پاکستان اورکشمیر کارشتہ

پاکستان میں گزشتہ روز یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔ قومی لیڈروں ، حکومت کے ترجمانوں اور فوج کے سربراہ سمیت ہر چھوٹے بڑے رہنما نے کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا ۔ جلسے منعقد ہوئے اور جلوس نکالے گئے ۔ جلسے ہوں یا بیانات ان سب میں ایک بات مشترک ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند کرے اور کشمیریوں کو استصواب کا حق دیا جائے تاکہ یہ خطہ پاکستان کا حصہ بن جائے ۔ یہ مطالبے اس سچائی کے باوجود تواتر سے کئے جاتے ہیں کہ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور اس مسئلہ پر اب بات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے ۔ نریندر مودی کی حکومت کے دوران پاکستان کے ساتھ بھارت نے مذاکرات کا سلسلہ بند رکھا ہے اور لائن آف کنٹرول پر صورت حال سنگین رہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت کی موجودہ قیادت پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے کشمیر کو ایجنڈے کا حصہ نہیں بنانا چاہتی۔ تاہم اہل پاکستان کو اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ صورت حال صرف بھارت کی موجودہ حکومت اور اس کی سرکاری پالیسیوں کے بارے میں ہی نہیں کہی جاسکتی بلکہ کشمیریوں کی بڑی تعداد بھی ان شرائط پر پاکستان کو اس تنازعہ کا حصہ نہیں سمجھتی جو پاکستان میں مقبول عام ہیں اور جن کی بنیاد پر قومی بیانیہ یا کشمیر کے حق خود اختیاری کے لئے مہم جوئی کی جاتی ہے ۔ یہ درست ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی تحریک اور احتجاج کے دوران پاکستان کے حق میں نعرے لگائے جاتے ہیں اور پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے ۔ اس قسم کی حرکتوں کو بھارتی حکومت ملک سے غداری قرار دے کر ایسے نوجونوں کو پکڑنے اور نشان عبرت بنانے کی کوشش کرتی ہے جبکہ پاکستان میں اسے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے ساتھ ہمدردی کا اعلان سمجھ کر یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اہل کشمیر دراصل پاکستان کے ساتھ ہیں اور کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لئے بھارتی طاقت سے ٹکرانے کے لئے سڑکوں پر نکلتے ہیں۔



دنیابھر میں5فروری کے حوالے سے کشمیریوں کااحتجاج

یہ دونوں تفاہیم حقیقت حال کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لوگ ضرور موجودہ انتظام سے تنگ ہیں اور بھارتی حکومت کے سخت اقدامات کے علاوہ سیاسی اور مالی ترغیب کے باوجود وہ موجودہ سیاسی اور انتظامی صورت حال سے مطمئن نہیں ہیں۔ کشمیری وسیع تر خود مختاری کے خواہشمند ہیں اور ایک بہت بڑی تعداد میں کشمیری باشندے بھارت سے آزادی بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ سمجھ لینا بھی بہت بڑی غلطی ہوگا کہ وہ بھارت سے آزادی پا کر پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں ۔ کشمیریوں کی بڑی تعداد خود مختار مملکت کی خواہاں ہے ۔ اگرچہ اس کے ساتھ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو زیادہ علاقائی اختیار کے ساتھ بھارت کا حصہ بنے رہنے پر آمادہ ہیں اور کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ اشتراک چاہتے ہیں، لیکن غیر جانبدارانہ رائے شماری یا جائزے موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ کہنا مشکل ہے کہ کتنے فیصد لوگوں کی تعداد کیا چاہتی ہے ۔ اس لئے بعض اشاروں پر سیاسی مؤقف قائم کرلینا درست نہیں ہوگا۔پاکستان کی کشمیر پالیسی اب تک وہی ہے جو 1948 ء میں اقوام متحدہ میں رائے شماری کی قرارداد منظور ہونے کے وقت تھی۔ اسی لئے پاکستان میں کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور اس تاثر کو تقویت دی جاتی ہے گویا بھارت کشمیر پر قبضہ کے ذریعے پاکستان کے ایک حصہ پر قابض ہے، لیکن یہ تفہیم تاریخی حقائق کے منافی ہونے کے علاوہ معروضی صورت حال سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ گزشتہ ستر برس کے دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ۔ کشمیر میں اب وہ نسل آباد نہیں ہے جس نے برصغیر میں تحریک پاکستان کے وقت پیدا ہونے والی جذباتی سیاسی کیفیت میں آنکھ کھولی تھی اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان آبادی کے خطے کے طور پر کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہی حقیقت پسندانہ اور ان کے مفادات کے مطابق ہوگا۔ ان برسوں میں پاکستان دو لخت ہوا۔ اس طرح اس بنیادی اصول کو شدید نقصان پہنچا ہے کہ عقیدہ کی بنیاد پر کوئی خطہ ایک ملک کی حیثیت سے کامیاب ہو سکتا ہے ۔ سقوط ڈھاکہ کے سانحہ نے یہ سبق سکھایا ہے کہ لوگوں کو اکٹھا رکھنے اور ایک قوم کے طور پر آگے بڑھنے کے لئے صرف عقیدہ کا ایک ہونا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لئے ہر طبقہ اور علاقہ کی معاشی، سماجی اور سیاسی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا پڑتا ہے ۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی کہانی دراصل یہ پیغام دیتی ہے کہ عقیدہ کے نام پر ایک خطہ حاصل کرنے کے باوجود ایک ہی ملک کے دو حصے اس لئے تادیر ایک ساتھ نہیں چل سکے کیوں کہ وسائل کی مساوی تقسیم اور باہمی احترام اور اعتماد کا رشتہ استور کرنے کے لئے کام نہیں ہو سکا۔اگر پاکستان کے اندر رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اس ملک میں جاری پالیسیوں سے نالاں ہو کر اپنے لئے علیحدہ ملک حاصل کرنے پر مجبور ہوگئی تھی تو ان برسوں میں کشمیر میں پیدا ہو کر اور پروان چڑھنے والی نسلوں کے سوچنے سمجھنے اور معاملات کی تفہیم میں بھی ضرور تبدیلیاں آئی ہوں گی، لیکن ہم اپنی بھارت دشمن پالیسی اور کشمیر بن کر رہے گا پاکستان، کے جذباتی نعروں کی گونج میں بدلتے حالات اور پیش آنے والے واقعات کے مطابق اپنی کشمیر پالیسی کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکا۔ اس لئے ابھی تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی بات کی جاتی ہے جو دراصل اب متروک دستاویزات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی لیڈر کمزور رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں جو صورت حال موجود ہے ، اس میں کوئی سیاسی لیڈر طے شدہ بیانیہ سے ہٹ کر مؤقف اختیار کرکے سیاسی موت کو دعوت دینے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔اس پس منظر میں البتہ زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کے سوچنے سمجھنے والے حلقوں نے بھی اس حوالے سے گفتگو کرنے یا بدلتی ہوئی صورت حال پر توجہ دلانے کے لئے کام کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔ حالانکہ اس وقت پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے ، اس کی بنیادی وجہ بھارت کے ساتھ معاندانہ تعلقات ہیں اور ان خراب تعلقات کی بنیاد کشمیر کا معاملہ ہے ۔ سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان سیاسی، سماجی، معاشی اور سفارتی سطح پر جس صورت حال کا شکار ہے ، اس کے ہوتے ہوئے کسی بھی خطہ کے لوگ پاکستان کا حصہ بننے پر کیوں تیار ہوں گے ۔ پاکستان کے لوگ پاکستان سے بھاگنے اور دوسرے ملکوں میں پناہ لینے یا امکانات حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے ۔ پاکستان کی ریاست اور ادارے اپنے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے اور مختلف خطوں کے درمیان انصاف کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں تو کشمیر کے لوگ کیوں خود کو بحران اور مشکلات کا شکار ایک ریاست کا حصہ بنانے کے لئے خون بہائیں گے ۔حالات کا تقاضا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر اس بات کی تحریک و کوشش کا آغاز ہو سکے کہ کشمیر کے سوال پر قومی بیانیہ
فرسودہ اور ناقابل عمل ہے ۔ پاکستان کو کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرکے اسے حالات کے مطابق استوار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح کشمیریوں کو انصاف ملنے کا امکان بھی پیدا ہوگا اورخطے کے امن کولاحق خطرات کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ جوہری جنگ کے خدشے کاامکان بھی ختم کیاجاسکے گا۔

بیرون ملک پاکستانیوں کے اربوں ڈالر کاازخودنوٹس

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک پڑے پاکستانیوں کے اثاثوں کو بادی النظر میں غیرقانونی قراردیتے ہوئے وزارتِ داخلہ ،سٹیٹ بنک اورفیدڑل بورڈ آف ریونیو کوآپس میں معلومات کاتبادلہ کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس نے آئی بی ،ایم آئی،آئی ایس آئی کوبھی بیرون ملک موجود ایسے اکاؤنٹس کی تفصیلات اکٹھی کرنے کاکہاہے تاکہ برٹش ورجن آئی لینڈ،سپین،سوئٹزرلینڈ،دبئی ،برطانیہ سمیت بیرون ملک موجود اکاؤنٹس کی جوتفصیلات سٹیٹ بنک ،ایف بی آر ،ایس ای سی پی کے پاس موجود ہیں ان کی روشنی میں گزشتہ35/40سال کے دوران بیرون ملک سمگل یامنتقل کی جانے والی رقوم کے متعلق آگاہی مل سکے ۔جہاں تک سپریم کو رٹ کے چیف جسٹس کے ازخودنوٹس کاتعلق ہے تواسے 20کروڑ پاکستانیوں کے دل کی آواز قراردیاجاسکتاہے۔گزشتہ سال تین اپریل کومنظرعام پر آنے والی پانامہ لیکس اوراس کے بعد بہاماس اورپیراڈائز لیکس کے باعث450کے قریب ایسے پاکستانی بے نقاب ہوگئے جنہیں معاشرے میں ’’مقدس گائیں‘‘سمجھاجاتاتھا۔چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاویداقبال نے دسمبر2017ء میں ایسے تمام پردہ نشینوں کے متعلق ریکارڈ مرتب کرنے کا اعلان بھی کیاتھا۔عام طو رپر یہ بات ہرپاکستانی سمجھتاہے کہ ماضی میں برسراقتدار آنے والے جمہوری یاآمرحکمرانوں ،ان کے عزیزواقارب اورحلقہ احباب کے علاوہ سیاستدانوں،صنعتکاروں ،جاگیرداروں،لینڈمافیا،ڈرگ مافیا اورکرپشن مافیا نے اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کئے ۔موجودہ ملکی قوانین کے تحت بیرون ملک سرمایہ لے جانے کے لیے سٹیٹ بنک کی اجازت لازمی ہے جس میں رقم منتقلی کی وجوہات بھی درج کرنی پڑتی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق صرف سوئٹزرلینڈ میں ہی پاکستانیوں کے 300ارب ڈالرسے زائدکے بنک اکاؤنٹس موجود تھے۔ دنیابھر میں ایسے 12ملک بھی موجود ہیں جنہیں سمگل شدہ کرنسی کی جنت سمجھاجاتاہے کیونکہ وہاں انوسٹمنٹ کرنے والوں کوسرمائے کے ذرائع نہیں بتانے پڑتے۔عام طورپرکسی ملک میں اقتدار پرقابض ہونے والے افراد دوران حکومت بہتی گنگا سے ہاتھ دھو کربھاری رقوم سمیٹتے اوربیرون ملک منتقل کردیتے ہیں جہاں اقتدار سے محروم ہونے کے بعدزندگی بھروہ خود اوران کے اہل وعیال نہ صرف خوشحال زندگی گزارسکتے ہیں بلکہ ہوٹلنگ،بحری جہازوں اوردیگرشعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے بھاری منافع بھی حاصل کرتے رہتے ہیں ۔چندبرس قبل دبئی کوانٹرنیشنل سٹی قراردے کر وہاں دنیاکے بہترین فائیوسٹارہوٹل،لگژری رہائشگاہیں ،کشادہ موٹرویز،جدیدگاڑیاں ،عیاشی کے دیگرذرائع فراہم کرکے اثاثے خریدنے کاموقع بھی دیاگیاجس میں صرف گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستانیوں نے450ارب ڈالر کی جائیدادیں خریدڈالیں ۔اس سرمائے میں سے بھاری رقم سمگل یامنی لانڈرنگ کے ذریعے وہاں ٹرانسفر کی گئی۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بارباراعلان کرتے رہے کہ ہرسال4000ارب روپیہ پاکستان سے بیرون ملک منتقل کیاجارہاہے۔ دیکھنے کی چیزیہ ہے کہ اگراندرون ملک ٹیکس چوری یاقومی وسائل کی لوٹ مارسے حاصل شدہ یہ سرمایہ ریکارڈ کاحصہ بن گیا توقومی خزانے میں ٹیکس وصولیاں بڑھنے کے ساتھ یہی سرمایہ نئی انڈسٹری میں لگ کراستحکام وطن اوربیروزگاری کے خاتمے کے لیے استعمال ہوسکتاتھا۔حکومت پاکستان اگرکسی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کااعلان کرتی توانہیں اپنے’’گناہوں ‘‘کودھونے کاموقع بھی میسرآسکتاتھا مگراپنے اختیارات ،عہدے یامرتبے کافائدہ اٹھاکربیرون ملک بے نامی جائیدادیں خریدی گئیں ،آف شورکمپنیاں بنائی گئیں یا بنکوں میں رقوم رکھ کراس پر’’منافع‘‘لینے کاسلسلہ جاری ہے تواسے پاکستانی قوم کے ساتھ ظلم ہی قراردیاجائے گا۔وقت آگیاہے کہ پاکستان کولوٹ کنگال کرنے والے ایسے پاکستانیوں پربھی ہاتھ ڈالا جائے ۔سپریم کورٹ کاازخود نوٹس امید کی نئی کرن ہے ۔اگرنہال ہاشمی جیسے سینیٹر کوتوہین عدالت پر سزاسنائی جاسکتی ہے تودیگر قانون شکن بااثر افراد کا یوم حساب بھی قریب آناچاہیے۔اگرچہ آج کل مختلف نیوزچینلوں پر صرف سیاستدانوں کوہی چور،ڈاکو،لٹیرے قراردیاجارہاہے مگرحقائق اس کے برعکس ہیں۔ 2007ء میں جنرل پرویز مشرف نے جن8041پاکستانیوں کواین آراو کی سہولت دی تھی ان میں سے سیاستدان توصرف 32تھے جبکہ باقی افرادمیں ریٹائرڈججز،جرنیل،سفارتکار،صنعتکاراوربزنس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شامل تھے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ چیئرمین نیب تیزی کے ساتھ ایسے تمام سیاہ کاروں ،گنہگاروں ،ٹیکس چوروں اورمفادپرستوں کے ساتھ سپریم کورٹ میں زیرالتواء150میگاکرپشن مقدمات کابھی تیزی کے ساتھ ریکارڈ مکمل کرواکرعدالت میںیہ کیس کھلوائیں۔پارلیمنٹ کی مدت تواب ختم ہوچکی جبکہ نئی پارلیمنٹ جولائی تک وجو د میں آئے گی ۔مارچ ،اپریل تک نگران وزیراعظم اورچاروں وزرائے اعلیٰ ذمہ داریاں سنبھالنے والے ہیں،یہی وہ آئیڈیل وقت ہوگا جب ان پر’’دباؤ‘‘بھی کم ہوجائے گااوروہ پوری یکسوئی کے ساتھ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ازخودنوٹس کی تکمیل کے لیے اپنے محکمے کی بھرپور صلاحیتیں اوراطلاعات اکٹھی کرکے ماضی میں اس قوم کے کھربوں ڈالر لوٹ کربیرون ملک منتقل کرنے والوں کے متعلق ایساشکنجہ ضرورتیار کردیں گے کہ آنے والے وقتوں میں بیرونی ملکوں میں موجود چہروں ،سرمائے ،اثاثوں ،جائیدادوں کی مالیت اوربنک اکاؤنٹس کے بارے میں حقائق سامنے آجائیں ۔نئی پارلیمنٹ آکرنیب قوانین حتیٰ کہ اس کی کارکردگی تک تبدیل کرسکتی ہے۔اس لیے آنے والے پانچ چھ ماہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اپنی حکومت ختم ہونے سے پہلے اپنے مشیرخزانہ مفتاح اسمعیل،شبر رضوی اورچنداقتصادی ماہرین کے ذریعے ایک ایمنسٹی سکیم متعارف کروارہے ہیں تاکہ بیرون ملک پڑے پاکستانیوں کے سرمائے کے لیے وطن واپسی کاراستہ ہموار یاکل سرمائے کاایک ڈیڑھ فیصد جرمانہ اداکرکے انہیں اپنی بلیک منی کووائٹ کرنے کی سہولت مل سکے گی،تاہم اس سے پہلے عدالت عظمیٰ میں پہنچنے والے مقدمات نئی تاریخ رقم کرنے کاذریعہ ضرور بن سکتے ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
پاکستان اورکشمیر کارشتہ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں