آپ کیسے امیدوار کو ووٹ دیں گے ؟

تحریر:عمیرجاویدکرپشن سے متعلق دو سوالات پر غیر جانبداری سے توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ووٹرز کے لیے کرپشن کوئی معنی رکھتی ہے ؟اس سوال کو کچھ مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں کہ کیا ووٹر ووٹ ڈالتے وقت امیدواروں کے نسبتاً ایماندار ہونے اور ان کی پارٹی کی ‘ساکھ’ پیشِ نظر رکھتے ہیں؟اس حوالے سے ہونے والی محدود تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹروں کے لیے بہت سے عوامل اہم ہیں لیکن کرپشن اور ایمانداری ان میں بہت زیادہ نمایاں نہیں ہیں۔ملک کے بڑے حصے میں امیدواروں کے مقامی ریاستی اداروں (تھانہ، کچہری، پٹوارخانہ) سے رابطوں، طاقت ور شخصیات کے ساتھ تعلقات اور خدمات و مادی فوائد فراہم کرنے کی اہلیت کو ترجیح دی جاتی ہے ۔ ملک کے کچھ حصوں میں ووٹ دینے کے لیے ثقافتی نمائندگی اور بڑی حد تک لسانی مشابہت کا ہونا اہم عوامل ہیں۔ کچھ علاقوں میں رشتہ داریاں، برادریاں اورامیدوار کے سماجی رتبے کے حوالے سے عائد اخلاقی ذمہ داری اہم کردار ادا کرتی ہے ۔شہری مراکز میں ووٹروں کے لیے یہ تاثر اہم ہے کہ کوئی پارٹی علاقوں، شہروں یا مجموعی طور پر ملک کے اہم معاملات جیسا کہ امن و امان، پبلک ٹرانسپورٹ یا توانائی کا مسئلہ حل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے گی۔مجموعی طور پر شہری و دیہی حلقوں کی مقامی سیاست کا جائزہ لینے والے لوگ آپ کو یہ بتائیں گے کہ امیدوار کا راست باز و دیانت دار ہونا اہم ترین بات ہے لیکن سیاسی اقدار کو بہت کم اہمیت دی جاتی ہے ۔ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جہاں 2014 میں ایسے لوگ ریکارڈ تعداد میں لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے جو مجرمانہ ریکارڈ کے حامل تھے ۔ ایسے ارکان کی تعداد 186 ہے ۔تاہم یہ دکھائی دیتا ہے کہ شہری انتخاب کنندگان کی محدود لیکن بڑھتی ہوئی تعداد انسدادِ کرپشن کے ایجنڈے کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہے ۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کی بہت بڑی تعداد ایسے ووٹرز پر ہی مشتمل ہے جو صرف اس 
ایک مسئلے کو اہمیت دیتے ہیں۔ اگر سب کے لیے نہیں تو بہت سوں کے لیے خدمات کی فراہمی، معاشی ترقی، بنیادی حقوق کا تحفظ اور معتبر نمائندگی (اور ان کے انحطاط) کو معاشی و انتظامی ایمانداری سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔تاہم پی ٹی آئی کے سامنے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ دیہی علاقوں کا تو ذکر ہی کیا، شہری حلقوں کی بڑی تعداد میں بھی اس ایک مسئلے پر ووٹ ڈالنے والے لوگ اکثریت میں نہیں ہیں۔ یوں اس کے لیے ایک بڑا انتخابی چیلنج یہ ہے کہ انسدادِ کرپشن کے ایجنڈے کو نمایاں رکھتے ہوئے مختلف طریقوں سے ووٹر تک رسائی حاصل کی جائے ۔ اب تک یہ کام خاصا مشکل ثابت ہوا ہے ۔اب دوسرے سوال کی جانب بڑھتے ہیں۔ کیا کرپشن کا مسئلہ ان ووٹرز کے لیے اہمیت کا حامل ہونا چاہیے جو ترقی، خدمات و بنیادی حقوق چاہتے ہیں؟تجریدی اعتبار سے اس سوال کا جواب واضح نہیں ہے ۔ بہت سے ملکوں نے بڑے پیمانے پر کرپٹ اور بظاہر اقربا پروردکھائی دینے والی حکومتوں میں زیادہ معاشی ترقی کی ہے۔مشرقی ایشیا کی ابتدائی ترقی یافتہ معیشتیں جیسے جنوبی کوریا اور تائیوان بڑے کاروباری اداروں کے ساتھ ترجیحی سلوک کے حوالے سے بدنام تھیں۔ بعد میں ترقی کرنے والے ملکوں یعنی تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور حال ہی میں ملائشیا نے بھی اسی نمونے پر عمل کیا۔پڑوسی ملک بھارت نے کرپشن کے بہت سے سکینڈلز کی زد میں رہنے والی یو پی اے کی دو حکومتوں کے ادوار میں غیر معمولی ترقی کی اوراس دوران غربت میں بھی کمی آئی، حتیٰ کہ پاکستان نے بھی ایوب خان کے اقرباپرور دورِ حکومت میں غیر معمولی معاشی ترقی کی تھی اور یہ دکھائی دیتا ہے کہ مسلم لیگ (نواز) کے موجودہ دورِ حکومت میں بھی معیشت اور خدمات کی فراہمی کے کچھ شعبوں میں بہتری آ رہی ہے ۔ مجموعی طور پر آپ کسی بھی طرح حالات کا جائزہ لے لیں، ترقی اور کرپشن میں کوئی واضح تعلق نہیں ہے ،تاہم پاکستان کے تناظر میں انسدادِ بدعنوانی اور خاص طور پر اخلاقی قدروں کے حوالے سے جاری سیاست کے حق میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہ ایک کمزور جمہوریت کے چلتے رہنے کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے ۔یہ نقطۂ نظر بہت سے ذہین مبصرین کی جانب سے پیش کئے جانے والے خیالات سے مختلف ہے ۔ وہ یہ رائے دیتے ہیں کہ صرف وزیراعظم کے خاندان پر توجہ مرکوز کرنے سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا جس کے باعث فوج کے لیے مداخلت کاراستہ کھل جائے گا۔ کرپشن کو نمایاں کیا جانا چاہیے لیکن اس حوالے سے ہو رہی سیاست کو ‘انقلاب انگیز’ ہونے کے بجائے اصلاحی نوعیت کا ہونا چاہیے ۔بنیادی طور پر میں اس تصور سے متفق نہیں ہوں کہ انقلابی سوچ اور تمام جماعتوں کی جانب سے بے لچک رویے کا مظاہرہ کرنا سیاسی عدم استحکام کی وجہ بنے گا۔ احتجاج بنیادی طور پر پارلیمانی سیاست کے ذریعے کیا جانا چاہیے اور اس حوالے سے حزبِ اختلاف کے ساتھ مشورہ ہونا چاہیے جب کہ بڑے پیمانے پر عوامی دباؤ پیدا کرنا ایک ایسی حکمت عملی ہے جسے خاص احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہیے ،تاہم اس صورتِ حال کو دیکھنے کا ایک اور زاویہ بھی ہے ۔ پی ٹی آئی کی توجہ ایسے ووٹرز پر ہے جن کا مطمح نظر ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ متوسط و بالائی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ تعداد میں زیادہ نہ ہوں لیکن جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے حوالے سے ان کا تاریخی نوعیت کا کردار نمایاں ہے ۔ یہی وہ طبقہ ہی 
ہے جو افسرِ شاہی میں اہمیت رکھتا ہے اور سب سے اہم یہ کہ فوج میں بھی اسی طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ ان کی جمہوریت اور کرپشن کے حوالے سے فکر فوج کی ادارہ جاتی سوچ سے عیاں ہوتی ہے ۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ماضی میں سماجی طور پر قابلِ قبول ”کلین اَپ’ کرنے کے لیے اقتدار حاصل کیا، جمہوری سیاسی عمل میں خفیہ مداخلت کی اور عوامی شراکتی سیاست کو بدنام کیا۔جمہوریت کی کامیابی کے لیے موجودہ نظام کو انتخابی نتائج سے قطع نظر شہری متوسط طبقے کے مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، خواہ ایسا یونیفارم میں چھپے مسیحا کے ‘ناسٹیلجیا’ کو ختم کرنے کے لیے ہی کیوں نہ کیا جائے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فوجی افسروں میں ادارہ جاتی طاقت حاصل کرنے کی طلب بہت زیادہ ہے ۔ ان کے اقدامات کو چھاؤنیوں کے میس، رشتہ داروں کے مہمان خانوں، سویلین دوستوں و خاندانوں کے ساتھ ابلاغ کر کے اور کبھی کبھار کوئی اخلاقی تحریر لکھ کر سماجی جواز حاصل ہوتا ہے جو حادثاتی طور پر ہی پڑھی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود یہ اہم ہے کہ ان طریقوں سے سماجی جواز فراہم کرنے والا شہری متوسط طبقہ جمہوریت سے منسلک ہے اور یہ دیکھ رہا ہے کہ اسے کسی حد تک کامیابی مل رہی ہے، چنانچہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہر کرے ، لیکن حکومت کا بھی یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے ۔ مسلم لیگ (ن) ایک پارٹی کے طور پر اداروں کے طاقت حاصل کرنے کے باعث ابھرنے والے خطرات سے آگاہ ہے ۔ اس کی ایک ذمہ داری تو یہ ہے کہ یہ عوام کو ڈلیور کرے اور ان لوگوں کو جواب دہ ہو جنہوں نے اسے ووٹ نہیں ڈالا اور یوں اپنی حکومت کو مضبوط بنائے ۔ان میں ایک ہی مسئلے پر توجہ مرکوز رکھنے والے وہ ووٹر بھی شامل ہیں جو وزیراعظم کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے معاشی ترقی کے لیے شفافیت اور معاشی دیانت داری اہم نہ ہو لیکن اس وقت ملک کے سیاسی ارتقا کے لیے اس کی اہمیت میں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں