امریکی وزیرخارجہ کی پاکستان کوجنگ کی دھمکی

گزشتہ دنوں کابل میں دہشت گردی کے پے درپے دوواقعات اوران میں انسانی زندگیوں کے اتلاف پرپاکستان کی حکومت اورعوام نے گہرے دُکھ اورصدمے کااظہارکیاہے اورمذمت کی ہے کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ایسے واقعات کاالزام پاکستان پرلگادیاجاتاہے او ریہ سب کچھ بغیرتحقیقات کے ہوتاہے۔کابل جوافغانستان کادارالحکومت ہے وہ امریکی سکیورٹی فورسز کاہیڈکوارٹر بھی ہے ۔افغان ایجنسیاں ،پولیس اورملکی سلامتی کے محافظ دیگر ادارے بھی موجود ہیں لیکن اس کے باوجود عسکریت پسند جہاں چاہتے ہیں کارروائی کرنے آجاتے ہیں اورکوئی نہ کوئی تخریبی کارروائی کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اورامریکہ وافغانستان حکومت کے حفاظتی حصاردھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ تازہ اطلاع کے مطابق افغانستان میں مقامی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی تازہ لہر کے بعد امریکہ کے صدرڈونلڈٹرمپ نے ،فرسٹ سکیورٹی فورس اسسٹنٹ بریگیڈ(ایس ایف اے بی) کے ایک ہزار مزیدخصوصی کمانڈوز کی افغانستان میں تعیناتی کافیصلہ کرلیاہے اورمنگل کے روز ایس ایف اے بی کے کمانڈوزکرنل سکرٹ جیکسن نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کے دگرگوں حالات کے تناظر میں ایس ایف اے بی کی انتہائی حسا س ٹریننگ میں چھ مہینے کی تحفیف کردی گئی ہے تاکہ انہیں جلدافغانستان میں تعینات کیاجاسکے۔پینٹاگون نے افغانستان ،عراق اوردیگرممالک میں سکیورٹی فورسز کے تحفظ کے لیے جدیدخطوط پراستوار نئی فورس تشکیل دی ہے جوتجاویز اورمعاونت کاکرداراداکرے گی۔پینٹاگون کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ امریکہ کے عام فوجیوں پرخطیررقم خرچ کرکے بھی ان میں پیشہ وارانہ صلاحیت پیدانہیں کی جاسکی،اس لیے بہترین فورس کی تشکیل وقت کی انتہائی ضرورت تھی اورایس ایف اے بی کی پہلی کھیپ میں سے ایک ہزارکمانڈوز کوفوری طورپر افغانستان میں تعینات کیاجارہاہے تاکہ وہ امریکہ کی افغان جنگ میں طالبان سے نبردآزما ہوسکیں اوران ایک ہزارکمانڈوز کوغیرمعمولی اختیارات د ے کرکابل بھیجاجارہاہے اورانہیںیہ اختیار دیاجارہاہے کہ وہ خطے میں طالبان،القاعدہ اورداعش کی باقیا ت کے خلاف آزادانہ فضائی اورزمینی حملے کرسکیں ۔ایس ایف اے بی کمانڈوز کی تعیناتی گزشتہ سے کابل میں تعینات اہلکاروں سے مختلف ہوگی اوران کوملنے والے اختیارات سے یہ بات واضح ہے کہ اب وہ قبائلی علاقہ میں افغان پناہ گزینوں کے کیمپ پرکئے گئے گزشتہ ڈرون حملے کی طرز پر’’دہشت گردوں ‘‘پرحملوں میں اضافہ کردیاجائے گا۔پناہ گزینوں کی بستی میں ،امریکہ کی طرف سے جس طالبان شخصیت کوٹارگٹ کیاگیاتھا اس کاتعلق یقیناًافغانستان کے عسکریت پسند گروہ سے ہوگا لیکن اس سے یہ قراردیناکہ پاکستان نے دہشت گردوں کومحفوظ ٹھکانے دے رکھے ہیں غلط ہے۔پاکستان کی طرف سے باربارکہاجارہاہے کہ کابل انتظامیہ اورامریکہ پاکستان میں موجود افغانستان کے پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے لائحہ عمل بنائے ۔امریکی ڈ رون حملے میں کسی طالبان کمانڈر کی ہلاکت اورپناہ گزینوں کی بستی پرڈرون گرانے سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں کوپاکستان میں کوئی محفوظ ٹھکانے مہیانہیں کیے گئے بلکہ پناہ گزینوں کی بستیاں ہی بعض دہشت گردوں کے لیے رابطوں اورٹھکانوں کاباعث ہوسکتی ہیں۔پاکستان کی وفاقی کابینہ نے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں 31جنوری کوافغان پناہ گزینوں کی پاکستان میں موجودگی میں مزیددوماہ کی توسیع کردی ہے حالانکہ یکم جنوری کے ڈونلڈٹرمپ کے ٹو یٹ کے ردّعمل میں 31جنوری کووفاقی کابینہ سے پناہ گزینوں کے لیے اس قدرہمدردانہ فیصلہ نہیں ہوناچاہیے تھاخصوصاََجبکہ امریکہ کی طرف سے سال2018ء کاپہلاڈرون بھی اسی مہینے میں کیاجاچکاتھا۔امریکہ کومزید اورنئے تربیتی خطوط پرتیارکردہ ایک ہزارکمانڈوکوکابل بھیجنے سے زیادہ کابل کی سکیورٹی کی خامیوں کودورکرنے کی ضرورت تھی ۔امریکہ کاپاکستان پرہمیشہ یہ الزام رہاہے کہ افغانستان میں پاکستان سے آنے والے نام نہاد ’’دہشت گرد‘‘دھماکوں میں مصروف ہیں اورانہوں نے وہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔صدرٹرمپ نے اپنے پہلے آف دی یونین خطاب میں پاکستان کاذکرکئے بغیرکہاہے کہ افغانستان میں مصنوی ڈیڈلائن بناکردشمنوں کوچوکنانہیں کریں گے۔



امریکی صدر کا خود ستائی پر مبنی غیر واضح خطاب

اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی کی سب سے زیادہ ضرورت پاکستان کوہے کیونکہ افغانستان میں بدامنی اوروہاں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہونے کے باعث پاکستان ہی سب سے زیادہ متاثرہواہے۔افغانستان کی جنگ میں امریکہ کافرنٹ لائن اتحاد ی بن کرپاکستان نے نیٹوممالک سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اورہمارے10ہزارسے زائد سکیورٹی اہلکاروں سمیت70ہزارسے زائدشہری خودکش حملوں اوردہشت گردی کی دوسری وارداتوں کی بھینٹ چڑھے ہیں جبکہ امن وامان کی مخدوش صورتحال میں اندرونی وبیرونی سرمایہ کاری رکھنے سے پاکستان کی معیشت کو ایک کھرب ڈالر سے زائدکانقصان ہواہے اورجانی ومالی نقصانات کایہ سلسلہ ہنوزجاری ہے جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ گزشتہ روزبھی اپرپاراچنارکے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں پانچ خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد شہیدہوئے ہیں ۔یہ مسلّمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اورخودکش حملوں کی تازہ تروارداتیں افغان سرحد عبورکرکے پاکستان آنے والے دہشت گردوں نے کی ہیں اوراس بات کے ٹھوس ثبوت اورشواہد پاکستان کی ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں جبکہ بلوچستان میں ’’را‘‘کانیٹ ورک چلانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو گرفتاری کے بعد اب پاکستان میں ہیں اوروہ اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کے کمانڈرتھے۔دوسرے صوبوں میں ہونے والی وارداتوں میں بھی کسی نہ کسی طورپربھارت ملوث رہاہے اورپاکستان میںیہ خیال پایاجاتاہے کہ افغانستان میں ہونے والے نئے سال کے خودکش دھماکوں میں بھارتی ایجنسی’’را‘‘کاہاتھ کارفرما رہاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج دہشت گردی ایک بڑاعالمی مسئلہ بن چکی ہے جبکہ دہشت گردی کے فروغ میں امریکی پالیسیوں کاعمل دخل ہے جن کی بنیادپر وائٹ ہاؤس اورپینٹاگون کی جانب سے القاعدہ اورداعش کی سرپرستی بھی کی گئی ہے لیکن بدقسمتی سے امریکہ اوربعض دوسرے ممالک اس دہشت گردی کاملبہ اسلام اورپاکستان پرڈالنے میں کوئی مضائقہ محسوس نہیں کررہے ۔پاکستان کے مشیرقومی سلامتی جنرل(ر)ناصر جنجوعہ نے گزشتہ روز امریکہ اوردوسری عالمی قوتوں کوباورکروانے کی کوشش کی ہے کہ فی زمانہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے اوراس کاصرف پاکستان کے ساتھ ناطہ جوڑنامناسب نہیں ہے اگرامریکہ کے نائٹ کلبوں اوردوسرے ثقافتی مقامات پرخودکش حملے اوردہشت گردی کی دوسری وارداتیں ہورہی ہیں تویہ امریکی معاشرے کی بے راہ روی کاردّعمل ہے ۔اسی طرح فرانس ،برطانیہ اوردوسرے مغربی ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کابھی اپناپس منظرہے مگر اس کی آڑ میں مسلم دنیابالخصوص پاکستان پردہشت گردی کاملبہ ڈالنے کی سازشیں امریکہ اوریورپ کاایک متعصبانہ روّیہ ہے ۔اسی تناظر میں امریکی وزیردفاع ریکس ٹیلرسن نے گزشتہ روز بھی یہ کہہ کربالواسطہ پاکستان کودھمکی دی ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ گاہیں دینے والوں کے ساتھ سختی کے ساتھ نپٹیں گے ۔یہ ناقابل تردیدحقیقت ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام عسکریت پسند تنظیموں نے افغانستان میں ہی اپنے محفوظ ٹھکانے بنارکھے ہیں کیونکہ ان دنوں بھی افغانستان کے نصف سے زائد علاقوں پران عسکریت پسندوں کاقبضہ ہے۔کابل انتظامیہ اورواشنگٹن کی جانب سے ان دہشت گردوں کے خلاف دانستہ خودکارروائی نہیں کی جاتی اورامریکہ کی طرف سے پاکستان پریہ دباؤ ڈالاجارہاہے کہ پاکستان میں سے ان کے ٹھکانوں پرکارروائی کی جائے ۔پاکستان یہ بات سمجھ چکاہے کہ اگرپاکستان نے افغانستان کے اندرطالبان کے خلاف عسکری کارروائیاں کیں تواس کے نتیجے میں افغانستان کے اندرسے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ جائیں گے ۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے مندوب اس امرکااظہار کرچکے ہیں کہ حقیقی اورنتیجہ خیز مذاکرات کے لیے باغیوں کے ساتھ بھی رابطے کرناضروری ہوتاہے اورافغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بغیر افغانستان میں امن وامان بحال نہیں کیاجاسکتا۔صدرٹرمپ کی قیادت میں بظاہرامریکہ افغانستان میں امن کی مستقل بحالی میں قطعاََسنجیدہ اورمخلص نہیں ہے ۔اگر مذاکرات کے عمل میں امریکہ کااخلاص شامل حال ہوتواس کے لیے وہ پاکستان کی مدد حاصل کرکے اس کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ کرسکتاہے جس کی روشنی میں افغان دھرتی پرموجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں پرموثرکارروائی کرکے خطے میں پھلتی پھولتی دہشت گردی کی جڑیں اکھاڑسکتاہے۔امریکہ نے بھارت کوخطے میں اپنے مفادات کی نمبرداری سونپ رکھی ہے۔کابل اوردہلی دونوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف بلاجواز ہرزہ سرائی کاسلسلہ شروع ہے جس کے نتیجہ میں عالمی اَمن وامان مستقل طورپر خطرے میں ہے کیونکہ بھارت نہ توپاکستان میں امن چاہتاہے اورنہ ہی افغانستان میں امن اس کی ترجیحات میں ہے اورکابل میں ہونیوالے دھماکوں میں خودبھارت دہشت گردوں کی حمایت کرتاہے اوریہی وہ خوفناک حقیقت ہے جس پرامریکہ غورکرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔افغانستان میں امن کے لیے دوباتوں کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں سے بھارت کااثرورسوخ ختم کرکے وہاں پاکستان کواثرورسوخ دے او ردوسری اہم بات یہ ہے کہ صدرڈونلڈٹرمپ طالبان سے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی کوترک کرکے ،طالبان کے ساتھ مذاکرات کویقینی بنائے اوراس سلسلے میں پاکستان کوبھی ان مذاکرات میں شامل کرے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
امریکی وزیرخارجہ کی پاکستان کوجنگ کی دھمکی
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں