دنیابھر میں5فروری کے حوالے سے کشمیریوں کااحتجاج

آج ملک بھر میں اورکنٹرول لائن کے آرپار حریت پسند کشمیری مقبوضہ وادی میں بھارتی قبضے کے خلاف شدیداحتجاج ریکارڈ کروائیں گے ۔وزیراعظم پاکستان شاہدخاقان عباسی ،سابق وزیراعظم نوازشریف اورآزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کے ہمراہ مظفرآباد میں بھارتی جارحیت اورکشمیری آزادی پسندوں کی جدوجہد کوسلام پیش کریں گے ۔پاکستان اورآزاد کشمیر کی قیادت پاک بھارت سرحد چکوٹھی پرپہنچ کر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرے گی ،کنٹرول لائن،انٹرنیشنل باؤنڈری اورمتنازع علاقے پرکھڑے ہوکرانسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائیں گے۔سیالکوٹ میں بھی بھارتی سرحد کے ساتھ پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کریں گے ایساہی معاملہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے سامنے پہنچ کر عالمی ادارہ کو احتجاجی مراسلے پیش کریں گے صرف یہی نہیں بلکہ امریکہ ،برطانیہ ،بھارت سمیت دنیابھر کے اہم ممالک کے سفار ت خانوں کوبھی سترسالہ طویل جدوجہد آزادی اوراس دوران ہونے والی ہزاروں شہادتوں کے خلاف تفصیلات بھی دی جائیں گی ۔پاکستان کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں جن میں لاہور،پشاور،کوئٹہ اورکراچی شامل ہیں سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ملک کی سیاسی اورمذہبی تنظیمیں ،سول سوسائٹی ،وکلاء ،صحافی اوردیگرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھارتی مظالم کی مذمت جبکہ کشمیری حریت پسندوں کے بنیادی انسانی حقوق کی حمایت میں مظاہرے اوراحتجاجی ریلیاں دریں اثناء قومی اسمبلی نکالیں گے۔کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانافضل الرحمن نے کہاہے کہ پاکستانی قوم 5فروری کو کشمیر ی عوام کے ساتھ یکجہتی کے طورپرمنائے اوریہ ثابت کردے کہ پاکستا ن کابچہ بچہ کشمیری عوام کے ساتھ ہے۔مولانافضل الرحمن نے مسئلہ کشمیر پرعالمی برادری کے امتیازی اورافسوسناک روّیہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جے یوآئی(ف)کشمیر ی عوام کی آزادی تک سکون سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری سترسال سے اپنے حقوق کے لیے جوکوششیں کررہے ہیں وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں بھی نمایاں ہیں وقت آگیاہے کہ آزاد اورخودمختار ریاستیں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوتسلیم کریں اورجنوبی ایشیا میں جاری لڑائی جھگڑے کی بجائے عوامی منشاء کے آگے سرتسلیم خم کردیں۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بھارت کے آٹھ لاکھ سے زائدفوجی مقبوضہ کشمیر پرطاقت کے ذریعے قابض ہیں مقبوضہ وادی مکمل بھارتی تسلط میں جبکہ سری نگرسمیت تمام شہروں میں خوف کے سناٹے ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے تمام رہنما جن میں سیدعلی گیلانی،میرواعظ،مولوی عمرفاروق،شبیرحُسین گیلانی اوریسیٰن ملک تک سب کو گھروں یاجیلوں میں نظربند کیاجاچکاہے۔مقبوضہ وادی کے ہرتھانے میں کشمیریوں کو بلاجواز یاجھوٹے مقدمات کے تحت حراست میں لیاجاچکاہے ۔8جولائی2015ء کوسری نگر میں 23سالہ حریت پسند برہان الدین وانی کوبھارتی فوج نے سرعام گولیاں مارکرشہید کیاجس کی نماز جنازہ میں پورامقبوضہ کشمیر گھروں سے باہرآگیااوربھارت کے خلاف فیصلہ کن تحریک شروع ہوگئی تب سے اب تک قابض بھارتی فوج اورمقبوضہ وادی کی پولیس جگہ جگہ سر چ آپریشن کرکے کشمیری حریت پسندوں کوگرفتار کرکے جعلی مقابلوں کی آڑمیں قتل کررہی ہے اور اسرائیل سے درآمدشدہ پیلٹ گنوں کے ذریعے انہیں بینائی سے محروم یازخمی کررہی ہے ۔



نظریہ ضرورت اورنااہلی پراعلیٰ اختیار اتی کمیشن بنانے کامعاملہ!

اس وقت تک اپنی تمام ریاستی طاقت کے باوجود نریندرمودی سرکاری کبھی پاکستان کاپانی بندتوکبھی کنٹرول لائن پرآکرخون کاکھیل کھیل رہی ہے ۔پاکستان نے آج تک اقوام متحدہ سمیت تمام جمہوری ممالک سے رابطے کرکے مقبوضہ کشمیر کی حقیقی صورتحال اورمستقل کشمیریوں کے سینوں میں اُٹھنے والی آزادی کی تڑپ کونہ صرف اُجاگرکیا بلکہ اخلاقی ،سفارتی اورقانونی ذرائع کے اندررہتے ہوئے بھارتی جرم اورتشدد کوہمیشہ اُجاگر کیا۔مگرایسے لگتاہے کہ بھارت طاقت کے ذریعے کشمیریوں اوراُن کے حامی پاکستانیوں کی آواز خاموش کروانے کے لیے امریکہ، فرانس اوراسرائیل سمیت متعدد ملکوں سے اربوں ڈالرکاجدیداسلحہ ،میزائل اورریڈارشکن نظام ہی نہیں بلکہ ایٹمی آبدوزیں حاصل کررہاہے۔ آئے روزکنٹرول لائن ،آزاد کشمیر سیکٹراورسیالکوٹ سیکٹر میں گولہ باری اورفلٹرنگ کرکے پاکستانی فوجیوں اورسویلین شہریوں کوشہیدکیاجارہاہے ۔پاکستان نے محترمہ بے نظیربھٹو کے دوسرے دورحکومت میں ہرسال5فروری کوکشمیری حریت پسندوں کے ساتھ اظہاریکجہتی منانے کاجواعلان کیاتھا وہ برسوں کے تجربے اورمشاہدے کے بعد اب کشمیری حریت پسندوں کے لیے بڑے حوصلے اورسیاسی حمایت کی بنیاد بن چکاہے ۔جنرل پرویز مشرف کے دورمیں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کشمیر کوبالآخرمتنازع علاقہ اوربھارتی سا لمیت کے لیے نقصان دہ قراردے کرمقبوضہ وادی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے پررضامندی ظاہرکرچکے تھے جس کے مطابق آزاد کشمیر پاکستان کاحصہ جبکہ نواح سے ملحقہ علاقے بھارتی عمل داری میں دے دئیے جاتے جبکہ سری نگرسمیت مسلم آبادی پرمشتمل اس علاقے کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں دے کر دس سال بعدیہاں ریفرنڈم کرواکرعوامی خواہش کے مطابق اسے ایک آزادریاست تسلیم کروالیا جاتامگر مقبوضہ کشمیر کے ساٹھ لاکھ حریت پسند کشمیری بھارتی سازش کو سمجھ گئے۔ یہ بات طے ہوچکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر نہ کبھی ماضی میں بھارتی اٹوٹ انگ تھانہ مستقبل میں کشمیری اپنے حق آزادی کو سلب کرنے دیں گے وقت نے ثابت کردیاکہ مقبوضہ وادی بھارت کے ساتھ کسی صورت رہنانہیں چاہتی جس کااعتراف محبوبہ مفتی ،شیخ عبداللہ کے بیٹے عمرفاروق عبداللہ سمیت سب نے کسی بھارتی ایجنٹ کی غلامی قبول کرنے سے انکار کی صورت میں کیا۔طویل جدوجہد کے بعداب سری نگر میں بھارتی ترنگا نفرت کی علامت جبکہ پاکستان کاسبز ہلالی پرچم وہاں کے گلی بازاروں میں لہراتانظرآتاہے۔جب بھی بھارتی درندے کسی کشمیری حریت پسند کو گولیاں مارکرشہیدکرتے ہیں توکشمیری اس کی میت کوپاکستانی پرچم میں لپیٹ کر مساجد یاکھلے پارکوں میں لاتے ہیں جس کی نمازجنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں کشمیری گھروں سے نکل آتے ہیں جواس بات کی واضح علامت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کسی بھی وقت پاکستان میں شامل ہونے والاہے۔جدوجہد کی طویل گھڑیاں بالآخراپنے فیصلہ کن مراحل کی طرف بڑھ رہی ہیں بھارتی طاقت اورجبر وہاں مکمل طورپردم توڑچکاہے۔جس کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ اورجواہرلعل نہرو کے درمیان طے پانے والی سازش بے نقاب ہوچکی ہے۔مقبوضہ کشمیر محض زمین کاایک ٹکڑانہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی بنیاد ہے اوردنیا کی کوئی طاقت دلوں پرزبردستی قبضہ یاکسی قوم کواپنامفتوح نہیں بناسکتی۔ آج دنیابھر میں موجود کشمیری اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہاتھوں کی زنجیربناکرثابت کردیں گے کہ مقبو ضہ کشمیر میں اب آزادی کاسورج طلوع ہونے والاہے جسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ر وک سکتی۔

فیصل آبادکے طلبہ میں10ہزارلیپ ٹاپ کی تقسیم

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے اقبال آڈیٹوریم میں دوروزقبل لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی پنجاب کے وزراء رانامشہوداحمد اورسیدرضاعلی گیلانی تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سکیم کے چوتھے مرحلے کے تحت جن ذہین وباصلاحیت طلبہ وطالبات میں لیپ ٹاپ فراہم کئے گئے انہیں پنجاب پولیس کے چاق وچوبند دستے نے گارڈآف آنر بھی پیش کیاصوبائی وزیررانامشہود نے ذہین طلباوطالبات کی کوششوں کوسلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ خادم پنجاب لیپ ٹاپ سکیم طلباکی صلاحیتوں کااعتراف ہے۔ انہوں نے انکشاف کیاکہ پنجاب حکومت کی طرف سے اب تک چارلاکھ 16 ہزارلیپ ٹاپ شفاف انداز میں میرٹ کے مطابق دئیے گئے جووزیراعلیٰ پنجاب کاتاریخ ساز اقدام اورمستقبل کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اب تک پنجاب میں ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کے تحت21ارب روپے مختص کئے گئے جس سے مستحق مگرکم وسائل والے طلبا ء استفادہ کرکے ڈاکٹرز،انجینئرز اوردیگراہم عہدوں پرخدمات سرانجام دے رہے ہیں۔صوبائی وزیررانامشہود نے بتایاکہ صوبہ بھرکے کالجز اوریونیورسٹیز میں علم وتحقیق کی جامع منصوبہ بندی کا آغاز ہوچکاہے جس کے تحت انٹرمیڈیٹ کالجر کوبھی ڈگری کی سطح پرلایاجائے گاجب کہ موجودہ یونیورسٹیز کوایم فل،پی ایم ڈی،اوردیگرعلمی شعبوں کے لیے مختص کردیاجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی یونیورسٹیز اورکالجز کی انجینئرنگ ڈگری کودنیابھر میں تسلیم کیاجارہاہے اورا س شعبے میں پاکستان کا 19واں نمبرہونابڑااعزاز ہے۔ انہوں نے تعلیم کے میدان میں طالبات کی گہری دلچسپی اوراعلیٰ پوزیشن کوسراہتے ہوئے کہاکہ حال ہی میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پروفیسرز ،ایسوسی ایٹ پروفیسر ز اورلیکچرارکی 3271میں سے 1781عہدوں پرخواتین کا تقرراس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی خواتین بھی تعلیمی میدان میں بھرپورکرداراداکرنے لگی ہیں جہاں تک لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی اس تقریب کاتعلق ہے توبلاشبہ اسے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے وژن کی عکاسی قراردیاجائے گا۔چندبرسوں کے دوران گزشتہ تین مرحلوں میں 20ارب روپے مالیت کے تین لاکھ10ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کئے جاچکے ہیں اوراب چوتھے مرحلے میں بھی ذہین وباصلاحیت طلباء کی صلاحیتوں کااعتراف کرکے لیپ ٹاپ تقسیم کرنے سے جدیدتعلیم او رکمپیوٹر ٹیکنالوجی جیسے راستے عام طالب علم کی دسترس میںآجائیں گے ۔اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کے طلباء انتہائی باصلاحیت ہیں مگرمعاشی دشواریوں کے باعث ہمارا ٹیلنٹ ضائع ہوتارہا۔2013ء میں سب سے پہلے یہ اعزاز بھی پنجاب کے حصے آیا کہ جدیدٹیکنالوجی کے حامل لیپ ٹاپ باصلاحیت بچوں میں میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سکیم شروع کی گئی۔ملک کے سب سے گنجان آباد صوبے اورمعاشی وتعلیمی شعبے میں خصوصی اہمیت کے حامل پنجاب میں اب تک نہ صرف مستحق طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے بلکہ میاں شہبازشریف کی طرف سے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈ ز میں میٹرک ،انٹرمیڈیٹ اورگریجوایشن کے امتحانات میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں طلباء میں نہ صرف کیش انعامات تقسیم کئے گئے بلکہ انہیں اندرون ملک اوربیرون ملک مطالعاتی دوروں پربھی بھجوایا گیا جس سے آنے والے وقتوں میں پنجاب تعلیمی شعبے کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں دیگرترقی یافتہ ممالک کے برابر آجائے گا۔پنجاب انڈوومنٹ فنڈکا قیام بھی میاں شہبازشریف کی تعلیم دوستی اورپڑھے لکھے پنجاب کی عملی تفسیر بن کرسامنے آئے گی۔ساڑھے دس کروڑ شہریوں پرمشتمل صوبہ پنجاب آنے والے وقتوں میں خوشحال اورجدیدٹیکنالوجی سے لیس صوبہ بن کرسامنے آئے گا ۔21ارب روپے کے انڈوومنٹ فنڈ کے باعث ایسے ہزاروں طلباء کامستقبل بھی روشن ہوسکے گاجومحض مالی دشواریوں کے باعث آگے بڑھنے سے محروم تھے۔ چندبر س قبل جب میاں شہبازشریف نے فری لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کااعلان کیاتو چند اپوزیشن جماعتوں نے اسے اپنی مقبولیت روکنے کاذریعہ قراردیا مگروقت نے ثابت کردیا کہ میاں شہبازشریف کایہ اقدام سیاسی مصلحتوں سے کہیں آگے ایک ویژنری سوچ تھی۔ برسوں بعد پنجاب حکومت نے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل کا رُخ عوام کی طرف موڑدیا جس کے باعث آنے والے وقتوں میں پنجاب تعلیم وٹیکنالوجی کے شعبوں میں بہت آگے نکل جائے گا۔جس طالب علم کے پا س اس دور میں لیپ ٹاپ ہووہ نہ صرف اسے اپنی صلاحیت اُجاگر کرنے کاذریعہ بناسکتاہے بلکہ اپنے خاندان کے لیے مالی وسائل بھی پیداکرسکے گا۔میاں شہبازشریف کے اس اقدام کوسراہنادراصل اُن کی کاوشوں کوخراج تحسین پیش کرتاہے جوروشن اورپڑھے لکھے پنجاب کی بنیاد بنے گا۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
دنیابھر میں5فروری کے حوالے سے کشمیریوں کااحتجاج
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں