پشتونوں کی بجنگ آمد

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان میں ایک جرگہ ہورہا ہے لیکن یہ جرگہ عام جرگوں سے بہت مختلف ہے ۔اس میں کوئی سردار یا سرپنچ نہیں بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں بزرگ اور جوان ایک شعلہ بیان مقرر کو غور سے سن رہے ہیں۔مقرر پشتو زبان میں تقریر کررہا ہے ‘ڈر کے اس پار جیت ہے ۔
ہم پر مظالم اپنے آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔اگر مجھے قتل کیا گیا کوئی تو شاید میری قبر پر رونے والا آجائے لیکن مجھے اب اس کی بھی پروا نہیں ہے کہ ہماری تو گزر گئی، اب آئندہ نسلوں کی خاطر ان کے حقوق کے لیے غاصبوں کے خلاف ڈٹ جانے کا وقت آگیا ہے ۔ یہ تقریر سننے کے بعد بے ترتیب ڈنڈا بردار مظاہرین ڈی آئی خان کی تنگ گلیوں میں نعرے لگاتے ہوئے ایک گھر کے اندر گھس گئے اور وہاں پر تمام سامان کو نیست و نابود کر دیا اور باہر کھڑی گاڑی کو آگ لگا دی۔اس واقعے کے ویڈیوز کلپس چند ساعتوں میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگتے ہیں۔ویڈیو میں ایک جوان تیز آواز میں چلاتا ہوا سنا جاسکتا ہے ‘گڈ اور بیڈ طالبان کا وقت ختم ہو چکا ہے ’۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں مشتعل ہجوم نے سرکاری طالبان کے نام سے مشہور مصباح الدین کے ڈیرے پر دھاوا بول کر باہر کھڑی گاڑی کو نذر آتش کردیا۔
یہ ڈیرہ مصباح الدین نامی شخص کا تھا جس کو مقامی لوگ سرکاری طالبان پکارتے ہیں۔وہ جو کہتے ہیں کہ حادثے ایک دم نہیں ہوتے اسی طرح تحریکیں بھی ایک دم شروع نہیں ہوتیں۔ ان کے پس منظر میں برسہا برس کی ناانصافیاں، ظلم، جبر، زور زبردستی اپنی مکروہ ترین شکلوں کے ساتھ کار فرما ہوتی ہے ۔اس معاملے کے پیچھے بھی ایک لاپتہ جوان کی داستان ہے
۔کچھ دن پہلے مقامی کاروباری جوان ادریس وزیر کو اغوا کیا گیا اور چند دن بعد اس کی لاش مل گئی۔ اسی دوران وزیرستان میں ایک اور خوبصورت مغوی نوجوان کو قتل کرکے پھینک دیا گیا جسے چند روز پہلے اٹھایا گیا تھا۔یوں لوگوں کا غصہ دو چند ہوگیا۔ وزیر قبائل نے جرگہ بلایا جس میں فیصلہ ہوا کہ ‘گڈ طالبان’ کہلائے جانے والے مصباح گروپ کے دفتر کو جلا دیا جائے ۔عین اسی دن خیبر ایجنسی کی لنڈی کوتل تحصیل میں ایک بوڑھی عورت اپنے خاندان کے مَردوں کو اٹھانے والوں کے خلاف پاک افغان شاہراہ پر دیگر خواتین کے ساتھ دھرنا دے کر بیٹھ گئی۔
لنڈی کوتل کی اس بزرگ خاتون کے گھر کے مَردوں کو غائب کیا گیا تو انہوں نے دیگر عورتوں کے ساتھ دھرنا دے دیا۔

صحافت و سول سوسائٹی کے اشراف

قبائلی تاریخ میں یہ انوکھا واقعہ تھا۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی کہ قبائلی عورتوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں پہل کر دی ہے ۔ایک دن بعد لنڈی کوتل بازار میں سیاسی اتحاد نے ایک بڑا اجتماع کیا جس کا مقصد مقامی اہلکاروں کے ناروا رویے کو حکومت وقت کے سامنے لانا تھا۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران پختون بیلٹ میں ریاستی اداروں نے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی ہیں۔کراچی میں ماڈلنگ کے شوقین نقیب محسود کا قتل اور یہ دو واقعات مظالم کا کلائمکس ثابت ہوا ہے ۔تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مصداق پشتون اب جگہ جگہ احتجاج کررہے ہیں اور ان کے دِلوں سے سکیورٹی اداروں کا خوف نکل گیا ہے ۔
لنڈی کوتل کے دھرنے میں خواتین اور معصوم بچیاں بھی شامل ہو کر احتجاج کررہی ہیں۔
یہ ملک سب کا دیس ہے جس کے دفاع کے لیے عوام نے 10 لاکھ کے قریب فوج اورجدید ہتھیار رکھے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود بھی عام لوگوں خصوصاً پشتونوں کو جگہ جگہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑتا ہے ۔پختون جرگے کے ہزاروں افراد گزشتہ ایک ہفتہ سے اسلام پریس کلب کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے ہیں مگر مسلم لیگ کی حکومت پر ان کے بنیادی حقوق پر مبنی مطالبات کو قبول کرنے سے انکاری ہے ۔کٹھ پتلی جمہوریت کی اس سے بد تر مثال اور کیا ہوگی؟ ایک دل جلے نے فیس بک پر لکھا کہ وزیر اعظم کو بھی اپنے حقوق کے لیے دھرنے میں شامل ہونا چاہیے ۔ہمارے پالیسی میکرز سب اچھا کے ورد کے عادی ہیں۔جب بنگلہ دیش میں 90 ہزار فوج تین ہزار کی نفری کے لگ بھگ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال رہی تھی تو مغربی پاکستان کے بڑے سب ٹھیک ہے کا راگ الاپ رہے تھے اور یہاں جیت کے شادیانے بجائے جا رہے تھے ۔ میڈیا اس وقت بھی عجیب قسم کی نرگسیت کا شکار تھا جس کی وجہ سے عام پاکستانی حقائق سے بے خبر تھا اور آج بھی یہی صورت حال ہے ۔میڈیا نے
پشتون دھرنے کی خبروں کا بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے ۔ پشتون نوجوانوں کا لہجہ ترش ہوتا جارہا ہے ۔ حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں لیکن اس کا ادراک کہیں نظر نہیں آتا۔اسلام آباد میں بیٹھے پختون جرگہ کے پانچ مطالبات ہیں:1: نقیب محسود کے قاتلوں کو عدالتی نظام کے اندر پھانسی دی جائے ۔ 2: فاٹا میں بارودی سرنگیں صاف کی جائیں (کیونکہ پچھلے ایک سال میں بارودی سرنگیں پھٹنے سے درجنوں معصوم لوگ زخمی یا ہلاک ہوئے ہیں)۔ 3: قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد فورسز کی جانب سے پورے پورے گاؤں کو اجتماعی سزا اور ذلالت کا سلسلہ ختم کی جائے ۔
4: تمام لاپتہ پختونوں کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ 5: تمام ماورائے عدالت ہلاکتوں کی جوڈیشل انکوائری کی جائے ۔ان میں سے کوئی مطالبہ ایسا نہیں جس کی ضمانت آئین نے نہ دی ہو۔ یہ تمام مطالبات شہریوں کے بنیادی حقوق کا حصہ ہیں۔پاکستانی اشرافیہ نے ماضی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ نہ صرف دیکھا بلکہ بھگتا بھی ہے مگر وہ تاریخ سے سبق سیکھنے پر تیار نہیں ہے ۔پرامن احتجاج سیکڑوں پرتشدد مظاہروں سے بہتر ہوتا ہے مگر بپھرے اور بگڑے ہوئے ہجوم کا کوئی لیڈر نہیں ہوتا۔ یہ بات سب جتنی جلد سمجھ لیں اسی میں بھلائی ہے ۔اسلام آباد دھرنے میں خیبر پختونخوا کا ہر شہری شامل نہیں ہو سکتا۔ مجھے ڈر ہے کہ ایسے احتجاج صوبے کے ہر ضلعے میں نہ شروع ہو جائیں یا اگر اسلام آباد کے جرگے میں بیٹھے لوگ مطالبات منظور ہوئے بغیر یہاں سے مایوس چلے گئے تو پھر کیا ہوگا، کسی نے سوچا ہے ؟

Summary
Review Date
Reviewed Item
پشتونوں کی بجنگ آمد
Author Rating
51star1star1star1star1star

اپنا تبصرہ بھیجیں