زیادتی، پھانسی اور مردانگی

تحریر:طاہرمہدی

میڈیا کو خون چاہیے ۔ وہ ہر لمحہ اسے لائیو دکھانا چاہتا ہے ۔ جنونی سامعین بھی ٹی وی سکرینوں سے چپکے بیٹھے ہیں اور کسی طور اٹھ کر جانے کو تیار نہیں۔یہ مشہور سوال سبھی نے سنا ہو گا کہ انڈا پہلے آیا یا مرغی، مگر اب اس سے بھی پیچیدہ سوال یہ ہے کہ آیا میڈیا نے عوام میں طیش پیدا کیا یا عوام میڈیا کو اس جوش اور شدت پسندی کی جانب لائے ہیں۔میڈیا اور عوام اس بات پر متفق ہیں کہ مجرموں کو خوفناک انداز میں سزائے موت دی جانی چاہیے ، انہیں قریب سے سر میں گولی ماری جائے ، تلوار کے وار سے سر اتارا جائے ، سرعام پھانسی دی جائے اور انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جانا چاہیے ۔خیال یہ ہے کہ جب ایسی سزائیں دی جائیں گی تو کوئی جرائم کے ارتکاب کی جرات نہیں کرے گامگر سامعین کے لیے اچھی خبر نہیں ہے ۔ وہ جس جرم کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ اس طرح ختم نہیں ہو گا۔ یہ بہت عام اور غلط خیال ہے کہ مثالی سزائیں لوگوں کو جرائم کے ارتکاب سے روک سکتی ہیں۔جن ممالک میں جرائم کی شرح بہت کم ہے وہاں مجرموں کو خوفناک سزائیں نہیں دی جاتیں اور جہاں ایسی سزائیں دی جاتی ہیں وہ ممالک جرائم سے پاک نہیں ہیں۔سادہ سی بات ہے اور ہر جگہ یہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔چند برس قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سزائے موت کے اعتبار سے چین، ایران، عراق، سعودی عرب اور یمن دنیا میں سرفہرست ہیں۔ صرف چین میں ہی بقیہ پوری دنیا سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے ۔ حالیہ کچھ عرصے میں وہاں مالی بدعنوانی میں ملوث سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات کو سزائے موت دینے کے متعدد مشہور واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔سعودی عرب ‘انتہائی تسکین بخش’ انداز میں سزائے موت پر عملدرآمد کرتا ہے ۔ وہاں مجرموں کا سر تلوار کے ذریعے تن سے جدا کیا جاتا ہے ۔ چند برس پہلے کے اعدادوشمار کی رو سے وہاں 79 مجرموں کو سزائے موت دی گئی، گویا ہر 15 روز بعد ایک مجرم کا سر اتارا گیا۔ جرم انفرادی عمل ہوتا ہے مگر افراد کی شخصیات سماج کے ذریعے ہی تشکیل پاتی ہیں اور کئی انداز میں مجرموں کے افعال دوسروں کے طرزعمل سے جڑے ہوتے 
ہیں تاہم ان ممالک میں مجرموں کو تسلسل سے ایسی ‘مثالی سزائیں’ دی جانا ایک ایسی حقیقت ہے جو اس دعوے کی نفی کر دیتی ہے کہ کڑی سزائیں دے کر جرائم کی روک تھام ممکن ہے ۔اگر خوفناک سزاؤں سے کوئی فائدہ ہوتا تو ان ممالک میں جرائم کی شرح میں ضرور کمی آ چکی ہوتی۔اگر اب بھی یقین نہیں آیا تو اپنے ملک کی مثال ہی دیکھ لیجیے ۔ ضیا دور میں 80 کی دہائی میں سرعام پھانسیاں متعارف کرائی گئیں جن کے پیچھے یہی بات تھی کہ سزائیں جتنی سخت ہوں گی جرائم میں اتنی ہی کمی آئے گی۔(ضیا حکومت میں سیاسی مخالفت کا خاتمہ کرنے کے لیے فوجی عدالتوں سے بکثرت دی جانے والی ‘مثالی سزائیں’ اور فوری انصاف ایک الگ کہانی ہے1988 ء میں جمہوریت کی بحالی کے بعد سرعام پھانسیوں کا سلسلہ روک دیا گیا کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔جرم انفرادی عمل ہوتا ہے مگر افراد کی شخصیات سماج کے ذریعے ہی تشکیل پاتی ہیں اور کئی انداز میں مجرموں کے افعال دوسروں کے طرزعمل سے جڑے ہوتے ہیں۔ میں فرد کے جرم کی سزا پورے سماج کو دینے کی بات نہیں کر رہا تاہم میں سماج کو فرد کے فعل سے بری الذمہ بھی قرار نہیں دیتا۔اگر آپ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ شیطان انسان کو مجرم بناتا ہے تو آپ کو ضرور تجسس ہو گا کہ لوگ سیدھی راہ سے کیونکر بھٹکتے ہیں؟مگر چونکہ اس طرح ہم پر بھی کچھ الزام آتا ہے اس لیے ہم پرزور طریقے سے فرد کو جرم کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس ‘شیطان صفت’ کو عبرت کی مثال بنانے کی بات کرتے ہیں۔ 
بعض لوگ ایسے افراد پر جنسی مشق کرتے ہیں جو ان کے سامنے مزاحمت اور انکار نہ کر سکیں اور ناکامی کی صورت میں ان کے خلاف کوئی شکایت کرنے سے بھی قاصر ہوں،چنانچہ بچے ایسے لوگوں کا آسان شکار ہوتے ہیں بعض لوگ ایسے افراد پر جنسی مشق کرتے ہیں جو ان کے سامنے مزاحمت اور انکار نہ کر سکیں اور ناکامی کی صورت میں ان کے خلاف کوئی شکایت کرنے سے بھی قاصر ہوں چنانچہ بچے ایسے لوگوں کا آسان شکار ہوتے ہیں 
جنسی جرائم کے حوالے سے ہمارے رویوں میں منافقت کی ایک اور تہہ دکھائی دیتی ہے کہ ہم سب کچھ یوں ظاہر کرنا چاہتے ہیں جیسے ہماری شخصیت اور ہمارے خاندان میں جنس سے وابستہ مسائل یا نامناسب رویے دور دور تک وجود نہیں رکھتے ۔ایک مرتبہ مجھے اپنے ادارے کے لیے تحقیق کا اتفاق ہوا جس کا مقصد دیہی پنجاب میں صنفی بنیاد پر گھریلو تشدد، باالفاظ دیگر بیویوں سے مار پیٹ کے محرکات سمجھنا تھا۔اس تحقیق سے مجھے ایک اہم ترین بات یہ معلوم ہوئی کہ ہمارے ہاں مردانگی کے تصورات جنسی صلاحیتوں میں گڈمڈ ہیں جس کا نتیجہ صنفی بنیاد پر تشدد کی صورت میں نکلتا ہے ۔میں اس حوالے سے ایک خاص پہلو کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔دیہات میں نوعمری کی شادیاں عام ہیں اور متعدد وجوہات کی بنا پر لڑکیاں عموماً شادی سے فوری بعد حاملہ نہیں ہو پاتیں جبکہ شوہروں کے خیال میں اس سے ان کی مردانگی پر حرف آتا ہے ۔ انہیں اپنے خاندان اور دوستوں پر ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ جنسی اعتبار سے صحت مند ہیں، چنانچہ حاملہ بیوی مرد کی جنسی صحت کا ثبوت ہوتی ہے اور جسے فوری حمل نہیں ٹھہرتا وہ بیچاری ‘اپنی نااہلیت’ کی بنا پر بری طرح پٹتی رہتی ہے ۔میرے دوست اور نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر عاصر اجمل کا کہنا ہے کہ مرد اپنی جواں مردی کے حوالے سے انتہائی عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں اور انہیں اس کے لیے مسلسل توثیق چاہیے ہوتی ہے ۔ بعض کنوارے مرد اس حوالے سے اس قدر خوف کا شکار رہتے ہیں کہ وہ جوان عورت سے اس لیے تعلقات بنانے سے کتراتے ہیں کہ انہیں جنسی اعتبار سے ناکامی کا خوف ہوتا ہے، چنانچہ وہ ایسے افراد پر جنسی مشق کرتے ہیں جو ان کے سامنے مزاحمت اور انکار نہ کر سکیں اور 
ناکامی کی صورت میں ان کے خلاف کوئی شکایت کرنے سے بھی قاصر ہوں چنانچہ بچے ایسے لوگوں کا آسان شکار ہوتے ہیں۔ 
مانیں نہ مانیں یہ عام بات ہے ۔ بچوں سے جنسی زیادتی کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ‘ساحل’ کے زیراہتمام چند برس پہلے کے جائزے کی رو سے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے بہت سے بچوں کی عمر ایک سے پانچ سال کے درمیان تھی۔ 
ہمارے ہاں جنس ہر اعتبار سے شجر ممنوعہ ہے جس کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ بعض سکولوں میں سائنس کی کتابوں سے تولیدی نظام کا موضوع ہی خارج کر دیا گیا ہے مجرم بہرحال جرم کرتے ہیں اور کسی قسم کی خوفناک سزائیں انہیں جرم سے روک نہیں سکتیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمارے بچوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ جنسی زیادتی سے کیا مراد ہے اور انہیں ایسے عناصر کو انکار کرنے ، ان کے خلاف مزاحمت اور ایسے افعال کی اطلاع دینے کے لیے درکار اعتماد حاصل ہونا چاہیے ۔ 
ایسا اسی صورت ممکن ہے جب انہیں اس کی تعلیم دی جائے گی۔مگر یہ کام کون اور کیسے کرے گا؟اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ آیا پاکستانی والدین اپنے بچوں کو جنسی معاملات پر بات کی اجازت دے سکتے ہیں؟ 
صنفی تشدد اور بچوں سے جنسی زیادتی کا اس سوال سے گہرا تعلق ہے ۔ ہمارے ہاں جنس ہر اعتبار سے شجر ممنوعہ ہے اور اس نے ہمارے معاشرے کو اس قدر سختی سے گرفت میں لے لیا ہے کہ بعض سکولوں میں سائنس کی کتابوں سے انسانی تولیدی نظام کا موضوع ہی خارج کر دیا گیا ہے ۔ 
میں ذاتی طور پر ایسے سرکاری سکولوں سے واقف ہوں جہاں نصاب سے جانوروں کے تولیدی نظام سے متعلق موضوعات بھی خارج کر دیے گئے ہیں جن میں ٹیکسٹ بک بورڈز کا نصابی مواد بھی شامل ہے ۔ ایسے سکولوں نے خود کو صرف پودوں کے تولیدی نظام تک ہی محدود رکھا ہوا ہے ۔خود کو اس حد تک جہالت میں رکھ کر ہم اپنے بچوں کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ 

اپنا تبصرہ بھیجیں