مشال قتل کیس اورانسداد دہشتگردی عدالت کافیصلہ

دوروزقبل انسداد دہشت گردی عدالت ہری پورنے مردان یونیورسٹی میں 13اپریل 2017ء کو ہونیوالے مشال قتل کیس کافیصلہ سناتے ہوئے ایک مجرم کو دوبارسزائے موت ،پانچ کوعمرقیدجبکہ 25کوچارچار برس سزائے قید کاحکم سناتے ہوئے 26ملزموں کوجرم ثابت نہ ہونے پر بری کردیاتھا۔سپریم کورٹ کے حکم پرآٹھ ماہ مسلسل سماعت کے بعدخصوصی عدالت کے جج فضل سبحان خان نے اس سال28جنوری کو فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔دوران سماعت 80کے قریب گواہوں کوعدالت میں پیش کیاگیا جن میں سے51کے بیانات قلمبندکئے گئے جبکہ عدالت نے27گواہوں کی گواہی مناسب نہ سجھی،البتہ علاقے سے ایک کونسلرسمیت تین ملزمان گرفتار نہ ہوسکے ۔حقائق کاگہرائی سے جائزہ لیاجائے تومردان یونیورسٹی کے اس نوجوان طالب علم کی ہلاکت کے پیچھے مذہبی منافرت،شیعہ سُنیّ اختلاف اوربعض قومی ومذہبی جماعتوں کے سٹوڈنٹ لیڈروں کی مخصوص مذہبی سوچ نظر آئے گی ۔پاکستان چارمسالک پرمشتمل مسلمانوں کاایساخوبصورت گلدستہ ہے جس کے ہر پھول سے میثاق مدینہ کی خوشبوآتی ہے۔ماضی میں یہاں چارمکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے مسلک کوچھیڑے بغیرانتہائی خوبصورتی کے ساتھ اکٹھے زندگی گزارتے اورایک دوسرے کے غم وخوشی میں شریک ہوتے رہے۔شیعہ ،سنی ،دیوبندی یااہلحدیث ہونے کے باوجود کبھی فریقین میں مذہبی منافرت کاشائبہ پیدا ہوانہ کبھی کوئی اختلاف رائے دیکھنے کوملابلکہ مذہبی ہم آہنگی کی ایسی صورتحال بھی سامنے آتی کہ محرم الحرام کے دس ایام میں سنی خوددودھ،ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگاتے اورتعزئیے ،علم کے ساتھ میلوں پیدل چلتے ۔قیام پاکستان کے ابتدائی چالیس برس تک بھی شیعہ سنی محبت وپیارانتہائی مثالی نظرآتاتھامگراب توشایداخلاقی اقدارکاجنازہ نکل چکاہے۔مادہ پرستی ،فرقہ وارانہ اختلافات بلکہ امام بارگاہوں میں ہونے والی تقریبات کابائیکاٹ کیاجانے لگاہے۔خانوادہ رسول ؐ نے 61ء ہجری میں میدان کربلا میں دین مصطفیؐ کی سربلندی کے لیے جوعظیم قربانیاں پیش کیں ،انہیں توقیامت تک کے لیے اسوہ حسنہ کی معراج تسلیم کیاجاتاہے۔مذہبی منافرت اورفرقہ بندی کی بنیاد بھی خودجنرل ضیاء الحق نے رکھی جب 1983ء میں عشروزکوۃٰ کانظام زبردستی رائج کرنے کی کوشش کی گئی ۔اسلام آباد کی شاہراہیں اس بات کی گواہ ہیں کہ شیعہ علمائے کرام نے وہاں تین روز تک دھرنادئیے رکھابالآخر آمرفوجی حکومت کواہل تشیع کاجائزمطالبہ تسلیم کرناپڑا۔تب سے اب تک زکوۃٰ کی کٹوتی اورخمس کی ادائیگی دونوں بڑے مسالک کے نزدیک اختلافی معاملہ بن چکاہے۔اس کے علاوہ مذہب سے دوری ،نئے الیکٹرانک پرنٹ میڈیانے اخلاقی روایات کاجنازہ نکال کے رکھ دیا۔معاشرے میں سرمائے کی فراوانی،کرپشن کلچر کے دن رات فروغ پاتے رحجان اورسب سے بڑھ کر اچھے برے کی تمیزختم ہونے کے باعث اب معاشرتی روایات تبدیل ہوچکیں۔روپیہ،پیسہ اوردنیاوی آسائشات ہی سب کچھ بن چکی ہیں۔اسی سال22جنوری کوشبقدر میں ایک نجی کالج کے سیکنڈائیرکے طالب علم نے فائرنگ کرکے کالج کے حافظ قرآن پرنسپل کوقتل کردیاجس کے خلاف فریقین کے ورثاء مظاہرے بھی کرتے رہے ۔اپنے پرنسپل کو قتل کرنے والے طالب علم نے انہیں توہین رسالت کامرتکب قراردے کرجرم کوتسلیم بھی کرلیایہ امرقابل ذکرہے کہ ملزم فہیم شاہ دوماہ قبل تحریک لبیک یارسول اللہ ؐ کے فیض آباد دھرنے میں شرکت کرتارہا جس کی پاداش میں اسے کالج سے غیرحاضرقرار دے دیاگیا جس کاانجام ایک طالب علم کے ہاتھوں حافظ قرآن پرنسپل کے قتل کی صورت میں سامنے آیا۔سوال یہ ہے کہ دھرنے میں شرکت کوئی مذہبی فرض تھانہ کسی حافظ قرآن پرنسپل کودائرہ اسلام سے خارج کرنا کسی طوردانشمندی ہے ۔ اس سارے معاملے کاسب سے پریشان کن پہلویہ ہے کہ گرفتاری کے بعدملزم نے پولیس کواپنے ابتدائی بیان میں کہاکہ اللہ کی راہ میں کسی کوقتل کرنے سے نہ گھبراؤ کیونکہ ایساکرنا گستاخان رسول ؐ کوچھوڑدینے کے مترادف ہے ۔

کیا کوئی ان سے بھی بازپرس کرسکتا ہے !

ملزم فہیم کایہ کہناکہ وہ کسی سزاسے نہیں ڈرتا،دراصل مذہبی انتہاپسندی کاوہ بڑھتاہواماحول ہے جس میں مخالفین کواللہ اوررسولؐ کاگستاخ قراردے کرموت کے گھاٹ اتارنا جائز سمجھاجانے لگاہے،حالانکہ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ اسلام ایک شخص کے قتل کوپوری انسانیت کاقتل قراردیتااورکسی بھی مجرم کوسزادینے سے پہلے الزامات کی تصدیق لازمی ہے۔حضرت علیؓ پرعین اس وقت کوفے کی مسجد میں عبدالرحمن ابن ملحم نے خنجرکے وارکرکے شدیدزخمی کردیاتھا،جب وہ نماز کی امامت کروارہے تھے مگرجب ملزم کوخلیفہ چہارم کے سامنے پیش کیاگیاتوانہوں نے حکم دیا’’جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا ملزم کے ہاتھ ڈھیلے کردئیے جائیں‘‘پاکستان میں گزشتہ15برس سے تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈرزاورماسٹرمائنڈ وں سمیت مجاہدجگہ جگہ خودکش حملے کرتے اورمعصوم وبے گناہ پاکستانیوں کوقتل کرتے پھررہے ہیں ۔حساس تنصیبات اورسکیورٹی اہلکاروں کے بعدٹی ٹی پی کے گروپ سکولوں ،کالجوں،مذہبی عبادتگاہوں ،خانقاہوں ،مزاروں اورپبلک مقامات کو نشانہ بناتے رہے ہیں،اوریہ سب کچھ مذہب ،شریعت اوراسلامی قوانین کی آڑ میں کیاجاتارہاہے۔گزشتہ16برس کے دوران مولوی فضل اللہ ،احسان اللہ احسان،خالدعمرخراسانی جیسے انتہاپسندنظریات رکھنے والے اپنی ہی فقہ اورشریعت کی بات کرتے رہے ہیں حالانکہ دین کافلسفہ سامنے رکھنے سے مشاورت یعنی شوریٰ کاتصوربہت زیادہ اہمیت کاحامل سمجھاجاتاہے۔اگرچہ مشال کے والد،والدہ اوربھائی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے فیصلے سے مطمئن نظرآتے ہیں مگر خیبرپختونخواہ حکومت نے فیصلے کے خلاف پشاورہائیکورٹ میں جانے کااعلان کرکے ماتحت عدالت کے فیصلے میں ’’جھول‘‘ہونے کی تصدیق کردی ہے ۔بظاہرایک شخص زندگی جیسی نعمت سے محروم ہوامگراسے جس انداز میں گھسیٹاجاتارہا اوروضاحتیں پیش کرنے کے باوجود جس بری طرح قتل کرکے لاش کی بے حرمتی کی گئی ،وہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی فعل ہے ۔مقتول طالب علم مشال کے والد کایہ کہنابڑی اہمیت کاحامل ہے کہ ’’بعض واضح شہادتوں کے باوجودبعض ملزموں کابری ہوجاناسمجھ سے بالاترہے‘‘وقت آگیاہے کہ مذہبی انتہاپسندی کے پاکستانی معاشرے میں سرایت کرنے والے عنصر کی نہ صرف روک تھام کی جائے بلکہ عدالتوں کوا س بات کاپابندبنایا جائے کہ تیزرفتاری کے ساتھ حقائق کی روشنی میں فیصلے یقینی بنائے جائیں تاکہ مذہبی وفرقہ وارانہ منافرت سے پاک ماحول میں انصا ف کی فراہمی کے شرعی وقانونی تقاضے پورے ہوسکیں ۔مذہب کے نام پر اجارہ داریاں بھی ختم کرنی ہوں گی وگرنہ آنے والے دنوں میں کوئی مذہبی گروپ اسلام یافیض آباد میں دھرنا دے کروزراء کے استعفےٰ لیتاہی رہے گا۔
ویلنٹائن ڈے اورہمارے مشرقی تقاضے
پاکستان الیکٹرونک اینڈپرنٹ میڈیا اتھارٹی (پیمراء)نے ملک بھرمیں 14فروری کومنائے جانے والے انٹرنیشنل تہوار یعنی ویلنٹائن ڈے پرپابندی لگادی ہے جس کے باعث تمام پاکستانی میڈیا چینلز اس تقریب کی کوریج کرسکیں گے نہ کوئی تشہیر کرسکیں گے۔ جہاں تک ویلنٹائن ڈے کاتعلق ہے تواسے یورپ میں محبت کے اظہار کاذریعہ سمجھاجاتاہے تاریخی طورپردیکھاجائے تواسے دنیا میں محبت کے اظہارکے عالمی دن کے طورپرمنایاجاتاہے ،ویلنٹائن نے14فروری کو انسانوں ،پرندوں ،جانوروں کے درمیان اظہارمحبت کی علامت اوردوپیارکرنے والے دلوں کوقریب لانے کے لیے تحائف دینے کاسلسلہ شروع کیا تھااس کرہ ارض پر14فروری کوموسم بہارشروع ہوتی ہے اورتمام پرندے بھی جوڑے بناتے ہیں انسان کیونکہ سب سے حساس جاندار سمجھاجاتاہے اس لیے اس دن وہ بھی اپنے پسندیدہ شخص کو پھول اورپھل پیش کرتاہے ۔صر ف یہی نہیں بلکہ اظہاراُلفت کے طورپرجنس مخالف کوزندگی بھر ساتھ رہنے کی پیشکش بھی کرتاہے بہت کم لوگ اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ سینٹ ویلنٹائن کواس لیے پھانسی دے دی گئی تھی کیونکہ اس کے افکاراس وقت کے معاشرے اورمذہبی روایات کے مطابق نہیں سمجھے جاتے تھے ۔گہرائی سے دیکھاجائے توعالمگیرمذاہب بھی اخلاقیات کی اعلیٰ درجہ بندی کے تحت معاشی،معاشرتی،اخلاقی اورقانونی طورپرمرداورعورت میں سرعام جنسی اختلاط کوکبھی بھی درست قرارنہیں دیاجاتا رہا بلکہ آج سے سات آٹھ صدیوں پہلے تک یورپ سمیت مغربی دنیا میں اخلاقی اقدار کوزبردست معاشرتی حیثیت حاصل تھی۔فرانس،برطانیہ سمیت یورپ کے جن ممالک میں بادشاہت تھی یاایشیائی ملکوں میں آمرانہ طرزحکومت رائج تھے جبکہ افریقہ میں مطلق العنان حکومتیں برسراقتدار تھیں جاپان جیسے ملکوں میں بھی قدیمی بادشاہت قائم تھی ایسے حالات میں مردوں اورعورتوں میں جنسی میل جول اچھانہیں سمجھاجاتاتھااگرچہ برطانیہ،فرانس او رناروے جیسے ممالک میں جمہوری ،کلچر آہستہ آہستہ فروغ پارہاتھامگرفحاشی ،بے حیائی اورمردوں کاعورتوں کوسرعام پھول پیش کرنا کبھی اچھانہیں سمجھا گیا، یہ الگ بات ہے کہ سینٹ ویلنٹائن اپنے نظریات کوبنیادی انسانی حقوق قراردے کر اس وقت کے بادشاہی نظام کوچیلنج کرتارہادنیا کے 196ممالک میں گزشتہ چندصدیوں سے اخلاقیات اوربنیادی انسانی حقوق کا جمہوری کلچرفروغ پارہاہے۔ قیام پاکستان کے چالیس سا ل بعد ہمارامعاشرہ جس تیزی کے ساتھ انحطاط پذیرہورہاہے اُس نے ہمار ی علاقائی روایات کو نئے رواجوں کے ساتھ ہم آہنگ کیاہے لیکن دوسری طرف آج حالات یہ ہیں کہ20کروڑ عوام پرمشتمل پاکستان73ارب ڈالر کامقروض جبکہ ہماری معیشت تباہ ہوکے رہ گئی ہے۔چندروزقبل سامنے آنے والے حقائق کے مطابق صرف دبئی میں پاکستانیوں نے اربوں ڈالر کی جائیداد یں خریدرکھی ہیں ۔سپریم کورٹ کے علاوہ چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاویداقبال کے پاس اربوں کھربوں ڈالر کی شکایات زیرانکوائری ہیں۔پنجاب ،سندھ ،بلوچستان اورخیبرپختونخواہ خداکے سرکاری محکموں میں لوٹ مار مچائی ہوئی ہے ہماری اخلاقیات اس حدتک گرچکی ہیں کہ ہم بسنت نائٹ کوبھی کلچرل تہوار کی بجائے عیاشی کاذریعہ بنابیٹھے ہیں۔ چندسال قبل سپریم کورٹ کوازخودنوٹس لے کربسنت پرپابندی لگانی پڑی گزشتہ کئی برس کے دوران سڑکوں اورشاہراہوں پرچھوٹے چھوٹے بچوں سمیت سینکڑوں لوگ اپنی گردنیں کٹوابیٹھے ہیں گلیوں ،بازاروں میں معصوم بچے کیمیکل ڈورکے باعث زخمی ہوتے اورہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ بسنت نائٹ پاکستان میں موسمی تبدیلی کی علامت سمجھی جاتی تھی مگرپنجاب پولیس دن رات اپنے ڈالوں پرسیڑھیاں رکھے گھرگھرچھاپے مارتی اورقانون شکنوں کوگرفتارکرتی نظر آتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یکم سے آٹھ فروری تک پنجاب سے کروڑوں روپے کی کیمیکل ڈور اورپتنگیں پکڑی گئیں ۔یہ سرمایہ کسی غیرملکی شخص کاتھانہ یہ قانونی طور پرمعاشرتی یامعاشی ضروریات میں استعمال کیاگیاتھا۔9فروری کی رات کوصرف فیصل آباد میں کروڑوں روپے اس بے کار شو ق کی نذرہوگئے۔ شہر کی تمام گلیوں اور بازاروں میں پنجاب پولیس اورمنچلوں کے درمیان رات بھرایک دوڑ لگی ہوئی تھی۔ پولیس اہلکاروں نے کروڑوں روپے کے سرکار ی پٹرول کی بنیاد پرسینکڑوں نوجوانوں کوگرفتاربھی کیااوربااثرافراد تھانے چوکیوں سے اپنے بچوں کوچھڑوانے بھی آتے رہے پاکستا ن میں بسنٹ نائٹ کواگرتوصرف کلچرل تہوارکے طورپر منایاجائے اورحکومت کھلے میدانوں میں نئی نسل کواپناشوق پوراکرنے دے توشاید اس میں کوئی برائی نہ سمجھی جائے مگربدقسمتی سے اس تہوارکوبھی قانون شکنی کی بنیاد بنایاجاچکاہے۔ گزشتہ د س برس میں جن معصوم بچوں اور شہریوں کے گلے کٹ گئے ،وہ کبھی واپس آئیں گے نہ اس نقصان کوپوراکیاجاسکے گا ایساہی معاملہ آج کل نوجوانوں میں ون ویلنگ کابڑھتا ہوارحجان ہے ۔کسی بھی شاہراہ پربے خوف نوجوان ون ویلنگ کرتے اوراپنی زندگیوں کوداؤپر لگاتے نظرآتے ہیں۔اگرچہ قانون ،انصاف اورعدالتی طریقہ کار موجود ہے مگرعوام میں قانون کااحترام ختم ہوتاجارہاہے۔اسی طرح ویلنٹائن ڈے اگرچہ محبت کے اظہار کاعالمی دن ہے لیکن پاکستان میں اسے دوانتہاؤں کے زاویے سے دیکھااورپرکھاجارہاہے۔آپ اپنی ماں ،بہن ،بھائی ،باپ اوردیگررشتے داروں کوپھول پیش کرکے اپنی محبت کااظہار کرسکتے ہیں ۔ضروری نہیں کہ اسے بے راہروی کااستعارہ بنایااورسمجھاجائے۔

Summary
Review Date
Reviewed Item
مشال قتل کیس اورانسداد دہشتگردی عدالت کافیصلہ
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں