نظریہ ضرورت اورنااہلی پراعلیٰ اختیار اتی کمیشن بنانے کامعاملہ!

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے گزشتہ دنوں اپنے دورہ کراچی کے دوران تاجرکمیونٹی سمیت مختلف تقریبات سے خطاب کیا اورانہوں نے مسلم لیگ ن سندھ کے زیراہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ قیام پاکستان کے بعد گزشتہ 70برسوں میں ملک کی اعلیٰ عدالتوں کے اکثرججوں نے نظریہ ضرورت کے تحت کیے جانے والے فیصلوں میں ملک میں جمہوریت کے استحکام کوبہت زیادہ نقصان پہنچایاہے ا ورایسے اکثرکیسوں میں سپریم کورٹ سے ایسے فیصلے آتے رہے ہیں جن میں آئین توڑنے والوں کے فوجی اقدامات کونظریہ ضرورت کے تحت تحفظ دینے کاسلسلہ جاری رہاہے۔معزول وزیراعظم نے کہاکہ رسوائے زمانہ نظریہ ضرورت 1954ء میں سامنے آیا اوریہ روائت جسٹس منیرنے ڈالی لہٰذا پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی کو 1950ء کے عشرے میں پٹری سے اتاردیاگیا۔1956ء میں جب چوہدری محمدعلی ملک کے وزیراعظم تھے ،ملک کاپہلاآئین بناکرملک میں جمہوریت کے سفرکاآغاز کیاگیالیکن اس وقت کے گورنرجنرل پاکستان سکندرمرزا نے ملک میں پہلامارشل لاء نافذ کرکے جمہوریت کی بساط لپیٹ دی اوراس دور کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ایوب خان نے1958ء کے مارشل لاء کے بعد خودکو نہ صرف آرمی چیف کے عہدہ پرسے ترقی دے کرفیلڈمارشل بنالیا بلکہ سکندرمرزا کوملک کی صدارت سے معطل کرکے وہ ملک کے صدربھی بن گئے ۔ان کے اس اقدام کوسپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمدمنیر کی طرف سے آئینی تحفظ دے دیاگیا اورا س طرح 1956ء کاآئین ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔فیلڈمارشل ایوب خان کوملک میں صدارتی نظام پسندتھالہٰذا انہوں نے1962ء میں ملک میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کروائے ،یہ انتخابات بی۔ڈی انتخابی کالج کی بناپرکروائے گئے اوراس طرح انہوں نے خودکوملک کاصدرمنتخب کروالیا اورملک میں 1962ء کاآئین منظورکروایا۔یہ صدارتی طرزحکومت کی جمہوریت کاآئینہ دارتھااوراس نظام کی وجہ سے جمہوریت کوملک میں پنپنے کاموقع نہیں ملا۔جنرل ایوب خان کے بعدجنرل محمدموسیٰ ملک کے سپہ سالار بنے اوران کے بعد یہ منصب ایک دوسرے ملٹری سربراہ محمدیحییٰ خاں کے ہاتھ میں آیا توانہوں نے ایوب خان کو صدارت کے عہدے سے ہٹاکرخود کوملک کاچیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنالیا۔صدر ایوب خاں کی وفاقی کابینہ میں ذوالفقارعلی بھٹوملک کے وزیرخارجہ تھے اور1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد جب دونوں ممالک کی سیاسی قیادت سوویت یونین کے شہرماسکو میں اکٹھی ہوئی اوروہاں 1965ء کی جنگ کے سیز فائر کے بعدبھارت کے وزیراعظم لال بہادرشاستری اورپاکستان کے صدر ایوب خان مذاکرات میں آمنے سامنے بیٹھے تومعاہدہ تاشقند میں طے پانے والی شرائط پرذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے صدرایوب خان سے اختلاف کیا اوروفاقی وزارت خارجہ کاعہدہ چھوڑکرپاکستان آگئے اور1968ء میں انہوں نے لاہور میں پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیادرکھ دی ۔ایوب خان کواقتدار سے ہٹانے کی دھن میں ملک کی سیاسی جماعتوں کی گرینڈالائنس متحدہ مجلس عمل ملک میں جنرل محمدیحییٰ خان کا مارشل لاء نافذ کروابیٹھی۔



امریکی وزیرخارجہ کی پاکستان کوجنگ کی دھمکی

میاں نوازشریف نے کراچی میں اپنے خطاب میںیہ نکتہ بالکل بجاطورپراٹھایاہے کہ ملک میں جب جب فوج کے کسی طالع آزما کمانڈر ان چیف نے ٹیک اوورکیاملک کی اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے ان کے ٹیک اوور کوعدالتی تحفظ دے کرجائز اقدام قراردے دیا۔سابق وزیراعظم نے سند ھ مسلم لیگ کے جس کنونشن سے خطاب کے دوران سپریم کورٹ کی طرف سے فوجی آمروں کے اقدامات کی توثیق کی بات کی ،اس کنونشن سے خطاب کرنے والوں میں مسلم لیگ ن سندھ کے سیکرٹری جنرل شاہ محمدشاہ جوقیام پاکستان کے بعد کے سندھ کے معروف سیاست دان ایوب کھوڑو کے سیاسی جانشین اورفی زمانہ معروف مسلم لیگی لیڈرسمجھے جاتے ہیں ،انہوں نے خطاب کیا اوران کے علاوہ آئی اے رحمان،مہتاب اکبرراشدی ۔انیسہ ہارون،میرحاصل بزنجو اورمحمودخان اچکزئی نے بھی خطاب کیا۔میرحاصل بزنجو اورمحمودخان اچکزئی کاتعلق بلوچستا ن سے ہے ا وروہ دونوں اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سمیت مسلم لیگ ن کے اتحادی ہیں ۔ان کے علاوہ گورنرسندھ ،محمدزبیر جو1968ء کے عشرے کے ایک نیک نام فوجی افسرجنرل محمدعمر کے بڑے صاحبزادے اورپی ٹی آئی رہنما اسدعمر کے بڑے بھائی ہیں ۔ان کے علاوہ مسلم لیگ ن کے سینیٹرمشاہداللہ کراچی میں سابق وزیراعظم کے پروٹوکول کی نگرانی پرمامورتھے اور جلسہ میں سابق وزیراعظم نے ماضی میں ملک کے معروف وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی متنازعہ پھانسی،اس سے پہلے جنرل محمدضیاء الحق کے مارشل لاء کی توثیق کے سپریم کورٹ کے فیصلے اورازاں بعد جنرل پرویز مشرف کے ٹیک اوورکے ذریعے خودمیاں نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پرپی سی او کے ذریعے تشکیل پانے والی سپریم کورٹ کی جانب سے جنرل مشرف کے ٹیک اوور کی توثیق کامسئلہ بھی ایک متنازعہ فیصلہ کے طورپراٹھایا۔1971ء میں سقوط مشرقی پاکستان کے وقت سپریم کورٹ نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن جسٹس حمودالرحمن کی سربراہی میں بنایالیکن ان کے کمیشن میں مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے اسباب میں چونکہ ذوالفقارعلی بھٹو کے ’’اِدھرتم اُدھرہم‘‘کاکرداربھی ملک کوتوڑنے کے حوالے سے شامل تھالہٰذا جسٹس حمودالرحمن کی رپورٹ منظرعام پرنہیں آئی تھی،جنرل پرویز مشرف نے اس ملک میں دومرتبہ پی سی اونافذ کیااوردوسری مرتبہ ان کے پی سی او کے نفاذ سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 9رکنی بنچ کی طرف سے باقاعدہ سٹے آرڈر بھی جاری کردیاگیا تھاجس میں جنرل پرویز مشرف کودوسراپی سی او(3نومبر 2007ء) نافذکرنے سے روک دیاگیاتھا۔معزول وزیراعظم میاں نوازشریف نے جنرل پرویزمشرف کے دونوں مرتبہ لگائے گئے پی سی اوز کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کو بیرون ملک سے واپس لاکر ان کے خلاف آئین کی دفعہ6کے تحت مقدمہ چلاناچاہیے۔ان کی صاحبزادی مریم نواز نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں منعقدہ ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ سپریم کورٹ کوطعنہ دیاہے کہ انہوں نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے اقتدار کابوریابسترغلط طورپرگول کیاہے اورسپریم کورٹ میںیہ ہمت نہیں کہ وہ جنرل پرویز مشرف کوپاکستان میں لاکران کے خلاف دومرتبہ ملک کاآئین توڑنے کے خلاف عدالتی کارروائی کرے اوریہی بات سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے کراچی میں کئے گئے خطاب میں دہرائی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جنرل پرویزمشرف کے خلاف آئین کی دفعہ6کے تحت اعلیٰ عدالتوں میں مقدمہ چلنے کے بعدا نہیں اچانک کس نے ملک سے فرارکروایا؟وفاقی وزیراحسن اقبال نے اس مقدمہ کے شروع ہونے سے پہلے کہاتھا کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ملک سے غداری کامقدمہ شروع ہورہاہے اوراب اگرمسلم لیگ ن کے دورمیںیہ مقدمہ اپنے انجام کوپہنچے بغیرختم ہوگیا تووہ اپنی وفاقی وزارت سے مستعفیٰ ہوکرگھرچلے جائیں گے اورآئندہ سیاست نہیں کریں گے لیکن نہ صرف احسن اقبال بدستور وفاقی کابینہ کے رکن ہیں بلکہ اب وزیرداخلہ ہیں اور جنرل پرویز مشرف کوآئین کی دفعہ 6کے تحت ہونے والے ٹرائل میں سے باہرکھینچ کرملک سے باہر جانے کاموقع بھی خود میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران دیاگیا۔اب معزول وزیراعظم کے خلاف پانامہ کے مقدمات اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ فی الحقیقت دوبئی میں اپنااقامہ رکھنے پراپنی نااہلی اورنیب عدالت میں نہایت تیزی کے ساتھ حتمی فیصلہ کی طرف بڑھتے ہوئے پانامہ ریفرنسز کے مقدمات نے انہیں سپریم کورٹ کے خلاف بہت زیادہ مخالفانہ اورمخاصمانہ سیاست کی راہ پرلگادیاہے اوروہ اپنی صاحبزادی مریم نواز سمیت آئے روزمسلم لیگ ن کی عوامی رابطہ مہم میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تضحیک اورتذلیل کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے ۔’’تنگ آمدبجنگ آمد‘‘کی صورتحال نے چنانچہ سپریم کورٹ کوتوہین عدالت کی کارروائیوں کانوٹس لینے کی ڈگرپرلگادیا۔نہال ہاشمی،طلال چوہدری اوردانیال عزیزکے بعدخواجہ سعد رفیق ،کیپٹن صفدر،مریم نوازاوربالکل آخر میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے الزام میں بلایاجاسکتاہے۔نہال ہاشمی کی طرف سے جس شعلہ فشانی کامظاہرہ کیاگیاتھااس کے نتیجے میں انہیں ایک ماہ کی قید،پچاس ہزار روپے جرمانہ اورپانچ سال تک کوئی پبلک آفس ہولڈ نہ کرنے کی سزادی گئی ہے اوراب وہ جیل میں دل کے دورہ سے بے حال نظرآرہے ہیں، سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی طرف سے ماضی کے تمام مقدمات سمیت ان کے خلاف پانامہ اوراقامہ کے فیصلوں کے متعلق تحقیقات کامطالبہ کیاگیاہے۔ ماضی اورحال کے تمام متنازعہ فیہ عدالتی فیصلوں ،حمودالرحمن کمیشن اوراسامہ بن لادن کے ایبٹ آبادسے اغواء اورقتل پرجسٹس(ر)جاوید اقبال کے کمیشن کی رپورٹس سمیت میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی، جہانگیرترین کی نااہلی پر تواعلیٰ اختیاراتی جوڈیشل کمیشن قائم کیے جانے کی تائید کی جاسکتی ہے لیکن پانامہ ریفرنسز یاکل کلاں حدیبیہ پیپرز کیس کے کھلنے پراس کے خلاف کسی جوڈیشل کمیشن سے انکوائری کاکوئی سوال ہی پیدانہیں ہوناچاہیے۔ اگرکرپشن کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پرجوڈیشل کمیشن بناکر،تحقیقات کی روایت ڈالی گئی تواس ملک میں سپریم کورٹ اوراس کے ججوں کی کیاتوقیررہ جائے گی۔عمران خان اس ملک میں کبھی اقتدارمیں نہیں رہے۔ان پرکے ۔پی ۔کے کاہیلی کاپٹر ذاتی طورپراستعمال کرنے کاالزام تھا۔نیب نے انہیں عدالت میں بلالیاہے۔اگرنیب ان کے خلاف شواہدتلاش کرنے میں کامیاب ہوگئی تووہ بھی نیب عدالت میں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے پہنچ جائیں گے ۔ان کی اہلیت کاکیس میرٹ پران کے حق میں ہوچکاہے اورسپریم کورٹ کے ہرفیصلے کوکسی جوڈیشل کمیشن میں نہیں بھیجاجاسکتا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار چندروز پہلے مختلف معاملات میں جوڈیشل کمیشن بنائے جانے پرپابندی لگاچکے ہیں اوراپنے حکم میں کہہ چکے ہیں کہ ہماری حکومتوں میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی سفارش توکردی جاتی ہے لیکن ان جوڈیشل کمشنوں کی رپورٹیں کبھی خوشدلی کے ساتھ منظرعام پرنہیں لائی جاتیں لہٰذاآئندہ کوئی وزیراعلیٰ یاوزیراعظم انہیں کوئی جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی سفارش نہ کرے ۔ان دنوں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اورپاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیرترین کی پبلک آفس ہولڈکرنے کے لیے دفعہ62کے تحت کی گئی نااہلی (جسے بالعموم تاحیات نااہلی کہاجاتاہے)کی مدت مقرر کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک تین رکنی بنچ قائم کردیاگیاہے ۔اگرچیف جسٹس پاکستان مناسب سمجھیں توپاکستان میں اس وقت تک حیات تمام چیف جسٹسز سمیت جنرل مشرف کے پی سی اوکے نفاذ کے وقت اپنے عہدوں کاحلف نہ لینے والے سپریم کورٹ کے تاوقت حیات ججوں پرمشتمل ایک جوڈیشل کمیشن بناکرچیدہ چیدہ مقدمات اورنظریہ ضرورت پرہونے والے فیصلوں پرنظرثانی کرواسکتے ہیں تاکہ اعلیٰ عدالتوں میں نظریہ ضرورت کے استعمال سے لے کرذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی اورمیاں نوازشریف کی نااہلی تک کے معاملات میں اس بھاری بھرکم جوڈیشل کمیشن کے فیصلے سے اعلیٰ عدالتوں کے لیے قانون وآئین کی مزیدرہنمائی سامنے آسکے ۔میاں نوازشریف کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ سپریم کورٹ کے ججوں پراپنی’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘کی بانسری کو بجانابندکریں اوراپنی صاحبزادی مریم نواز، اپنے دامادکیپٹن صفدر سمیت خود اپنی زبان کوقانون وآئین کے دائرہ میں رکھ کراعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی توقیرکرنے کومعمول بنائیں تاکہ20کروڑعوام میں ان کی طرف سے تحمل اوربردباری کاپیغام جائے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
نظریہ ضرورت اورنااہلی پراعلیٰ اختیار اتی کمیشن بنانے کامعاملہ!
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں