگوں کی حالت سے توجہ ہٹانے میں مدد دیتی ہیں جو 15/10 سال نہیں بلکہ کئی نسلوں تک مفلسی کے چکر سے نکل نہیں پائیں گے ۔جب تک ہماری ریاست سماجی تحرک اور مساوی ترقی کو عوام کے ساتھ اپنے سماجی معاہدے کے بنیادی اصولوں کے طور پر متعارف نہیں کراتی اس وقت تک کروڑوں عوام سماجی و معاشی جبر کی چکی تلے پستے رہیں گے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں