بھارتی سپریم کورٹ میں بغاوت

بھارتی سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے چیف جسٹس دیپک مشرا کے طریقہ کار اور انتظامی معاملات میں روایت کے برعکس سینئر ججوں کو نظر انداز کرنے اور حساس مقدمات اپنی پسند کے جونیئر ججوں کے حوالے کرنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ انتہائی غیر روائیتی طریقہ اختیار کرتے ہوئے ان ججوں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا کو چیف جسٹس کے رویہ اور ملک کی اعلیٰ عدالت کے اندرونی حالات کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس پریس کانفرنس کے بعد جو کہ چیف جسٹس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس جستی چیلا میسور کے گھر پر منعقد ہوئی تھی ، بھارت کے قانون دان اور سیاسی حلقوں میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے ۔ بہت کم لوگوں نے اس پریس کانفرنس کے حوالے سے بات کی ہے اور جو لوگ بھی سامنے آئے ہیں، انہوں نے ان حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے وقار کو نقصان پہنچے گا اور لوگوں کا عدالتوں اور ججوں پر اعتماد کم ہوگا۔ اس طرح ملک میں جمہوری نظام کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے ۔
اس کے برعکس روایت سے بغاوت کرنے والے چاروں ججوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو سنتے ہوئے اور ملک کے آئین کی حفاظت کے حلف کا لحاظ کرتے ہوئے یہ باتیں سامنے لانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ جسٹس چیلا میسور نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ آج سے بیس برس بعد کوئی دانشمند شخص یہ سوال کرے کہ جب سپریم کورٹ کے حالات اتنے خراب ہو چکے تھے اور آئین و عدالتی روایت کے پرخچے اڑائے جا رہے تھے تو یہ جج کیوں خاموش رہے ‘۔ اس موقع پر پریس کانفرنس میں موجود دیگر ججوں میں جسٹس رنجن گوگی، جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کورین جوزف بھی شامل تھے ۔ ان ججوں کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عدالت کو اپنی مرضی کا تابع بنار ہے ہیں اور جس طرح عدالتی تقرریوں اور ترقیوں کے لئے میرٹ اور مشاورت کو نظر انداز کیا جارہاہے ، وہ ملک کے عدالتی ڈھانچے کے علاوہ جمہوری نظام کے لئے بھی انتہائی خطرناک ہے ۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر ملک کی عدلیہ شفاف اور غیر جانبدار نہیں ہوگی تو اس سے جمہوری نظام کو شدید نقصان پہنچے گا۔ ان کے خیال میں ان حالات میں جمہوریت کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔



انصاف کی تلاش یا اقتدار کی خواہش

بھارتی سپریم کورٹ کے 31 میں سے چار سینئر ججوں کے اس باغیانہ اقدام سے یہ واضح ہورہا ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت اور اس کے انتہا پسند وزیر اعظم اب عدالتی نظام کو بھی تہ و بالا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ موجودہ چیف جسٹس دیپک مشرا کو وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال اگست میں متعین کیا تھا، تاہم اسی وقت سے اس حیثیت میں چیف جسٹس نے ایسے فیصلے کئے ہیں جس سے ملک کے قانون دان طبقوں میں پریشانی پیدا ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اس کا اظہار دبے لفظوں میں اخباری تبصروں میں بھی دیکھنے میں آنے لگا تھا، تاہم اب چار ججوں کی پریس کانفرنس اور چیف جسٹس کے غیر قانونی اقدامات پر براہ راست تنقید سے یہ واضح ہوا ہے کہ بھارت کے اس اعلیٰ ترین ادارے میں زوال کے آثار پیدا ہو چکے ہیں۔ اسی لئے چار ججوں کو صورت حال قوم کے سامنے رکھنے اور حالات کو بہتر بنانے کی اپیل کرنے کا انتہائی اقدام کرنا پڑا۔
ایک سوال کے جواب میں جسٹس چیلا میسور نے کہا کہ وہ چیف جسٹس کے مواخذے کی بات نہیں کررہے، لیکن اس کا فیصلہ قوم کو کرنا چاہئے کہ کیا اس کی ضرورت ہے یا نہیں ۔ ہم تو صرف اصل صورت حال عوام کے سامنے پیش کرنے کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔ ان چاروں ججوں نے نومبر میں چیف جسٹس کے اقدامات پر احتجاج کرتے ہوئے ایک خط لکھا تھا۔ انہیں امید تھی کہ اس خط کے بعد چیف جسٹس معاملات کو درست کرنے کے لئے اقدامات کریں گے، لیکن اس خط کا جواب نہ ملنے اور انتظامی معاملات میں مسلسل جانبداری اور بگاڑ سامنے آنے کے بعد اب ان ججوں نے یہ خط بھی میڈیا کو جاری کردیا ہے اور پریس کانفرنس میں نریندر مودی کے مقرر کردہ چیف جسٹس کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا ہے ۔ ان چاروں ججوں نے پریس کانفرنس سے پہلے چیف جسٹس سے ملاقات بھی کی تھی لیکن اس ملاقات میں بھی اصلاح احوال کی کوئی صورت سامنے نہیں آسکی تھی۔سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے پریس کانفرنس ایک انتہائی اقدام ہے ۔ بھارت کی تاریخ میں اگرچہ ججوں نے اپنے فیصلوں میں ایک دوسرے سے اختلاف کا اظہار کیا ہے لیکن سینیئر ججوں کی طرف سے چیف جسٹس کو جانبدار اور روایت دشمن قرار دینے کے لئے پریس کانفرنس منعقد کرنا ایک سنگین اقدام ہے جس کے ملک کی سیاست اور عدالتی نظام پر اثرات مرتب ہونا لازم ہے ۔ چیف جسٹس مشرا نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دینے سے انکار کیاہے ۔ اسی طرح وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بھی اس صورت حال پر کوئی بات کرنے سے گریز کیا ہے ، تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس نے یہ الزامات سامنے آنے کے بعد اٹارنی جنرل سے ملاقات کی ہے ۔ان الزامات کا تعلق اگرچہ عدالتی انتظامی معاملات سے ہے لیکن دراصل اس طرح ملک کے چیف جسٹس کے سیاسی مزاج اور وفادری پر سوال اٹھایا گیا ہے ۔ ججوں کے احتجاج سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اگر بھارت جیسی مضبوط جمہوریت میں عدالتوں کے ججوں کے سیاسی رویے عدالتی نظام اور جمہوریت کے لئے نقصان دہ قرار دیئے جا سکتے ہیں تو جن ملکوں میں جمہوری روایت ابھی مستحکم اور مضبوط نہ ہو، وہاں اعلیٰ عدالتوں کے سیاسی رویے پورے نظام کے لئے اندیشوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ کاانتخاب اورہماری ذمہ داریاں

9جنوری کواپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل ہی وزارت اعلیٰ کامنصب چھوڑنے والے نواب ثناء اللہ زہری کسی گہری سازش کاشکار بنے یابلوچستان اسمبلی میں اپنے اتحادیوں کی حمایت سے محروم ہونے ،حکمران مسلم لیگ(ن) کے لیے لمحہ فکریہ ہے اوراپنے نامزدکردہ دونوں وزرائے اعلیٰ کے بارے میں اپوزیشن اورحکمران اتحاد کے ارکان کے تبصروں،آراء یاالزامات پرغوروفکر کامتقاضی ہوناچاہیے ۔65رکنی ایوان میں الیکشن2013ء کے نتیجے میں مسلم لیگ ن 23ممبران کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی دس ارکان کے ساتھ دوسری بڑی پارٹی کے طورپرسامنے آئی ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آٹھ ممبرمنتخب ہوئے جبکہ مسلم لیگ قائداعظم کے پانچ ایم پی اے ایوان میں موجودتھے ۔حکمران مسلم لیگ ن نے نیشنل پارٹی اورقائداعظم لیگ کے ساتھ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کواپنے ساتھ ملاکرجون2013ء میں جومخلوط حکومت بنائی اس کے سربراہ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹرعبدالمالک تھے ۔اتحادی پارٹیوں کے 52ممبروں نے طے کیاکہ ابتدائی اڑھائی برس کے بعد وزارت اعلیٰ مسلم لیگ ن کومل جائے گی۔اسی فارمولے کے تحت24دسمبر2015ء کونواب ثناء اللہ زہری بلوچستان حکومت کے چیف ایگزیکٹو بنے۔اپنے دوسالہ دوراقتدار میں وہ بنیادی سہولتوں کی فراہمی اورعوامی محرومیوں کے خاتمے کے لیے کوئی اقدام کرسکے یانہیں ،یہ معاملہ اپنی جگہ مگران کی حکومت میں شامل متعدد ارکان کواس بات پرگلہ رہاکہ ترقیاتی فنڈز کے اجراء میں ان کے ساتھ ناانصافی روارکھی گئی۔نواب ثناء اللہ زہری خود اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملاقاتیں اوررابطے رکھنے کی بجائے مشترکہ طورپر کبھی وزیراعظم کے ساتھ بھی انہیں ملوانے سے دانستہ کتراتے رہے۔یہی وہ اعتراض تھاجس نے انہیں اپنے حامی ارکان بلوچستان اسمبلی سے دور کردیاتاہم ان کی وزارت اعلیٰ کوحقیقی خطرہ دسمبر2017ء میں نئی ملازمتوں کے معاملے میں بندربانٹ جیسے الزامات کے باعث سامنے آیا۔40ہزار کے قریب نئی ملازمتوں کے لیے ایم پی ایزکوٹہ آئینی طورپر توکوئی وزن نہیں رکھتامگرانتظامی طورپربلوچستان اسمبلی کے ارکان کی خواہش تھی کہ عوام کے منتخب نمائندے کے طورپراپنے اپنے حلقہ انتخاب کے بیروزگار نوجوانوں کے لیے ملازمتوں میں انہیں شامل مشاورت کیاجائے ۔حقائق کچھ بھی ہوں ،نئی ملازمتوں میں حصّے کے ساتھ ترقیاتی فنڈز کے اجراء میں غیر مساویانہ رویہ اوراندرہی اندرپروان چڑھنے والی بے چینی بالآخربغاوت بن گئی۔اخباری اطلاعات اس بات کی مظہرہیں کہ اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے لیے14ممبران کی طرف سے بلوچستان اسمبلی کااجلاس طلب کرنے کی درخواست سامنے آتے ہی نہ صرف ’’باغی ارکان‘‘کے لیے مراعات کادروازہ کھل گیابلکہ 8جنوری کوہرممبر کودودوکروڑ کی پیشکش تک کی جاتی رہی۔وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اورمیاں نوازشریف اپنے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے پیچھے کوئی’’سازش‘‘ دیکھنے اورخفیہ ایجنسیوں کی طرف سے بلوچستان اسمبلی کے مسلم لیگی ارکان کے ساتھ’’رابطوں‘‘کی بجائے ان محرومیوں اورجائز شکایات کا بھی ادراک کریں۔28جولائی2018ء تک اقتدا ر میں رہنے والے نوازشریف اوربعدازاں وزارت عظمیٰ کاقلمدان سنبھالنے والے شاہدخاقان عباسی قوم کویہ بھی بتائیں کہ بلوچستان اسمبلی کے ارکان سے انہوں نے کتنی دفعہ ملاقاتیں کیں اوران کی جائز شکایات کاازالہ کیاگیا۔ایک ایسے وقت میں جب بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی راکے علاوہ افغانستان کی این ڈی ایس کی شرانگیزیوں کے تقاضے ضرور مدنظر رکھے جانے چاہیے۔پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اورجمعیت علمائے اسلام کومسلم لیگ ن کے ساتھ شریک اقتدار ہونے کے باعث اپنی ترجیحات میں عہدوں کی بجائے وسیع ترملکی مفاد مدنظررکھنا چاہیے گزشتہ روزاسلام آباد میں غیرملکی سفیروں اورسفارتکاروں کووزارت خارجہ کی طرف سے پاکستان کی سول ملٹری قیادت کی طرف سے دہشتگردی کے خلاف دی جانے والی بریفنگ کے دوران بلوچستان اسمبلی کے سامنے پیش آنے والے خودکش حملے کی کڑیاں افغانستان سے ملنے کے بارے میں جوشواہدظاہر کیے گئے ،وہ انتہائی غورطلب اوربلوچستان کواندرونی طورپر مستحکم وپرامن رکھنے کاتقاضاکرتے ہیں ۔بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے خودباقیماندہ مدت کوپرامن وجمہوری ماحول میں جاری رکھنے کی خواہش دراصل موجودہ کشیدہ وسنگین صورتحال میں تعاون کی بہترین شکل وصورت ہے ۔اتفاق رائے سے نئے وزیراعلیٰ بلوچستان کاتقرر ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے اندرونی اتحاد اورجمہوری تسلسل کی خواہش نہ صرف وقت کی ضرورت بلکہ نگران حکومت کے صوبے میں اختیارات سنبھالنے تک خود حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے لیے اپنی سیاسی مقبولیت میں اضافے کی بنیاد بھی بن سکتاہے۔بلوچستان اسمبلی میں اس وقت پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف کاکوئی ایم پی اے نہیں،اس لیے دونوں جماعتوں کی طرف سے وہاں کسی سازشی کردار کے امکانات انتہائی کم ہیں ۔آصف زرداری ،عمران خان اوران کی اتحادی جماعتوں کوبھی امریکی دھمکیوں ،بھارتی سازشوں ،اسلام دشمن قوتوں کی ریشہ دوانیوں کے پس منظر میں حب الوطنی اوروسیع تر قومی مفاد کومدنظر رکھناپڑے گا۔بلاول بھٹوزرداری کی طرف سے بلوچستان میں آئندہ پیپلزپارٹی کی حکومت بنانے کے تناظر میں مسلم لیگ ن کوکمزورکرنے یاناکام ثابت کرنے کی کوشش دراصل تاک میں بیٹھے دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا۔ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ عالمی سازشوں کے مرکز اوراقتصادی راہداری کے مرکز بلوچستان کودشمن کی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان کی ہرسیاسی وجمہوری قوت اپنی ذمہ داری کومحسوس کرتے ہوئے بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام کی ہرکوشش یاسازش کاناکام بنانے کے لیے اپناکردارادا کرے تاکہ ’’گریٹربلوچستان‘‘ کی پلاننگ یاپراپیگنڈے میں مصروف سازشو ں کی ریشہ دوانیاں اپنی موت آپ مرسکیں اورسقوط ڈھاکہ جیساکوئی زخم قائداعظم کے پاکستان کولگانے والے ناکام حسرتوں کواپنے سینوں میں لیے ناکام ونامراد ہوجائیں ۔اب جبکہ میرعبدالقدوس بزنجوبطور نئے وزیراعلیٰ نامزدہوچکے ہیں،اُمیدہے کہ ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد اورپھران کے استعفےٰ کے بعدپُرامن انتقال اقتدارکی مثبت جمہوری روایت قائم ہوگی۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
بھارتی سپریم کورٹ میں بغاوت
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں