مقامی صنعت نےسندھ کی مجوزہ لیبرپالیسی کی تجویزمسترد کردی

لندن/کراچی: مقامی صنعتی شعبے نے سندھ کی مجوزہ لیبر پالیسی میں سندھ ٹرائی پارٹائٹ لیبر کانفرنس کی لیبر کی ماہانہ اجرت 25ہزار روپے تک بڑھانے کی تجویز کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے تاحال نئی لیبرپالیسی سے متعلق مقامی صنعتی شعبوں کو اعتماد میں نہیں لیا ہے ۔
کراچی کی ساتوں صنعتی علاقوں کی نمائندہ ایسوسی ایشنزپرمشتمل اجلاس میں حکومت پر واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی لیبرکی اجرت خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے ، حکومت مہنگائی میں کمی میں ناکامی کا ملبہ لیبر کی اجرت بڑھانے کی صورت میں صنعتکاروں پر ڈالنے کے بجائے مہنگائی پر کنٹرول کرے

مزید پڑھیں :بغیررجسٹریشن پولٹری کا کاروبار کرنا قانوناً جرم ہے

۔2014میں غیرہنرمند لیبر کی ماہانہ اجرت 11ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی تھی اوراس وقت ڈالرکی قدر101روپے تھی اور مہنگائی کنزیومر پرائس انڈیکس کے لحاظ 8.62فیصد تھی، 2014 سے 2017تک ڈالر ایکس چینج ریٹ 9فیصد بڑھ کر 110.55روپے تک پہنچ گیا جبکہ اس دوران مہنگائی کنزیومر پرائس انڈیکس میں 4.16فیصد کمی ہوئی جبکہ لیبر کی ماہانہ اجرت میں 36فیصد اضافہ ہو کر 11ہزار روپے سے بڑھ کر 15ہزار ماہانہ تک پہنچ گئی جو کہ خطے میں سب سے ذیادہ ہے ۔انھوں نے کہا کہ اندرون سندھ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں لیبر کی کم از کم اجرت 10ہزار روپے سے بھی کم ہے ، حکومت سندھ پہلے اندرون سندھ میں منظور شدہ 15ہزار روپے لیبر اجرت کا اطلاق یقینی بنائے ، انھوں نے کہا کہ حالیہ لیبر اور انڈسٹرئیل ریلیشنز کے حوالے سے 16صوبائی قوانین کا اطلاق کیا گیا ہے جس کی تشکیل میں بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے طلب نہیں کی گئی۔ایسوسی ایشنز کی دی گئی سندھ لیبر پالیسی کے مسودے پر تاریخ 25جنوری 2017درج ہے جس میں کہاگیا ہے کہ لیبر اور انڈسٹرئیل ریلیشنز سے متعلق 16صوبائی قوانین مرتب کیے جائیں گے اوران میں سے 11قوانین حکومت منظور کر چکی ہے جبکہ بقیہ 5قوانین اس وقت تک منظور نہیں ہوئے ۔صنعتی شعبے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ایک سال پرانامسودہ ایسوسی ایشنز کوارسال کیا گیا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق بقیہ نا منظورہ شدہ 5قوانین بھی فروری 2017سے جنوری2018کے دوران منظو ر ہو چکے ہیں مگر ڈرافٹ لیبر پالیسی کو موجودہ تمام منظور شدہ قوانین کے مطابق تجدید نہیں کی گئی، سندھ کی صنعتوں میں کراچی کا حصہ 80فیصد جبکہ صوبے کے لیے ریوینیو فراہم کرنے میں کراچی کا کردار تقریباً 90 فیصد ہے جبکہ کراچی کی صنعتیں سب سے ذیادہ ملازمت کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔مسودے کی تیاری میں صرف چند لوگوں سے مشاورت کی گئی جو کہ انتہائی نامناسب ہے لہٰذا تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یقینی بنائی جائے ۔صنعتی شعبہ کاکہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں لیبر کی کم از کم اجرت 68ڈالر، بھارت میں 115ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں لیبر کی ماہانہ اجرت 135ڈالرز ماہانہ بنتی ہے ۔ پاکستان میں بنگلہ دیش کی نسبت لیبر کی اجرت 98فیصد اور بھارت کے مقابلے میں 17فیصد زائد ہے ۔اسی طرح پاکستان میں صنعتی گیس کے نرخ بنگلہ دیش کی نسبت 126فیصد، بھارت کی نسبت 62.87فیصد اورویتنام کی نسبت 26.5فیصد زائد ہیں، اسی طرح پاکستان میں صنعتی بجلی کے نرخ بنگلہ دیش اور بھارت سے 22فیصد اور ویتنام کی نسبت 37فیصد زیادہ ہیں۔پانی کے نرخ ملک بھر میں 0.50ڈالر جبکہ کراچی میں 2.30ڈالر فی ہزار گیلن ہیں۔ یہ مہنگے انڈسٹرئیل ان پٹس صنعتوں کی چلانے کی لاگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لہٰذاانھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،لہٰذا اس صورت میں ایکسپورٹ انڈسٹری مستقل بنیادوں پر 100فیصد تنخواہ پر لیبر رکھنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے گارمنٹس فیکٹریوں میں عموماً کام کی مناسبت سے کنٹریکچول لیبر رکھی جاتی ہے ۔پیک سیزن میں عموماً لیبر کی اوسطاً تعد اد 5سو افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو ایکسپورٹ آرڈر مکمل ہونے کے پروڈکشن بند ہونے کی صورت میں گھٹ کر 5رہ جاتی ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
مقامی صنعت نےسندھ کی مجوزہ لیبرپالیسی کی تجویزمسترد کردی
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں