کراچی کی بس پر رولر کوسٹر رائیڈ

مطلوبہ روٹ کی کوچ سٹاپ پر سے زناٹے بھرتی ہوئی یوں گزری کہ کوئی بازیگر قسم کا، یا انتہائی مشاق سوار ہی اس میں سوار ہوسکتا تھا۔ابھی ہم مسافر اس تیز رفتاری پر باقی منتظر سواریوں کے ساتھ مل کر کوس رہے تھے کہ پیچھے سے اسی روٹ کی ایک اور بس آتی نظر آئی۔بس کو دیکھتے ہی منتظر سواریاں ‘نفسی نفسی’ کی دہائی دیتی اس کی طرف لپکیں۔چوں کہ دو بسوں کے درمیان کا وقفہ مختصر تھا، اس لیے اس بس میں کافی گنجائش تھی، میں بھی سوار ہونے اور سیٹ پالینے کی دوڑ میں شامل تھا اور کامیاب بھی رہا۔بس کی کھڑکیاں شیشوں کے تکلف سے بے نیاز تھیں اور سیٹوں پر سے فوم ادھڑی ہوئی تھی۔میں نے کپڑے سمیٹے اور سنبھل کر بیٹھا، مبادا کپڑوں پر زنگ نہ لگ جائے ۔ میری اس سمٹی سمٹائی حالت کو دیکھ کر ساتھ بیٹھے بزرگ نے کہا، ’برخوردار، کچھ سمجھ میں آیا؟‘میرا ماتھا ٹھنکا کہ میرے چہرے پر پھیلی بیچارگی اور ہلکی ہلکی داڑھی دیکھ کر بزرگ کو لگا ہے کہ میرا ایمان و ایقان کا سفر بیچ کہیں ادھورا رہ گیا ہے ۔ابھی میں انہیں یہ بتانے کے لیے منہ کھولنے ہی والا تھا کہ بھئی اگر آپ میری داڑھی کو میری ایمانی حالت کا پیمانہ سمجھ کر اور پستی کا اندازہ لگاتے ہوئے ، اس کی سوئی اوپر اٹھانے کے موڈ میں ہیں، تو باز آجائیں۔ انہوں نے کوئی موقع دیے بغیر اپنے سوال کا خود ہی جواب دینا شروع کردیا، ’دیکھو برخوردار، تمھیں اپنی منزل پر جانا ہے ، تو تم اس بس میں سوار ہوگئے ، یہ پروا نہ کی کہ بس کی کھڑکیوں میں شیشے نہیں ہیں، پردے نہیں ہیں، سیٹوں کی حالت بھی خستہ ہے ، بس چوں کہ تمھیں وقت پر پہنچنا ہے ، تو تم چڑھ دوڑے ’۔’نہیں نہیں، وہ بات دراصل یہ ہے کہ ۔۔۔’میں بات پوری نہ کرپایا تھا کہ وہ پھر بول پڑے : ‘میں سمجھتا ہوں تمھیں دیر ہوگئی، لیکن میرا منشا کچھ اور تھا، میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ اس دُنیا کی مثال بھی ایک بس کی ہے ، جہاں ہم سوار ہیں تاکہ عاقبت کی منزل تک پہنچیں، یہاں بیٹھ کر اگر ہم سیٹوں کی مرمت شروع کردیں، یا کھڑکیوں کی حالت درست کرنے لگیں، تو یہ بڑی نامعقول بات ہوگی’۔پھر انہوں نے اپنی آواز تھوڑی بلند کرلی تاکہ باقی سواریاں بھی عبرت پکڑیں: ‘عاقبت کی منزل پر دھیان رکھو، دنیا کو منزل نہ سمجھ لینا’۔



پاکستان میں بحرانوں کا ذمہ دارکون ہے

ایسے میں بس ڈرائیور کو اپنے سے پہلے گزرنے والی دوسری بس نظر آگئی اور اس نے جھٹکے سے بس کی رفتار خطرناک حد تک بڑھا دی۔بس ہچکولے لینے لگی اور مسافر ڈرائیور کو کوسنے لگ گئے ۔آگے بیٹھی ایک امّاں، جن کی گود میں چھوٹا بچّہ تھا، انہوں نے ڈرائیور کو پشتو میں کوسنا شروع کردیا اور ایک بلوچ خالہ نے پہلے اردو میں برا بھلا کہا، اور پھر تین انگلیوں کے مخصوص اشارے سے اس پر لعنت کی۔ ایک آدھ بندے نے گالی بھی دے دی۔میں نے کہا ‘جیسے دنیا میں ہماری آزمائش کے لیے زلزلے آتے ہیں، ویسے ہی یہ رفتار کا زلزلہ تھا۔ لوگ خوامخوا میں ڈرائیور کو کوسنے دیتے ہیں’، میں نے ماماجی کو مخاطب کرکے کہا، ‘نہیں ،لیکن اسے بھی تو خیال کرنا چاہیئے ، پیچھے لوگ بیٹھے ہیں، ایک تو اس کی بس کا ہر حصہ بج رہا ہے ، پھر سڑک بھی خراب ہے ’۔اب میں نصیحت مَوڈ (حالت والا مَوڈ) میں آگیا اور آواز کو مصنوعی طور پر گھمبیر بناتے ہوئے بولا، ’ایماں تو آزمائش میں ہی پختہ ہوتا ہے نا! بس کی سپیڈ کا کانٹا اٹھے گا، تو ہم خدا کو یاد کریں گے اور نتیجتاً ہمارے ایمان کا کانٹا بھی اٹھے گا’، کیا خیال ماما جی!’میں نے نصیحت کرنے والے ماماجی کی طرف دیکھ کر کہا اور حضرت اقبال سے دل ہی دل میں معذرت کرتے ہوئے کہا، شاعر بھی یہی کہتا ہے :‘یہ تو چلتی ہیں، تجھے اونچا اڑانے کے لیے ’بس کا ڈرائیور گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہونے والوں میں سے تھا اور دوسری بسوں کے ساتھ شوق رقابت میں تیز سے تیز تر رواں تھا۔وہ سارے تبصروں سے بے نیاز، موت کے کنویں کے سٹائل میں بس دوڑاتا رہا۔
آج شاید وہ سواریاں اٹھانے سے زیادہ اپنے روٹ کی بسز کے ساتھ کسی ریس میں لگا ہوا تھا،اس لیے بس معمول سے برخلاف کھچا کھچ بھری ہوئی نہیں تھی۔ہچکولے لیتی، فراٹے بھرتی بس ٹاور جا پہنچی۔ ٹاور کے پُل پر بھی اس کی ہیجان خیز ڈرائیونگ میں فرق نہیں آیا تھا۔راستے کو مزید مختصر کرنے اور گاڑیوں سے بچنے
بچانے کی تگ و دو میں وہ سب سے اونچے والے پُل پر چڑھ گئی جس سے کیماڑی کی بندر گاہ کی کرینیں، نیٹی جیٹی کا پل، بچے کھچے مینگروز کے درخت، کے پی ٹی کی عمارت اور ریلوے ٹریک پر کھڑی مال گاڑی کی بوگیاں نظر آرہی تھیں۔ اتنی اونچائی سے ان نظاروں اور پھر جھولتی ہوئی بس پر مجھے رولر کوسٹر رائیڈ کا سا گمان ہورہا تھا۔اسی سمے میرے دل میں خیال آیا کہ اگر میں بس کی چھت پر سفر کرتا تو شاید یہ رولر کوسٹر کی تشبیہ اور موزوں ٹھہرتی۔
ایک وقت تھا کہ کراچی میں بس کی چھت کے سفر کو محفوظ آپشن سمجھا جاتا تھا۔ جان کے لیے نہیں، مال کے لیے کیوں کہ جب دن دہاڑے ڈکیت بس میں سوار ہو کر لوگوں سے موبائل اور نقدی لوٹتے تو بس کے چھت پر بیٹھی سواریاں اس سے محفوظ رہتیں۔میں بھی سبزی منڈی میں کاروبار کے دنوں میں نقد رقم کی بحفاظت ترسیل کے لیے چھت پر سفر کرچکا ہوں لیکن اب کے میری کم ہمتی سے زیادہ کنڈکٹر کے دل میں چالان کا خوف اس میں مانع ہوا۔اس رولر کوسٹر رائیڈ میں مزید رنگینی اس وقت بھر گئی جب بس مائی کولاچی روڈ پر اتری۔
ایک طرف بحریہ ون، ٹو، اور تھری کی کمرشل عمارات اور اس کے مخالف روڈ پر کنٹنیرز کے بڑے بڑے ویئر ہاؤسز اور اس کی باؤنڈری والز جن پر خوبصورت نقش و نگار، ٹرک آرٹ، کراچی کی تاریخی عمارات کی ڈرائینگز اور پینٹینگز تھیں۔اڑتے ہوئے پرندے ، پتنگ اڑاتے بچے اور کسی ریس میں دوڑتی گدھا گاڑیوں کی تصویریں ۔۔۔ بیچ میں جگہ جگہ ’آئی ایم کراچی‘ لکھا ہوا تھا اور اگلے چوراہے پر امریکی قونصل خانہ اور اس پر
لہراتا سرخ دھاری دار امریکی جھنڈا تھا۔یہاں بھی مقابل دیواروں پر گدھا گاڑیاں پینٹ کی ہوئیں ہیں۔میں نے جب پہلی بار یہ مصوری دیکھی تھی تو سمجھا تھا کہ یہ امریکی قونصل خانے کی جانب سے بیوٹیفیکیشن پلان کا حصہ ہے ۔ پھر پتا لگا کہ یہ یو ایس ایڈ کے تعاون سے کراچی میں کا أنٹر سپرے پینٹ ایکسٹریم ازم کی مہم کا حصّہ ہے ، جس کا مقصد دیواروں پر سپرے پینٹ سے کی جانے والی نعرے بازی کو صاف کرنا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو یہ بالکل پتا نہیں تھا کہ کچھ لوگ شیعہ کو کافر سمجھتے ہیں۔ انہیں دیواروں پر یہ نعرے پڑھ کر پتا لگا۔متحدہ قومی موومنٹ کے کراچی میں عروج کے زمانے میں تو عمران خان کی اخلاق باختگی، ذوالفقار مرزا کی ولدیت پر سوالات اور خورشید شاہ کو شاتم رسول قرار دینے میں بھی ان دیواروں پر کیے گئے سپرے پینٹ کا عمل دخل تھا۔
بھلا ہو ان لوگوں کا جنہوں نے امریکی فراخ دلی کو درست رخ پر گامزن کرتے ہوئے دیواروں سے اس سب لغویات کو صاف کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یہ سارے نقش و نگار اور آرائش اسی کا حصہ ہے ۔سر دست تو منی بس کی کھڑکی سے دکھائی دیتے مناظر میں کچھ ایسا ہی منظر پیش کررہے تھے ، جیسے رولر کوسٹر رائیڈ کے دوران کسی فین فیئر اور میلے کے چاروں طرف پھیلی رنگینیاں نظر آتی ہیں ۔۔۔میں بے ساختہ تھینک یو امریکا بولنے لگا ہی تھا کہ ٹرمپ کی ہرزہ سرائی یاد آگئی اور میری غیرت ملّی نے زبان کی لگامیں کھینچ دیں اور اگلے سٹاپ پر لاحول پڑھتے ہوئے اتر گیا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
کراچی کی بس پر رولر کوسٹر رائیڈ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں