قالین میں چھپے 44 انتہائی مضر صحت کیمیکل

لندن: پوری دنیا میں لاکھوں کروڑوں مربع فٹ قالین سالانہ بچھائے جاتے ہیں لیکن ان کی صفائی نہ کی جائے تو یہ بیماریوں کا گڑھ بن کر ہر ایک کی جان کے دشمن بن سکتے ہیں۔

ہیلدی بلڈنگ نیٹ ورک (ایچ بی این) نامی ادارے نے گھروں اور دفاتر کے قالینوں میں موجود 44 زہریلے اجزا اور کیمیائی مرکبات تلاش کیے ہیں جو انسانی صحت کے لیے بہت خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ کیمیکل اعصابی امراض سے لے کر کینسر تک کی وجہ بن سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں قالینوں میں طرح طرح کی مٹی اور دھول خصوصاً چھوٹے بچوں اور گھٹنوں چلنے والے شیر خوار کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوسکتی ہیں۔



بھارتی حکومت کا گوگل پر 136 کروڑ روپے جرمانہ

چھوٹے بچے اس عمر میں تیزی سے بڑھ رہے ہوتے ہیں اور اپنے ماحول سے بہت کچھ حاصل کررہے ہوتے ہیں۔ قالینوں سے نکلنے والے ذرات اور دھول مٹی ان چھوٹے بچوں کی سانس میں جاکر کئی طرح کے امراض کی وجہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک میں سالانہ 4 ارب پونڈ وزنی قالین اور اس کے ٹکڑے کوڑا کرکٹ میں پھینکے جاتے ہیں جو بیماریوں کی پوٹلی ثابت ہورہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قالین کی پشت کو مضبوط بنانے، اس میں دبیز فوم لگانے اور مختلف گوند لگانے کے عمل میں یہ زہریلے کیمیکل پیدا ہورہے ہیں۔ قالین ساز کمپنیوں کی اکثریت صارفین کو اس سے آگاہ نہیں کرتی اور وہ اس خطرناک شے کو گھر لے آتے ہیں۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
قالین میں چھپے 44 انتہائی مضر صحت کیمیکل
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں