امریکی صدر کا خود ستائی پر مبنی غیر واضح خطاب

کل رات کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی معیشت کو بڑھاوا دینے اور امریکی مفادات اور اقدار کا تحفظ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ انہوں نے صدارت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد اپنے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں امریکہ میں اتحاد اور یگانگت پیدا کرنے اور امریکہ کی تعمیر و ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔ لیکن دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ صدر ٹرمپ کا لب و لہجہ پہلے کے مقابلے میں مفاہمانہ تھا لیکن وہ کسی بھی اہم قومی مسئلہ پر سیاسی مخالفین کو کوئی سیاسی رعایت دینے پر تیار نہیں تھے ۔ ان کی گفتگو میں نہ تو ایک اکہتر سالہ معمر سیاست دان کا تحمل تھا اور نہ ہی جہاں دیدہ شخص کا تدبر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ اس کے برعکس وہ خود اپنی کارکردگی کی تعریفیں کرنے اور سابقہ حکومتوں کو برا بھلا کہنے اور امریکی حب الوطنی کا فرسودہ نعرہ استعمال کرکے اپنے انتہا پسند حامیوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ انہوں نے عظیم امریکہ کی تعمیر کے لئے ڈیڑھ کھرب ڈالر انفرا اسٹرکچر پر صرف کرنے کا اعلان کیا لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ وہ اس خطیر رقم کو کس طرح صرف کریں گے اور اس کے حصول کے لئے کانگرس میں ڈیموکریٹک پارٹی سے کس طرح حمایت و اعانت حاصل کریں گے ۔ یہ تقریر خوابوں کی دنیا میں اسیر ایک شخص کا بیان تو ہو سکتا ہے لیکن ایک بڑے ملک کے صدر اور دنیا کی واحد سپر پاور کے سربراہ کے طور پر وہ ٹھوس تجاویز سامنے لانے اور اقدامات کا اعلان کرنے میں ناکام رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ امریکی سرحدوں کو تارکین وطن کے لئے بند کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر امریکہ میں داخل نہ ہو سکیں اور غریب ملکوں کے لوگ یہاں آکر امریکی نوجوانوں کے روزگار کو نہ چھین سکیں ۔ یہ ایک ایسا مؤقف ہے جس پر نہ تو امریکہ میں اتفاق رائے موجود ہے اور نہ ہی اسے مکمل سچائی کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ۔ امریکہ کی کامیابی کا راز ہی اس بات میں مضمر رہا ہے کہ وہ دنیا بھر کے باصلاحیت لوگوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے امریکہ آنے اور کام کرنے کا موقع فراہم کرتا رہا ہے ۔ لیکن اب صدر ٹرمپ اس روایت کو امریکی مفاد کے خلاف قرار دے کر امیگریشن پر سخت پابندیاں لگانا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے امریکہ میں غیر قانونی طور سے آنے والے بچوں کو حاصل قانونی تحفظ واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان سے ڈریمرز Dreamers کے نام سے جانے والے آٹھ لاکھ کے لگ بھگ نوجوان تارکین وطن متاثرہوئے ہیں۔ اس فیصلہ کے خلاف ملک گیر احتجاج سامنے آیا تھا اور ڈیموکریٹک پارٹی نے اس اقدام کو مسترد کرنے کے لئے گزشتہ ماہ کے آخر میں قومی بجٹ منظور کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ایک ہفتہ تک امور مملکت بند رہے جس کے بعد ری پبلیکن پارٹی نے یہ وعدہ کرکے عبوری طور سے 8 فروری تک بجٹ منظور کروایا تھا کہ اس دوران ڈریمرز کا مسئلہ حل کرنے کے لئے حکومت کوئی مفاہمانہ فارمولا سامنے لائے گی، اس لئے یہ امید کی جارہی تھی صدر ٹرمپ اسٹیٹ آف یونین خطاب میں اس حوالے سے کوئی ٹھوس تجویز پیش کریں گے لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مطالبے کے مطابق ڈریمرز کو ملک میں رہنے کا حق دینے کی بات کرنے کی بجائے اس مطالبہ کو منظور کرنے کے لئے تین شرائط رکھی ہیں۔ ان میں میکسیکو کے ساتھ دیوار بنانے کے لئے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کرنے کے علاوہ امیگریشن کو سخت کرنے کے لئے دو شرائط رکھی گئی ہیں۔ ان میں لاٹری کے ذریعے امریکی ویزے کے اجرا کو بند کرنا اور امریکی شہریوں کی طرف سے اپنے اہل خاندان کو ملک میں بلوانے کے حق کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا ہے ۔ ڈٖیموکریٹک پارٹی اگرچہ ڈریمرز کو ملک میں رہنے کا حق دلوانے کے لئے میکسیکو کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کرنے کی پیش کش کرچکی ہے لیکن امیگریشن کے حوالے سے دوسرے سخت مطالبوں پر اپوزیشن پارٹی کے علاوہ ملک میں وسیع تر رد عمل سامنے آسکتا ہے ۔



ایوان بالا کاالیکشن شیڈول

حیرت انگیز بات ہے کہ جو امریکی صدر اپنی صدارت کے پہلے سال میں قومی بجٹ منظور کروانے میں ناکام رہا ہو اور جس کے تحت کام کرنے والی حکومت ایک ہفتہ کے اندر بند ہو نے کا اندیشہ موجود ہو ، وہ سال کی اہم ترین تقریر میں اپنی تعریفوں کے پل باندھنے اور کامیابیوں کا ذکر کرکے خود ہی تالیاں بجاکر خود کو ہی داد دیتا رہا۔ یہ کیسی کامیابی ہے جس میں نظام حکومت بند ہونے کی تلوار سر پر لٹک رہی ہو لیکن صدر اس کا فکر کرنے کی بجائے یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس کے دور حکومت میں امریکہ روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو چکا ہے ۔ ملک میں معاشی احیا کا آغاز ہو گیا ہے اور روزگار کے 24 لاکھ نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وہ یہ حوالہ دینے میں ناکام رہے کہ دنیا بھر میں معاشی ترقی کے اثرات امریکی معیشت پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں جو معاشی پالیسیاں اختیار کی گئی تھیں ان کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ رک گیا تھا اور نئے روزگار پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے ۔ صدر ٹرمپ نے اس کے برعکس جو اہم ترین اقدام کیا اور کامیابی حاصل کی اور جس کا کریڈٹ بھی انہوں نے اس تقریر میں لیا ہے ، وہ ٹیکس اصلاحات ہیں۔ ان اصلاحات کے تحت امیروں کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے جبکہ اس سہولت سے ہونے والے مالی خسارے کا نقصان امریکہ کے غریب شہریوں کو پورا کرنا پڑے گا۔صدر ٹرمپ امریکہ کو متحد کرنے اور مل کر چلنے کی بات ضرور کرتے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسیاں اور ان کا ذاتی رویہ اس اعلان کے دھوکہ ہونے کی چغلی کھاتا ہے ۔ وہ مسلسل بالواسطہ یا براہ راست ماضی کی حکومتوں اور خاص طور سے سابق صدر باراک اوباما پر تنقید کرکے اپنی کامیابیوں کی سہانی تصویر دکھانا چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ تصویر صرف ان کے ان انتہا پسند حامیوں کو دکھائی دیتی ہے جو تعصب اور نفرت کی بنیاد پر معاشرہ کی تعمیر کو امریکہ کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ان میں امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف تلخ بیانیہ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے سال کے دوران ہی صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف کم ہو کر چالیس فیصد پر آگیا ہے جو صدارت کے پہلے سال کے دوران کسی بھی صدر کے لئے مقبولیت کی کم ترین شرح ہے ۔
اس کے باوجود اپنی حکومت کو صدر اوباما کی حکومت سے بہتر ثابت کرنے کے لئے صدر ٹرمپ نے اس خطاب میں دو ٹھوس حوالے دینے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک گوانتا ناموبے کا عقوبت خانہ بند کرنے کے بارے میں باراک اوباما کے فیصلہ کو مسترد کرنا تھا۔ باراک اوباما نے 2012 ء میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد گوانتاناموبے کی جیل بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن وہ آٹھ برس کی صدارت کے دوران اسے پوری طرح ختم نہیں کرسکے اور اب بھی وہاں پر 41 لوگ کسی قانونی تحفظ کے بغیر قید ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسے بند کرنے کی بجائے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امریکہ کے دشمنوں کو وہاں قید کیا جائے ۔ اس کے علاوہ افغانستان سے فوجیں نکالنے کے بارے میں صدر اوباما کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میری حکومت امریکی فیصلوں کے بارے میں اعلان کرکے دشمنوں کے حوصلے بلند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی’۔ صدر ٹرمپ افغانستان میں امریکی قوت میں اضافہ کرنے اور طالبان کو کچلنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ دو روز قبل ایک انٹرویو میں انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان لوگوں سے طویل عرصہ تک بات نہیں ہو سکتی جو بے گناہ لوگوں کو قتل کررہے ہیں حالانکہ ماہرین سمجھتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مل کر سیاسی حل تلاش کئے بغیر افغانستان میں قیام امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ صدر ٹرمپ کی پالیسی کی بنیاد اس ناکام جنگ میں پاکستان کو ملوث کرنے پر استوار ہے اور اس مقصد کے لئے وہ پاکستان پر ہر قسم کا دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ منگل کو کی جانے والی تقریر میں انہوں نے پاکستان کا ذکر نہیں کیا لیکن ا س خواہش کا اظہار کیا کہ کانگرس ایسا قانون منظور کرلے جس کے تحت امریکی امداد صرف ان ملکوں کو دی جا سکے جوامریکہ کے دوست ہوں۔ امریکہ کا دوست ہونے کے بارے میں صدر ٹرمپ کی توضیح بھی دلچسپ ہے ۔ ان کے خیال میں جن ملکوں نے ان کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی مخالفت کی ہے وہ امریکہ کے دوست نہیں ہیں۔ لیکن وہ شاید یہ بھول گئے کہ اقوام متحدہ کی
جنرل اسمبلی میں اس معاملہ پر ووٹنگ میں بھارت نے بھی امریکہ کے خلاف ووٹ دیا تھا حالانکہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے بعد بھارت کو ہی اپنا سب سے قابل اعتماد اور اہم حلیف سمجھتے ہیں۔خارجہ پالیسی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے ایران اور شمالی کوریا کے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے شام میں داعش کے مکمل خاتمہ کا دعویٰ کیا،لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے کہ وہ داعش کی باقیات سے نمٹنے کے لئے شامی کردوں کو مسلح کرنے کے منصوبہ پر کام کرتے رہے ہیں۔ اور اب انہی عسکری عناصر کے خاتمہ کے لئے نیٹو میں امریکہ کے ساتھ شریک ترکی نے شام ہر دھاوا بول دیا ہے اور امریکہ کی پالیسی کو اشتعال انگیز اور ناقابل قبول قرار دیا ہے ۔ صدر ٹرمپ اپنے حمایت یافتہ عسکری گروہوں کی حمایت میں ایک لفظ بھی کہنے میں ناکام رہے ۔ اسی طرح اگرچہ وہ افغانستان کے بارے میں مضبوط پالیسی اختیار کرنے کے دعویدار ہیں لیکن اس کے خد و خال کسی پر واضح نہیں ہیں۔صدر ٹرمپ کی تقریر اپنی تعریفوں اور مخالفین کی کوتاہیوں کے بارے میں تو ایک تفصیلی بیان کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس میں وہ یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ امریکہ کو ‘قلعہ’ بنانے اور دنیا میں تنہا کرنے کے علاوہ وہ کس چیز کو امریکہ کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہ ابہام شاید ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران برقرار رہے گا۔ اس سے ہونے والے نقصان کا خمیازہ بہر حال امریکہ کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

نئی ایمنسٹی سکیم۔۔۔۔۔۔نیاجال پرانے شکاری

وفاقی حکومت اپنی معیادکے آخری مرحلے میں بیرون ملک مقیم سینکڑوں پاکستانیوں کے لیے ماضی میں منی لانڈرنگ ،سمگلنگ یادیگر قانونی وغیرقانونی ذرائع سے اربوں ڈالرکے اثاثے اورجائیدادیں رکھنے والوں کوبلیک منی کووائٹ کرنے کاراستہ دینے کے لیے نئی سکیم سامنے لانے پرغورکررہی ہے۔دنیابھر میں مالی وسائل لُوٹ کردوسرے ملکوں میں انوسٹمنٹ ،قیمتی جائیدادیں،اثاثے اوربنک بیلنس رکھنے والوں کے خلاف قائم ہونے والا قانون نہ صرف یکم جنوری 2018ء سے نافذ ہوچکا،بلکہ ایشیا،افریقہ ،مشرق بعید ،مشرق وسطیٰ اوریورپ کے حکمران خاندان بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ۔گزشتہ برس13اپریل کوپانامہ لیکس کے بعد بہاماس اورپیراڈائز لیکس کے ذریعے پاکستان کے450کے قریب انتہائی بااثرافراد ،سیاستدان ،بیوروکریٹس ،ریٹائرجج ،جرنیل،صنعتکار،تاجراورحکمران خاندانوں کے لوگ اربوں ڈالر بیرون ملک سرمایہ منتقل کرکے نہ صرف اپنے ملکوں کی معیشتوں کوتباہ کرنے کاباعث بنے ،بلکہ ان ملکوں کے حکمرانوں اورقریبی حلقہ احباب نے اپنے ملکوں کے قوانین کی دھجیاں بکھیرکررکھ دیں۔کویت پرعراقی قبضے کے بعدا لجبار خا ندان کے کھربوں ڈالر کے بیرون ملک اثاثوں کی اطلاعات منظرعام پرآئیں جبکہ عراقی صدرصدام حسین،ان کے بھائی،لیبیا کے کرنل قذافی ،لبنان کے الحریری خاندان ،افریقی حکمرانوں جن میں رابرٹ موگابے ،سینیگال روانڈا ،افریقی حکمران عیدی امین سے لے کرسپین کے حکمران خاندان،یونان،فلپائن کے مارکوس ،اس کی اہلیہ امیلڈامارکوس ،جاپان کے درجنوں وزراء اوروزرائے اعظم کرپشن میں ملوث رہے ہیں ۔کرپشن اورغیرقانونی وسائل کی لوٹ مارمیں فرانس کے سابق صدرملوث پائے گئے ۔یہ اعدادوشمار حقیقی صورتحال کاصرف عشرعشیرہے،حال ہی میں سعودی حکومت نے 11شہزادوں اوراقتدار میں شامل27افراد کوقومی وسائل لوٹنے پرنہ صرف گزشتہ برس کے آخرمیں گرفتار کیا گیابلکہ ایک فائیوسٹار ہوٹل میں نظربندکرکے ناجائز ذرائع سے حاصل کیے جانے والے 400ارب ریال وصول کرلیے گئے،گرفتارکیے جانے والے 400افراد میں سے 65ابھی تک زیرحراست ہیں ۔سعودی ولی عہد کے مختلف بااثرافراد سے100ارب ڈالر وصول کرنے کی بھی نہ صرف پیشگوئی درست ثابت ہوئی بلکہ شہزادہ ولیدبن طلال جیسے سعودی شہزادے کواپنی آزادی بحال کروانے کے لیے کئی ارب ڈالراداکرنے پڑے۔سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود الحبیب کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف تحقیقات کے دوران جوبے قصورپائے گئے انہیں توایسے ہی رہاکردیاگیاجبکہ کرپشن میں ملوث افراد کومالی ادائیگیوں کے متعلق تصفیہ ہونے کی صورت میں رہاکردیاگیا۔جن سعودی شہزادوں یابااثرشہریوں کی منقولہ وغیرمنقولہ املاک،تجاری نوعیت کی جائیدادیں ،حصص یامالیاتی بانڈبھی شامل ہیں ۔ریاض میں انتہائی پرتعیش اورمہنگا ہوٹل فروری کے شروع میں عام مہمانوں کے لیے کھولاجائے گا۔جدہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق100کی بجائے107ارب ڈالرحاصل بھی ہوگئے اورتیل کی عالمی قیمتوں میں مسلسل کمی سے خالی ہونے والا سعودی خزانہ بھی ارب پتی،کھرب پتی سعودی شہزادوں سے وصول ہونے والی رقوم کے باعث بھر چکاہے۔دراصل قومی وسرکاری وسائل لوٹ کردوسرے ملکوں میں لے جانا ماضی میں نہ صرف ایک سہل وآسان راستہ سمجھاجاتاتھابلکہ بنکوں میں پڑے سرمائے کے بارے میں دیگرملکوں اوربنکوں کے بارے میں انفارمیشن نہیں کی جاسکتی تھی۔2013ء میں مسلم لیگ ن نے اقتدارسنبھالا تودنیابھر کے سنجیدہ کاروباری وتجارتی حلقوں نے محسوس کیا کہ چند ملکوں سے اربوں کھربوں روپیہ لوٹ کرسوئزرلینڈ ،امریکی ،برطانوی ودیگر بنکوں میں رکھنے والے جہاں مجرم ہیں ،وہیں مراعات یافتہ بھی ہیں ،کھربوں ڈالراوپن مارکیٹ میں گردش کریں تومعاشی سرگرمیاں تیز ہونے کے ساتھ بیروزگاری وغربت میں کمی اورمنی لانڈرنگ جیسے شرمناک بزنس کاخاتمہ بھی ہوسکتاہے۔ماضی میں گوادر ایساپسماندہ علاقہ اورلانچوں کے ذریعے سونے ،کرنسی اوردیگراشیاء کی سمگلنگ کاذریعہ ہواکرتاتھا۔پاکستان سے ڈالر،پاؤنڈ،ریال خرید کربیرون ملک منتقل کیے جاتے جبکہ وہاں موجودپاکستانی کرنسی ادھرمنتقل کردی جاتی۔پاکستان کے بااثرافراد کی پراسراراورشرمناک کاروباری وتجارتی سرگرمیاں کرنسی سمگلنگ کومہمیز کرتی رہیں۔1993ء میں محترمہ بے نظیربھٹو کے سرے محل کی ملکیت کامعاملہ سامنے آنے کے ساتھ ہی آصفہ زرداری کے سوئس بنک میں300ارب ڈالر کی موجودگی بھی سامنے آئیں جسے پاکستانی میڈیا نے بہت زیادہ اچھالا۔صرف یہی نہیں بلکہ یورپ کے ایک بنک کے لاکر میں ان کے ہیروں سے مزین لاکٹ کی بات بھی منظرعام پرآئی جسے بعدازاں بے نظیراورآصف زرداری نے عدالت میں تسلیم کیا۔پاکستان میں برسراقتدارخاندانوں کے علاوہ بااثرافراد بھی آف شورکمپنیاں بناتے اورکاروبار کرتے رہے ۔پشاورکے سیف اللہ خاندان سمیت اڑھائی سوسے زیادہ پردہ نشینوں کے نام سامنے آئے،بعدازاں شریف خاندان پربھی ایسے الزامات لگے،جن کا مقدمہ وہ آج تک پاکستان کی احتساب عدالت میں بھگت رہاہے۔لندن فلیٹس،العزیزیہ سٹیل ملز،فلیگ شپ کمپنی کے علاوہ آف شورکمپنیوں کی بینی فیشل اونرمریم نواز نکلیں گی توپاکستانی قوم میں تشویش ضرورابھرے گی ۔آج تک ماضی میں سامنے آنے والی مساوی ایمنسٹی سکیم کازیادہ ترمقصد چوری اورسمگلنگ سے اربوں ڈالر بیرون ملک سمگل کرنے والوں کی ’’ذہانت‘‘کوتسلیم کرکے ڈیڑھ سے اڑھائی فیصد تک ٹیکس دے کر اپنی بلیک منی کووائٹ کرتارہاہے۔2016ء میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے بھی ٹیکس ایمنسٹی متعارف کروائی جس دوران بڑے بڑے کرنسی نوٹ بھی منسوخ کردیئے گئے ۔انڈونیشیا نے بھی ایسی ہی ایک ایمنسٹی سکیم کااعلان کیاتھا۔اسحق ڈار اپنے چارسالہ دوراقتدار میں براہ راست یاہزارپردوں میں روپوش ایمنسٹی سکیمیں بناتے رہے۔اب وزیراعظم شاہدخاقان عباسی ،مشیرخزانہ مفتاح اسمعٰیل بیرون ملک سے دولت پاکستان لانے پر جس ٹیکس چھوٹ کااعلان کرنے والے ہیں ۔اپنی ایمنسٹی سکیموں کوبہترین نعم البدل کے ساتھ ملکی اقتصادیات ومعیشت کواستحکام دینے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ ا گراس قسم کی کوئی سکیم سامنے آتی ہے توبیرون ملک اربوں روپے منتقل کرنے والوں کوبیان حلفی بھی دینے پڑیں گے۔نشاط ٹیکسٹائل کے میاں منشاء ہوں یا کوئی اور،ماضی میں اربوں ڈالرلوٹ کربیرون ملک منتقل کرنے والوں کوایمنسٹی سکیم کی خودضرورت ہے،محض ڈیڑھ ارب ڈالر،وہ بھی پاکستانی کرنسی کی شکل میں وطن واپس لانے کی پیشکش کے پیچھے اگرتوپرانے شکاریوں کوسہولت دینے کی خواہش ہے تواسے نئی منتخب عوامی حکومت کے آنے تک روکاجائے ورنہ پانامہ والوں کونیاراستہ دینے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
امریکی صدر کا خود ستائی پر مبنی غیر واضح خطاب
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں