صحافت و سول سوسائٹی کے اشراف

محمدعامرحسینی

علی جواد نقوی دہلی انڈیا کے صحافی ہیں۔ان کا مضمون ڈان نیوز کی ویب سائٹ پہ موجود ہے ۔اس میں انھوں نے رائے کی تبدیلی اور سیاسی عقائد بدل ڈالنے کے بارے میں لکھا ہے ۔ہندوستان میں بھی کئی نامور صحافی مین سٹریم سیاسی جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔اور پاکستان کے اندر بھی ایسا ہی ہے ۔آج کل مین سٹریم میڈیا اور سول سوسائٹی کے کئی بڑے نام میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔اور وہ نواز شریف کو اینٹی اسٹبلشمنٹ قرار دیتے ہیں۔ان میں سے اکثر بڑے نام اور اشراف ناموں کے بارے میں میرا کہنا یہی ہے کہ یہ کسی مشنری جذبے کے تحت نواز شریف کے ساتھ نہیں کھڑے بلکہ اس کی وجہ سراسر ذاتی اور موقعہ پرستانہ ہے ۔ 
علی جواد نقوی کے مضمون کے کچھ مندرجات: 
ہر آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنی رائے تبدیل کرلے اور اسے اپنے سیاسی عقائد کو چننے یا ان کو ترک کرنے کے حق کے ساتھ ساتھ اپنی وفاداریاں بدلنے کا حق بھی ہے ۔کسی دانشورانہ سطح پہ رائے کی تبدیلی یا پہلے اختیار کی گئی رائے کو بدل دینا صحت مند ذہن کی نشانی ہوا کرتا ہے ۔ 
مفکرین کے ہاں بنے بنائے کلیے پہ سوال اٹھانے کا اصول بہت بنیادی ہوا کرتا ہے ۔جب پروفیسر سارویپالی گوپال نے اترپردیش کی کسان تحریک پہ لیکچرز دئے تھے تو اس نے ان کے تاریخ کے طالب علموں کو ایک نیا تناظر دیا تھا۔تاہم، جب ایک طالب علم نے ایک دن، یہ محسوس کیا کہ آج وہ جو کہہ رہے ہیں،وہ اس سے مختلف ہے جو انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا تھا،اس پہ پروفیسر گوپال نے جو جواب دیا تھا وہ عالمگیر دانائی کا عکاس ہے :” کیا رائے بدلنا غلط بات ہے ؟” 
صحافی بھی سوسائٹی کی دانشورانہ بافتوں کا ہی حصّہ ہوتے ہیں۔جیسے کسی دوسرے پیشے کے ساتھ ہوسکتا ہے ، ایسے ہی یہاں بھی اچھے اور برے صحافی ہوتے ہیں۔بعض صحافی چاہے اس کا سبب ذاتی عزائم ہوں یا کوئی عظیم مقصد ہو،سیاسی میدان میں اپنی وابستگی بدلتے رہتے ہیں۔ 
ہندوستان میں بڑے مقام و مرتبے والے صحافیوں میں سے بہت سے کانگریس میں کئے تو کئی بی جے پی میں چلے گئے ۔چند ایک نے عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔کچھ صحافیوں کی تان کاروباری اداروں کے پی آروز بننے پہ ٹوٹتی ہے اور ایسے لوگ کم ایمانداری سے کام کرتے ہیں ،وہ کٹھ پتلی ہوتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب ایک بڑی تعداد میں صحافی لیفٹ سے تعلق رکھتے تھے ،ان میں سے کچھ اس یا اوس کمیونسٹ پارٹی کے کارڈ ہولڈر رکن ہوتے تھے ۔ 
کسگنج اترپردیش میں حال ہی میں ہوئے کمیونل فسادات میں میرے چند ساتھی صحافی سٹوری کی تحقیق کرنے کے لئے موقعہ واردات پہ پہنچے ۔میں نے ‘فسادات در سادات’ جیسی بصریرت افروز کتاب جو کہ صحافی سے سیاست دان ہوجانے والے نے ہندوستان مذہبی تشدد اور ہندوستان کا پیچھا کرنے والے تصادم کی دوسری اشکال بارے لکھی تھی اٹھالی۔ایم جے اکبر کی کتاب میں خشونت سنگھ کے لیے حرف تعریف ہے ۔جوکہ خود دیوقامت صحافی تھے ۔ 
کانگریس پارٹی نے دونوں کو بطور ایم پی نامزد کیا،اندرا گاندھی کے زیرسایہ سنگھ راجیہ سبھا چلے گئے اور اکبر راجیو گاندھی کے ہنگامہ خیز دور میں لوک سبھا گئے ۔خوشونت سنگھ نے اندرا گاندھی کی ایمرجنسی لگانے کے اقدام کی حمایت کی اور بعد میں بی جے پی کے لیڈر ایل کے ایڈوانی کو لوک سبھا کا امیدوار بنانے میں مدد فراہم کی اگرچہ ان کو بعد میں اس پہ پچھتاوا رہا۔ایم جے اکبر راجیہ سبھا میں وزیراعظم مودی کے دست راست کے طور پہ گئے جہاں وزرات داخلہ میں ان کو اہم ذمہ دار سونپی گئی۔ 
ہمیں نہیں پتا کہ اکبر اپنے اس پارٹی سے اوس پارٹی تک کے سفر بارے کیا محسوس کرتے ہیں۔میں اس بات سے بھی بے خبر ہوں کہ انہوں نے اپنے اس سفر کے بارے میں کیا توجیہ پیش کی ہے ۔لیکن آئیں دیکھتے ہیں کہ انہوں نے پہلے کیا لکھا اور آیا ان کا بی جے پی کے جانب جانے کا سیاسی اقدام جس کا سیاسی فرنٹ راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ ہے جسے کبھی وہ تنقید کا نشانہ بناتے تھے ہندوستان کے سیکولر تشخص بارے میں ان کی رائے میں تبدیلی کے ساتھ ہے آیا ہے یا نہیں۔ 
” امن عامہ و نظم ونسق کے دو دشمن ہیں: پورا سچ اور سفید جھوٹ۔جب لوگ سچائی جان لیتے ہیں تو وہ انقلابات لانے لگتے ہیں۔جب وہ جھوٹ سے اکتا جاتے ہیں تو وہ بے مقصد فسادات شروع کردیتے ہیں۔” میں فسادات در فسادات سے نقل کر رہا ہوں۔ 
” جھوٹ ہر کمیونل ہنگامے کی بنیاد ہوتا ہے ۔وہ ایسے لوگوں کے زریعے پھیل جاتے ہیں جو کہ اس حماقت بھرے تشدد میں حصص رکھتے ہیں،وہ جن کو ابتر حال ہندؤں اور مسلمانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی میں کچھ نہ کچھ حاصل ہوا کرتا ہے ۔ کاروباری،تاجر،سیاست دان، غنڈے ،ثقافتی تنظیموں کے لیڈر(جیسے ہندؤ راشٹریہ سوامی سیوک سنگھ۔آر ایس ایس) اپنے لوگوں کو جھوٹ کی خوراک فراہم کرتے ہیں،ان جھوٹ کو لوگوں کے دلوں میں بیٹھے دیکھکر اور جذبات کو ابھرتے دیکھ کر تب یہ لیڈر ان واقعات کو تشکیل دیتے ہیں جس سے ایک آک بھڑکتی ہے ۔وہ لوگوں کے پھٹ پڑنے سے پہلے بس ان کے اعصاب میں ایک چھڑی چبھوتے ہیں۔” 
“جب تشدد /وائلنس کا ایک راؤنڈ ختم ہوتا ہے ، جب ابتدائی بھاپ نکل جاتی ہے ،جھوٹ گردش کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔لوگوں کو یہ پتا نہیں چلنا چاہیے کہ ان کو بیوقوف بنایا گیا تھا۔وگرنہ وہ اپنے جھوٹے سورماؤں کو چیر پھاڑدیں گے ۔دھندلے واقعات کے اندر ایک ایندھن تیار ہوتا ہے جس سے کمیونل وائلنس/تشدد جنم لیتا ہے اور اس پہ جھوٹ کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے تاکہ ان کو اور پھیلایا جاسکے ۔” 
” آخرکار، اگر ہندؤ اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ امن کے ساتھ رہنے لگ جائیں،تو آر ایس ایس کیسے ایک اور مذہب بدل لینے والا پائے گی؟ کیسے تاجر اپنا سلحہ بیچ پائیں گے ؟کیسے ایک دکاندار اپنے کاروباری حریف کی دکان جلتے دیکھ کر خوشی محسوس کرے گا؟ کیسے غنڈے لوٹ مار کریں گے ؟ کیسے کمیونلسٹ/فرقہ پرست اپنے جیسے انسانوں کو قتل کریں گے ؟دوستو! زندگی کو رواں دواں رکھیں۔” 
In a chapter titled ’Split-level war in Jamshedpur‘249 Akbar blended some serious spot reporting with useful insights into what can be discerned as a pattern of communal violence generally, and in Jamshedpur specifically. 
The steel city of Jamshedpur has witnessed communal strife ever since the first steel mill was built. It is now a nouveau riche city with different communities competing for as much of trade and commerce as they can. 
Wealth breeds crime as well as prosperity; the city has its share of the underworld. Tension has many causes, many faces. Religious festivals and processions lead to rioting which politicians are quick to exploit to their advantage. Early, in April 1979, Bala Saheb Deoras, head of the Rashtriya Swayamsewak Sangh, a Hindu fundamentalist organisation, visited Jamshedpur and exhorted Hindus to assert their rights in a Hindu country. Ten days later the city went up in flames, reducing entire localities to ashes and leaving scores of innocent men, women and children dead. 
Akbar‘s journalistic exposs were celebrated as quiver to protect the poor and the abused from their exploiters. 
Even the Maoists had a soft corner for his work, as perhaps he had for them. The threads by which the tribal has been trapped has taken a long time to weave. To create a good slave you must first kill his pride, his self-respect, his notion of himself as an ordinary, equal human being. The slave‘s body is needed the man‘s for labour, the woman‘s for labour and abuse; but to control the body, the inner spark, which ignites anger must be crushed. There are many weapons in the spider‘s arsenal, both psychological and physical, but the chief one is dramatically simple: hunger. 

اپنا تبصرہ بھیجیں