معاشرے میں بڑھتی درندگی۔۔۔مستقل حل کیا ہے ؟

تحریر:صاحبزادہ امانت رسول

معاشرتی بے راہ روی یعنی درندگی کی آگ ہمارے گھروں تک پہنچ چکی ہے ۔ ہم میں سے ہر شخص خوف زدہ ہے ۔ کسی وقت کوئی درندہ آسکتا ہے اور یہ خونی کھیل کھیل کرغائب ہو سکتا ہے ۔ ایسے درندے بشکل انسان معاشرے میں گھوم پھر رہے ہیں۔ صرف معاشرے میں ہی نہیں بلکہ گھروں میں مقدس رشتوں کی صورت میں بھی مو جو د ہوتے ہیں جن پہ کسی کا گمان بھی نہیں جا تا کہ ہم اپنے بچوں کو باہر کے درندوں سے بچا رہے ہیں اور وہ درندے سانپ کی طرح خود ہمارے گھرمیں ہماری کمائی پر پل رہے ہیں۔ پولیس کی نا اہلی پہ سوال و اعتراض ہر شخص اٹھا تا ہے لیکن اس مسئلے کاحل پولیس کے پاس بھی نہیں ہے ۔ قانون کا درجہ تعلیم وتربیت کے بعد ہو تا ہے ۔ جب حکومت ،علمائے کرام، دانشور، قانون دان اور با شعور لوگ معا شرے کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کر لیتے ہیں، اس کے بعد قانون ان افراد کے خلاف حرکت میں آ تا ہے جو تعلیم وتربیت سے اپنی روش کو نہیں بدلتے ۔ وہ عناصر چند افراد پر مشمل ہوتے ہیں جن سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا تا ہے ۔ ہر واقعہ کے بعد، ہمارا شکوہ پولیس سے ہو تا ہے کہ پولیس اپنے روایتی طریقے سے کیس کوسلجھانے کی کوشش کر تی ہے ۔ عوام کا پولیس سے شکوہ بجا ہے ،خاص طور پر ایسے حالات میں جب ایک معصوم بچی کی لاش آنکھوں کے سامنے پڑی ہو۔ اب تک ایسے واقعات میں پولیس کا کر دار یہی رہا ہے کہ اس نے مصنوعی پولیس مقابلے میں مجرم کو موت کے گھاٹ اتار 
کر عبرت کا نشان بنا دیا لیکن ایسے انجام کے باوجود یہ گھناؤنا جرم ہے کہ ختم ہونے کو نہیں آ رہا۔عوام کا یہ بھی مطالبہ رہا ہے کہ ایسے مجرموں کو سر عام پھانسی دی جائے تا کہ مجر مانہ ذہنیت رکھنے والوں کو عبرت ہو۔ یہ تمام مطالبات صورت حال کے ردّعمل میں ہوتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کے باوجود جرائم میں روک تھام ممکن نہیں ہوتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اس کی تمام ذمہ داری فقط قانونی اداروں پہ ڈال دیتے ہیں اور خود کوئی ذمہ داری قبول کر نے کیلئے تیار نہیں ہوتے ۔ 
اگر ہم ایسے گھناؤنے جرائم کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کریں تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ ایک شخص مجرم کیسے بنتا ہے اس کے اسباب کیاہیں ؟واضح بات ہے ایک مجرم کسی اور کرّہ (Planet)سے تو نہیں آ تا وہ ہمارے معاشرے اور خاندان کا ایک فرد ہو تا ہے جس کے ساتھ زیادتی اور گھناؤنا جرم ہوتاہے ، وہ بچی /بچہ اس ظلم کی بھینٹ اتنی آسانی سے کیوں چڑھ جا تا ہے ؟اگر ہم مظلوم سے بات کا آغاز کریں تو اکثر واقعات میں بچی /بچہ ماں باپ کی بے توجہی کا شکار ہو تا ہے ۔ والدین بچوں کو بہترین نگہداشت اور حفاظت کی ذمہ داری ادا نہیں کر تے ، انہیں معلوم نہیں ہو تا کہ ہمارے بچے کہاں ہیں کدھر ہیں اور کس کے گھر میں مو جو د ہیں۔ والدین اپنے سر سے بچوں کو اتار نے کیلئے انہیں گلی کوچوں کے حوالے کر دیتے ہیں یا وہ کسی رشتہ دار ،دوست یا ہمسائے کے گھر چلے جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہو تا ہے کہ چھوٹے بچے بڑے بچوں کے ساتھ دوستی لگاتے اور ان کے ساتھ گھومتے پھر تے دکھائی دیتے ہیں۔ ان تمام سر گرمیوں کا علم ماں باپ کو ہو تا ہے ۔ 
اگر ظالم کی بات کریں تو اس کے بگاڑ کا آغاز بھی گھر سے ہو تا ہے جہاں ماں کو ڈراموں فلموں سے فرصت نہیں ہوتی۔ باپ اپنی اولاد کو وقت نہیں دے پا تا۔ یعنی سب سے پہلے والدین ذمہ داری قبول کر تے ہوئے اپنی اولاد کو وقت دیں اوران پر نظر رکھیں۔ والدین کو ان کی سر گرمیوں اور مصروفیات سے بھی مطلع رہنا چاہیئے ۔ اولاد کی سر گرمیوں کا علم رکھنا والدین کی ذمہ داری ہی نہیں،ان کا حق بھی ہے ۔ دوسری ذمہ داری علمائے کرام کی ہے کہ وہ اپنے جمعہ کے مو ضوعات کو سماجی اخلاقی مسائل سے متعلق کریں۔ ایسے مو ضوعات جو فقط اشتعال انگیزی اور فر قہ واریت کا سبب بنیں ان سے پرہیز کریں۔ تیسری ذمہ داری میڈیا کی بھی ہے ۔ میڈیا کی ناقص،بے سمت اور بے مقصد کار کر دگی پہ جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے ۔ میڈیاانسانیت سوز جیسے واقعات کی کئی کئی گھنٹے لائیو کوریج کرے گا لیکن قومی تربیت کیلئے اس کے پاس روزانہ آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہے ۔ 
Stereotypeپروگرام کیلئے وقت مو جو دہے ، خاص مذہبی طرز کے پروگرام کیلئے بھی وقت ہے لیکن ایک انسان کو صرف انسان بنانے کیلئے چینلز کے پاس وقت نہیں ہے ۔ روزانہ شام 6بجے سے رات 11 بجے تک ٹاک شوز کے نام پر گالی گلوچ، بد تہذیبی اور بدتمیزی کی قوم کو تربیت دی جاتی ہے لیکن اخلاق ،کر دار اور حسنِ معاملہ کی تعلیم کیلئے بالکل وقت نہیں ہے ۔ چوتھی ذمہ داری ڈرامہ اور فلم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کی بھی ہے کہ وہ ڈراموں اور فلموں کو قوم کی تربیت کا ذریعہ بنائیں۔ 
سطحی کہانیوں سے باہر نکل کراعلیٰ شاہکار کہانیوں کو اپنا موضوع بنائیں، اس حوالے سے ایران کی فلمیں اور ڈرامے قابل مثال ہیں۔مجموعی طوپر پر ہم سب کو اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری قبول کر نی ہوگی۔ حکومت اور پولیس پر الزام دھر نے سے ایسے مسائل کبھی حل نہیں ہوتے اور نہ ہی عبرتناک سزائیں ایسے مسائل کا حل ہوتی ہیں یہ سب عارضی حل ہیں۔ مستقل حل یہ ہے کہ والدین سے لے کر فنکاروں تک، علماء کرام سے میڈیا تک،دانشوروں سے حکومت تک سب اپنی ذمہ داری کاا حساس کر تے ہوئے معاشرے کی اصلاح کی کوشش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں