کیا مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں ہیں؟

علم اور جہالت میں تفریق ممکن ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عام طور پر طاقتور کی جہالت علم اور کمزور کا علم جہالت سمجھی جاتی ہے، اس لیے علم اور جہالت کا فیصلہ طاقت نے کیا ہے اور طاقت سے مُراد کوئی علمی و فکری صلاحیت نہیں بلکہ عسکری طاقت رہی ہے ۔‘تشدد اور نسل کشی کی بنیاد بننے والی تاریخ’میں اس بات پر روشنی ڈالی جاچکی ہے کہ حملہ آور برتر ثقافت اور علم کا تحفہ لانے والے کے بہروپ میں آتا ہے ۔ اس لیے اس پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ مقبوضہ تہاذیب کے علم و ہنر، فن و فکر کا انکار اور ابطال کرے ۔ہمارے ہاں مروجہ تاریخ چونکہ بیرونی، خاص طور پر عرب، حملہ آوروں کے حملوں کو جائز قرار دینے کی غرض سے لکھی گئی ہے اس لیے مقامی لوگوں کو تاریخی علم کے نام پر اس غلط فہمی کا شکار کردیا گیا ہے کہ اگر خاص طور پر عرب حملہ آور نہ آتے تو وہ جاہلوں اور وحشیوں کی اولاد تھے ۔اس غلط فہمی کی بنیاد پر ہماری اکثریت اعتماد سے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکتی اور جو سماج اعتماد سے پیچھے نہیں دیکھ سکتا، اُسے آگے بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔دائیں بازو کے دانشور تو ایک طرف، بات ہمارے ہاں بائیں بازو کے دانشوروں کے ہاں یہ رجحان عام رہا ہے کہ جب بھی عقل پسندی کی بات چھڑی تو تان معتزلہ کے فسانے پر ٹوٹی۔یہاں تک کہ جب علی عباس جلالپوری نے نشاۃ ثانیہ کے دور کے فرانسیسی لغت نو یسوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خرد افروزی کے فروغ کے لیے اُردو زبان کا ایک مختصر انسائیکلوپیڈیا ‘خرد نامہ جلالپوری’ تحریر کیا تو مقامی لوگوں کو ‘اُن کا’ روشن ماضی یاد دلانے کے لیے معتزلہ کی یاد دلائی۔ان سے پہلے اور بعد میں بھی دیگر دانشوروں نے بھی اسی مثال پر عمل کیا یا پھر مغربی عقل پسندانہ رجحانات اپنانے کی وکالت کی۔یہ سب علمی کاوشیں اپنی جگہ قابلِ ستائش ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ دونوں اپروچز مقامی لوگوں کو تاثر دیتی ہیں کہ عقل پسندی اور انسان دوستی کے رجحانات اپنانے کے لیے انہیں کوئی درآمد شدہ ماڈل اپنا کر اپنے حقیقی آباؤ اجداد سے دست بردار ہونا پڑے گا۔اس رویے سے اس علمی کج فہمی کو فروغ ملتا ہے کہ برصغیر میں ایسے فکری رجحانات و دبستان سرے سے موجود ہی نہیں رہے ۔کیونکہ ہم اس استعماری بیانیے کے قائل ہیں کہ بیرونی حملہ آور لوٹنے کی بجائے برتر ثقافت اور علم کا تحفہ لائے تھے اور ان کی آمد سے قبل نہ یہاں علم تھا اور نہ ثقافت،تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ برصغیر کی فکری تاریخ یونان سے بھی قدیم ہے ۔مثال کے طور پر اگر ہم چار ہزار سال پیچھے جائیں تو ہمارا تعارف نیادرشن نامی فلسفیانہ دبستان سے ہوتا ہے ۔نیا درشن دو الفاظ کا مر کب ہے ، نیا سے مراد ’سیدھا‘جبکہ درشن کا مطلب رُو نمائی ہے ۔یہ فلسفہ مقامی فلسفی گوتم نے پیش کیا تھا۔واضح رہے کہ یہ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ نہیں ہیں۔گوتم شاید دنیا کے اولین لوگوں میں سے تھا جس نے یونانی فلسفیوں سے ہزاروں برس پہلے ان عناصر کی بات جو ہماری دنیا کی بنیاد بنتے ہیں۔گوتم کے نزدیک یہ عناصر چھ اصول ہیں جن میں: مادہ، زمان، مکان، انواع، اجذاب اور تعمیر شامل ہیں۔گوتم ہوا، پانی، آگ اور آکاش کو بھی مادہ گردانتا ہے جبکہ زمان ومکاں، حیات اور روح کو مادہ سے خارج کر تا ہے ۔وہ کہتا ہے : ’انسان خام عناصر کا علم حواس سے ، زمان و مکاں، شعور اور وفورِ حیات کا علم قوتِ ادراک کی مدد سے حاصل کرتا ہے ۔



معاشرے میں بڑھتی درندگی۔۔۔مستقل حل کیا ہے ؟

گوتم شاید وہ پہلا فلسفی ہے جو مادے کو حقیقت مانتا ہے۔وہ کہتا ہے :’تخیل بھی متحرک ہونے کے لیے کسی مادی وجود پر انحصار کرتا ہے ۔تخیل محض اپنے اوپر کام کر کے نئے تصورات پیدا نہیں کر سکتا۔ اس لیے ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ مادہ حقیقت ہے ۔‘گوتم کے نزدیک قوت فکر جملہ انسانی حسّیات کے مربوط و مر کوز عمل کا نا م ہے ۔اس کے نزدیک حسّیات چھ ہیں، پا نچ ظاہری اور چھٹی باطنی۔ تاہم وہ چھٹی حس کو ‘مانس’ کہتا ہے جس کا مطلب ضمیر یا تکمیل یافتہ ذات (actualized self ہو سکتا ہے ۔بقول گوتم بصارت کی صلاحیت مادی اجسام کی مانع صلاحیت سے ممکن ہو تی ہے ۔ روشنی کا ارتعاش اجسام سے ٹکرا کر آنکھوں کے لطیف آلاتِ بصارت پر اپنا عکس چھوڑتا ہے ، رنگ آنکھوں کے مختلف احساسات ہیں اور ان کا انحصا اجسام سے ٹکرا کر منعکس ہو نے والی روشنی کے حجم، جذب ہونے کی صلاحیت اور رفتار پر ہے ۔گوتم سماعت کی تقریباً وہی وضاحت پیش کر تا ہے جو ہندوستان کے اولین برطانوی مورخ الیگزینڈر ڈاؤ کے بقول اٹھارہویں صدی میں مغر بی سائنس دان کر رہے تھے ۔الیگزینڈر اس بات پر حیران ہوتا ہے کہ ایک شخص بغیر کسی لیبارٹری کے اور اُس خطے میں رہتے ہوئے جہاں لاش کی چیر پھاڑ ممنوع ہو، تجربے کی کمی دھیان سے کیسے پوری کرسکتا ہے ؟ گوتم کے نزدیک منطقی عقل شعور کی وہ حالت ہے جو مادی دنیا کا علم حاصل کرنے کے لیے عطا کی گئی ہے اور مادی دنیا کا علم حسّیات کے جملہ تجارب کا مجموعہ ہے ۔یہاں وہ حسیات اور فکر کے تعلق کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب آنکھ دھواں دیکھتی ہے تو منطقی عقل یہ نتیجہ اخذ کر لیتی ہے کہ کہیں آگ جل رہی ہے ۔آنکھ رسی کا ایک سرا دیکھ کر دُوسرے (ان دیکھے )سرے کا سراغ پالیتی ہے ۔منطقی عقل، حسیات اور علت و معلول کے قانون کے مابین رشتوں پر بات کرتے ہوئے گوتم ملحدین کی منطقی غلطی پر بات کرتا ہے ۔گوتم پرم آتما (خُدا) پر یقین نہ رکھنے والوں اور تخلیقِ کائنات کو حادثہ قرار دینے والوں کو ‘باید’ کہتا ہے ۔وہ کہتا ہے کہ باید دنیا کو حادثہ کی پیداوار مانتے ہیں لیکن کا ئنات اور انسان کی تخلیق حادثاتی ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ حادثہ پانی کے بلبلے کی مانند اس پل ہے اور دُوسرے پل نہیں ہے ۔ اس کے برعکس ربطِ حیات اور جوشِ تخلیق منطقی ربط کا پتہ دیتے ہیں۔تخلیق کا انحصار ‘اصل’
واقعات کے مربوط سلسلے سے ہے جس میں سے ہر واقعہ مخصوص فطری علت (natural cause) کا مہمیز کردہ ہے ،لہٰذا واقعات کے اس تسلسل میں حادثہ کسی ایسے واقعہ کو کہا جاسکتا جس کی علت ہنوز ہماری علمی سطح سے اوجھل ہے ۔انسان کی علمی سطح مزید بلند ہوگی تو ایسے حادثات کی منطقی کڑیاں بھی مل جائیں گی کیونکہ ہر واقعہ علت کا پتہ دیتا ہے لہٰذا حادثے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
گوتم کے اس بیان سے ایک طرف تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام دنیا میں مذاہب کے ماننے والوں کو ایک ہی طرزِ کے فکری چیلنجز کا سامنا رہا ہے تو دُوسری طرف اس غلط فہمی کا بھی ازالہ ہوتا ہے کہ الحاد اور عقیدہ شکنی کوئی جدید مظہر ہے ۔گوتم کے دلائل ثابت کرتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں برس پہلے بھی ملحدانہ رجحانات موجود تھے ۔مثبت انداز میں دیکھا جائے تو مذہبی اور ملحدانہ دونوں رجحانات بظاہر ایک دُوسرے کے مخالف دکھائی دیتے ہیں لیکن اگر ایک نہ ہو تو دُوسرے کی فکری پرواز بھی متاثر ہوتی ہے ۔
اگر ایک کو بات کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو دُوسرا خود بخود سطحی پن کا شکار ہوجاتا ہے۔قدیم ہندوستان کو، بقول کیرن آرم سٹرانگ، دنیا میں روحانی و نفسیاتی فکر کے امام کا درجہ حاصل ہے ۔اس لیے لازم ہے کہ یہاں مذہبی فکر کے ساتھ مادی فکر اور الحاد پسندی کو بھی عروج نصیب ہوا ہوگا۔اس صداقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مذہب پر جن ملحدانہ اعتراضات کو گوتم چار ہزار برس پہلے منطقی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ مغرب میں باقاعدہ طور پر منطقی اثبات پسندوں نے پہلی بار بیسویں صدی (1920 ء میں پیش کیے ۔
گوتم کا ملحدین کے خیالات پر بات کرنا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ برصغیر میں فکر و اظہار کی آزادیوں کو ہزاروں سال پہلے نہ صرف تسلیم بلکہ ان کا احترام بھی کیا جاتا تھا۔انہیں اظہار کی مکمل آزادی حاصل تھی اس لیے ان کے افکار عام تھے ورنہ گوتم کو ان خیالات پر بات کرنے کی کوئی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔مغرب میں ملحدین اگرچہ 500 قبل از مسیح یونان میں موجود تھے لیکن جان ہنری ‘دی انلائٹنمنٹ ورلڈ (2004ء) میں لکھتا ہے کہ مغرب میں انہیں پہلی بار نشاۃ ثانیہ اور خرد افروزی کے ادوار 1400ء سے 1800ء میں کھل کر بات کرنے کا موقع ملا جبکہ گوتم کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ مغرب کے برعکس برصغیر میں ملحدین کئی ہزار سال پہلے بھی اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کررہے تھے ۔برصغیر کی وسیع المشربی کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ گوتم کسی بھی مقام پر ملحدین کو محض کافر و زندیق اور واجب القتل کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اُن کے ہر اعتراض کا عملی و عقلی جواب دینا ضروری سمجھتا ہے۔الیگزینڈر گوتم کی سائنسی فکر کا قدر دان ہے اور وہ اٹھارہویں صدی تک مغرب میں مقامی فکر کے تعارف سے مطمئن نہیں تھا۔
گوتم کے تعارف کے بعد وہ یہ بتاتا ہے کہ چار ہزار برسوں میں گوتم کی صرف ایک کتاب بچی ہے جو برٹش میوزیم میں رکھوا دی گئی ہے ۔الیگزینڈر خواہش کرتا ہے کہ مقامی فکر مغرب میں روشناس کرائی جائے تاکہ لوگ اس خطے کی فکری گہرائی کا اندازہ لگاسکیں جسے ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی تعصب زدہ آنکھ سے دیکھا جاتا رہا ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
کیا مقامی لوگ جاہلوں کی اولادیں ہیں؟
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں