حرم میں ہراسانی پر اچنبھا کیسا!

بعض موضوعات پر چاہتے ہوئے بھی قلم اٹھانے کی جرات نہیں ہوتی۔ اللہ کے گھر میں بھی عورتوں کا جنسی ہراسانی کا شکار ہونا ایک ایسا کرب انگیز موضوع ہے جس پر چپ رہو تو مشکل بول پڑو تو مسئلہ۔ تحریم عظیم کا بلاگ اس موضوع پر دیکھا تو ان کی ہمت کو داد تو دی، ساتھ خود پر لعن طعن بھی کی کہ کئی بار سوچ کر بھی جانے کیوں میں یہ ہمت نہ کر پائی۔ حرم میں جنسی ہراسانی کا پہلا واقعہ میری ایک پڑوسن نے مجھے کئی سال قبل حج کی سعادت سے لوٹنے کے بعد سنایا، وہ واقعہ آج بھی میری یادداشت سے جونک کی طرح چپکا ہوا ہے ۔
واقعہ کچھ یوں تھا کہ ان کے شوہر انہیں حرم کی حدود میں ایک جگہ بٹھا کر کسی ضروری کام سے گئے ، ساتھ تاکید کر گئے کہ میرے پیچھے یہ جگہ چھوڑنا نہیں، میں ذرا دیر میں ٹھیک اسی مقام پر آؤں گا۔ خاتون نے بتایا کہ اللہ کے گھر کے سامنے اپنے محرم کی منتظر تھیں کہ وہاں ڈیوٹی پر موجود کچھ شُرطوں نے انہیں نظروں میں رکھ لیا اور غیر محسوس طریقے سے ان کے قریب آ نے لگے ۔ جب ان خاتون کو شُرطوں کی اپنے اوپر مسلسل گڑی نظروں کا ادراک ہوا تو اکیلا رہ جانے کے خیال سے ان کی حالت غیر ہو گئی اور انہوں نے رونا شروع کردیا۔
وہ دل ہی دل میں ربِ کعبہ کو پکار رہی تھیں اور زار وقطار رو رہی تھیں۔ شُرطوں کی اولین کوشش یہ تھی کہ وہ گھبرا کر یہ جگہ چھوڑ دیں اور اپنے شوہر سے بچھڑ جائیں، تاکہ ان کا آسان ہدف بن سکیں۔ لیکن خدا اپنے گھر میں آئے مہمانوں کی لاج کیوں نہ رکھتا! کچھ ہی دیر میں ان کے شوہر آگئے اور خاتون کی جان کو امان ملی، انہوں نے اس معاملے سے فوراً اپنے شوہر کو آگاہ کیا، مگر انتہائی
بھیڑ میں شُرطے جلد ہی ادھر ادھر ہو گئے ۔ جس وقت وہ یہ ناقابل یقین د استان سنا رہی تھیں اس وقت بھی خوف ان کی آنکھوں سے عیاں تھا اور وہ بس یہی تکرار کیے جا رہی تھیں کہ اگر میں ان شُرطوں سے بچنے کے لیے اپنی جگہ چھوڑ دیتی، تو کیا ہوتا؟
حج سے لوٹنے والی اکثر خواتین اپنے ساتھ پیش آنے والا کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور سناتی ہیں جو ان کے اوپر ایک بھیانک تجربے کی طرح گزر چکا ہوتا ہے ۔ حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرکے لوٹنے والے کتنے ہی حاجیوں اور الحاج صاحبان کو معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ بھئی حرم میں تو ہجوم کا یہ عالم ہوتا ہے کہ عورتیں مرد سب ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ جب عام معاشرے کی کوئی عورت جنسی طور پر ہراساں کی جاتی ہے تو اس کے دکھ کا مداوا کرنا تو درکنار الٹا عورت کو ہی قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے ۔

تفتیشی ٹائپ ابا کی ایک نامعلوم کتے کی تلاش

کبھی اس کی چال اور رنگے ہوئے بالوں کا قصور وار نکلتا ہے ، تو کبھی گالوں کا غازہ اور ہونٹوں کی لالی پر الزام آتا ہے ۔ حتٰی کہ کبھی تنگ موری کے پاجامے کو ہی وجہ ہراسانی قرار دے عورتوں کو لعن کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ خدا کے حکم کے مطابق حلیہ نہیں اختیار کریں گی تو ایسے ہی ستائی جائیں گی۔ اکثر مرد تو اپنی سفاکی میں ہر حد سے گزر جاتے ہیں، یہ تک کہہ گزرتے ہیں کہ بالکل صحیح ہوتا ہے ان عورتوں کے ساتھ! عام مردوں کی تو بات چھوڑیے ، گزشتہ ماہ میری ملاقات ملک کی ایک معروف سماجی شخصیت سے ہوئی۔ میں ان کو ایک عرصہ سے میڈیا پر پر دیکھتی چلی آئی ہوں۔ عورتوں کے حقوق کے لیے ہونے والے ٹاک شوز میں ان کی باتیں سن کر دل کرتا ہے کہ دیوتا کو اٹھا دو اور انہیں اس کی جگہ بٹھا دو۔ موصوف دوران گفتگو فرمانے لگے کہ عورت تو بنی ہی مردوں کے لیے ہے ۔ بھئی اب بلاضرورت نکلیں گی، تو مرد تو ستائیں گے نا! لہٰذا عورتوں کو بس گھر میں بیٹھنا چاہیے ، اور آخر میں ہنستے ہوئے کہنے لگے مرد تو ہوتے ہی ۔ ۔ ۔ ہیں۔
عورتوں کے بارے میں یہ سوچ رکھنے والے والے تمام مرد حرم میں ستائی جانے والی عورتوں کے بارے میں کیا کہیں گے ؟ جب کہ شانوں پر لہرانے والی سیاہ زلفیں یہاں سفید کپڑے میں مقید ہیں، ڈھیلا بے رنگ لباس، ہونٹ لالی سے اور عارض غازے سے عاری ہیں! نہ ہاتھوں میں سامان آرائش نہ مردوں کو مسحور کرنے کو بدن سے اٹھتی کوئی خوش بو ہے ، مسکرا کے دیکھنے والی آنکھیں یہاں آنسوؤں سے لبریز ہیں۔
چہرے کی شادابی پر مسافت کی تھکی ہوئی گرد چڑھی ہے ، ہمیشہ تنہا سفر کرنے والی بھی یہاں محرم کے حصار میں ہے ۔ پھر بھی عورت ستائی جاتی ہے ، ہراساں کی جاتی ہے ، تو اب وہ سارے مرد کہاں جا کر منہہ چھپائیں گے جو ہمیشہ عورت کے ظاہری حلیے ، اس کی مہکتی آواز اور لچکتی چال کو موردِالزام ٹھہرا کر اپنے عیبوں پر پردہ ڈالتے چلے آئے ہیں، اپنے دل کے چور سے خود کو ہی چھپاتے چلے آئے ہیں۔ جن مردوں کے ہاتھوں عورتیں حرم کعبہ میں بھی محفوظ نہیں وہ اپنے دین پر قل ہی پڑھ لیں تو بہتر ہوگا۔
سچ تو یہ ہے کہ جب دلوں سے خوف ختم ہوجائے تو انسان مکان و زمان کی قید سے آزاد سطحی سا انسان بن جاتا ہے ۔ پھر چاہے وہ معاشرتی قوانین کے حصار میں ہو یا مذہب کی عائد کردہ پابندیوں کے حصار میں! سارے بند توڑنے میں وہ لمحہ نہیں لگاتا۔ باہر کتنی ہی روشنی اور نور کیوں نہ ہو اندر کی تاریکی اس کے شعور کا راستہ ہمیشہ روک کے رکھتی ہے ۔ پھر حرم ہو، یا مسجد، مندر ہو یا کلیسا، اس کے نفس کو لگام ڈالنے میں ہر کوئی ناکام ٹھہرتا ہے ۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
حرم میں ہراسانی پر اچنبھا کیسا!
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں