ہائے مجھے کیوں نکالا؟

محمدبشیرخان

ہائے اس سادگی پہ کون نہ مر جائے ، بڑے میاں برسرِ مجمع پوچھتے ہیں کہ ‘مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟’اور تخت و تاراج سے محرومی اور محلاتی سازشوں سے زخمی دل کی پکار ‘مجھے کیوں نکالا’ کی تکرار میں اکثر آواز رُندھیا جاتی ہے ، معلوم ہوتا ہے جیسے کسی بلکتے بچے کی مانند رو پڑیں گے ۔عالم یہ ہے خوب مضحکہ بننے کے بعد اور ‘مجھے کیوں نکالا’ زبان زدِ عام ہونے کے بعد اب پیشِ خدمت ہے ‘مجھے کیسے نکالا؟’بڑے میاں بہتر ہوتا کہ ‘مجھے کیوں نکالا’ کی بجائے آپ پوچھتے چھوٹے میاں کو کیوں نہیں نکالا؟ حالانکہ الزامات ایک سے ہیں اور دونوں کی پرواز کا ایک ہی آسمان ہے پر شاید سمت اور جہاں مختلف ہیں۔باوا آدم کو جنت سے نکالا گیا تو زمین پر آ کر آہ و زاری کرتے رہے ۔ پشیمانی اور ندامت سے معافی مانگتے رہے نہ کہ کُرہ ارض پر کھڑے ہو کر آسمان کی طرف منہ کر کہ صدائیں لگاتے ‘مجھے کیوں نکالا؟’غالؔ ب بھی کُوچہ یار سے بڑے بے آبرو ہو کر نکلے تو چپکے ہو رہے نہ کہ اُجڑی دِلّی کے گلی کوچوں میں شور و غوغا کرتے پھرے کہ ‘مجھے کیوں نکالا؟’بہادر شاہ ظفر رنگون میں قید کیئے جانے پر آرزو و انتظار میں کٹے دن اور دو گز زمیں کی عدم دستیابی پر دنیا کی بے ثباتی کا رونا تو روئے مگر کس منہ سے کہتے ‘مجھے کیوں نکالا؟’۔جانتے تھے اس بربادی اور زوال کا سبب کیا ہے ۔یوسف رضا اسلام آباد سے ملتان سدھار گئے مگر شاید صوفی روایات کا اثر تھا یا با امرِ مجبوری بِنا چُون و چِرا کیے گوشہ نشیں ہو گئے ۔’’کیوں نکالا اور کیسے نکالا ‘‘کی بحث تو عبث ہے اور محرکات کی تلاش پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی۔بات بہت دور تک چلی جائے گی۔بڑے میاں آپ تو سجدہ تشکر بجا لائیں کہ جنہوں نے آپ کو نکالا وہ آپ کی حکومت ناقص کارکردگی اور معاشی شعبدہ بازی کے اثرات کا الزام آپ ان کے سر دھر سکتے تھے مگر بوجوہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔تو حضور جان کی 
امان پاؤں تو عرض کروں کہ سٹیل مل کراچی کے ملازمین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مرکز میں لوہاروں کی حکومت ہے اور ملک کی سب سے بڑی لوہے کی مل بند ہے ۔ تنخواہیں چھ ماہ بعد ملتی ہیں، پیداوار صفر ہے ۔ جن کا چولہا بمشکل جلتا ہے آپ کو نکالے جانے کی سازش کے پیچھے ان کی آہیں ہیں۔آپ سمجھتے ہیں پاکستان پنجاب سے شروع ہوکر پنجاب پر ختم ہو جاتا ہے ۔پنجاب میں بھی جنوبی پنجاب کے لوگ پرلے درجے کے شہری ہیں۔آپ نے قومی مالیاتی ایوارڈ کو مؤخر کیے رکھا تا کہ چھوٹے صوبوں کی آواز کی شنوائی نہ ہو سکے ۔آپ کے وزیرِ خزانہ نے جبری ٹیکسوں کی بھر مار کر کے جو معاشی مسائل پیدا کیے ہیں اس کا حساب کون دے گا۔آپ تو اسے خوبی قسمت کہیے کہ آپ گھر چلے گئے ۔۔۔ اب ذمہ دار کسے ٹھہرائیں؟ 
پیشہ ورانہ خدمات پر ٹیکس کی مد میں آمدن کا تقریباً پانچواں حصہ، کچھ تو خدا کا خوف کریں، اسے ٹیکس کی جگہ خمس کا درجہ دے دیں تا کہ مجھ جیسے گناہ گاروں کا ثواب کی آس پر دل نہ دُکھے ۔بجلی نہیں آئی، آپ نے تو کہہ دینا ہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ اب ترسو بجلی کو۔ کسی نے سوال نہیں اٹھانا کہ آپ نے بجلی کے پلانٹس تو لگائے مگر ٹرانسمیشن کی نئی لائنیں کتنی ڈالیں؟ بجلی کے کارخانے تو لگائے مگر کس لاگت پر؟کسانوں، مزدوروں کے لیے آپ نے کیا اقدامات کئے ؟ کسان پیکیج کا ایک بڑا حصہ پنجاب کے لیے مختص کیا۔ زرعئی مراعات کے ڈھانچے کا سارا فائدہ بڑے زمینداروں کو پہنچایا۔ایکسچینج ریٹ کو تو قابو میں رکھا مگر تجارتی خسارے کے جن کو کیوں قابو 
نہ کر سکے ؟سی پیک کے منصوبے تو شروع کیے مگر کس قیمت پر؟ کتنی شرح سود پر؟ بین الاقوامی منڈی میں یورو بانڈز کا اجرا کیا اور فخریہ اعلان کیا کہ ہماری توقعات سے زیادہ بانڈز بکے ؟ یہ نہیں بتایا کہ شرح منافع کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں کی نسبت کہیں زیادہ رکھی گئی ہے ۔اب یہ بتائیں کہ آنے والی حکومتیں یورو بانڈز کامنافع، سی پیک کا سود اور دیگر قرضوں کا سود کیسے ادا کریں گی؟ عوام پھر بھاری ٹیکسوں تلے دبے رہیں گے ۔چلیں ایک بات بتائیں آپ نے یا اسحاق ڈار نے ، دیگر وزراء کرام نے کبھی گھر کے دال دلیے کا حساب کیا ہے ؟ سبزی، دال، آٹا، چاول، اجناس کے ریٹ کا اندازہ ہے ؟جب گھر نہیں چلایا تو ملک کیسے چلائیں گے ؟سجدہ تشکر بجا لائیں یہ سب سوال ایک سوال کے پیچھے چھپ گئے ‘مجھے کیوں نکالا؟’آپ سڑکیں اور بڑے بڑے منصوبوں کی تعریفیں کریں گے ۔عوام کے لیے کیا ان بڑے منصوبوں سے کچھ بڑھا ہے ، تنخواہ، معیارِ زندگی وغیرہ میں اضافہ یا بڑھوتری ہوئی ہے ؟ہم تو ٹھہرے عوام، بڑا کام کیا کریں گے اور بڑا فائدہ کیا اٹھائیں گے ہم تو صرف دہی بڑے ہی کھا سکتے ہیں کیوں کہ ’بڑ ے‘کا سابقہ ہمارے لیے تو بس اسی خوراک میں ہے ۔چلیں چھوڑیں ان باتوں کو ۔۔۔ دوسرے پہلو پر غور کرتے ہیں ،ایک تو یہ کہ بڑے میاں مجھے کیوں نکالا کا شور کر کے آپ نا سمجھ عوام کو اپنا مضحکہ اڑانے کا موقع دے رہے ہیں۔ دوسرا آپ بابا رحمتے اور اس کے حواریوں کی دیانت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔شکر کریں کہ بابا اور اس کے حواری بہت جہاں دیدہ اور اصول پسند انسان ہیں وگرنہ خاکم بدہن آپ کے ساتھ آپ کی پوری پارٹی کورس میں نوحہ پڑھ رہے ہوتے ہمیں کیوں نکالا؟‘ ‘ہمیں کیوں نکالا؟’حالانکہ بابا رحمتا ہمیشہ سے ایک با اصول اور باکردار انسان رہا ہے ۔ 
الاّ یہ کہ بابا نے خود بھی قومی ضرورت کے تحت اور ‘وسیع تر مفاد’ میں کبھی کبھار کسی نظریے کا سہارا لیا اور ملک و ملت کو بھی دیامگر وقت کے ساتھ ساتھ بڑھاپے کی سفیدی نے بابے کی عقل و دانش اور تجربات میں بہت اضافہ کیا ہے ۔ فرنچ کہاوت ہے ۔ ‘مشورہ چاہئیے ہو تو سرمئی بالوں والے سے لو۔تو بڑے میاں غور سے دیکھیں کہ چھوٹے میاں کے مصنوعی بال بھی سرمئی ہیں ۔۔۔ اور بابے کا سر بھی۔ کہنے کی ضرورت تو نہیں پر یاد دہانی کے لیے دُہرائے دیتا ہوں کہ یہ دھوپ کا کرشمہ نہیں۔تو بڑے میاں منصب چلا گیا تو تاسف کیسا؟ انسان بڑا منصب سے نہیں کردار، سوچ اور فکر وعمل سے ہوتا ہے ۔آپ جتنی پریشانی اور تذبذب کا مظاہرہ کریں گے اتنا مخالفین کو دلی مسرت کا موقع دیں گے ۔ 
آپ کو تو پنجاب کے عظیم الشان جلسوں میں کھلکھلاتے ہوئے کہنا چاہیے ‘جلنے والوں کا منہ کالا!’چلیں ان باتوں کو چھوڑیں یہ سب بے کار باتیں ہیں۔آپ کی ’’کیوں نکالا ‘‘کی گردان نے میرے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر کیا ہے ۔ 
روزانہ کا معمول ہے صبح یونیورسٹی جاتے ہوئے میری اہلیہ مجھے دروازے تک رخصت کرنے آتی ہے ۔آج صبح جالی والے دروازے سے باہر نکلتے وقت میں لاشعوری طور پر شور کرنے لگا ‘مجھے کیوں نکالا؟’، ‘مجھے کیوں نکالا؟’۔ اس نے طنزیہ مسکراہٹ اور غصے سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا ‘ واقعی پاگلوں کے سر پر سینگ نہیں ہوتے ’۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں